(تربیت و تزکیہ) حقوقِ انسانی کا الٰہی منشور - ڈاکٹر ضمیر اختر خان

9 /

حقوقِ انسانی کا الٰہی منشور

 

ڈاکٹر ضمیر اختر خان

 
دنیا کی سیاسی تاریخ میں میگنا کارٹا (Magna Carta )کو قانون کی بالادستی اور حکمرانوں  کے اختیارات کو محدود کرنے کی ایک اہم دستاویز قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن تاریخ کا ایک اور باب ایسا بھی ہے جو نہ صرف اس سے صدیوں پہلے رقم ہوا بلکہ اپنی جامعیت، عالمگیریت اور اخلاقی عظمت کے اعتبار سے آج بھی انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ یہ باب خطبۂ حجۃ الوداع کا ہے، جہاں نبی اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کی روشنی میں انسانی حقوق، عدل، مساوات اور حکمرانی کے ایسے سنہری اصول عطا فرمائے جو کسی مخصوص قوم یا زمانے کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہیں۔انہیں بجا طور پرحقوق انسانی کا الہی منشور قراردیا جاسکتا ہے ۔ اس حقیقت کے تناظر میں میگنا کارٹا اور خطبۂ حجۃ الوداع کا تقابلی جائزہ کئی اہم سوالات کو جنم دیتا ہے۔
  ایک مسلمان قاری کے ذہن میں یہ سوال ضرور اُبھرتا ہے کہ کیا انسانی حقوق، قانون کی بالادستی اور حکمرانوں کے احتساب کا تصور پہلی مرتبہ 1215ء میں سامنے آیا تھا؟ حقیقت یہ ہے کہ میگنا کارٹا بلاشبہ مغربی سیاسی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل ہے، لیکن اِس سے تقریباً چھ سو برس قبل رسول اکرم ﷺ نے 10 ہجری میں میدانِ عرفات میں جو خطبۂ حجۃ الوداع ارشاد فرمایا تھا، وہ انسانی حقوق، عدل اجتماعی اور حکمرانی کے اصولوں کا ایک ایسا الٰہی منشور تھا جس کی جامعیت آج بھی دنیا کے تمام سیاسی و سماجی نظاموں پر فوقیت رکھتی ہے۔مگر بدقسمتی سے خودمسلم حکمران بھی اس عظیم الٰہی منشورکے مطابق حکمرانی کے فرائض انجام نہیں دے رہے، غیرمسلموں سے کیا شکایت کریں۔ 
میگنا کارٹا دراصل بادشاہ اور چند طاقتور جاگیرداروں کے درمیان ایک سیاسی سمجھوتہ تھا، جس کا مقصد حکمران کے اختیارات کو محدود کرنا تھا، جبکہ خطبۂ حجۃ الوداع پوری انسانیت کے لیے ایک ابدی منشور تھا۔ وہاں حقوق کسی طبقے، نسل یا قوم تک محدود نہیں تھے بلکہ ہر انسان کی جان، مال اور عزت کو مقدس قرار دیا گیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں جیسے یہ دن(یوم العرفۃ)، یہ مہینہ(ذوالحجۃ) اور یہ شہر(مکۃ المکرمۃ) حرمت و الے ہیں۔ یہ اعلان انسانی وقار کے اس تصور کو جنم دیتا ہے جو کسی بادشاہ، پارلیمنٹ یا عدالت کا عطیہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ حق ہے۔
اسی طرح میگنا کارٹا نے حکمران کو قانون کے تابع کرنے کی کوشش کی، لیکن اسلام نے اس سے کہیں آگے بڑھ کر یہ اصول دیا کہ حکمران سمیت ہر شخص اللہ کے قانون کا پابند ہے۔ اسلامی تاریخ میں خلفائے راشدین نے اپنے آپ کو عوام کے سامنے جواب دہ سمجھا اور عدالتی نظام کے سامنے ایک عام شہری کی حیثیت سے پیش ہونے میں کوئی عار محسوس نہیں کی۔ یہ وہ عملی نمونہ تھا جس نے قانون کی بالادستی کو محض ایک نظریہ نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت بنا دیا۔
