الہدیٰ
اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہدایت بمقابلہ آباء و اجداد کی گمراہی
آیت 21 {وَاِذَا قِیْلَ لَہُمُ اتَّبِعُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَیْہِ اٰبَآئَ نَاط}’’اور جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ پیروی کرو اس (ہدایت) کی جو اللہ نے نازل فرمائی ہے تو کہتے ہیں :بلکہ ہم تو اُس (طریقے ) کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے آباء و اَجداد کو پایا ہے۔‘‘
یہ سوچ آج بھی زندہ ہے۔ آج بھی ہر معاشرے میں کلچر کے احیاء ‘ لوک ورثے کی حفاظت اور قومی روایات کو پروان چڑھانے کے نام پر کروڑوں روپے کے وسائل ضائع کر دئیے جاتے ہیں۔
{اَوَلَوْ کَانَ الشَّیْطٰنُ یَدْعُوْہُمْ اِلٰی عَذَابِ السَّعِیْرِ(21)} ’’خواہ انہیں شیطان بلا رہا ہو جہنم کے عذاب کی طرف!‘‘
اپنے آباء و اَجداد کے غلط طریقوں سے چمٹے رہنے کی یہ سوچ دراصل شیطانی گمراہی کے سبب ہے ۔ چنانچہ ایسی باتیں کر کے گویا وہ لوگ شیطان کی دعوت پر لبیک کہہ رہے ہیں اور شیطان کی دعوت تو گویا جہنم کے عذاب کی دعوت ہے۔
درس حدیث
مومن ایک دوسرے کو مضبوط بناتے ہیں
عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی ؓ ،عَنِ النَبِیِّ ﷺ قَالَ:((اَلْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ کَالْبُنْیَانِ یَشُدُّ بَعْضُہٗ بَعْضًا ، وَشَبَّکَ بَیْنَ اَصَابِعِہِ )) (صحیح بخاری)
ابو موسیٰ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا :’’مومن دوسرے مومن کے لیے اس عمارت کی مانند ہے جس کا ایک حصّہ اس کے دوسرے حصّے کو مضبوط کرتا ہے اور آپ ﷺ نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں کے اندر کیا۔‘‘
تشریح:نیکی اور بھلائی کے کاموں میں‘ چاہے انفرادی ہوں یا اجتماعی‘ ایک مؤمن دوسرے مؤمن کا حامی اور مددگار ہوتا ہے اور اسے تقویت دیتا ہے ‘ تفرقہ بازی اور گروہ بندی میں مبتلا ہو کر مسلمانوں کی ذلت اور رسوائی کا باعث نہیں بنتا۔
مسلمانوں کی ترقی اور کامیابی کا راز اس میں ہے کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف مورچے قائم نہ کریں اور ایک دوسرے کو کمزور کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور نہ لگائیں بلکہ وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ہم آہنگ اور متحد ہو کر مضبوط ہوں اور دشمنوں پر ان کی ہیبت طاری ہو۔