محو ِ حیرت ہوں …
عامرہ احسان
افغانستان کی دلدل سے نکل کر، امریکہ اب ٹرمپ کے گرداب میں جا پھنسا۔ اسرائیل کے فرمائشی پروگرام پورا کرتے ٹرمپ نے اپنے عوام، اپنے اتحادیوں سبھی کو پریشان و سرگشتہ کر رکھا ہے۔ روزانہ کی کہانی یکساں ہے۔ وہی ہم ہیں اور وہی سوزِغم، وہی صبح اور وہی شام ہے! خطوں کے خطے جنگوں کی زد میں ہیں۔ ہر صبح بمباریوں کی راتوں کی بڑھتی گنتی کی خبر لاتی ہے۔ کیونکہ ایران نے3امریکی فوجی ہلاک کر دیے سو آٹھویں رات بھی ایران پر بمباری کرنی پڑی۔ اس کے نتیجے میں ایران کو کویت پر حملے کرنے پڑے۔ جواباً کویت نے ایران پر ڈرون داغ دیا۔ صہیونی مقاصد کی تکمیل کے سوا کچھ بھی دنیا ہوتے نہیں دیکھ رہی۔
ہرمز کے گلے میں پھنسی اس جنگ کی چھچھوندر پوری دنیا کی معیشت پر اثرانداز ہو رہی ہے۔ خلیجی ممالک، یورپی اتحادی سبھی حیران و سرگرداں۔ کمزور ممالک کے لیے کمر توڑ مسائل، ان کی افلاس زدہ آبادیوںکا جینا حرام کر رہے ہیں۔ ٹرمپ یہ جنگیں کانگریس سے مشورے، اجازت کے بغیر، قوم اور اتحادیوں سے بالا بالا اسرائیلی خناس، زعمِ باطل کی زد میں آ کر شروع کر بیٹھا۔ غزہ درمیان میں معلق چھوڑ کر، بیس نکاتی پلان، بورڈ آف پیس، استحکام کے لیے کھڑی کی جانے والی فورس، تعمیر نو سبھی ادھورا چھوڑ کر ایران پر پل پڑا۔ اسرائیل نے جنگ بندی قبول کی، نہ فوج نکالی، نہ امدادی قافلوں کی بحالی ہوئی، نہ غزہ کی آبادی کو انسانی بحران سے نکلنے کی کوئی سہولت، سُکھ کا کوئی دن میسر آیا۔ بلکہ غزہ پر قبضہ بڑھتے بڑھتے 60فیصد سے بھی تجاوز کر گیا۔ مغربی کنارہ اب عین غزہ والی صورت حال میں پھنسا غیرقانونی آباکاروں کے ہاتھوں ناجائز قبضوں، فلسطینی آبادی کی بے دخلی، قید و بند اور قتل و غارت گری کا نشانہ بن رہا ہے۔ دنیا ایران امریکہ جنگی تماش بینی میں یا ورلڈ کپ میں کھوئی رہی۔اسی دوران اسرائیل لگے ہاتھوں پورے اطمینان سے گریٹر اسرائیل کہانی خود لبنان، شام میں پوری کر رہا ہے۔ ایران امریکہ میں سلگائو، جلائو، بھڑکائو کے ہاتھوں مشرقِ وسطیٰ اجاڑنے کا منصوبہ جاری و ساری ہے۔
