(اداریہ) کیا یہ اقبال اور جناح کا پاکستان ہے؟ - رضا ء الحق

9 /

اداریہ

رضاء الحق

کیا یہ اقبال اور جناح کا پاکستان ہے؟


مملکت خداداد پاکستان کو قائم ہوئے اُناسی(79) برس ہوا چاہتے ہیں۔ ایک ایسا ملک جس کا قیام ہی خالص نظریاتی بنیاد پر کیا گیا تھا، اُس کے لیے اِس سے بڑا المیہ کیا ہو سکتا ہے کہ پون صدی سے زائد گزرجانے کے بعد بھی فکری اور نظریاتی سطح پر انتہائی پُر اثر طبقات کی جانب سے اس خطۂ زمین کو حاصل کرنے کی وجۂ جواز پر سوال اُٹھائے جارہے ہیں۔ آئے دن بھیس بدل بدل کر دانشور، تجزیہ نگار اور کچھ جدت پسند مذہبی سکالرز دعویٰ کر دیتے ہیں کہ بانیانِ پاکستان درحقیقت ایک سیکولر پاکستان چاہتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان اسلام بے زار اور مغرب زدہ لوگوں کے سامنے جب قرآن وسنت اور دین کے دلائل رکھیں تو یہ انھیں ماضی کے قصہ کہانیاں کہہ کر سننے کو ہی تیار نہیں ہوتے۔ پھر یہ کہ تاریخی حقائق اور عدل پر مبنی تجزیہ پیش کیا جائے تو آگ بگولا ہو جاتے ہیں۔ اُن کے منہ سے جھاگ اڑنے لگتا ہے اور اپنے نظریاتی حریف کو جاہل قرار دیتے ہوئے طعنہ دیتے ہیں کہ ملک آج بربادی کی جس نہج پر پہنچ چکا ہے، اس کی وجہ ’مولوی‘ ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ پون صدی سے زائد کا عرصہ گزر چکا۔ ملک پر مستقل سیکولرحکمران ہی براجمان رہے ہیں۔ کبھی سویلین، کبھی فوجی اور کچھ عرصہ سے ہائبرڈ نظام کے تحت ملک کو چلانے والوں کے قول و فعل سے ظاہر و باہر ہے کہ پرکھنے کے تمام مسلمہ معیارات کے مطابق وہ سیکولرلبرل نظریہ اور طرزِ حکومت کے حامی رہے ہیں۔ پھر مذہبی طبقہ پر طعن وتشنیع کرنا چہ معنی دارد؟
بہرحال ریکارڈ کی درستی کے لیے واجب ہے کہ ہم اصل حقائق کو قارئین کے سامنے رکھ دیں۔ مفکر ومبشرِ پاکستان علامہ محمد اقبال کے ذہن میں پاکستان کا دھندلا سا تصور بہت پہلے آگیا تھا اور اس کے بنیادی خدوخال اُن کی انقلابی شاعری میں جا بجانظر آتے ہیں لیکن اِس تصور کا شاید پہلا اور واضح اظہار انہوں نے 29دسمبر1930ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ الٰہ آباد کے صدارتی خطبہ میں اِن الفاظ میں کیا تھا: ’’میں پنجاب ، سرحد، سندھ اور بلوچستان کو متحد ہو کر ایک واحد ریاست کی شکل میں دیکھنا چاہتا ہوں جس کی اپنی حکومت ہو خواہ سلطنت برطانیہ کے تحت یا اس سے الگ اور مجھے نظر آرہا ہے کہ یہ متحدہ شمال مغربی مسلم ریاست کم از کم شمال مغربی ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے تقدیر مبرم ہے۔‘‘ علامہ اقبال نے فرمایا: ’’لہٰذا میں ہندوستان اور اسلام کے بہترین مفاد میں ایک الگ مسلم ریاست کے بنانے کا مطالبہ کرتا ہوں۔‘‘ مزید یہ بھی فرمایا کہ ’’اسلام کے لیے یہ ایک موقع ہو گا کہ عرب ملوکیت کے تحت اس پر جو پردے پڑ گئے ان سے چھٹکارا حاصل کر سکے اور اپنے قوانین، تعلیمات اور ثقافت کو اپنی اصل روح کے ساتھ عصر حاضر سے ہم آہنگ کر سکے۔‘‘ گویا دو قومی نظریہ کی توثیق کی گئی تھی۔ اقبال کے اِن دوٹوک کلمات کے باوجود بھی اگر کوئی ’’سیکولر، سیکولر‘‘ کی رٹ لگانے پر بضد رہے تو پھر اس کا کیا علاج ہے۔
بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی بات کریں تو اُن کی قیام پاکستان سے قبل سو سے زائد ایسی واضح تقاریر اور اقوال ہیں جن کے مطابق مملکت پاکستان کے قیام کی واحد وجہ جواز ’’اسلام‘‘ ہے۔ پاکستان کے ٹھیٹھ اسلامی تشخص کے حوالے سے قائد اعظم محمد علی جناح کے چند دیگر اقوال کی شہ سرخیاں تبرکاً قارئین کی خدمت میں پیش ہیں:
6 جون 1938ء: ’’مسلم لیگ کا جھنڈا نبی اکرم ﷺ کا جھنڈا ہے۔‘‘
26 نومبر 1938ء: ’’اسلام کا قانون دنیا کا بہترین قانون ہے۔‘‘
8 اپریل 1938ء: ’’ملت اسلامیہ عالمی ہے۔‘‘
7 اگست 1938ء: ’’میں اوّل وآخر مسلمان ہوں۔‘‘
9 نومبر 1939ء: ’’مغربی جمہوریت کے نقائص۔‘‘
14 نومبر 1939ء: ’’ انسان خلیفۃ اللہ ہے۔ ‘‘
9مارچ 1940ء: ’’ہندو اور مسلمان دو جداگانہ قومیں ہیں۔‘‘
26 مارچ 1940ء: ’’ میرا پیغام قرآن ہے۔‘‘
ایک اسلامی ریاست میں اقلیتوں کے حقوق کا واویلا مچانے والوں کے لیے قائداعظم نے اپنے کئی خطابات میں یقین دہانی کرائی کہ اقلیتوں کو خوف نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اسلام اُن کے حقوق کو مکمل تحفظ دیتا ہے اور اُن کے ساتھ پاکستان میں فراخدلانہ سلوک کیا جائے گا۔ جس ملک کا بانی اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے بھی معیار مغربی جمہوریت، سیکولرازم یا لبرل ازم کی بجائے قرآن اور مسلمانوں کی تاریخ کی روشن مثالوں کو قرار دیتا ہو (جن میں دورِ نبویﷺ اور خلافتِ راشدہ شامل ہیں) اُس ملک کی بنیاد کو سیکولرازم قرار دینا صریح ظلم وزیادتی ہے۔
11 اگست 1947 ء کی تقریر کے حوالے سے تو ہم اتنا ہی کہیں گے کہ جس تقریر کے واحد راوی جسٹس منیر ہوں اور اُس کا کوئی باقاعدہ ریکارڈ نہ ریڈیو پاکستان کے پاس موجود ہو نہ آل انڈیا ریڈیو کے پاس، اُس پر کلام لاحاصل ہے۔ یاد رہے کہ جسٹس منیر کی غلط بیانیوں پر برطانوی نژاد محقق سلینہ کریم نے دو کتابیں تحریر کیں اور سچی بات یہ ہے کہ تحقیق کا حق ادا کر دیا۔
بہرحال حقیقت یہ ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد کےدو سال کے علاوہ پاکستان کی پون صدی کی تاریخ انتہائی تاریک ہے۔ سیاسی، معاشی، معاشرتی سطح پر ظلم کا نظام نافذ رہا۔ اشرافیہ نے لوٹ مار میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ تمام اداروں خصوصاً سول اور ملٹری بیوروکریسی نے ذاتی اور گروہی مفادات کی خاطر ملکی مفاد داؤ پر لگا دیا۔ چھوٹے صوبوں اور مخصوص علاقوں کے ساتھ ظلم وزیادتی کا معاملہ رہا۔ عوامی مینڈیٹ کو بار بار پامال کیا گیا اور ملک کو 1971ء کا سانحہ پیش آگیا۔ سود جیسے گناہِ اکبر جسے قرآن اللہ اور رسولﷺ سے جنگ قرار دیتا ہے، اس میں ہم پون صدی سے ملوث ہیں اور آج حالت یہ ہو چکی ہے کہ آئی ایم ایف کا آہنی پٹہ ہماری گردن میں ہے جس کا شکنجہ روز بروز تنگ سے تنگ تر کیا جا رہا ہے اور ملک کی نظریاتی اساس اور سلامتی شدید ترین خطرے میں ہے۔
