(امیر سے ملاقات ) خصوصی پروگرام’’ امیر سے ملاقات‘‘ میں - محمد رفیق چودھری

9 /

زنا، جنسی زیادتی ، قتل جیسے واقعات کی روک تھام کے لیے ضروری ہے

اسلام نے جو سنہری اصول دئیے ہیں، اُنہیں نافذ کیا جائے ،

اس کے برعکس آج ہمارے معاشرے میں ایسے اسباب و ذرائع مہیا کر دئیے

گئے ہیں جن کی وجہ سے ایسے جرائم کی شرح بہت بڑھ گئی ۔

اللہ نے عورت پر کفالت کی ذِمّہ داری نہیں ڈالی بلکہ اُس کے ذِمّہ صالح نسلوں 

کی تیاری ہے جوکہ بہت بڑی ذِمّہ داری ہے ۔

امریکہ ، اسرائیل اور انڈیا کا ابلیسی اتحاد ثلاثہ نہیں چاہتا کہ پاکستان اور افغانستان

کے درمیان برادرانہ تعلقات استوار ہوں، جنگ کی بجائے پاکستان اور افغانستان کو

مل کر اپنے مشترکہ دشمنوں سے نبرد آزما ہونا چاہیے ۔

خصوصی پروگرام’’ امیر سے ملاقات‘‘ میں

امیر تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ کے رفقائے تنظیم اسلامی و احباب کے سوالوں کے جوابات