مزید یہ کہ مغرب میں انسانی حقوق کا ارتقا صدیوں پر محیط جدوجہد کے بعد ممکن ہوا، جبکہ نبی مکرم ﷺ نے کل 23 سالہ جدوجہد کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ انتہائی جامع منشورپیش کیا بلکہ اس پرصدفی صد عمل کر کے دکھایا اور پھر خطبۂ حجۃ الوداع میں عورتوں کے حقوق، غلاموں کے حقوق، معاشی انصاف، نسلی مساوات اور انسانی اخوت کے اصول ایک ہی موقع پر واضح کر دئیے گئے۔ آپ ﷺ نے اعلان فرمایا کہ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی گورے کو کالے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، سوائے تقویٰ کے۔ آج بھی دنیا نسلی تعصب اور طبقاتی تقسیم سے نجات حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی، جبکہ اسلام نے چودہ سو برس قبل اِس مسئلے کا مستقل حل پیش کر دیا تھا۔
اِس پس منظر میں مسلم حکمرانوں، دانش وروں اور پالیسی سازوں کے لیے لمحۂ فکریہ ہے کہ وہ مغربی سیاسی تاریخ کے ان سنگ میلوں کا مطالعہ تو کرتے ہیں، مگر اپنے عظیم ترین ورثے سے عملاً دور ہوتے جا رہے ہیں۔ اگر مسلم دنیا حقیقی عدل، سیاسی استحکام، عوامی اعتماد اور عالمی احترام حاصل کرنا چاہتی ہے تو اُسے خطبۂ حجۃ الوداع میں پیش کردہ اصولوں کو محض مذہبی نصوص کے طور پر نہیں بلکہ ریاستی اور اجتماعی زندگی کی بنیاد کے طور پر اختیار کرنا ہوگا۔
مسلم حکمرانوں سے گزارش ہے کہ وہ اقتدار کو  ذاتی مفاد یا خاندانی وراثت کے بجائے امانت سمجھیں، قانون کی بالادستی کو یقینی بنائیں، عدل کو ہر شہری تک پہنچائیں، کرپشن اور استحصال کا خاتمہ کریں اور انسانی جان، مال اور عزت کے تحفظ کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو اُنہیں اللہ تعالیٰ کی رضا، عوام کے اعتماد اور دنیا میں عزت و وقار عطا کرسکتا ہے۔
دنیا میگنا کارٹا کی آٹھ سو سالہ میراث کا جشن    منا رہی ہے، لیکن مسلم دنیا کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنے اس عظیم الٰہی منشور کی طرف لوٹے جو میدانِ عرفات میں نازل شدہ ہدایت کی روشنی میں رسول اللہ ﷺ نے انسانیت کے سامنے پیش فرمایا تھا۔ جب مسلمان معاشرے خطبۂ حجۃ الوداع کے عدل، مساوات، اخوت اور جواب دہی کے اصولوں کو اپنی ریاستی اور اجتماعی زندگی کا محور بنا لیں گے تو وہ نہ صرف اپنے داخلی مسائل پر قابو پا سکیں گے بلکہ پوری انسانیت کے سامنے ایک منصفانہ، پُرامن اور باوقار نظامِ زندگی کی عملی مثال بھی پیش کر سکیں گے۔
