(منبرو محراب) حصولِ علم کا اسلامی نظریہ - ابو ابراہیم

9 /

حصولِ علم کا اسلامی نظریہ


(سورۃ العلق کی پہلی آیت کی روشنی میں )


مسجد جامع القرآن ، قرآن اکیڈمی لاہور میں امیرِ تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ حفظ اللہ کے17جولائی 2026ء کے خطابِ جمعہ کی تلخیص

مرتب: ابو ابراہیم

خطبہ ٔمسنونہ اور تلاوتِ آیاتِ قرآنی کے بعد!
سورۃ العلق کی پہلی آیت بہت معروف ہے جو  نبی اکرم ﷺ پر نزول وحی کے بالکل آغاز میں نازل ہوئی ۔ ترتیب نزولی کے اعتبار سے یہ قرآن کی پہلی آیت بھی ہے اور اس کے اندر بہت بڑے اسباق نوع انسانی کے لیے پوشیدہ ہیں ۔ڈاکٹر اسراراحمدؒ اور مولانا ابو اعلیٰ مودودیؒ سمیت معروف اہل علم کی تفاسیر میں اس حوالے سے بہت اہم نکات سامنے آئے ہیں ۔ آج کی نشست میں ہم ان نکات کا مطالعہ 6 معروف تفاسیر کی روشنی میں کریں گے ، ان شاء اللہ ۔ فرمایا:
{اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ(1)} ’’پڑھیے اپنے اُس رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔‘‘
ڈاکٹر اسراراحمدؒ نے اپنی تفسیر بیان القرآن میں  اس آیت کی تشریح میں 3 بہت اہم نکات بیان کیے ہیں ۔ 
1۔ نبی اُمّی
ڈاکٹر صاحب ؒ نے پہلا نکتہ یہ بیان کیا کہ آپ ﷺ کا اُمی ہونااپنی جگہ ایک معجزہ ہے اور آپ ﷺ کی عظمت کا بیان بھی ہے ۔ اُس وقت ظاہری طور پر لکھنے پڑھنے کے زیادہ
 وسائل نہیں تھے ۔ جب جبرائیل امین ؑ نے آپ ﷺ کے سامنے رب کا حکم رکھا تو آپﷺ نے فرمایا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں ۔ فرشتے نے کہا آپﷺ رب کے حکم     سے پڑھیئے جس نے ہر شے کو پیدا کیا ۔ یعنی جو ہرشے کو پیدا کرنے والا ہے وہی اسباب پیدا کرتاہے ۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے پڑھنا شروع کیا اور یہ ایک معجزہ ہے کہ آپ ﷺ کی زبان مبارک سےجو قرآن جاری ہوا اُسے ساڑھے 14 سو سال سے پڑھا ، سیکھا ، سکھایا اور سمجھا جارہا ہے اور قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔ اس کلام (قرآن ) کے مقابلے میں ساری دنیا کے انسان اور جنات مل کر بھی ایسا کلام پیش نہیں کر سکتے ۔ آپ ﷺ کے اس معجزے اور صفت کو بیان کرنے کے لیے قرآن مجید نے ’’نبی اُمّی‘‘ کی اصطلاح استعمال کرتا ہے ۔ جیسا کہ سورۃ الاعراف میںفرمایا:{اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَہٗ مَکْتُوْبًا عِنْدَہُمْ فِی التَّوْرٰىۃِ وَالْاِنْجِیْلِ ز}(الاعراف :157)  ’’جو اتباع کریں گے رسولِ نبی اُمّی (ﷺ)کا‘جسے پائیں گے وہ لکھا ہوااپنے پاس تورات اور انجیل میں۔‘‘
بظاہر اس اصطلاح کو زبان پر لانے میں جھجھک محسوس ہوتی ہے کیونکہ نبی اُمّی کے معنی ہیں وہ نبی جو پڑھا ہوا نہیں لیکن اپنی اصل میں آپ ﷺ کی عظمت کا بیان ہے اور بہت بڑے معجزے کی عکاسی کرتاہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ اُستاد کا رُتبہ ہمیشہ شاگرد سے زیادہ ہوتا ہے ۔  بالفرض محال رسول اللہﷺ کاکوئی اُستاد ہوتا تو اس کا رُتبہ زیادہ ہو تا ہے جو کہ رب کو منظور نہیں تھا ۔ 
2۔تعلیم کا مقصد 
