اداریہ
رضاء الحق
اُمَّتِ مُسلمہ کی حالت ِ زار اور راہِ نجاتآج اُمَّتِ مُسلمہ جس کیفیت سے گزر رہی ہے، وہ تاریخ کے انتہائی تشویش ناک ادوار میں سے ایک ہے۔ جس اُمَّت کو اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی رہنمائی، عدل کے قیام اور حق کی گواہی کے لیے منتخب فرمایا تھا، وہ آج خود سیاسی، معاشی، فکری اور تہذیبی بحرانوں میں گھری ہوئی ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں مسلمان ظلم و جبر، جنگوں، قبضوں اور استحصال کا شکار ہیں، مگر اُمَّت بحیثیت مجموعی اپنی اجتماعی ذِمّہ داری ادا کرنے سے قاصر نظر آتی ہے۔ فلسطین بالخصوص غزہ کی صورتحال اِس حقیقت کی سب سے بڑی مثال ہے کہ عالمی نظامِ طاقت (وہ ڈیپ اسٹیٹ، اقوامِ متحدہ اور آئی ایم ایف جس کی باندیاں ہیں) میں کمزور اقوام کے ساتھ کس قدر بے رحمی کا مظاہرہ کیا جا سکتا ہے۔ دہائیوں سے جاری قبضہ، محاصرہ، جبری بے دخلی اور حالیہ جنگوں نے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں انسانوں کو متاثر کیا ہے۔ اِسی طرح مقبوضہ کشمیر، شام، افغانستان، عراق، لیبیا، لبنان اور دیگر مسلم خطے بھی عالمی طاقتوں کے مفادات، علاقائی کشمکشوں اور داخلی کمزوریوں کا شکار رہے ہیں۔
یہ حالات محض سیاسی واقعات نہیں بلکہ اُمَّت مُسلمہ کے لیے ایک عظیم تنبیہ ہیں کہ اگر وہ اپنے حقیقی مقصدِ وجود سے غافل رہے گی تو اس کی تعداد، وسائل اور جغرافیائی وسعت اسے عزت و تحفظ فراہم نہیں کر سکیں گے۔ قرآنِ حکیم نے واضح فرما دیا: ’’بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہ کرے۔‘‘ (الرعد: 11) لہٰذا اُمَّت کا مسئلہ صرف بیرونی دشمنوں کی سازشیں نہیں بلکہ اپنی داخلی کمزوریاں بھی ہیں۔ دشمن کی ریشہ دوانیوں سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن قرآن ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ قوموں کا عروج و زوال سب سے پہلے اُن کے اپنے اعمال، ایمان اور کردار سے متعلق ہوتا ہے۔ عصرِ حاضر میں عالمی سیاست بڑی حد تک طاقت، مفاد اور غلبے کے اصولوں کے تحت چل رہی ہے۔ کئی مسلم ممالک گزشتہ چند دہائیوں سے براہِ راست یا بالواسطہ جنگوں، پابندیوں، سیاسی دباؤ اور اقتصادی انحصار کا سامنا کر رہے ہیں۔ عالمی طاقتوں نے جہاں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے فوجی، سیاسی اور معاشی ذرائع استعمال کیے، وہیں مسلم دنیا کی داخلی کمزوریوں سے بھی فائدہ اُٹھایا گیا۔ مسلمانوں کے درمیان قومی، لسانی، فرقہ وارانہ اور سیاسی اختلافات کو ہوا دے کر اُن کی اجتماعی قوت کو منتشر رکھا گیا۔ لیکن اِس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ بیرونی قوتیں اُسی وقت کامیاب ہوتی ہیں جب اندرونی کمزوریاں موجود ہوں۔ ایک متحد، باکردار، خوددار اور اللہ کی ہدایت پر قائم اُمَّت کے خلاف کوئی طاقت مستقل کامیابی حاصل نہیں کر سکتی۔
تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان جب قرآن و سنت کے اصولوں پر مجتمع ہوئے تو کم وسائل کے باوجود بڑی طاقتوں کا مقابلہ کرنے میں کامیاب ہوئے، اور جب وہ دنیا پرستی، باہمی تنازعات اور مقصدِ حیات سے غفلت کا شکار ہوئے تو کثیر وسائل کے باوجود کمزور ہو گئے۔ گویا اُمَّتِ مُسلمہ کا بڑا المیہ یہ ہے کہ اس کے مسائل صرف بیرونی نہیں بلکہ داخلی بھی ہیں۔ بہت سے مسلم ممالک میں سیاسی عدم استحکام، بدعنوانی، معاشی عدم مساوات، تعلیمی پسماندگی، عدل و انصاف کے کمزور نظام، مادرپدر آزاد مغربی تہذیب کا غلبہ، نوجوان نسل کی فکری بے سمتی، حکمران طبقوں اور عوام کے درمیان فاصلے، اور اِن جیسے بے شمار مسائل موجود ہیں۔
اسلام نے حکومت، معیشت اور معاشرت کے لیے جو اصول عطا کیے تھے، اُن میں اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کی بے چوں و چرا اطاعت کے بعد عدل، امانت، مشاورت، احتساب اور انسانی فلاح بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ جب یہ اصول اجتماعی زندگی سے نکل جائیں تو صرف نام کا مسلمان ہونا کسی قوم کو عزت نہیں دے سکتا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اِس کتاب (قرآنِ پاک) کے ذریعے کچھ قوموں کو بلند فرماتا ہے اور اسی کے ذریعے کچھ کو پست کر دیتا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم) یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ اصل عزت قرآن کے ساتھ مضبوط تعلق اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے میں ہے۔