کشمیر جسے بانی پاکستان نے پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا اُسے بھارت دبوچے ہوئے ہے اور ہماری حکومتیں متواتر اس معاملہ پر پسپائی اختیار کر رہی ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ اندرخانے اس کا بھی سودا کیا جا چکا ہے۔ اب تو آزاد کشمیر کے حوالے سے بھی معاملات کو اِس بُری طرح کُچلنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ عوام ناراض ہے اور ہمارا ازلی دشمن بھارت صورتِ حال سے فائدہ اُٹھا کر نفرتوں کی آگ کو مزید بھڑکا رہا ہے۔ پھر یہ کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں لیکن حکومت مذاکرات کے لیے تیار ہی دکھائی نہیں دیتی اور ’آپریشن‘ کی رٹ لگائے ہے۔ وفاق، پنجاب، سندھ اور بلوچستان کی حکومتیں تو دن دہاڑے کرپشن، لوٹ مار اور اشرافیہ نوازی میں مگن ہیں ہی، اپوزیشن جس کی صوبہ خیبرپختونخوا میں حکومت ہے اور 2013ء سے مسلسل ہے وہ بھی اِس دوڑ میں پیچھے نہیں جس کی تازہ مثال ’’اختیارات، استثنیٰ اور استحقاق ترمیمی ایکٹ 2026ء‘‘ کا کے پی اسمبلی سے پاس کیا جانا ہے۔ وفاقی اور دیگر صوبائی حکومتوں کو کرپٹ اور خود کو ’صاف و شفاف‘ ثابت کرنے والی اپوزیشن کا خیبرپختونخوا کی صوبائی اسمبلی کے ممبران کو نوازنے اور مہنگائی و بیروزگاری اور بدامنی میں پِسی عوام کو یوں ردی کی ٹوکری کی نظر کر دینے سے واضح ہوگیا کہ اِس حمام میں سب ننگے ہیں!
عالمی سطح کے حوالے سے بات کریں تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ قضیۂ فلسطین پاکستان کے ڈی این اے میں شامل تھا۔ 1940ءکو جب منٹو پارک میں قرارداد لاہور منظور کی گئی تو اُسی دن اہلِ فلسطین کے حق میں بھی ایک قرارداد منظور ہوئی۔ پھر یہ کہ قائد اعظم نے واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ اسرائیل مغرب کا ناجائز بچہ ہے،فلسطینی مسلمانوں کی عسکری مدد بھی کی جائے گی۔ گزشتہ 1000 دنوں کے دوران اِس پالیسی پر بھی سیکولر اشرافیہ نے یوٹرن لے لیا ہے اور غزہ کے مسلمانوں کے خلاف جاری مسلسل اسرائیلی درندگی اور نسل کُشی کے خلاف کوئی عملی قدم نہیں اُٹھایا گیا۔ ’بورڈ آف پیس‘ کا رکن بننے سے صہیونی مفادات کو ہی تقویت ملی ہے اور اب ان حالات میں ملتِ اسلامیہ پاکستان کا ہر فرد اپنی اصل ذِمّہ داریوں کو محسوس کر کے ان کو ادا کرنے کے لیے سرگرم عمل ہو جائے۔ یہ اب ناگزیر ہو چکا ہےکہ پاکستان کو صحیح معنوں میں اسلامی ایٹمی پاکستان کے سانچے میں ڈھالیں۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ سیکولرازم اور لبرل ازم کے دھوکے سے باہر نکلا جائے اور اپنی ماضی کی کمزوریوں، کمیوں اور کوتاہیوں کی تلافی کرتے ہوئے پاکستان کو صحیح معنوں میں ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے تن من دھن لگا دیں۔