میزبان :آصف حمید

مرتب : محمد رفیق چودھری

سوال: آج کل ملک میں ایسے واقعات عام ہو رہے ہیں، جن میں خواتین کو ہراساں کیا جاتاہے ، کم عمر بچیوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کا معاملہ سامنے آتاہے۔ اس طرح کے اذیت ناک واقعات کے روز بروز بڑھنے کی اصل وجہ کیا ہے ؟ (محمد عامر، لاہور)
امیر تنظیم اسلامی:پہلے ہر تیسرے چوتھے دن اخبارات یا ٹی وی پر کوئی خبر آتی تھی کہ فلاں جگہ بچی کے ساتھ زیادتی ہوئی اور بچی کو مار ڈالا گیا ، کچرے کے ڈھیر پر پھینک دیا گیایا کسی بچے کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا وغیرہ لیکن اب یہ خبریں تواتر کے ساتھ آرہی ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک تو واقعات بڑھ گئے ہیں اور دوسرا سوشل میڈیا کی وجہ سے ایسے واقعات جلد سامنے بھی آرہے ہیں ۔ اصولی بات یہ ہے کہ قرآن میںاللہ فرماتا ہے :  
{وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓی}’’اور زنا کے قریب بھی مت جائو‘‘ (بنی اسرائیل :32)
ہمارا دین اللہ کی طرف سے عطا کردہ ہے اور اللہ خود فرماتا ہے:
{اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ ط}(الملک:14) ’’کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے؟‘‘
جس رب نے انسان سمیت اس پوری کائنات کو بنایا، وہی حکم دے رہا ہےکہ زنا کے قریب بھی مت جاؤ ۔ یعنی وہ تمام ذرائع جو زنا کے بدترین گناہ تک لے جا سکتے ہیں، اُن تمام پر ہمارا دین پابندی لگاتاہے ۔ ہمارے دین نے اِسی لیے سَتر و حجاب کے احکامات عطا کیے ، محرم و نامحرم کی تمیز بتائی، عورتوں اور مردوں کا الگ الگ دائرہ کار معین کیا ، مخلوط محافل سے منع کیا ، نگاہوں کی حفاظت کا حکم دیا ، گھروں میں داخلے کے لیے اجازت کو لازمی قرار دیا ، نکاح کو آسان بنانے کا حکم دیا ۔ یہ سب اقدامات دین اس لیے لازم قراردیتا ہے تاکہ زنا یا زیادتی جیسے واقعات کے مواقع ہی پیدا نہ ہوں ۔اس کے بعد پھر دین میں زنا کے مرتکب ہونے والوں کے لیے سخت سے سخت سزا مقرر کی گئی جس میں غیر شادی شدہ زانی کے لیے 100 کوڑوں  کی سزا اور شادی شدہ مرد و عورت کو رجم کرنے کی سزا شامل ہے۔شریعت یہ بھی تقاضا کرتی ہے کہ ایسی سزائیں  سرعام دی جائیں تاکہ باقی لوگ بھی عبرت حاصل کریں۔ دین نے یہ سارے احکامات اس لیے دئیے تاکہ معاشرے میں ایسے المناک واقعات جنم نہ لیں۔ مگر ہمارے ہاں مغرب کی نقالی میں جو معاشرت پروان چڑھائی گئی اس میں یہ سب چیزیں اب اجنبی لگتی ہیں ۔ یہی لفظ اسلام کے لیے بھی آتاہے ۔ حدیث کے الفاظ ہیں : 
(( بَدَأَ الإِسْلَامُ غَرِيبًا، وَسَيَعُودُ كَمَا بَدَأَ غَرِيبًا، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ))’’اسلام کا آغاز اجنبی کی حیثیت سے ہوا اور عنقریب پھر اسی طرح اجنبی ہو جائے گا جیسے شروع ہوا تھا، خوش بختی ہے اجنبیوں کے لیے۔‘‘
وہ چیزیں جنہیں دین نے لازم قرار دیا تھا آج انہیں فراموش کر دیاگیا ۔ اُلٹا ایسے اسباب مہیا کر دئیے  گئے اور ایسا ماحول پیدا کر دیا گیا جس کی وجہ سے ایسے جرائم کی شرح بہت بڑھ گئی ۔ آج ہر نوجوان کی جیب میں سمارٹ فون ہے ، انٹر نیٹ کے غلط استعمال پر کوئی     روک ٹوک نہیں ہے ،وہ تمام آزادی اور تمام ذرائع آسانی سے میسر ہیں جو اس گندے کام کی طرف لے جانے والے ہیں ۔ گویا پٹرول بھی مہیا کر دیا گیا ہے اور ماچس کی تیلی بھی ہاتھ میں تھما دی ہے ،ا س کے بعد کوئی کہے کہ آگ نہیں لگے گی تو یہ خوش فہمی ہو سکتی ہے ۔ آج میڈیا پر جو کچھ نشر ہو رہا ہے ، یا انٹر نیٹ پر جو کچھ نوجوان دیکھ رہے ہیں ، تعلیمی اداروں میں جو ماحول فراہم کر دیا گیا ہے اس کے بعد پھر ہم روتے بھی ہیں کہ یہ سب واقعات ہو رہے ہیں ۔ جو ہورہا ہے غلط ہو رہا ہے مگر ان جرائم کا راستہ کس نے کھولا ؟ 
