(دعوت و تحریک) اُمَّت ِمُسلمہ کے لیے نجات کی راہ … - ڈاکٹر اسرار احمد

9 /

اُمَّت ِمُسلمہ کے لیے نجات کی راہ …

ڈاکٹر اسرار احمدؒ

’’زمانے کی قسم ہے کہ تمام انسان خسارے میں ہیں۔ سوائے اُن کے جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے عمل کیے اور باہم ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی اور باہم ایک دوسرے کو صبر کی تاکید کی۔‘‘(سورۃ العصر)
  ہر انسان اپنے سامنے کامیابی اور ناکامی اور نفع و نقصان کا کوئی نہ کوئی معیار ضرور رکھتا ہے اور اس کی ساری عملی جدوجہد اور دُنیا کی زندگی میں اُس کی تمام محنت و مشقت کا رُخ اِس معیار ہی سے متعین ہوتا ہے ۔جو لوگ عقلی اعتبار سے بلوغ اور پختگی کو پہنچ چکے ہیں اُن میں سے تو شاذ ہی کوئی ہو گا جس کا کوئی نہ کوئی متعین نصب العین اور   مطمح نظر نہ ہو‘ عموماً چھوٹے بچوں خصوصاً ان میں سے جو زیادہ ذہین ہوتے ہیں ان کے سامنے بھی کوئی نہ کوئی  معیارِ مطلوب ضرور ہوتا ہے‘جس کے حصول کے لیے وہ اپنی محنت اور جدوجہد کو مرتکز کر دیتے ہیں۔
ہم اگر ذرا دِقت ِنظر سے اپنے گرد و پیش کا جائزہ لیں، بلکہ خود اپنے دل و دماغ میں جھانک کر دیکھیں تو صاف نظر آجائے گا کہ اس دَور میں کامیابی اور ناکامی کا اصل معیار یا تو روپیہ پیسہ‘مال و دولت اور زمین و جائیداد ہے یا حیثیت‘وجاہت‘اقتدار اور دُنیوی دبدبہ و جاہ و جلال اور عزت و شہرت اور نام و نمود۔چنانچہ اِلاماشاء اللہ سب لوگ ان ہی چیزوں کی طلب میں لگے ہوتے ہیں اور ان ہی کے لیے انہوں نے اپنی ساری سعی و جہد کو صَرف کر دیا ہے۔ اکثر طلبہ کے ذہنوں میں بھی یا تو کسی ایسے فن کی تحصیل ہے جس سے دولت کمائی جا سکے یا پھر کسی حیثیت والی پوزیشن کا حصول ہے اور ان چیزوں کو حاصل کر لینا ہی اُن کے نزدیک کامیابی ہے اور حاصل نہ کرسکنا ناکامی۔
سورۃ العصر سے جو عظیم حقیقت سامنے آتی ہے وہ اِس کے بالکل برعکس ہے۔ یعنی یہ کہ انسان کی کامیابی کا معیار نہ روپیہ پیسہ ہے‘نہ حیثیت ووجاہت‘نہ جاہ و جلال ‘نہ نام و نمود‘بلکہ اس کی پہلی شرط ہے ایمان‘دوسری عمل صالح‘ تیسری تواصی بالحق اور چوتھی تواصی بالصبر۔ گویا ہر وہ انسان جس میں یہ چار چیزیں موجود نہ ہوں ایک ناکام‘نامراد اور خائب و خاسر انسان ہے‘چاہے وہ ارب پتی ہی کیوں نہ ہو، بلکہ قارون کی سی دولت بھی اُسے حاصل ہو جائے اور چاہے  فرعون و نمرود کی سی بادشاہی ہی کیوں نہ حاصل کر لے اور اس کے برعکس ہر وہ شخص کامیاب اور بامراد اور فائزالمرام ہے جس میں یہ چاروں چیزیں موجود ہوں‘چاہے اس کے پاس مال و دولت ِ دنیوی سرے سے موجود نہ ہو بلکہ اُسے فاقوں سے سابقہ ہو‘اور چاہے وہ جائیداد اور متاع و اسبابِ دنیوی سے کتنا ہی تہی دست کیوں نہ ہو‘یہاں تک کہ اس کے پاس سر چھپانے تک کو جگہ نہ ہو‘اور وہ دنیا میں کتنا ہی غیر معروف اور گمنام کیوں نہ ہو۔