ڈاکٹر اسراراحمدؒ نے فرمایا کہ{اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ(۱)} سے دوسرا سبق ہمیں یہ ملتا ہے کہ تعلیم کا مقصد رب کی معرفت ہونا چاہیے ۔ رب کو پہچانیں گے، مانیں گے تو پھر اس کی عبادت بھی ہوگی جس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے بندوں کو پیدا کیا : {وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ (56)}  (الذاریات )
’’اور مَیں نے نہیں پیدا کیا جنوں اور انسانوں کو مگر صرف اس لیے کہ وہ میری بندگی کریں۔‘‘
لہٰذا سورۃ العلق کی پہلی آیت میں اِس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خالق کی معرفت حاصل کرو، خالق کو پہچانو، خالق کی عظمتوں کا اعتراف کرو۔تعلیم کا مقصد محض دنیا کی آسائشیں ، لذتیں حاصل کرنا نہیں ہونا چاہیے کہ بس ڈگری حاصل کرنے کے بعد نوکری کرلی ، دنیا کما لی ،  ہرگز نہیں بلکہ تعلیم کا بنیادی مقصد رب کو پہچاننا اور اس کی بندگی کرنا سیکھنا ہونا چاہیے ۔ 
3۔علم نافع
ڈاکٹر اسرارا حمدؒ نے تیسرا نکتہ یہ بیان کیا کہ انسان کی زندگی میں علم اور عمل کا ربط ہونا چاہیے ۔ وہ علم جس میں رب  کا نام نہیں ہوگا وہ نافع نہیں ہو سکتا ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے علم کے بارے میں بہت سی دعائیں سکھائی ہیں ۔  جیسا کہ فرمایا :
{رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا(114)} (طٰہٰ)’’ اے میرے ربّ! میرے علم میں اضافہ فرما۔‘‘
((اللَّهُمَّ إِنِّي اَسْاَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا )) ’’اے اللہ میں تجھ سے نفع دینے والے علم کا سوال کرتا ہوں۔‘‘
((اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِكَ مِنْ عِلْمٍ لَّا یَنْفَعُ))  (صحیح مسلم)’’اے اللہ! میں تیری پناہ میں آنا چاہتا ہوں، اس علم سے جو نفع دینے والا نہ ہو۔‘‘
  علم وہ نافع ہوگا جب اس کے ساتھ اللہ کا نام لیا جائے۔ اسی لیے سب سے پہلا حکم یہی آیا : 
{اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ(1)} ’’پڑھیے اپنے اُس رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔‘‘
آج اقراء کے نام سے سکول چل رہے ہیں ، کالجز اور یونیورسٹیاں بن رہی ہیں لیکن جو علم دیا جارہا ہے وہ نفع نہیں دے رہا ۔ ڈاکٹر اسراراحمدؒ اس کی وجہ یہ بتاتے تھے کہ یہ علم صرف ظاہری آنکھ کو کھولنے والا ہے ، فزیکل سائنسز میں دنیا بہت آگے بڑھ گئی ، ٹیکنالوجی میں بے پناہ ترقی کر لی مگر اس سے دنیا کو فائدہ سے زیادہ نقصان ہو رہا ہے ۔ جن لوگوں کے ہاتھ میں آج ٹیکنالوجی ہے وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کو اُٹھا کر ردی کی ٹوکری میں پھینک رہے ہیں ۔ اس دنیا میں سب سے بڑا غنڈہ اور بدمعاش امریکہ ہےجس کو سب سے زیادہ ترقی یافتہ سمجھا جاتا ہے ۔  وینزویلا کے صدر کو غنڈوں کی طرح اغوا کرکے لے آئے ۔ ایسا علم دنیا کی بربادی کے لیے استعمال ہورہا ہے ، رب کو بھلا دینے والا ہے اور آخرت سے غافل کر دینے والا ہے۔ ڈاکٹر اسرارا حمدؒ کے بقول ہماری ظاہری آنکھ تو کھلی ہوئی ہے لیکن وحی والی آنکھ بند ہے ۔ اگر علم رب کے نام کے تابع ہوگا تو وہ دنیا کو نفع دے گاورنہ لوگوں کے لیے تباہی بربادی کا سامان بنے گا جیسے کہ آج ہم دیکھ رہے ہیں۔