رہی سہی کسر یوں نکل گئی کہ 13جولائی کو یمنی حوثیوں نے سعودی ابہا ایئرپورٹ پر کئی بیلسٹک میزائل اور ڈرون دے مارے۔ اس حملے سے 2022ء میں ہونے والا امن معاہدہ (سعودی عرب، حوثیوں مابین) چار سال بعد ٹوٹ گیا۔ یہ حملہ خطے کی جنگ کو وسیع تر پھیلانے کے اعتبار سے نہایت تشویش کا باعث بنا۔ سعودی عرب اور پاکستان مابین دفاعی معاہدہ ہے ۔ اس حملے سے امریکہ ، ایران جنگ میں ثالث پاکستان بھی متاثر ہوتا ہے! برطانوی نمائندے نے بھی یو این میں اس حملے پر شدید ردِعمل دیا۔ پاکستانی اہل کار نے رائٹر کے نمائندے کو بتایا کہ ہماری اعلیٰ سطحی فوجی اور سول قیادت نے ایران کو آگاہ کر دیا ہے کہ سعودی عرب پر حملہ ہماری سرخ لکیر ہے۔ پاکستان کا سعودی عرب سے معاہدہ یوں ہے کہ ایک پر حملہ دونوں پر حملہ متصور ہو گا۔ اگر سعودی عرب کو ہماری ضرورت پڑی تو ہم ساتھ کھڑے ہوں گے۔ یاد رہے کہ پاکستانی فوج یمنی سرحد پر سعودی عرب میں تعینات ہے۔ بحرِ احمر میںاس حملے سے پاکستان کے جہازوں کی آمدورفت اور کئی دوسرے ممالک بھی متاثر ہوں گے۔
اگریہ اقدام اس جنگ کو پھیلا کر باب المندب کی طرف لے گیا۔ (بحر احمر میں) تو ابھی دنیا ہرمز سے نمٹی نہیں اور دوسری اہم تنگ بحری گزرگاہ (Bottleneck) آڑے آ کر دنیا میں بحری تجارت، معیشت کے لیے ایک نئی بلا کھڑی کر سکتی ہے۔ با ب المندب پر اختیار، کنٹرول یمنی حوثی، (ایرانی پشت پناہی) جبوتی اور ایٹیریا کا ہے۔ یمنی اپنے مقام پر نہایت جارحانہ انداز سے اپنا اختیار استعمال کرتے ہیں۔ یہاں اہمیت کی بنا پر بین الاقوامی اتحاد بھی امریکہ کی سرکردگی میں محفوظ آمدورفت کے لیے پٹرولنگ کرتا ہے۔
اس نازک صورت حال میں اسرائیل کی طرف سے پورے اطمینان سے فلسطینی سرزمین پر قبضے کی تکمیل اور فلسطینی آبادی کی نسل کشی مکمل کرنے کا عمل (پناہ بخدا) جاری و ساری ہے۔ تاہم یہ ضرور ہے کہ دنیا اس سے نہ لا علم ہے نہ بے پروا۔ وسطی لندن میں 5لاکھ سے زائد برطانوی لیبر پارٹی کے نئے وزیرِ اعظم سے فلسطینی جھنڈے اٹھائے ہوئے اقدام کا مطالبہ کررہے ہیں۔ (ہفتہ اتوار روزِ اول سے فلسطینی جدوجہد کے نام کر رکھا ہے۔) پیرس میں بھی اہم ترین مقام پر ایفل ٹاور سے قریب بہت بڑا پوسٹر فلسطینی اہم قیدی مروان برغوتی کی رہائی کے مطالبے پر مبنی ہے۔ ہانکے پکارے اہم جگہ متوجہ کیا جا رہا ہے۔ ناورے نے ان تمام سرمایہ کاریوں اور وسائل کی فراہمی پر پابندی لگانے کا ووٹ دیا جو مغربی کنارے پر غیرقانونی قابض آباکاروں سے متعلق ہوں۔ دو دن بعد ناروے میں ایک وحشی آگ پوری بستی کو چاٹ گئی۔ لکڑی کے بنے گھر سینکڑوں کی تعداد میں تباہ ہو گئے، چھوڑنے پڑے۔ اس پر گہرے شبے کا اظہار اور صہیونیوں کی طرف انگلیاں اٹھتی ہیں شبے میں!