اس حقیقت کو سرسری طور پر مان لینا جس قدر آسان ہے‘اس پر دل کا ٹھک جانا اُسی قدر مشکل ہے۔ یہ دنیا عالم ِاسباب ہے اور ہم اس کے ظواہر سے لازماً متاثر ہوتے ہیں اور جب ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں آرام و آسائش اور عزت و شہرت روپے پیسے اور اسباب و وسائل ہی سے وابستہ ہے تو ہم بے اختیار ان چیزوں کے حصول کے لیے کوشاں ہو جاتے ہیں ‘حتیٰ کہ یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط‘کیا جائز ہے اور کیا ناجائز اور کیا حلال ہے  اور کیا حرام۔چنانچہ یہی اس سورۂ مبارکہ کا اصل سبق ہے۔
وہ سادہ سی حقیقت جو اس عظیم سورۃ میں بیان ہوئی ہے، ہمارے ذہن نشین ہو جائے اور وہ سادہ سا جملہ جس پر یہ سورۃ مشتمل ہے ہماری لوحِ قلب پر کندہ ہو جائے‘تو ہمارے نقطہ نظر میں عظیم انقلاب برپا ہو جائے گا۔
واقعہ یہ ہے کہ صحابہ کرام ؓ کی زندگی میں جو عظیم انقلاب برپا ہوا، اِس کی تہہ میں نکتہ نظر کی یہی تبدیلی کار فرما تھی اور نکتہ نظر کی اِسی تبدیلی کا کرشمہ تھا کہ انہیںاللہ  اور اُس کے رسول ﷺ کی رضا جوئی کے مقابلے میں دنیا و مافیہا بالکل حقیر نظر آتے تھے‘حتیٰ کہ انہیں زندگی کی نسبت موت زیادہ عزیز ہو گئی تھی۔
الغرض‘اس سورۂ مبارکہ کا اصل سبق یہی ہے‘اور ہم میں سے ہر شخص کو چاہیے کہ اس کا خوب مراقبہ کرے اور اسے اچھی طرح ذہن نشین بھی کرے اور جاگزین ِقلب بھی۔
دوسرا بنیادی نتیجہ جو اس جملے کی ترکیب سے خود بخود حاصل ہوتا ہے یہ ہے کہ اس سورۃ میں نجات کی کم از کم شرائط بیان ہو رہی ہیں اور اس کے ناگزیر لوازم کا ذکر ہے‘نہ کہ کامیابی کی بلند ترین منازل یا فوزو فلاح کے اعلیٰ مراتب کا۔  سادہ لفظوں میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہاں کامیابی کی فرسٹ یا سیکنڈ ڈویژن کا تذکرہ نہیں ہے بلکہ صرف آخر درجہ میں پاس ہونے کی شرط کا بیان ہو رہا ہے۔
 یہ دوسرا نتیجہ بھی عملی اعتبار سے نہایت اہم ہے اور اِسی کو فراموش کر دینے کا نتیجہ ہے کہ مسلمانوں میں شدید اخلاقی و عملی انحطاط پیدا ہوا۔ اس لیے کہ فطری طورپر انسان میں محنت و مشقت اور ایثار و قربانی کا مادہ کامیابی کے کم از کم معیار کی نسبت اور تناسب ہی سے پیدا ہوتا ہے اور ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں جو خصوصاً دینی معاملات میں   اعلیٰ مراتب اور بلند مقامات کے لیے کوشاں ہوں۔ اس کے برعکس اکثریت ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جو کسی نہ کسی طرح ہمت کر کے نجات کے کم از کم لوازم کو پورا کرنے کی سعی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس سورۂ مبارکہ میں نجات کے کم از کم تقاضوں کو نہایت سادہ الفاظ میں بیان کر دیا گیا ہے تاکہ لوگ اپنی اپنی ہمت اور وسعت کے مطابق ان کو پورا کرنے پر کمر بستہ ہو سکیں۔