اگلے تین نکات مولانا ابو الاعلی مودودیؒ کی تفسیر تفہیم القران ’’‘‘سے لیے گئے ہیں ۔ 
1 ۔ عطا کرنےو الا صرف اللہ 
آپ ﷺ کو نبی اُمّی قراردے کر یہ واضح کردیا گیا کہ آپ ﷺ نے خود سے کچھ حاصل نہیں کیا بلکہ  آپﷺ کو آپؐ نے سب کچھ عطا فرمایا اور وہی ہر ایک کو عطا فرمائے گا ۔ بندہ یہ ذہن میں رکھے کہ انبیاء کرامf اللہ کے چُنے ہوئے بندے اور انسانوں میں سے عظیم ترین ہستیاں تھیں مگر وہ بھی اللہ کے ہی محتاج تھے ۔ انبیاء ؑکو بھی اگر کچھ عطاہوا تو اللہ نے ہی دیا ۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاء کرام ؑ میں سب سے بڑھ کر عاجزی تھی۔ روز قیامت بھی انبیاء کرامf  رب کے سامنے اسی عاجزی کا اظہار کریں گے ۔{یَوْمَ یَجْمَعُ اللہُ الرُّسُلَ فَـیَـقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ ط قَالُـوْا لَا عِلْمَ لَـنَاط اِنَّکَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ (109)} ’’ (اُس دن کا تصور کرو) جس دن اللہ تعالیٰ تمام رسولوں کو جمع کرے گااور پوچھے گا آپ لوگوں کو کیا جواب ملا تھا؟’وہ کہیں گے کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں‘ تو ہی بہتر جاننے والا ہے غیب کی باتوں کا۔‘‘
جب انبیاءکرام ؑ کی عاجزی کا یہ حال ہے تو عام انسان کو رب کے سامنے کس قدر عاجزی کا اظہار کرنا چاہیے ۔ آج کسی کے پاس تھوڑا سا علم آجائے ، جیب میں دو پیسے آجائیں تو وہ اپنے آپ کو کیا سے کیا سمجھنے لگتاہے ۔ فرعون اور نمرود کو بھی یہی زعم تھا جو اُنہوںنے خدائی کا دعویٰ کیا۔ جبکہ انبیاء کرامf حقیقت سے واقف تھے ، اسی لیے سب سے زیادہ عاجز تھے ۔ نبی اکرم ﷺ کو قرآن جیسا معجزہ اگر عطا ہوا جس کے بارے میں جامع ترمذی کی روایت ہے کہ (( لا تنقضی عجابہ))   اس قرآن کے عجائبات ،اس کی حکمت کے موتی قیامت تک ختم نہ ہوں گے ۔ مگر عطا کس نے کیا ؟  اللہ نے ۔ 
2۔ خالق کی ربوبیت کا حق 
’’اپنے رب کے نام سے پڑھیے ‘‘!یہاں بتایا جارہا ہے کہ وہ رب جس نے تمہیں اعضائے جسمانی عطا کیے ، سورج ،چاند اور ستارے تمہارے لیے بنائے،  جس نے تمہیں یہ مادی وسائل عطا کیے۔ وہی اس بات کا حق رکھتا ہے کہ اس کی عطا کردہ ہدایت کی پیروی کی جائے ۔  وہ خالق ہے، اسی کی بندگی کی جائے ، وہ رب ہے، اسی کی عبادت  کی جائے ۔ ہر نماز کی ہر رکعت میں ہم پہلے اُس کی ربوبیت کا اقرار کرتے ہیں :
{اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ(0)}’’کل شکر اور کل ثنا اللہ کے لیے ہے ۔‘‘
اس کے بعد کہتے ہیں :
{اِیَّاکَ نَعْبُدُ }’’ہم صرف تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے ۔‘‘
  اُسی نے تمہاری اس دنیا کی زندگی کے گھر گھر ہستی کے نظام کو چلانے کے لیے تمہاری ہدایت کا بھی سامان کیا ہے۔ اس کی ہدایت کے تابع رہو گے تو تمہاری زندگی سنورے گی اورآخرت کی اصل زندگی میں تم کامیابی حاصل کر سکو گے۔
3۔ حصول علم کا اسلامی نظریہ 
مولانا مودودی ؒ نے زیر مطالعہ آیت کی تفسیر میں تیسرا نکتہ یہ بیان کیا کہ اس میں حصول علم کا اسلامی نظریہ بیان ہواہے ۔ آج کا نظام تعلیم تو سیکولر ہے اور سیکولرازم کا نعرہ ہے کہ : 
"Religion has nothing to the State, Society and Education."  