یہ امر انتہائی اذیت ناک ہے کہ اس پورے عرصے میں امریکہ یورپ میں رہنمائوں نے سوائے خبریں لگانے اور اظہارِ افسوس کے ، غزہ اور مغربی کنارے پر اسرائیلی مظالم کی حقیقی روک تھام کے لیے عملاً اقدام نہ کیا۔ عوام الناس کے مظاہرے، قربانیاں، دردمندی قابل قدر ہے مگر قیادتوں کا بھرپور معلومات کے باوجود قیدیوں پر ظلم و تشدد کی انتہائی غیرمعمولی شدت پر مہر بلب رہنا ہی دستورِ عالم بن چکا ہے۔ ایسے مظالم جن کو نوکِ قلم لکھنے سے بھی انکاری ہو۔ اب مزید جو اقدام ہو رہا ہے وہ زخموں پر نمک چھڑکنے کا مزید اہتمام ہے۔ یہ نیا پلان فلسطینی قیدیوں کے زندانوں پر انسانی گارڈ متعین کرنے کی بجائے مگرمچھوں کی تعیناتی ہو گی۔ اگرچہ اسرائیلی فوج مگرمچھ سے کچھ بھی کم نہ تھی۔ مگر اب نیشنل سیکورٹی (بدنام زمانہ) وزیر اتمار بن گویر کا پلان ہے کہ قیدخانوں کے باہر خندقیں کھود دی جائیں گی، چوڑی اور گہری، پانی بھر کر ’تربیت یافتہ جنگلی جانور‘ یعنی مگرمچھ سدھا کر رکھے جائیں گے۔ کرنل اور بریگیڈیئر مگرمچھ، وزیر سیکورٹی مگرمچھ! قانونی طور پر اسے قبول کرنے کے لائق بنا دیا گیا ہے۔ 9500فلسطینی بشمول بچے، خواتین ان قید خانوں میں ہیں جہاں حقوق تنظیمیں پہلے ہی بھوک ، ٹارچر، طبی سہولیات کی عدم فراہمی رپورٹ کرتی ہیں جس سے درجنوں قیدی وفات پا گئے۔ اب مگرمچھ گارڈوں سے اخراجات کم ہوں گے اور سیکورٹی بڑھ جائے گی۔ اسرائیل نے ان تین سالوں میں ہر سطح پر درندگی و وحشت کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے ہیں۔
پاکستان میں مدرسہ ڈسکورسز کے عنوان سے پچھلے ادوار میں بہت ذکر رہا۔ مدارس کے طلبہ کو روشن خیال اسلام، جس میں نام اسلام کا تو ہو مگر اندر سے ڈبا خالی ہو۔ یا مغربیت اور فکری گمراہی کا سامان کیا جاتا رہے۔ یہ سلسلہ اب بھارتی مسلمانوں کے لیے جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی میں کیا جا رہا ہے۔ وہی تمام متنازعہ نام جو پہلے آچکے موجود ہیں۔ امریکی کٹر کیتھولک یونیورسٹی آف نوٹرے دیم کے تابع ، ’پلورلزم‘ کے اسباق (وحدتِ ادیان) مدارس کے نوجوانوں کو دیے جائیں گے۔ (عام یونیورسٹیاں تو ہر جا پہلے ہی ہمہ پہلو ’پلورل‘ ہو چکیں!)یعنی یہ نظریہ رکھنا کہ صرف ہمارا مذہب (اسلام) ہی سچائی کا مصدر نہیں، عیسائی ، یہودی مذاہب بھی درست ہیں۔ مدرسہ طلبہ کو اس نظریے پر ایمان لانا گویا سکھایا جائے گا!قرآن میں جا بجا اللہ کے واضح فرمان موجود ہیں؟ ان الدین عنداللہ الاسلام۔’ا للہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے‘ (آل عمران: 19) اور :’اب کیا یہ لوگ دین اللہ (اللہ کی اطاعت کا طریقہ) چھوڑ کر کوئی اور طریقہ چاہتے ہیں۔‘(آل عمران:83) کیا ہوئے؟؟
نوٹرے ڈیم یونیورسٹی اور مردوں کی جگہ چرچ (امریکہ) میں جمعہ کی نماز کی امامت کروانے والی خاتون امینہ ودود، ترقی پسند ماہان مرزا، محمد فضل جو شریعت میں (عیاذا باللہ) ہم جنس پرستوں کی شادی کا جواز فراہم کرنے والے یکے از ماہرین پلولرازم میں، اور کیا دے سکتے ہیں۔ مشتری ہوشیارباش! پاکستان میں ان خواتین و حضرات کی کمی نہیں ہے!
’محو ِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی!‘