     تیسرا نتیجہیہ ہے کہ نجات کے لیے ایمان‘ عمل صالح‘ تواصی بالحق‘تواصی بالصبر چاروں لازم ہیں اور ان    میں سے کسی ایک کو بھی ساقط نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے کہ یہ کلام الٰہی ہے‘اس میں کوئی حرف بھی ضرورت سے زائد اور محض ردیف و قافیہ کی ضرورت کے تحت یامبالغہ آمیزی کے لیے نہیں ہے۔ اور جب یہاں خسارے اور ناکامی سے نجات کی شرائط کے ضمن میں چار چیزوں کا بیان ہوا ہے تو یقینا ً وہ چاروں ہی چیزیں لازمی ہیں اور ان میں سے کسی ایک کو بھی ساقط کر دیا جائے تو انسان کی نجات کی ذِمّہ داری قرآن حکیم پر نہیں رہے گی۔ بالکل ایسے ہی جیسے اگر کوئی ماہر معالج کسی مریض کو چار ادویات پر مشتمل نسخہ لکھ کر دے اور مریض اپنی مرضی سے اس میں سے کسی ایک دوا کو کم کر دے تو اب اس نسخہ کی ذِمّہ داری اُس معالج پر نہیں ہو گی بلکہ خود اُس مریض پر ہو گی۔
ان چاروں چیزوں کے مابین عقلی اور منطقی ربط   بھی سمجھ لینا ضروری ہے۔ کسی انسان کا صاحب ِسیرت و کردار قرار پانا اس پر منحصر ہے کہ وہ ہر معاملہ میں اوّلاً یہ دیکھے کہ صحیح بات کیا ہے۔ پھر جس بات کی صحت پر اس کے     دل و دماغ گواہی دے دیں، اس کو عملاً اختیار کرے اور   نہ صرف خود اختیار کرے بلکہ اس کا اقرار و اعتراف اور اعلانِ عام بھی کرے اور دوسرے لوگوں کو بھی اس کو ماننے اور قبول کرنے کی دعوت دے‘اور پھر اگر اس راہ میں کوئی دِقت پیش آئے یا ایثار و قربانی اور سرفروشی و جانفشانی کا مرحلہ آ جائے تو پامردی و استقلال کا ثبوت دے اور پیٹھ دکھا کر بھاگ نہ جائے۔ 
چوتھا اور آخری نتیجہ جو اِس مختصر سی سورۃ کی عبارت کے تجزیے سے حاصل ہوتا ہے، یہ ہے کہ متذکرہ بالا تینوں نتائج سرسری نہیں بلکہ انتہائی مؤکد اور مؤثق ہیں اور اس میں ہرگز کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں‘اس لیے کہ اوّل تو ہمارا ایمان ہے کہ قرآن مجید اللہ کا کلام ہے اور اللہ کی فرمائی ہوئی بات اپنی صداقت اور حقانیت پر خود آپ ہی دلیل کامل ہے: ’’(اور اپنے قول میںاللہ سے زیادہ سچا اور کون ہو سکتا ہے؟‘‘)(النساء:121)لیکن اس پر اکتفا نہیں بلکہ خود اللہ نے بھی ان حقائق پر قسم کھائی ہے اور اس طرح یہ کلام انتہائی مؤکد ہو گیا ہے اور اس میں جو حقائق مضمر ہیں اور انسان کے لیے جو سبق پنہاں ہیں وہ سب انتہائی یقینی اور ہر قسم کے شکوک و شبہات سے منزہ اور مبرا ہیں۔ یعنی یہ کہ یقیناً نوعِ انسانی بحیثیت مجموعی خسارے سے دو چار ہونے والی ہے‘سوائے ان افرادِ نوع انسانی کے جو ایمان‘ عمل صالح‘تواصی بالحق اور تواصی بالصبر چاروں لوازم کو پورا کریں اور نجات کی اس کسوٹی پر بحیثیت مجموعی پورے اتریں۔