سیکولرازم کہتا ہے کہ تمہیں خدا کو ماننا ہے تو مسجد میں جاؤ ، گاڈکو ماننا ہے تو چرچ میں جاؤ ، بھگوان کو ماننا ہے تو مندر میں جاؤ ۔ لیکن ہمارے اجتماعی نظامِ سیاست ، معیشت ،  عدالت ، پارلیمنٹ اور نظامِ تعلیم میں مذہب کا کوئی کام نہیں ہونا چاہیے ۔ اس کے برعکس اسلامی نظریہ یہ ہے کہ تعلیم کی ابتدا ہی رب کی معرفت سے ہونی چاہیے ۔ پھر یہ کہ رب کو مان لینا کافی نہیں ہے ، رب کی ماننا بھی ضروری ہے ، اس کی حاکمیت کو تسلیم کرو ، انفرادی اور اجتماعی پر رب کی بڑائی کو قائم بھی کرو ۔ قرآن مجید میں تین مرتبہ اس کا حکم آیا : 
{ اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلہِ ط}(یوسف :40) ’’اختیارِ مطلق تو صرف اللہ ہی کاہے۔‘‘
اگلے تین نکات مفتی شفیع عثمانی ؒکی تفسیر
’’ معارف القرآن‘‘ میں بیان ہوئے ہیں ۔ 
1۔ وحی کاتقدس اور اہمیت 
اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے نام سے پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام علم کی اہمیت ، تقدس اور حیثیت ہمارے سامنے رکھتا ہے ، تبھی پہلی ہی وحی کی پہلی ہی آیت کا پہلا ہی لفظ اقراء ہے مگرساتھ  بِاسْمِ رَبِّکَ  کی لازمی شرط بھی ہے ۔ پاکستان کے ایک بڑا میڈیاہاؤس نے کچھ عرصہ قبل ایک مہم چلائی اور اس کا سلوگن یہ تھا :
پڑھنے لکھنے کے سوا پاکستان کا مطلب کیا
جبکہ ہم بچپن سے یہ پڑھتے آئے تھے : ’’پاکستان کا مطلب کیا : لاالٰہ الا اللہ ‘‘
دراصل ہمارا میڈیا بھی سیکولرازم کی زبان بولتا ہے اور سیکولرازم چاہتا ہے کہ مذہب کو تعلیم سے بھی باہر نکال دیا جائے ۔ 2018ء میں اسی میڈیا نے مجھے بھی ایک ٹاک شو میں بلایا ، میری 17 منٹ کی گفتگو میں حصول علم کا اسلامی نظریہ قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان ہوا ، قائداعظم اور علامہ اقبال کے فرمودات بھی بیان ہوئے جن کا حاصل یہ تھا کہ عصری تعلیم بھی ضروری ہے مگر یہ تعلیم وحی کی ہدایت کے تابع ہونی چاہیے ۔ لیکن جب پروگرام نشر ہوا تو اس میں  صرف 3منٹ کی گفتگو تھی اور حصولِ علم کے اسلامی نظریہ کو نکال دیا گیا تھا ۔ 
2۔ رب کی صفات کا انتخاب 
دوسرا نکتہ مفتی شفیع عثمانی صاحبؒ نے یہ بیان کیا یہ اس آیت میں رب کی صفات کا انتخاب کیا گیا ۔ ان میں سے پہلی صفت ربوبیت ہے۔لفظ رب کا ذکر ماں باپ کے تعلق سے بھی آیا ہے : {وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًا(24)}(بنی اسرائیل)’’اور دعا کرتے رہو : اے میرے رب ان دونوں پر رحم فرما جیسے کہ انہوں نے مجھے بچپن میں پالا۔‘‘
رب کے معنی ہیں :پرورش کرنے والا ، پالنے والا ۔  ماں باپ بچے کو پال پوس کر بڑا کرتے ہیں مگر ماں باپ کو پیدا کرنے والا بھی اللہ تعالیٰ ہے ۔ وہی حقیقی رب ہے ۔ اُس کی ربوبیت کی صفت زیر مطالعہ آیت میں بیان ہوئی :
{اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ(1)} ’’پڑھیے اپنے اُس رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔‘‘
بتایا جا رہا ہے کہ جس رب نے انسان کو پیدا کیا ، وہی اس کی ساری ضروریات اور حاجات کو پورا کرنے والا ہے ۔ اُس نے تمہیں جسم عطا کیا اور اس کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مادی وسائل پیدا کیے ، اُسی نے روح عطا کی اور اس کی حاجات کو پور اکرنے کے لیے وحی نازل کی ۔ 
3۔ اللہ ہر شے کا خالق ہے 
تیسرا نکتہ مفتی شفیع صاحب  ؒ ’الذی خلق‘ کے ذیل میں بیان کرتے ہیں کہ اس پوری کائنات کا تنہا خالق   اللہ تعالیٰ ہے ۔ باقی ہر شے مخلوق ہے ، صرف اللہ تعالیٰ  خالق ہے ۔ یہ اللہ کی عظمت کا بیان ہے ۔ وہ تنہا خالق بھی ہے ، رب بھی ہے ۔ پہاڑ کی چٹان کو بھی توڑ کر دیکھو وہاں بھی کیڑے کے منہ میں غذا موجود ہوتی ہے ۔ وہی سب کے لیے اسباب پیدا کرنے والا اور پوری کائنات کا نظام چلانے والا ہے ۔ 
اگلے2 نکات مفتی تقی عثمانی صاحبؒ نے اپنی تفسیر ’’توضیح القرآن‘‘ (آسان ترجمہ قرآن ) میں بیان فرمائے ہیں :
1۔ وحی کی عطا وہبی ہے کسبی نہیں ! 
علم حقیقی کا سرچشمہ مادی اسباب نہیں بلکہ اللہ کا فضل ہے۔ ہم نے محنت کر کے انجینئرنگ کر لی تو گھر بنانے کے قابل ہو گئے ،میڈیکل پڑھ لی تو علاج کرنے کے قابل ہو گئے ۔یہ صلاحیت انسان اپنی محنت سے حاصل کر لیتا ہے، یہ کسبی شے ہے ۔ لیکن نبوت کسب سے نہیں ملتی بلکہ نبوت وہبی ہے ۔یعنی وہاب (اللہ کا نام ) کی عطا کردہ ہے۔ ختم نبوت کے بعد نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا ہے ۔ 
2۔  ہر کام کا آغاز بسم اللہ سے 
ہر نیک عمل کا آغاز بسم اللہ پڑھ کر کرنا چاہیے ۔  اس کی برکت سے انسان کئی طرح کی برائیوں سے بچ سکتاہے ۔ اپنے بچوں کو خاص طور پر یہ سکھائیںکہ ہر کام کے آغاز میں بسم اللہ پڑھیں ، سمارٹ فون ، کمپیوٹر یا کوئی ویب سائٹ ، سوشل میڈیا بھی اوپن کریں تو سب سے پہلے بسم اللہ پڑھیں ۔ جب یہ عادت بن جائے گی تو ہر غلط ویب سائٹ ، غلط چیز اوپن کرنے سے بندے کو حیاء ضرور آئے گی ۔ ایک بچے نے کہا سر ! سمارٹ فون پر کئی غلط چیزیں آجاتی ہیں ، وہاں تو ہم بسم اللہ نہیں پڑھ سکتے ۔ ہم نے پوچھا بیٹا !بتاؤ بسم اللہ کو چھوڑو گے یا اُس مکروہ چیز کو چھوڑو گے ۔ کہا بسم اللہ تو ہم نہیں چھوڑ سکتے ، غلط چیز کو چھوڑیں گے ۔ بچوں کو یہ باتیں جلد سمجھ میں آتی ہیں کیونکہ وہ فطرت پر ہوتے ہیں ۔اللہ کرے بڑوں کو بھی سمجھ آجائے ، زبان پر اللہ کا نام ہو تو گھر کا ماحول جنت بن سکتاہے ۔ سب سیدھے راستے پر آسکتے ہیں ۔ 
اگلے تین نکات علامہ ڈاکٹر وہبہ الزحیلی صاحب کی التفسیرالمنیرسے لیے گئے ہیں ۔ 
1۔ عقل اور وحی کا ملاپ 