سوال: آپ نے سورۃ بنی اسرائیل کا حوالہ دیا :{وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓی} ’’اور زنا کے قریب بھی مت جائو۔‘‘ تَقْرَبُوا میں کون کون سی چیزیں آتی ہیں؟
امیر تنظیم اسلامی:وہ تمام اسباب اور ذرائع جو زنا تک لے جاسکتے ہیں ان کے آگے دیوار کھڑی کرنے کو ہمارے فقہاء نے سدذرائع کہا ہے ۔ ان میں نگاہوں کا غلط استعمال ، تنہائی میں غیر محرم سے ملنا ، مخلوط ماحول ، انٹرنیٹ ، سوشل میڈیا وغیرہ پر بے حیائی اور فحاشی والا مواد ، جنسی جذبات اور خواہشات کو بھڑکانے والی چیزیں ،     فحش لٹریچر ، فحش گفتگو وغیرہ شامل ہیں ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: آنکھوں کا زنا دیکھنا (بد نظری) ہے، کانوں کا زنا سننا ہے، اور زبان کا زنا (فحش) گفتگو کرنا ہے، ہاتھوں کا زنا غیر محرم کو چھونا ہے ، پیروں کا زنا غلط ارادے سے چل کر جانا ہے اور دل تمنا کرتا اور خواہش کرتا ہے اور شرم گاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔یہ سب گناہ ہیں ۔ ایک روایت میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا :  تمہارے سر میں کوئی کیل ٹھونک دے اُس کو گوارہ کر لینامگر  نامحرم کو چھو نابھی گوارہ نہ کرنا ۔ یعنی غیر محرم کو چھونا اِس قدر نقصان دہ ہے ۔ اسی طرح موسیقی اور شراب و کباب کی محفلیں بھی اِن ذرائع میں شامل ہیں، جو زنا تک لے جاتے ہیں ۔ حضورﷺ نے فرمایا : موسیقی دل میں نفاق کو اس طرح پیدا کرتی ہے جس طرح پانی کھیتی کو اُگاتا ہے ۔ آج مغربی ریسرچ کہتی ہے کہ 90 فیصد زنا کے کیسز موسیقی اور رقص وسرود کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ یہ سب وہ چیزیں ہیں  جن کے قریب جانے سے بھی قرآن منع کرتاہے ۔ آج سمارٹ فون کے ذریعے یہ سب چیزیں بچوں اور نوجوانوں کی آسان رسائی میں ہیں اور کوئی روک ٹوک کا نظام بھی نہیں ہے ، کوئی نگرانی کا انتظام نہیں ہے ، ان تمام برائیوں کی دعوت سرِعام مل رہی ہے اور ہم اس پر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرکے بیٹھے رہیں اور ہم چاہیں کہ ہمارے بچے اور بچیاں محفوظ رہیں تواجتماعی سطح پر یہ ممکن نہیں ہے ۔ سیٹلائٹ چینلز 24 گھنٹے جذبات بھڑکانے والا مواد دکھاتے ہیں اور پھر جب ایسے افسوسناک واقعات رونما ہوتے ہیں تو آسمان سر پر اُٹھالیتا ہے ۔ بنیادی بات یہ ہے کہ ہمارے دین نے جو حفاظتی اقدامات(سدذرائع) تجویز کیے ہیں، اُن پر عمل کیا جائے تو ان واقعات میں کمی آسکتی ہے ۔ 
سوال:اس حوالے سے لوگ کیا احتیاطی تدابیر اختیار کریں؟
امیر تنظیم اسلامی: ہمارے ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے ۔ ہمارے ریاستی اداروں کو بھی ہمارے مسلمان بھائی چلا رہے ہیں ، اُن کے بھی بچے  بچیاں ہیں ، وہ بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ماننے والے ہیں ۔ اُنہیں بڑے دردِ دل کے ساتھ اِس پر غور کرنا چاہیے کہ ہم اپنی نسلوں کی حفاظت کیسے کریں ۔ چین نے اپنا فیس بک ، واٹس ایپ اور سوشل میڈیاکا پورا سسٹم بنا رکھا ہے اور اس پر چین کا اپنا کنٹرول ہے ۔ وہ بچوں کو وہی کچھ فراہم کرتے ہیں جتنا وہ چاہتے ہیں ۔ بچوں کی حفاظت کی اولین ذِمّہ داری گھر والوں پر عائد ہوتی ہے ۔ بہت سے والدین کو میں جانتا ہوں جنہوں نے اپنی بچیوں کو موبائل فون نہیں دئیے ،جب شادی ہو جاتی ہے تو اُنہیں خاوند کی اجازت سے موبائل لے کر دیا جاتاہے کیونکہ گھر سے باہر اُس کا خاوند سے رابطہ ہونا ضرورت کے تحت ہے ۔ اِس سے قبل اگر سہیلیوں سے بات کرنی ہے ، تعلیم کے حوالے سے کوئی معلومات یا اسائنمنٹ لینی ہے تو والدہ یا والد کے موبائل سے بات ہوگی۔ یہ بات بعض  لوگوں کو عجیب لگے گی لیکن اگر اپنے بچوں کے ایمان اور حیاء کی حفاظت کرنی ہے ، اپنی اقدار اور نسلوں کو بچانا ہے تو ایسے ناگزیر اقدامات اُٹھانے ہوں گے ۔ بہت سے والدین نے بچوں کے لیے وقت مخصوص کر رکھا ہے کہ انتے وقت میں وہ اپنی پڑھائی کے لیے موبائل استعمال کر سکتے ہیں ، اسی طرح لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر کا استعمال بھی اس طرح کروایا جاتاہے کہ اس کی سکرین نگرانی میں ہو ، سب دیکھ سکیں بچہ کیا کر رہا ہے ۔ پھر یہ کہ انٹر نیٹ کے استعمال ، اس کے نقصانات اور احتیاطی تدابیر کے حوالے سے بہت سے لوگوں نے بہت اچھا تربیتی مواد بنایا ہوا ہے ، وہ بچوں کو سنایا اور دکھایا جائے ۔ اِسی طرح منبر و محراب بھی ایک بہت اچھا پلیٹ فارم ہے جہاں سے علماء حضرات نوجوان نسل اور قوم کی اس حوالے سے ذہن سازی اور تربیت کر سکتے ہیں ۔ لوگوں کے ایمان اور حیاء کی حفاظت دینی حلقوں کی ذِمّہ داری بھی ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : حیاء اور ایمان لازم و ملزوم ہیں ، اگر ایک چلاجائے تو دوسرا بھی رخصت ہو جاتاہے ۔ لہٰذا منبر و محراب سے حیاء اور ایمان کی حفاظت کے لیے بھر پور آواز اُٹھائی جانی چاہیے ۔ اِس ضمن میں معاشرے کے دانشور طبقہ ، محققین اور مصنفین سے بھی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں جو معاشرتی اقدار کے حوالے سے فکرمند ہیں ۔ ان کی اس input کے ساتھ اگر منبر سے بھی بات ہو تو زیادہ موثر ہوگی۔ اسی طرح دینی حلقوں کے ہفتہ وار ، پندرہ روزہ ، ماہانہ یا سہ ماہی اجتماعات ہوتے ہیں ان کے ذریعے بھی ان ایشوز کو اجاگر کیا جائے ۔ سب سے بڑا ذریعہ     تعلیمی ادارے ہو سکتے ہیں جہاں کم و بیش 8 کروڑ بچے    زیر تعلیم ہیں ، ان اداروں کے ذریعے آگاہی مہم شروع کی جائے ۔ اگر اِن تمام فورمز سے اس سنگین ایشو کے متعلق ذہن سازی کی جائے تو امید ہے اس کے حوصلہ افزا نتائج برآمد ہو سکتے ہیں ۔اہم یہ ہے کہ ریاست اپنی ذِمّہ داری ادا کرے ۔ سوشل میڈیا کے غلط استعمال کی وجہ سے توہین مذہب کی ایک بدترین شکل بھی سامنے آئی ہے اور عدالتوں میں کیسز بھی چل رہے ہیں ، اِس قدر افسوسناک صورت حال پر خود ریاستی اداروں کے لوگ بھی پریشان ہیں ، ججز اور وکلاء بھی پریشان ہیں ۔ حتیٰ کہ اِس فتنہ سے اپنے بچوں کو بچانے کے لیے موبائل پر ایک میسج بھی سرکاری سطح پر چلایا گیا ۔ ریاست کے پاس اختیار ہے وہ چاہے تو اِن فتنوں کا سدباب کر سکتی ہے ۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ والدین ، گھر کے ذِمّہ دار افراد خود اپنی ذِمّہ داری ادا کریں ۔ حدیث میں ہے کہ دیوث جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ دیوث صرف وہ نہیں ہے جس کی عورت بے پردگی اور بے حیائی میں ملوث ہو اور وہ اسے روکے نہ بلکہ علماء کرام کے نزدیک دیوث کے مفہوم میں وہ بھی شامل ہے جو کسی تعلیمی ادارے ، بینک، آفس یا کسی بھی اجتماعی فورم کا سربراہ ہے اور وہاں بے پردگی اور بے حیائی کو روکا نہ جارہا ہو ۔ آج سے 10سال پہلے بعض تعلیمی اداروں میں جانا ہوا ، وہاں بچے اور بچیاں اکٹھے ڈانس کر رہے تھے اور والدین بیٹھ کر دیکھ رہے تھے ۔ 10 سال پہلے اگر ان بچوں اور بچیوں کی اس قسم کی حوصلہ افزائی ہورہی تھی توآج اُن کا کیا حال ہوگا ؟ ان کی زندگیوں سے حیاء اور ایمان اگر چلے گئے تو ذِمّہ دار کون ہوا ؟ اسی لیے حدیث کے الفاظ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا :دیوث جنت میں داخل نہ ہو گا۔ ایک اور حدیث  کے الفاظ ہیں : ((كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ   عَنْ رَعِيَّتِهِ))(صحیح بخاری)’’ تم میں سے ہر شخص اپنی رعایا کا نگہبان ہے اور (قیامت کے دن) اس سے اپنی رعایا سے متعلق بازپرس ہو گی ۔‘‘