پوری نوع انسانی گھاٹے اور خسارے میں ہے۔ لیکن اس سے بھی اصل مفہوم ادا نہیں ہوتا‘اس لیے کہ خسران قرآنی اصطلاح میں صرف دو چار ہزار یا دو چار لاکھ کے گھاٹے کو نہیں بلکہ کامل تباہی اور بربادی کو کہتے ہیں۔ چنانچہ کامیابی اور بامرادی کے لیے تو قرآن حکیم میں متعدد الفاظ استعمال ہوئے ہیں جیسے فوز وفلاح اورر شدوسعادت‘لیکن ان سب کی کامل ضد کی حیثیت سے ایک ہی جامع لفظ استعمال ہوتا ہے اور وہ ہے خسران۔ گویا دوسری آیت کا اصل مفہوم یہ ہوا کہ ’’پوری نوعِ انسانی تباہی اور ہلاکت و بربادی سے دو چار ہونے والی ہے۔‘‘
اس عظیم آیت میں جو اہم حقیقت بیان ہوئی ہے اور نوعِ انسانی کے جس المیے کی طرف یہ آیت اشارہ کر رہی ہے، اس کا صحیح فہم و ادراک دو مرتبوں میں ہو سکتا ہے۔ ایک یہ کہ ہر انسان اِس دنیا کی زندگی میں شدید قسم کی  محنت و مشقت سے دو چار ہے۔ اکثر لوگوں کو اپنی اور اپنے لواحقین کی بنیادی ضرورتیں فراہم کرنے کے لیے صبح سے شام تک کمر توڑ دینے والی مشقت کرنی پڑتی ہے اور پھر بھی بنیادی ضرورتیںتک پوری نہیں ہوتیں۔ چنانچہ انسانی آبادی کی ایک عظیم اکثریت غذا‘ لباس‘مکان‘تعلیم اور علاج معالجہ جیسی بنیادی چیزوں تک سے مناسب حد تک بہرہ اندوز نہیں ہے۔ جو لوگ نسبتاً خوشحال ہیں‘اُنہیں بھی بہرحال محنت اور مشقت کیے بغیر کوئی چارہ نہیں۔
خوشحال اور دولت مند لوگوں کے بارے میں عوام کو اکثر یہ مغالطہ لاحق ہو جاتا ہے کہ شاید اُنہیں کوئی دکھ نہیں۔ حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ جس نوع کے نفسیاتی کرب  سے ان کی اکثریت دوچار ہوتی ہے اس کا اندازہ بھی عام آدمی نہیں کر سکتا۔ چنانچہ انہیں بے شمار قسم کے تضاداتِ ذہنی  اور مایوسیوں کا سامنا رہتا ہے اور اکثر و بیشتر امراضِ دماغی کا شکار اسی طبقے کے لوگ ہوتے ہیں۔
یہ دراصل انسانی المیے کا پہلا درجہ ہے اور اِسی کا ذکر قرآن حکیم کے تیسویں پارے میں سورۃ البلد کی اس آیت میں نہایت فصاحت و بلاغت سے ہوا ہے کہ:’’ہم نے انسان کو مشقت ہی میں پیدا کیا ہے۔‘‘(آیت:4)
اس پر مستزادیہ ہے کہ اس کا المیہ دنیا کی زندگی ہی میں ختم نہیں ہوتا بلکہ موت کے بعد اس کا اصل اور سخت تر مرحلہ شروع ہوتا ہے گویا بقولِ شاعر؎
اب تو گھبرا کے کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