زیرِ مطالعہ آیت میں پڑھنے کی بات بھی ہورہی ہے اور رب کا ذکر بھی آرہا ہے ، تخلیق کا بیان بھی ہے ۔ گویا یہ آیت عقلِ انسانی کو وحی الہٰی کے تابع کرنے کا اعلان ہے۔پڑھنے کا عمل عقل سے تعلق رکھتا ہے ، اس میں عقل کا استعمال ہوتا ہے ، مطالعہ کرتے ہیں ، غوروفکر کرتے ہیں لیکن ہدایت اور حقیقی رہنمائی اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوگی ۔ اللہ پر ایمان ہوگا ، اُس کی بندگی کا اہتمام ہو گا تو ہدایت اور سچی رہنمائی ملے گی ۔ لہٰذا عقل جب تک وحی کے تابع نہ ہو تو پھر وہی کچھ ہو گا جو اس وقت دنیا میں ہورہا ہے ۔ آج دنیا میں جتنے بڑے جرائم یا فراڈ ہو رہے ہیں ، ان کے پس پردہ اعلیٰ تعلیم یافتہ دماغ ہوتے ہیں ۔ آج پورے پاکستان کو لوٹ کر کھانے والے بڑے بڑے لوگ ہیں جو بڑی ڈگریاں لے کر بڑے عہدوں پر بیٹھے ہیں ۔ وجہ صرف یہی ہے کہ آج علم اللہ کے ذکر سے خالی ہے ۔ یہی سیکولر تعلیم کے نتائج ہیں ۔ 
2۔ تخلیق الٰہی کا اعتراف 
ڈاکٹر وہبہ الزحیلی صاحب کہتے ہیں کہ کائنات کی تخلیق کا تذکرہ انسان کو اس کے عاجز ہونے اور اللہ تعالیٰ کے قادر مطلق ہونے کا احساس دلاتا ہے۔ جب مجھے معلوم ہوگا اور یقین ہوگا کہ مجھے کسی نے پیدا کیا ہے اور میں اس کو جواب دہ ہوں تو میں برے کام کرنے سے باز رہوں گا اور اگر میری تعلیم و تربیت میں سرے سے خدا کا انکار ہے تو پھر میرا جسم میری مرضی ، میرا اختیار میری مرضی ، جو چاہوں سو کروں ۔ پوری قوم کو بیچ کر کھا جاؤں ، کوئی پوچھنے والا کون ہوتاہے ۔ جب خالق کائنات کی قدرت کا احساس ہوگا تو پھر اپنی بے بسی ، اور عاجزی کا بھی اقرار ہوگا ، عمل میں انکساری آئے گی ، برائی سے بچنے کی کوشش ہوگی ۔ 
3۔ علم کی عالمگیریت کا بیان 
ڈاکٹر صاحب مزید لکھتے ہیں کہ اس آیت میں  علم کی عالمگیریت کا بیان ہے۔ اسلام نے رنگ، نسل، زبان، طبقے کی قید کے بغیر علم کو تمام بنی نوع انسان کے لیے عام کرنے کا سنگ بنیاد اسی آیت سے رکھا ہے۔ ساری انسانیت کا حق ہے کہ اسے علم میسر آئے لیکن اصل علم وحی کا علم ہے اور ساری انسانیت تک اس علم کو پہنچانا قرآن کی حامل اُمت کی ذِمّہ داری ہے ۔ 
اگلے3 نکات سید قطب شہید ؒ نے اپنی تفسیر ’’فی ظلال القران‘‘ میں بیان کیے ہیں ۔ 
1۔کائنات کی تاریخ کا عظیم ترین موڑ 
سید قطب شہیدؒ اس آیت کے نزول کو کائنات کی تاریخ کا عظیم ترین موڑ قرار دیتے ہیں ۔ وحی تو آدم؈ کے دور سےانبیاء پر نازل ہوتی آئی تھی مگر اب اس کا آخری ورژن عطا کر دیا گیا ۔ انسان کو مٹی سے اٹھا کر عظمت الٰہی کے شعور سے آشنا کردیا اور یہ واضح کردیا کہ تم نرے حیوان نہیں ہوبلکہ تم اشرف المخلوقات ہو، خالق نے تمہیں خاص مقصد کے لیے پیدا کیا ہے ۔ تمہارے جسم سے بڑھ کر تمہاری روح اہم ہے ، اس روح کو وحی کی غذا فراہم کرکے زمین والے کا آسمان سے ہمیشہ کے لیے تعلق قائم کر دیا ۔ 
