(نقطۂ نظر) امت ِ مسلمہ کے احیاء کا اصل راستہ - ڈاکٹر ضمیر اختر خان

9 /

امت ِ مسلمہ کے احیاء کا اصل راستہ

ڈاکٹر ضمیر اختر خان

3مارچ 2024ء کو ہم انتظار میں تھے کہ شاید حافظ رجب طیب اردگان خلافت عثمانیہ کی بحالی کا اعلان کریں گے۔ اِسے ہماری سادگی سمجھیے کہ ہم ہرایک سے امیدیں باندھ لیتے ہیں اورپھرپریشان ہوتے رہتے ہیں۔ اللہ جل جلالہ کی ذات عالیہ بہت غیور ذات ہے۔ اسے یہ ہرگزپسند نہیں ہے کہ اس کے علاوہ کسی سے توقعات وابستہ کی جائیں۔ حضورﷺ کو حکم ہوتا ہے … {وَشَاوِرْہُمْ فِی الْاَمْرِج فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ ط} (آل عمران:159)’’ ان کو بھی شریک ِ مشورہ رکھو، پھر جب تمہارا عزم کسی رائے پر مستحکم ہو جائے تو اللہ پر بھروسا کرو۔‘‘
اردگان صاحب کے بارے میں ہماری خوش فہمی کواُس وقت بھی دھچکا لگاجب حال ہی میں انہوں نے انقرہ میں نیٹوسربراہ اجلاس کے دوران اپنا رشتہ ’’خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی ﷺ‘‘ کی بجائے صرف ترکیہ کی تاریخ اور خلافت عثمانیہ کی باقیات کے ساتھ جوڑا۔ شاید یہ ان کی مجبوری ہومگرہمیں تو سچی بات ہے یہ طرزعمل پسند نہیں آیا۔ اس لیے کہ’’گربہ او نہ رسیدی تمام بو لہبی است۔‘‘ 
نیٹو سربراہ اجلاس کے دوران مہتر بینڈ کی گونج، عثمانی پرچموں کی شان اور صدیوں پرانی عسکری روایات نے دنیا کو یہ واضح پیغام دیا کہ ترکیہ اپنی تہذیبی شناخت سے شرمندہ نہیں بلکہ اس پر نازاں ہے۔ یہ منظر یقیناً ان لوگوں کے لیے ایک جواب تھا جو سمجھتے تھے کہ جدیدیت کا مطلب اپنی تاریخ، اپنی تہذیب اور اپنے تشخص سے دستبردار ہو جانا ہے۔ لیکن ایک سوال اس سے کہیں بڑا ہے، اور وہ یہ کہ ایک مسلمان کی اصل شناخت کیا ہے؟ کیا مسلم تاریخ کا آغاز عثمانیوں سے ہوتا ہے؟ کیا اسلام کی عظمت کا سرچشمہ سلجوقیوں، عباسیوں یا اُمّویوں میں پوشیدہ ہے؟ یا پھر ہماری اصل نسبت اس ہستی سے ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:{وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ(107)}(الانبیاء:107) ’’اور (اے نبیؐ!) ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔‘‘
ایک مسلمان کی تاریخ نہ انقرہ سے شروع ہوتی ہے، نہ استنبول سے، نہ بغداد سے، نہ دمشق سے اور نہ ہی کسی سلطنت سے۔ ایک مسلمان کی اصل تاریخ ’’غارِ حرا ‘‘ سے شروع ہوتی ہے، جہاں پہلی وحی نازل ہوئی، اور مدینہ سے آگے بڑھتی ہے، جہاں پہلی اسلامی ریاست قائم ہوئی۔