انسانی المیے کا نقطۂ عروج یہ ہے کہ دنیا کی ساری محنتیں اور مشقتیں جھیل کر اور ساری کلفتیں سہہ کر اچانک اسے اپنے خالق و مالک کے سامنے محاسبے کے لیے بھی پیش ہونا پڑے گا‘جہاں اسے اپنی زندگی بھر کے اعمال و افعال کی جواب دہی کرنی ہو گی۔ یہی نقشہ ہے جو قرآن کریم کی اس آیۂ کریمہ میں کھینچا گیا ہے۔
’’اے انسان! تجھے مشقتیں سہتے‘کھپتے کھپاتے بہرحال اپنے رب کی خدمت میں حاضر ہونا ہے۔‘‘(الانشقاق:6)
      اور پھر اگر اس محاسبے میں اس کے خیالات و اعتقادات اور افعال و اعمال میں کجی کا پہلو غالب نکلا تو اُسے     ہمیشہ ہمیش کے لیے درد ناک سزا اور اذیت بخش عذاب کے حوالے کر دیا جائے گا اور یہی اصل خسران ہے۔
اس خسران عظیم اور تباہی اور بربادی سے نجات کی شرطِ اوّل ایمان ہے۔ ایمان کا لفظ امن سے بنا ہے اور اس کے لفظی معنی ہیں کسی کو امن دینا اور سکون بخشنا۔ لیکن اصطلاحی معنی میں ’’ل‘‘ یا ’’ب‘‘ کے صلوں کے ساتھ استعمال ہوتا ہے۔ جیسے اٰمَنَ لَہٗ یا اٰمَنَ بِہٖ اور اِس صورت میں اس کے لفظی معنی تصدیق اور یقین و اعتماد کے بن جاتے ہیں۔
ایمان کی اصل حقیقت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے آپ اس حقیقت پر غور کریں کہ ہر وہ انسان جو عقل اور شعور کی پختگی کو پہنچ جائے لازماً یہ سوچتا ہے کہ میں کون ہوں اور کہاں سے آیا ہوں اور کائنات کیا ہے اور اس کی ابتدا اور انتہا کیا ہے اور خود میرے سفرِزندگی کی آخری منزل کون سی ہے۔ جن لوگوں نے فلسفہ کا کچھ بھی مطالعہ کیا ہے وہ جانتے ہیں کہ پوری انسانی تاریخ کے دوران میں تمام سوچنے اور سمجھنے والے لوگ ان ہی سوالات پر غور و فکرکرتے رہے ہیں اور ان ہی کا اطمینان بخش جواب حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ اس  لیے کہ اس کے بغیر انسان بالکل اندھیرے میں ہے کہ نہ وہ اپنی حقیقت سے آگاہ ہے نہ کائنات کی حقیقت پر مطلع اور نہ اپنے آغاز و انجام کی خبر اُسے حاصل ہے نہ کائنات کی ابتدا و انتہا کا علم۔
ایمان‘کائنات اور انسان کے بارے میں علم کا حقیقی نام ہے اور اس کے دو نتیجے لازمی ہیں:
ایک یہ کہ انسان کا اضطراب رفع ہو جائے اور اسے سکون اور اطمینان حاصل ہو جائے‘اور کائنات اور خود اپنی حقیقت کا علم حاصل کرنے کی جو پیاس اس کی فطرت میں تھی اسے تسکین حاصل ہو جائے۔
  دوسرے یہ کہ چونکہ بقول سقراط ’’علم نیکی ہے اور جہالت بدی‘‘ لہٰذا اِس علم ِحقیقی کا لازمی نتیجہ یہ ہونا چاہئے کہ عمل بھی درست ہو جائے اور انسان بہترین اخلاق سے مزین ہو جائے اور گھٹیا اعمال و افعال کا خاتمہ ہو جائے۔