پاکستان کا قیام محض ایک جغرافیائی تبدیلی کا نام نہیں تھا بلکہ برصغیر کے مسلمانوں کی ایک عظیم جدوجہد کا نتیجہ تھا۔ اس جدوجہد کے پس منظر میں یہ تصور نمایاں تھا کہ مسلمان اپنی اجتماعی زندگی اسلام کے اصولوں کے مطابق گزار سکیں گے۔ قراردادِ مقاصد اور آئینِ پاکستان میں بھی اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور اسلامی اصولوں کی بالادستی کا عہد شامل کیا گیا۔ لیکن سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود پاکستان اپنی اصل منزل یعنی ایک حقیقی اسلامی فلاحی ریاست کے قیام سے ابھی کوسوں دور ہے۔ آج پاکستان کو سیاسی انتشار، معاشی عدم استحکام، قرضوں کا بوجھ، سودی معاشی نظام، عدل وانصاف کے مسائل، تعلیمی اور اخلاقی بحران، ادارہ جاتی کمزوریاں جیسے متعدد بحرانوں کا سامنا ہے۔ ان مسائل کا حل محض سیاسی نعروں، وقتی معاشی منصوبوں یا بیرونی امداد میں نہیں بلکہ اس بنیادی سوال کے جواب میں ہے کہ پاکستان کا مقصدِ وجود کیا ہے؟ اگر پاکستان کو محض ایک قومی ریاست سمجھا جائے تو وہ عالمی طاقتوں کے اسی نظام کا ایک کمزور حصّہ بن کر رہ جائے گا، لیکن اگر اسے اسلام کے عادلانہ نظام کے قیام کی تجربہ گاہ بنایا جائے تو یہ نہ صرف خود ترقی و استحکام حاصل کر سکتا ہے بلکہ پوری اُمَّتِ مُسلمہ کے لیے امید کا مرکز بن سکتا ہے۔ اُمَّتِ مُسلمہ کے زوال کا آغاز جہاں سے ہوا، اس کا عروج بھی وہیں سے شروع ہوگا؛ یعنی قرآنِ حکیم سے زندہ تعلق، رسول اللہ ﷺ کے اسوۂ حسنہ کی پیروی اور دین کو زندگی کے تمام شعبوں میں نافذ کرنے کی مخلصانہ جدوجہد۔ اللہ تعالیٰ کا واضح حکم ہے: ’’اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔‘‘ (آل عمران: 103) احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی مضبوط رسی قرآنِ مجید ہے۔ لہٰذا اُمَّت کی نجات اِسی میں ہے کہ وہ قرآن کو صرف تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ دستورِ زندگی سمجھے، قرآن کے فہم کو عام کرے، اپنی انفرادی زندگی کو اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کے تابع بنائے، خاندان اور معاشرے کی اصلاح کرے، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرے، اُمَّت کے اندر اخوت، وحدت اور مقصدِ حیات کا شعور پیدا کرے، اقامتِ دین کے لیے پُرامن، منظم اور مسلسل جدوجہد کرے۔ اقامتِ دین کا مطلب کسی خاص طبقے یا گروہ کا اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق ایسا عادلانہ نظام قائم کرنا ہے جس میں انسانوں کے حقوق محفوظ ہوں، ظلم کا خاتمہ ہو، معاشی انصاف قائم ہو اور زندگی کے تمام شعبے وحی الٰہی کی روشنی میں منظم ہوں۔
آج ضرورت اِس امر کی ہے کہ مسلمان اپنی اصل شناخت کو پہچانیں۔ اُمَّتِ مُسلمہ کی نجات نہ مغرب کی اندھی تقلید میں ہے، نہ محض سیاسی نعروں میں، نہ محض مادی ترقی کی دوڑ میں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی کتاب اور رسول اللہ ﷺ کے اسوۂ مبارک سے مضبوط وابستگی میں ہے۔ ہمیں اپنے ایمان کو زندہ کرنا ہوگا، اپنی ذات کی اصلاح سے آغاز کرنا ہوگا، اپنے خاندان اور معاشرے کو اسلامی اقدار پر استوار کرنا ہوگا، دین کے اِس حرکی (dynamic) تصور کی دعوت کو عام کرنا ہوگا اور پھر اجتماعی سطح پر اقامتِ دین کی جدوجہد کو اپنا مقصدِ زندگی بنانا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر اُمَّت دوبارہ عزت، وقار اور دنیا کی امامت و قیادت حاصل کر سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے: ’’اور جو لوگ ہماری راہ میں کوشش کرتے ہیں ہم ضرور اُنہیں اپنے راستے دکھا دیتے ہیں، اور بے شک اللہ نیکوکاروں کے ساتھ ہے۔‘‘ (العنکبوت: 69)
لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ ہر مسلمان اِس دعوت کو سمجھے، اِس کا حصّہ بنے اور اُمَّتِ مُسلمہ کی نشاۃِ ثانیہ کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ قرآن سے تعلق، سنت ِ رسول ﷺ کی پیروی، اقامتِ دین کی جدوجہد — یہی اُمَّتِ مُسلمہ کا ہدف ہے۔ آخری بات یہ کہ ہماری اِس جدوجہد کے نتیجہ میں دین قائم و نافذ ہوتا ہے یا نہیں، صرف اللہ کے اختیار میں ہے۔ لیکن ہماری جدوجہد کا مقصود و مطلوب اللہ کی رضا کا حصول اور اُخروی نجات ہونا چاہیے۔
tanzeemdigitallibrary.com © 2026