روز قیامت ایسے والدین سے ، تعلیمی اداروں کے مالکان ، اساتذہ ،نیز ہر اجتماعی فورم کے سربراہان اور   ذِمّہ داران سےپوچھا جائے گا جہاں لوگوں کی حیاء اور ایمان کی حفاظت نہیں کی گئی بلکہ ان پر ڈاکہ ڈالا گیا ۔ اولاد کے متعلق والدین سے ، بیوی کے متعلق شوہر سے ، غلام کے متعلق مالک سے اور عوام کے متعلق ریاست کے   ذِمّہ داران سے پوچھا جائے گا۔کچھ لوگوں نے ایک سیکولر بہانہ تراشا ہوتاہے کہ کسی پر زبردستی نہیں کی جا سکتی ۔ حوالہ کے طور پر اس آیت کا غلط استعمال کیا جاتاہے : 
 { لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِقف}(البقرہ :256) ’’دین میں کوئی جبر نہیں ہے۔‘‘ 
حالانکہ اس آیت کا اطلاق صرف غیر مسلموں پر ہو تا ہے ، جو مسلمان ہے، اس پر شریعت پر عمل کرنا لازم ہے ۔ہر ادارے میں کوئی قواعد و ضوابط ہوتے ہیں جن پر عمل کرنا ضروری ہوتاہے، تاخیر سے آنےپر جرمانہ ہو سکتاہے ، تنخواہ کٹ سکتی ہے تو پھر شرعی قوانین کی پابندی کیوں ضروری نہیں ؟ 
سوال: ایک مسلمان نوجوان سافٹ ویئر انجینئر ہے، اس کو کام کی تلاش بھی ہے، جو کام اُسے ملتا ہے وہ دین سے مطابقت نہیں رکھتا بلکہ کم و بیش اس کے برعکس ہے تو اس نوجوان کے لیے کیا رہنمائی ہے ؟(عبداللہ مغیث)
امیر تنظیم اسلامی:ایسے سوالات کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے کہ کم ازکم احساس تو ہے ۔ جو صورت حال بتائی گئی اس کو ہم ایک حدیث کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : ((اسْتَفْتِ قَلْبَكَ))’’اپنے دل سے فتویٰ لو۔ ‘‘
ہر انسان کی فطرت میں اللہ نے اچھائی اور برائی کی تمیز رکھ دی ہے ۔ اپنے دل میں جھانک کر دیکھے تو جواب مل جاتاہے کہ کیا اچھا ہے اور کیا براہے ۔ کئی مرتبہ اندر سے تو جواب مل جاتاہے لیکن باہر کا پریشر اتنا زیادہ ہوتاہے کہ انسان حیلے اور بہانے تلاش کرنے لگتا ہے ۔ پھر علماء بھی دو قسم کے ہوتے ہیں ۔ ایک قسم علماء حق کی ہے جو حق پر سمجھوتہ نہیں کرتے ، دوسری قسم علماء سو کی ہے ، وہ حیلے بیان کرتے ہیں اور عام آدمی کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔ پھر فتنوں کے دور میں تو اچھائی اور برائی کی تمیز اور بھی مشکل ہو جاتی ہے ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : میری اُمت پر ایک وقت ایسا آئے گا جب بندے کو فکر نہیں ہوگی کہ وہ حلال کما رہا ہے یا حرام ۔ اسی طرح اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا :
(( إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ فِتْنَةً، وَفِتْنَةُ أُمَّتِي الْمَالُ ))    ’’ ہر اُمّت کا کوئی فتنہ ہے اور میری اُمّت کا فتنہ مال ہے۔‘‘
آج آپ دیکھ لیں ٹک ٹاک اور یوٹیوب      کے ذریعے پیسہ کمانے کے لیے حیاء اور ایمان کی     کس طرح دھجیاں اُڑائی جاتی ہیں ، یہاں تک کہ گھر کی خواتین کو بھی دکھانے سے گریز نہیں کیا جاتا، دوسروں کو بھی دیوث بنانے کی ترغیب دی جاتی ہے جبکہ آخرت کی کوئی فکر نہیں ہے ۔ اللہ کے رسول ﷺ نےفرمایا : روزقیامت بندے کے قدم اُٹھ نہیں سکیں گے جب تک کہ اس سے پانچ سوالات کے جوابات نہ لیے جائیں ۔ 1۔زندگی کن کاموں میں کھپائی ، 2۔جوانی کہاں کھپائی ، 3۔ مال کہاں سے کمایا اور 4۔کہاں خرچ کیا ،5۔ علم جو حاصل کیا اُس پر کتنا عمل کیا ۔ ان پانچ سوالات میں سے دو سوالات تو صرف مال کے متعلق ہیں ۔ پھر حرام مال کی نحوست کے بارے میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : حرام سے  پلا ہوا جسم جنت میں نہیں جائے گا ۔ کسی کا لباس 10درہم کا ہے ، اس میں 1درہم بھی حرام کا ہے تو جب تک وہ لباس پہنا رہے گا تب تک اُس بندے کی دعا قبول نہیں ہوگی ۔ پھر اللہ کے رسول ﷺ یہ بھی فرماتے ہیں:((الحلال بين، والحرام بين، وبينهما مشتبهات، فمن اتقى الشبهات استبرأ لدينه وعرضه)) ’’حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں، پس جس نے شبہ والی چیزوں سے پرہیز کیا اُس نے اپنے دین اور عزت کو بچا لیا۔‘‘
اس تناظر میں بندہ خود اپنے کام کا جائزہ لے سکتاہے کہ وہ جو کچھ کما رہا ہے یا جس کام کے ذریعے کما رہا ہے وہ ایمان ، حیاء ، اسلام ، اللہ اور اُس کے دین کے لیے کتنا فائدہ مند اور کتنا نقصان دہ ہے ۔اپنے اندر سے جو جواب ملے گا اس کے مطابق وہ عمل کرلے ۔ 
سوال:سافٹ ویئر انجینئرنگ کے شعبہ میں گیم کی ایپس بھی بنائی جاتی ہیں۔ ایک تو یہ لغویات میں شمار ہوتی ہیں ، دوسرا ان کے ساتھ جو ایڈز چلتے ہیں وہ بھی حیاء اور ایمان کے منافی ہوتے ہیں ، دین اس حوالے سے کیا رہنمائی دیتاہے ؟
امیر تنظیم اسلامی:ایسے معاملات میں فتویٰ  دینا تو مفتی حضرات کا کام ہے تاہم اصولی بات احادیث کی روشنی میں واضح ہے کہ مال کے فتنہ کی وجہ سے حلال و حرام کی تمیز ختم ہو جائے گی۔ احادیث کی روشنی میں جہاں  حرام کا شبہ بھی ہو تو اس سے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ اسی طرح ایک گناہ جاریہ بھی ہوتاہے ۔ ایک بندہ ایمان اور حیاء کو نقصان پہنچانے والا مواد تیار کرتا ہے جب تک دنیا اسے دیکھتی رہے گی تب تک اُسے گناہ ملتا رہے گا ۔جہاں تک رزق کا تعلق ہے تو جتنا بندے   کی قسمت میں لکھا ہوا ہے وہ اُسے مل کر رہے گا ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا :بچہ ماں کے بطن میں چار ماہ کا ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتے کو بھیج کر اُس میں روح ڈالتا ہے اور رزق سمیت چند باتیں طے کر دی جاتی ہیں ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے :
{وَمَا مِنْ دَآبَّۃٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَی اللہِ رِزْقُہَا} (ہود:6)’’اور نہیں ہے کوئی بھی چلنے پھرنے والا (جاندار) زمین پر ‘مگر اس کا رزق اللہ کے ذِمّہ ہے۔‘‘
جمعہ کے خطبہ کے آخر میں کبھی ہم حدیث کے یہ الفاظ سنتے ہیں :
(( لَنْ تَمُوتَ حَتَّى تَسْتَوْفِيَ رِزْقَهَا))(ابن ماجہ ) ’’کوئی اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک اپنی روزی پوری نہ کر لے۔‘‘
بے شک دنیا میں آج مقابلہ بڑھ گیا ہے ، آبادی بہت زیادہ ہوگئی ہے ، مواقع کم ہیں مگر جتنا رزق کسی کی قسمت میں لکھا ہے وہ اُسے مل کر رہے گا ، بندہ صرف اس کی کوشش کرے گا ، دینا اللہ تعالیٰ نے ہے ۔ اس میں امتحان یہ ہے کہ بندہ وہ رزق حلال ذرائع سے کماتاہے یا حلال سے ۔ گیمز کی ایپس بنانے کا جہاں تک معاملہ ہے تو اِن میں بھی حرام ، بے حیائی ، لغواور فواحشات کا عنصر موجود ہوتاہے ۔ ارشادباری تعالیٰ ہے:
{یَاْمُرُکُمْ بِالسُّوْٓئِ وَالْفَحْشَآئِ}(البقرئہ:169) ’’وہ (شیطان) تو بس تمہیں بدی اور بے حیائی کا حکم دیتا ہے‘‘
جبکہ اللہ تعالیٰ فحشاء سے منع کرتاہے : 
{وَیَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِ وَالْبَغْیِ ج } (النحل:90 )’’اور وہ روکتا ہے بے حیائی ‘ برائی اور سرکشی سے۔‘‘
ان ساری چیزوں کومدنظر رکھ کر ہم خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ہم جو کرنے جارہے ہیں وہ درست ہے یا غلط ۔ 