آج جبکہ دنیا انصاف، امن، انسانی وقار اور مؤثر حکمرانی کی تلاش میں سرگرداں ہے، مسلم حکمرانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اس عظیم الٰہی ورثے کی طرف رجوع کریں جس نے چودہ سو سال قبل انسانیت کو عدل و مساوات کا مکمل ضابطہ عطا کیا تھا۔ خطبۂ حجۃ الوداع محض ایک  تاریخی خطبہ نہیں بلکہ ایک زندہ منشور ہے جو ریاست، معاشرے اور فرد سب کی رہنمائی کرتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ مسلم دنیا مغرب کے فکری تجربات سے آگاہ رہتے ہوئے اپنی اصل بنیادوں کو بھی پہچانے اور ان پر عملاً کاربند ہو۔ جب حکمران اور عوام مل کر اس نبوی منشور کو اپنی اجتماعی زندگی کا محور بنائیں گے تو ایک ایسا عادلانہ، باوقار اور پُرامن نظام وجود میں آئے گا جو نہ صرف اُمّت ِ مسلمہ کی عظمتِ رفتہ کو بحال کرے گا بلکہ پوری انسانیت کے لیے خیر و ہدایت کا سرچشمہ بن جائے گا۔ ان شاء اللہ۔
عمومی آگاہی کے لیے خطبۂ حجۃ الوداع اور میگنا کارٹا کا ایک تقابلی جائزہ پیش کیا جاتارہا ہے تاکہ مسلم حکمران خاص طور پرغیرمسلم دنیا کے حکمران عام طور پر یہ جان سکیں کہ فلاح دارین کا منشورکون سا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انسانی تاریخ میں بعض دستاویزات اور خطبات ایسے ہیں جنہوں نے اقوام کے فکری، سیاسی اور سماجی ارتقاء پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ مغربی دنیا میں 1215ء کا میگنا کارٹا  قانون کی بالادستی اور حکمران کے اختیارات کو محدود کرنے کی ایک تاریخی دستاویز کے طور پر جانا جاتا ہے، جبکہ اسلامی تاریخ میں 10 ہجری کا خطبۂ حجۃ الوداع انسانی حقوق، عدل و انصاف اور مساواتِ انسانی کا ایک جامع اور آفاقی منشور ہے۔ اگرچہ دونوں کا تاریخی پس منظر  اور دائرۂ کار مختلف ہے،میگناکارٹا انسانی ذہن کی تخلیق ہے جبکہ خطبہ حجۃ الوداع منزل من اللہ ہے، تاہم ان کا تقابلی جائزہ کئی اہم حقائق کو واضح کرتا ہے۔
پس منظر کا فرق:
  میگنا کارٹا ایک سیاسی معاہدہ تھا جو انگلستان کے بادشاہ جان اور بااثر جاگیرداروں (بیرنز) کے درمیان شدید سیاسی کشمکش کے نتیجے میں وجود میں آیا۔ اس کا بنیادی مقصد بادشاہ کے اختیارات کو محدود کرنا اور اشرافیہ کے بعض حقوق کا تحفظ تھا۔
اس کے برعکس خطبۂ حجۃ الوداع کسی سیاسی تنازع یا طبقاتی کشمکش کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی حضرت محمد ﷺ کی طرف سے پوری انسانیت کے لیے ایک الٰہی پیغام تھا۔ اس کا مقصد ایک عادلانہ، اخلاقی اور انسانی معاشرے کی بنیاد فراہم کرنا تھا۔
مخاطبین کا فرق:
میگنا کارٹا بنیادی طور پر بادشاہ، جاگیرداروں اور حکمران طبقے کے درمیان تعلقات کو منظم کرنے کے لیے مرتب کیا گیا تھا۔ عام عوام اس کے براہِ راست مخاطب نہیں تھے۔
خطبۂ حجۃ الوداع کا مخاطب پوری انسانیت تھی۔ اس میں رنگ، نسل، زبان، قومیت اور طبقاتی تقسیم سے بالاتر ہو کر تمام انسانوں کے فرائض و حقوق بیان کیے گئے۔
حقوق کا ماخذ:
میگنا کارٹا میں حقوق کا سرچشمہ سیاسی قوتوں کے درمیان ایک معاہدہ تھا جسے وقت اور حالات کے مطابق تبدیل بھی کیا جا سکتا تھا۔