2۔ اللہ پر توکل 
بِاسْمِ رَبِّکَ(اپنے رب کے نام سے) اللہ پر توکل اور یقین کا اظہار ہے ۔ یہ وہ پہلی قوت ہے جس کے بل بوتے پرایک داعی اسلام دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکتا ہے ، چاہے وہ طاقت مشرکین قریش ہوں ، قیصرو کسریٰ ہوں یا پھر آج کےعالمی بدمعاش، ظالم  اور غنڈے ہوں ۔ اگر اہل ایمان کا توکل اللہ پر ہوگا تو پھر اللہ پشت پر کھڑا ہوگا ۔ سورہ طلاق میں فرمایا : {وَمَنْ یَّـتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ فَہُوَ حَسْبُہٗ ط}(آیت:3)
’’اور جو کوئی اللہ پر توکّل کرتا ہے تو اُس کے لیے وہ کافی ہے۔‘‘
اور آج یہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ ہمارا توکل اللہ پر نہیں رہا ۔ ایک عام فکر یہ ہوتی ہے کہ میرے مرنے کے بعد میرے بچوں کا کیا ہوگا؟ کیا جس اللہ نے پیدا کیا وہ اُن کا رب نہیں ہے ؟اُس نے اُن کا رزق اپنے ذمے لیا ہے :
{وَمَا مِنْ دَآبَّۃٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَی اللہِ رِزْقُہَا}(ہود:6)’’اور نہیں ہے کوئی بھی چلنے پھرنے والا (جاندار) زمین پر ‘مگر اس کا رزق اللہ کے ذِمّہ ہے‘‘
ایمان والوں کا توکل اللہ پر ہوتا ہے ، اسی لیے وہ باطل نظام سے سمجھوتہ نہیں کرتے بلکہ اُس کے خلاف کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ آج وہ یقین نہیں ہے۔اللہ پانچ مرتبہ بلواتا ہے، ہمارے پاس ٹائم ہی نہیں ہے، پیسہ کمانے کے لیے فیملی وی لاگنگ کے نام پر بدترین بے حیائی چل رہی ہے ۔ اوپر کی سطح پر دیکھیں تو امریکہ کی غلامی میں ملک و ملت کے مفادات کا سودا کیا جارہا ہے۔ اسی لیے یہ زوال اورمغلوبیت ہے ۔ 
3۔ ہر شے اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے ۔
سید قطب شہیدؒ الَّذِیْ خَلَقَ کی تفسیرمیںلکھتے ہیں کہ انسانی وجود کا حقیقی مقام کائناتی نظامِ زندگی سے   ہم آہنگی میں ہے ۔ کائنات کی ہر تخلیق اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے ۔ جیسا کہ فرمایا : 
اور ایسی کوئی چیز نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ تسبیح نہ کرتی ہو لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے، بے شک وہ بردبار بخشنے والا ہے۔(بنی اسرائیل :44)
مولانا مودودیؒ نے لکھا کہ ساری کائنات مسلم ہے ،یہ سورج، چاند ،ستارے ، کہکشائیں ،یہ سب اللہ کے بنائے ہوئے نظام کے پابندہیں۔ حتیٰ کہ ایک کافر انسان کی آنکھ ، کان ، ناک وغیرہ سب اللہ کے طے شدہ قانون کی پاسداری کرتے ہیں ، اللہ نے انہیں جس طرح کا فنکشن دیا ہے وہ اسی کے مطابق کام کرتے ہیں ۔ کافر چاہے لاکھ انکار کرے مگر اس کا وجودگواہی دیتا ہے کہ وہ مسلم ہے ۔ بہرحال کائنات کی ہر چیز اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے اور مسلم ہے ، انسان کو بھی مسلم بننا چاہیے ۔ سید قطب شہید ؒ بڑی پیاری بات بیان کرتے ہیں کہ جب انسان اللہ کا نام لے کر پڑھتا ہے ، اللہ کی مان کر چلتا ہے تو وہ کائنات کے  مسلم نظامِ زندگی کا حصہ بن جاتاہے ۔ 