سلطنت ِ عثمانیہ ہماری تاریخ کا ایک درخشاں باب ضرور ہے، لیکن پوری کتاب نہیں۔آج اُمّت ِ مُسلمہ کی سب سے بڑی غلطی یہی ہے کہ اس نے اسلام کو پس منظر میں دھکیل کر قوموں، نسلوں، زبانوں، سرحدوں اور ریاستوں کو اپنی اصل شناخت بنا لیا ہے۔ قرآن نے ہمیں اُمّت ِ واحدہ بنایا تھا، مگر ہم نے خود کو ترک، عرب، عجم، بلوچ، پنجابی، کرد، پشتون، افریقی اور نہ جانے کتنی شناختوں میں تقسیم کر لیا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
{اِنَّ ہٰذِہٖٓ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً ز وَّاَنَا رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْنِ(92)} (الانبیاء)’’بے شک تمہاری یہ اُمّت ایک ہی اُمّت ہے اور میں تمہارا رب ہوں، پس میری ہی بندگی کرو۔‘‘
سوچیے! اللہ نے اُمّت کو ایک کہا، مگر ہم نے اسے پچاس سے زیادہ ریاستوں میں تقسیم کر دیا۔ اللہ نے اخوت کا حکم دیا، مگر ہم نے قومیت کو ایمان سے بھی بڑا رشتہ بنا لیا۔ اللہ نے قرآن کو محور بنایا، مگر ہم نے جھنڈوں، سرحدوں اور قومی مفادات کو مرکز بنا لیا۔ یہی ہماری شکست کا اصل سبب ہے۔قرآن اعلان کرتا ہے:
{وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللہِ جَمِیْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْاص} (آل عمران:103) ’’اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھام لو مل جل کر اور تفرقے میں نہ پڑو۔‘‘ 
لیکن آج مسلمانوں نے اللہ کی رسی کو چھوڑ کر قومیت کی رسی پکڑ لی ہے۔ اِسی لیے اُمّت کا شیرازہ بکھر گیا ہے۔
ترکیہ اگر واقعی عثمانیوں کی عظمت کو زندہ کرنا چاہتا ہے تو اسے صرف مہتر بینڈ بجانے کی ضرورت نہیں، بلکہ اس قرآن کو دوبارہ مرکزِ زندگی بنانا ہوگا جس نے ایک معمولی سے قبیلے کو دنیا کا امام بنا دیا تھا۔ یاد رکھیے!عثمانیوں کو عظیم بنانے والی چیز اُن کی تلوار نہیں تھی۔ اُنہیں عظیم بنانے والی چیز اُن کے توپ خانے بھی نہیں تھے۔ انہیں عظیم بنانے والی چیز ان کے محلات بھی نہیں تھے۔ ان کی اصل طاقت وہ ایمان تھا جو قرآن سے پیدا ہوا تھا۔ جب ایمان کمزور ہوا تو توپیں بھی بے کار ہو گئیں، لشکر بھی بکھر گئے اور سلطنت بھی ختم ہو گئی۔ یہ اللہ کا اٹل قانون ہے۔
{اِنَّ اللہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِہِمْ ط}(سورۃ الرعد:11)’’یقیناً اللہ کسی قوم کے حالات نہیں بدلتا‘جب تک کہ وہ خود نہیں بدل دیتے اُس (کیفیت) کو جو اُن کے دلوں میں ہے۔‘‘
اسلام کا مقصد دنیا پر مسلمانوں کی قومی برتری قائم کرنا نہیں بلکہ اللہ کے دین کی بالادستی قائم کرنا ہے۔ یہاں ایک اور بنیادی غلط فہمی بھی دور ہونی چاہیے۔بعض لوگ اسلام کو صرف تلوار کا مذہب سمجھتے ہیں، حالانکہ اسلام کا مقصد جنگ نہیں بلکہ اصلاح ہے۔ قرآن نے قتال کو مقصد نہیں بلکہ ایک ناگزیر ذریعہ قرار دیا ہے، اور وہ بھی اس وقت جب ظلم، فتنہ اور جبر انسانوں کو اللہ کی بندگی سے روک دیں۔