سوال: میں سنگل پیرنٹ ہوں میں اپ ورک اور فائیور پر میڈیکل بلنگ اور کوڈنگ کی آن لائن ملازمت شروع کرنا چاہتی ہوں۔ براہ کرم یہ فرمائیں کہ میڈیکل بلنگ اور کوڈنگ بین الاقوامی سطح پر حلال ہے یا حرام ؟(ایک خاتون)
امیر تنظیم اسلامی:پہلی اصولی بات یہ ہے کہ اللہ نے عورت پر کفالت کی ذِمّہ داری نہیں ڈالی بلکہ     ہر صورت میں عورت کی کفالت کوئی نہ کوئی مرد کرے گا ۔ یعنی اگر بیٹی ہے باپ کی ذِمّہ داری ہے ، بیوی ہے تو شوہر کی   ذِمّہ داری ، بیوہ ہے تو بیٹوں کی ذِمّہ داری ہے ، بیوہ ہے اور بیٹے بھی نہیں ہیں تو باپ اور بھائیوں کی ذِمّہ داری ہے ۔ اگر باپ اور بھائی بھی نہیں ہیں تودادا ، وہ نہیں تو چچا ، تایا ، وہ بھی نہیں تو نانا ، ماموں ، وغیرہ ۔ یہاں تک کہ قریبی رشتوں پر اس کی ذِمّہ داری آتی ہے ۔ وہ بھی نہ ہوں تو مسلم ریاست  کی ذِمّہ داری ہوگی کہ وہ عورت کی کفالت کرے ۔ اگر  مسلم ریاست بھی نہ ہو تو مسلم معاشرہ عورت کی کفالت کا  ذِمّہ دار ہوگا ۔ دین میں عورت کی ذِمّہ داری صرف گھر سنبھالنا اور بچوں کی اچھی پرورش کرنا ہے ۔ نپولین نے کہا تھا تم مجھے بہترین مائیں دو ! میں تمہیں بہترین قوم دینے کو تیار ہوں ۔
انسانی معاشرے میں ماں کا کردار بہت عظیم ہے مگر آج اس کردار کو ہلکا سمجھ لیا گیا ہے ۔کئی برس قبل ایک بینک آفیسر کہنے لگا :75 ہزار میں گزارا نہیں ہوتا، لانڈری کا خرچہ ، باورچی ، خانساما وغیرہ سب کو دے کر باقی کچھ بچتا ہی نہیں ۔ اگر گھر کے سارے کام ایک دیندار عورت دینی ذِمّہ داری سمجھ کر کرتی ہے تو ذرا سوچئے کہ وہ شوہر کو کتنی بچت دے رہی ہے ؟ ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ میں 70 فیصد خواتین کو مارکیٹ میں لا کر مزدوروں اور ملازموں کی طرح کام کروانے کے باوجود پیداواری صلاحیت 5 فیصد بھی نہیں بڑھی ہے ۔ لہٰذا کئی امریکن تھنک ٹینکس مانتے ہیں کہ 5 فیصد پیداوار کے لیے 70 فیصد ماؤں کو داؤپر لگانا حماقت ہے جو اچھی نسل تیار کر سکتی تھیں ۔ اسی لیے اسلام نے عورت کو صرف گھر کی ذِمّہ داری دی ہے ۔  مجبوری کا معاملہ الگ ہے ، اگر شوہر فوت ہو جائے اور کفالت کرنے والا کوئی نہ رہے تو عورت شریعت کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے حلال رزق کمانے کا کوئی کام کر سکتی ہے ۔مگر اس صورت میں بھی شرعی تقاضوں کا لازمی اہتمام کیا جائے گا ۔ مثلاً پردے کا اہتمام ہو ، غیر محرم مردوں سے اختلاط نہ ہو ، تنہائی میں کسی غیر محرم مرد کی موجودگی نہ ہو ، کم سے کم وقت گھر سے باہر گزارنا پڑے وغیرہ ۔ یہ مجبوری کی حالت میں گنجائش ہے مگر شوق بنالینا اسلام کے اصولوں کے منافی ہے ۔ خاص طور پر اچھی نسلوں کی تیاری خطرے میں پڑ جاتی ہے ۔ جیسا کہ کئی علاقوں میں ڈے کیئر سنٹرز کھل گئے ۔ خواتین صبح ملازمت پر جاتے ہوئے اپنے بچوں کو ان سینٹرز میں چھوڑ جاتی ہیں اور واپسی پر گھر لے جاتی ہیں ۔ ذرا سوچئے ! یہ بچے کس ذہنیت کے ساتھ پروان چڑھیں گے ؟جہاں تک بہن کا سوال ہے کہ وہ آن لائن میڈیکل بلنگ ، کوڈنگ وغیرہ کرنا چاہتی ہیں تو اگرچہ اس کے لیے گھر سے باہر جانا ضروری نہیں ہوگا لیکن غیر محرم مردوں کے ساتھ بات چیت ہوگی اور اس صورت میں سورہ احزاب کےشروع میں بتا دیا گیا کہ اگر کسی غیر محرم مرد سے بات کرنا پڑ جائے تو خواتین کو چاہیے کہ وہ ایسے نرم انداز اور لہجے میں بات نہ کریں جسے مرد کے دل میں کوئی بری نیت پیدا ہو ۔ آج کے دور میں آن لائن انٹرایکشن اگر ضروری ہو تو گھر میں موجود کسی مرد یا ماں باپ کی موجودگی میں کی جائے اور اگر براہ راست کسی مرد سے ڈیلنگ کا معاملہ آجائے تو بھی اپنے کسی مرد کی موجودگی میں کی جائے۔ بندہ اپنی طرف سے بچنے کی کوشش کرے باقی اللہ تعالیٰ پر بھروسا کرلے تو اللہ تعالیٰ  فتنوں سے بچائے گا ان شاء اللہ ۔ 