اسلام میں حقوق کا ماخذ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ خطبۂ حجۃ الوداع میں بیان کردہ حقوق انسانی خواہشات یا سیاسی مفادات کے تابع نہیں بلکہ خدائی احکام پر مبنی ہیں، اس لیے ان کی حیثیت زیادہ مستحکم اور دائمی ہے۔
قانون کی بالادستی:
میگنا کارٹا کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ اس نے پہلی مرتبہ یہ تصور پیش کیا کہ بادشاہ بھی قانون سے بالاتر نہیں۔
خطبۂ حجۃ الوداع اور اسلامی تعلیمات اس سے آگے بڑھ کر یہ اصول دیتی ہیں کہ حکمران ہو یا عام شہری، سب اللہ کے قانون کے تابع ہیں۔ اسلام میں قانون کی بالادستی کسی انسان یا ادارے کی نہیں بلکہ شریعتِ الٰہی کی ہے۔
انسانی مساوات:
  میگنا کارٹا نے انسانی مساوات کا جامع تصور پیش نہیں کیا کیونکہ اس کا دائرہ محدود تھا اور اس زمانے میں طبقاتی تقسیم برقرار رہی۔
خطبۂ حجۃ الوداع نے واضح اعلان کیا:’’کسی عربی کو عجمی پر اور کسی گورے کو کالے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، مگر تقویٰ کے سبب۔‘‘ یہ اعلان انسانی مساوات اور نسلی برابری کا ایسا اصول ہے جو آج بھی عالمی انسانی حقوق کے بنیادی تصورات میں شمار ہوتا ہے۔
عورتوں اور کمزور طبقات کے حقوق: 
میگنا کارٹا میں عورتوں اور کمزور طبقات کے حقوق پر محدود گفتگو ملتی ہے۔
خطبۂ حجۃ الوداع میں خواتین کے حقوق،   غلاموں کے ساتھ حسنِ سلوک، معاشرتی انصاف اور باہمی ذِمّہ داریوں پر خصوصی زور دیا گیا، جو اس زمانے کے معاشرتی حالات کے اعتبار سے ایک انقلابی پیش رفت تھی۔
عالمی اثرات:
  میگنا کارٹا نے مغربی آئینی ارتقاء، پارلیمانی جمہوریت اور جدید قانونی نظاموں پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
خطبۂ حجۃ الوداع نے نہ صرف اسلامی تہذیب و ریاست کی بنیاد رکھی بلکہ انسانی حقوق، معاشرتی عدل، مذہبی رواداری اور اخلاقی اقدار کے ایسے اصول متعارف کرائے جن سے کروڑوں انسان صدیوں سے رہنمائی حاصل کر رہے ہیں۔
نتیجہ: 
میگنا کارٹا اپنی جگہ ایک اہم تاریخی دستاویز ہے جس نے مغرب میں آئینی حکومت اور قانون کی بالادستی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔ تاہم خطبہ حجۃ الوداع اپنی جامعیت، عالمگیریت اور الٰہی بنیادوں کے اعتبار سے اس سے کہیں وسیع اور ہمہ گیر حیثیت رکھتا ہے۔ میگنا کارٹا نے ایک بادشاہ کے اختیارات کو محدود کیا، جبکہ       
خطبۂ حجۃ الوداع نے پوری انسانیت کو عدل، مساوات، اخوت اور انسانی وقار کا ایسا ابدی منشور عطا کیا جو ہر دور اور ہر معاشرے کے لیے قابلِ عمل رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس تناظر میں یہ سوال تمام سوچ سمجھ رکھنے والے باشعور انسانوں سے ہے کہ وہ ان دونظاموں میں سے کس کو ترجیح دیں گے۔ مسلم حکمرانوں کے پاس الہی منشورکو اختیار کرنے کے سوااور کوئی متبادل نہیں ہے۔ البتہ غیرمسلم غورکریں کہ انہوں نے بھی مرکر اللہ کے حضور حاضرہونا ہے اس وقت نہ کہنا کہ ہمیں معلوم نہیں تھا۔ فھل من مدکر ؟