ایمان‘عمل صالح‘تواصی بالحق اور تواصی بالصبر چار مختلف چیزیں نہیں ہیں‘بلکہ ایک دوسرے کا منطقی نتیجہ اور ایک سیدھی شاہراہ کی چار منزلیں ہیں۔ ان کے آپس کے ربط و تعلق کی دوسری مثال یہ ہے کہ ایمان دراصل ایک بیج کے مانند ہے‘جس سے عمل صالح کا پودا پھوٹتا ہے اور جب یہ پودا اپنی پختگی کو پہنچتا ہے تو تواصی کے برگ و بار لاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ قرآن مجید اکثر و بیشتر ایمان کے ساتھ اس کے اوّلین نتیجے یعنی عمل صالح کا تذکرہ لازماً کرتا ہے‘لیکن کہیں ایسا بھی ہوا ہے کہ صر ف ایمان     کے تذکرے سے ان چاروں کو مراد لے لیا گیا ہے جیسے {اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا …}  میں جہاں ایمان کے بھی صرف اصل الاصول یعنی   ربوبیت خداوندی کے اقرار کا تذکرہ فرمایا گیا اور            ( ثُمَّ اسْتَقَامُوْا) میں عمل صالح‘تواصی بالحق اور تواصی بالصبر سب کو سمیٹ لیا گیا اور کہیں ایمان کے بعد عمل صالح کے ذکر کے بغیر تواصی کا تذکرہ فرما دیا گیا‘جیسے سورۃ البلد میں {ثُمَّ کَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا} کے فوراً بعد فرمایا گیا کہ{وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَۃِ(17)} واقعہ یہ ہے کہ قرآنِ حکیم صلاح و فلاح کے جس راستے کی جانب رہنمائی کرتا ہے۔ یہ چار چیزیں اس کے لیے بمنزلہ ٔاساس کے ہیں اور ان ہی کی تشریح اور ان کے مدارج ومراتب کی تفصیل قرآن کے صفحات میں جابجا پھیلی ہوئی ہے۔
پھر جس طرح ایمان کے ابتدائی مراحل سے لے کر صدیقیت کے مقام تک بے شمار مدارج ہیں اور عمل صالح موٹے موٹے اعمال سے شروع ہو کر ایک گھنے اور    پاٹ دار درخت کی طرح انسانی زندگی کے جملہ اطراف  حتیٰ کہ اس کے بعید ترین گوشوں تک پر محیط ہو جاتا ہے‘اسی طرح تواصی بالحق کے بھی مختلف مدارج اور مراتب ہیں۔ اس کی ابتدائی اور اوّلین صورت تواصی بالمرحمۃ کی ہے‘جس کے مواقع ہر انسان کو ہر وقت ملتے ہیں اور جس کی صلاحیت سے بھی شاذ ہی کوئی انسان محروم رکھا گیا ہے۔  اس سے بلند ترمرتبے میں تواصی بالحق‘دعوت الی اللہ‘اور ’’امر بالمعروف و نہی عن المنکر‘‘ کی صورت اختیار کرتا ہے اور اس سے بھی آگے بڑھ کر یہی تواصی بالحق کا شجرہ طیبہ شہادتِ حق‘اعلائے کلمۃ اللہ اور اقامت ِدین کی سعی وجہد کے برگ و بار لاتا ہے‘جن کی چوٹی جہاد فی سبیل اللہ ہے! صبران تمام مراحل میں انسان کا سب سے بڑا سہارا ہے اور تواصی بالحق کے اعلیٰ مدارج میں تو اس کو ایک اجتماعیت میں سمو کر تواصی بالصبر کی شکل دینے کے سوا کوئی چارۂ کار رہتا ہی نہیں۔
ایمان ‘عمل ِصالح‘تواصی بالحق اور تواصی بالصبر کے ان تمام مدارج تک ہر انسان کا پہنچنا یقینا ًمحال ہے۔ لیکن اگر کسی انسان کی شخصیت کو کوئی اخلاقی یا روحانی بیماری گھن کی طرح کھا نہ چکی ہو تو لازم ہے کہ ایمان کا تخم جب اس کی کشت قلب میں جم کر پھوٹے تو اس سے عمل صالح اور تواصی بالحق کی متناسب اور متوازن شاخیں نمودار ہوں۔