سوال:  آپ جب پاکستان اور افغانستان کے تناظر میں گفتگو کرتے ہیں تو نظر آتا ہے کہ آپ پاکستان پر زیادہ تنقید کرتے ہیں جبکہ افغان طالبان پر نہ ہونے کے برابر تنقید کرتے ہیں ۔حالانکہ اگر صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو خطا دونوں کی نظر آتی ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ افغان طالبان کی غلطیوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے جس کا بھارت کے ساتھ اتحاد کسی سے ڈھکا چھپا نہیں؟(عارف نبی)
امیر تنظیم اسلامی: سچی بات یہ ہے کہ     امام الانبیاء ﷺ کے بعد کوئی بھی خطا سے پاک نہیں ہے ۔ خطا کی ڈگری میں فرق ہو سکتاہے ، ایک طرف کم ہوگی ، دوسری طرف زیادہ ہوگی ۔ اگر ہمارے بھائی ہمارے پچھلے پانچ چھ ماہ کے خطبات کا جائزہ لیں تو انہیں معلوم ہو گاکہ ہم نے افغان طالبان کی غلطیوں کی بھی نشاندہی کی ہے اور اپنی حکومتوں کی جانب سے کی جانے والی غلطیوں  کی بھی ۔ البتہ ایک فرق ذہن میں رکھیں کہ 20 سال روس کو افغانستان سے جانے میں لگ گئے ، 20 سال امریکہ کو جانے میں لگ گئے ، علامہ زاھد الراشدی صاحب فرماتے  ہیں کہ کم ازکم 20 افغان طالبان کی حکومت کو مستحکم ہونے کے لیے تو دے دو ۔ ہم نے اسلام کے نام پر پاکستان حاصل کیا تھا مگر 78 سال ہوگئے ابھی تک حقیقی معنوں میں  اسلامی ملک نہیں بنا سکے ۔ افغان طالبان کو تو ابھی چند سال ہوئے ہیں ، ان کی حکومت مستحکم نہیں ہے ،اس لیے انہیں رعایت دینی چاہیے ۔ جہاں تک بھارت کے ساتھ  افغان طالبان کے اتحاد کی بات ہے تو ہم اس کی مذمت کرتے ہیں ۔ ہم نے اس حوالے سے پریس ریلیز بھی جاری کی ہے ۔ ہم امریکہ ، اسرائیل اور انڈیا کے گٹھ جوڑ کو ابلیسی اتحاد ثلاثہ کہتے ہیں ۔ یہ تینوں نہیں چاہتے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان برادرانہ تعلقات استوار ہوں اور اس خطہ میں امن و استحکام پیدا ہو ۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ احادیث میں اس خطے(مستقبل کے خراسان) کا خاص طور پر ذکر ہے جہاں سے اسلامی لشکر حضرت مہدی اور حضرت عیسیٰ ؑ کی نصرت کے لیے جائیں گے ۔ کفار و مشرکین کو معلوم ہے کہ اس خطے میں اگر امن اور استحکام پیدا ہوگیا تو یہاں سے معاملہ اسلام کے عالمی غلبے کی طرف جائے گا ۔ اِسی لیے وہ اس خطہ میں خون ریزی چاہتے ہیں ۔ افغانستان سے اگر پاکستان پر حملہ ہوتا ہے تو ہم اس کی بھی مذمت کرتے ہیں ۔اسی طرح جب پرویز مشرف نے امریکہ کا ساتھ دے کر یہاں سے 57 ہزار پروازوں کو اُڑنے کی اجازت دی اور ہمارے 15 لاکھ افغانی بھائی شہید ہوئے اور 15 لاکھ کے قریب زخمی بھی ہوئے تو ہم نے مشرف کے اِس فعل کی بھی بھرپور مذمت کی ۔ ہم کہتے ہیں کہ دونوں مسلم برادر ملک ہیں ، پڑوسی ہیں ، دونوں کی غلطیاں ہو سکتی ہیں اور غلطیاں ہوں گی بھی مگر ہم نے اسلامی اخوت کے رشتے کو ہر حال میں بنیاد بنانا ہے ۔ احادیث میں اس خطے کے مستقبل کا جو منظر پیش کیا گیا ہے ہمیں اس کے لیے تیاری کرنی چاہیے ۔ شیطانی اتحاد ثلاثہ پاک افغان بارڈر پر جو کشیدگی اور خون ریزی چاہتا ہے اس کو دونوں برادر ممالک مل کر روک سکتے ہیں ۔ ہم کہتے ہیں کہ جنگ کی بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے ۔ ہمیں بڑے مقاصد کو سامنے رکھ کر آگے بڑھنا چاہیے ۔ اگر آپس میں لڑیں تو مفاد ابلیسی اتحاد ثلاثہ کا پورا ہوگا ۔ بجائے اس کے دونوں ممالک آپس میں اتحاد کرکے اپنے مشترکہ دشمنوں سے مقابلہ کریں تو اس میں دونوں ملکوں اور اُن کے عوام کی بھلائی ہے ۔