اسلام دشمن کو نیست و نابود کرنے نہیں آیا بلکہ اسے ظلم سے روکنے اور حق قبول کرنے کا موقع دینے آیا ہے۔اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کیا تو انتقام کا دروازہ نہیں کھولا بلکہ فرمایا:’’آج تم پر کوئی گرفت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو۔‘‘یہی اسلام ہے۔ یہی محمد عربی ﷺ کا انقلاب ہے۔ یہی وہ اخلاقی بلندی ہے جس نے دشمنوں کو بھی دوست بنا دیا۔
آج دنیا ایک ایسے نظام کے بوجھ تلے کراہ رہی ہے جس میں طاقت ہی قانون بن چکی ہے۔ اقوام متحدہ بے بس ہے۔ بین الاقوامی قانون طاقتور کے مفاد کا غلام بن چکا ہے۔ انسانی حقوق صرف سیاسی ہتھیار بن گئے ہیں۔ فلسطین، کشمیر، سوڈان، میانمار اور دنیا کے بے شمار مظلوم اس نظام کی ناکامی پر گواہ ہیں۔ انسانیت آج پھر کسی نئے سرمایہ دارانہ نظام، کسی نئے اشتراکیت یا کسی نئے سامراج کی محتاج نہیں۔ انسانیت کو پھر اسی نظام کی ضرورت ہے جو چودہ سو سال پہلے مدینہ میں قائم ہوا تھا۔ وہ نظام جس میں حاکم بھی قانون کے سامنے جواب دہ تھا۔ وہ نظام جس میں ایک یہودی بھی عدالت میں خلیفۂ وقت کے مقابلے میں کھڑا ہو سکتا تھا۔ وہ نظام جس میں حبشی غلام بلالؓ  اذان دے کراُن کا سردار بن گیا جو اشرافِ قریش کی قیادت کرتے تھے۔ وہ نظام جس میں عدل نسل سے نہیں، تقویٰ سے وابستہ تھا۔
آج اگر ترکیہ واقعی دنیا کی قیادت کا خواب دیکھتا ہے، اگر پاکستان اپنے قیام کے مقصد سے وفادار رہنا چاہتا ہے، اگر عرب دنیا اپنا کھویا ہوا وقار واپس حاصل کرنا چاہتی ہے، تو اُنہیں عثمانیوں، عباسیوں یا امویوں کے نام پر نہیں بلکہ محمد رسول اللہ ﷺ کے مشن پر جمع ہونا ہوگا۔ اُمّت کونئی سلطنت کی نہیں، نبویؐ سیرت کی ضرورت ہے۔ نئے محلات کی نہیں، نبویؐکردار کی ضرورت ہے۔ صرف     نئے ہتھیاروں کی نہیں، صحابہ کرام ؓ کے  ایمان کی ضرورت ہے۔قوم پرستی کی نہیں، اخوتِ اسلامی کی ضرورت ہے۔ اور اس اخوت کی بنیاد صرف ایک ہو سکتی ہے: اللہ کی حاکمیت، رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اور قرآن کی بالادستی۔
آج مہتر کی آواز یقیناً تاریخ کی یاد دلاتی ہے، مگر اُمَّت ِ مُسلمہ کو صرف مہتر کی گونج نہیں، محمد ﷺ کی پکار دوبارہ سننی ہوگی۔ جس دن یہ پکار دوبارہ مسلمانوں کے دلوں میں زندہ ہو گئی، اس دن نہ صرف اُمّت ِمُسلمہ کی عظمت لوٹ آئے گی بلکہ پوری انسانیت کو عدل، رحمت، مساوات اور حقیقی امن کا وہ نظام بھی میسر آ جائے گا جس کی تلاش میں وہ صدیوں سے سرگرداں ہے۔یہی وہ انقلاب ہے جس کا آغاز استنبول سے نہیں، مدینہ سے ہوا تھا؛ اور یہی وہ انقلاب ہے جو قیامت تک انسانیت کی واحد امید رہے گا۔ان شاء اللہ!