ایک معمولی سمجھ بوجھ کا آدمی جو ایمانیات کے بھی مبادی تک ہی رسائی رکھتا ہو اور شریعت کے موٹے موٹے احکام پر عمل پیرا ہو‘اگر صرف تواصی بالمرحمۃ ہی تک پہنچ پائے تو یقینا ًکوئی غلط بات نہیں‘لیکن اگر صورت یہ ہو جائے کہ ایمانِ بالغیب کو ایمان شہودی بنانے کے لیے تو ریاضتوں اور مجاہدوں پر ایڑی چوٹی کا زور صرف ہو رہا ہو‘اور عبادات میں نوافل کی کثرت کے ساتھ مستحبات تک کا اہتمام باریک بینی اور چھان پھٹک کے ساتھ ہو رہا ہو‘لیکن تواصی بالحق تو سرے سے ہی نہ ہو‘یا ہو بھی تو   محض وعظ و نصیحت کی حد تک‘تو یہ یقینا ًایک پریشان کُن صورت حال ہے۔ 
پھر اسی طرح یہ صورت حال بھی یقیناً غلط ہی نہیں انتہائی مہلک ہے کہ تواصی بالحق کے تو بلند ترین درجات پر فائز ہونے کی سعی کی جائے اور بزعم خویش اعلائے  کلمۃ اللہ‘اقامت ِدین ِ الٰہی اور قیامِ نظامِ اسلامی کی جدوجہد کی جائے‘لیکن عبادات میں محض فرائض کی ادائیگی ہو اور وہ بھی مارے باندھے سے‘اور ایمان کے باب میں صرف چند کلامی نظریات پر اکتفا کر لی جائے۔
ان دو انتہائی صورتوںکے درمیان اور بھی جتنی   غیر متوازن صورتیں پائی جائیں سب کی سب غلط ہیں اور مہلک امراض کی علامات!
سورۃ العصر انسان کے لیے نجات کی جس واحد راہ کی نشاندہی کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ہر انسان اپنی اپنی صلاحیت اور وسعت و ہمت کے مطابق ایمان کی گہرائیوں تک رسائی کی کوشش کرے اور جتنا جتنا اس کی حلاوت اور چاشنی سے حصّہ حاصل کرتا جائے‘اُسی قدرعمل صالح ‘تواصی بالحق اور تواصی بالصبر پر عمل پیرا ہوتا چلا جائے۔
رہا یہ مسئلہ کہ مختلف انسانوں کی صلاحیت اور وسعت کا تعین کس طرح ہو تو اگرچہ اکثر لوگوں کو شیطان نے دین میں ان کی بے عملی کے لیے یہی عذر سمجھا رکھا ہے کہ ہمارے اندر صلاحیت اور قابلیت موجود نہیں‘لیکن اس کا سیدھا سا پیمانہ جو ہر شخص کے ساتھ ہر دم موجود ہے‘یہ ہے کہ دنیا میں اس کی صلاحیت اور قابلیت کا ظہور کس درجے میں ہو رہا ہے۔ ایک ایسا شخص جس کی ہمت دنیا کی دوڑ میں بھی جواب دے چکی ہو‘اگر دین میں عذر پیش کرے تو یقیناً اس کا عذر قابل ِقبول ہے۔ لیکن ایسے لوگ جو دنیا کے سارے کاروبار میں دن دُگنی رات چوگنی ترقی کر رہے ہوں‘اگر دین کے معاملے میں عدم صلاحیت اور فقدانِ قابلیت کے عذر پیش کریں تو ظاہر ہے کہ ان کا یہ عذر کسی درجے میں بھی لائق اعتناء نہیں۔
(بانی ٔ تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسرار احمد ؒ کے کتابچہ’’راہِ نجات سورۃ العصر کی روشنی میں‘‘ سے ماخوذ)