یہ چندنکات تھے جو سورہ العلق کی پہلی آیت کی تفسیر میں اہل علم نے بیان کیے ۔ اس پورے موضوع کا خلاصہ سورۃ البقرہ کی آیت 31 اور 38 میں بیان ہوا ہے جہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 
{وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآئَ کُلَّھَا} ’’اور اللہ نے سکھا دئیے آدمؑ کو تمام کے تمام‘نام۔‘‘ 
اللہ تعالیٰ نے آدم ؑ کو علم الاسماء بھی دیا جسے آپ عصری علوم کہہ لیں ، دنیوی علم کہہ لیں یا فزیکل سائنسز کہہ لیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ علم ہدایت بھی عطا کیا : 
{فَاِمَّا یَاْتِیَنَّـکُمْ مِّنِّیْ ھُدًی فَمَنْ تَبِعَ ھُدَایَ  فَلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ(38)} (البقرہ) ’’تو جب بھی آئے تمہارے پاس میری جانب سے کوئی ہدایت‘ تو جو لوگ میری اس ہدایت کی پیروی کریں گے ان کے لیے نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ حزن سے دوچار ہوں گے۔‘‘ 
  آج دنیا میں عصری علوم ، فزیکل سائنسز وغیرہ کا تو بہت زیادہ رجحان ہے لیکن وحی (ہدایت)کے علم کی طرف رجحان کم رہ گیا ہے ۔ اصل مسائل یہیں سے پیدا ہوتے ہیں، اسی لیے دنیا میں ظلم و استحصال ہے ، انسانی زندگیوں  میں دکھ اور پریشانیاں ہیں ۔ لہٰذا آج جس کام کو سب سے زیادہ کرنے کی ضرورت ہے ، وہ ہے : 
{اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ(1)} ’’پڑھیے اپنے اُس رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔‘‘
ڈاکٹر اسراراحمدؒ نے جو تنظیم قائم کی اور انجمن ہائے خدام القرآن اور قرآن اکیڈمیز کے نام سے جو ادارے قائم کیے ، اُن کا کام ہی وحی کی تعلیم کو ،یعنی قرآن کی تعلیمات کوعام کرنا ہے ، ان میں رجوع الی القرآن کورسز چل رہے ہیں ، بچوں اور بچیوں کے لیے کورسز چل رہے ہیں ، آن لائن کورسز چل رہے ہیں ، جو لوگ ورکنگ دنوں  میں وقت نہیں نکال پاتے اُن کے لیے اتوار کے دن کورسز جاری ہیں ان میں صبح کے کورسز بھی شامل ہیں اور شام کے بھی ۔ آج ہم بچوں کی دنیوی تعلیم پر لاکھوں کروڑوں  روپے خرچ کر رہے ہیں، کیا جواب دیں گے جب روزِ قیامت پوچھا جائے گا کہ اپنی اولاد کو دین کی سمجھ اور تعلیم کیوں نہیں دلوائی اور اس وجہ سے اگر گھروں والوں کی آخرت داؤ پر لگتی ہے تو ذمہ دار کون ہے؟اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو اس کی سمجھ اور توفیق عطا فرمائے۔ آمین!