(منبرو محراب) اللہ کے ہاں مقبولیت کا حقیقی سرچشمہ :ایمان اور اعمال صالحہ - ابو ابراہیم

14 /

اللہ کے ہاں مقبولیت کا حقیقی سرچشمہ :ایمان اور اعمال صالحہ

(سورۃ مریم کی آیت 96 کی روشنی میں )


مسجد جامع القرآن ، قرآن اکیڈمی ڈیفنس کراچی میں امیرِ تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ حفظ اللہ کے24 جولائی 2026ء کے خطاب جمعہ کی تلخیص

مرتب: ابو ابراہیم

خطبہ ٔمسنونہ اور تلاوتِ آیاتِ قرآنی کے بعد!
آج ہم ان شاء اللہ سورۃ مریم کی آیت 96کا تفصیلی مطالعہ کریں گے ۔ یہ قرآن مجید کا بہت اہم مقام ہے جہاں کچھ بشارتیں بھی ہیں اور کچھ بہت اہم نکات بھی بیان ہوئے ہیں ۔قرآن مجید میں کئی خواتین کا ذکر آیا ہے لیکن کسی کا نام نہیں لیا گیا۔ حضرت مریمi واحد خاتون ہیں جن کا نہ صرف نام بار بار قرآن مجید میں آیا ہے بلکہ آپ کے نام پر قرآن مجید کی ایک پوری سورت بھی موجود ہے ۔ اس کی ایک بنیادی وجہ تو یہ نظر آتی ہے کہ عیسائیت میں جو کئی طرح کے بگاڑ پیدا ہوگئے تھے ، جیسا کہ تثلیث کے نام پر حضرت مریم ؓ کو الوہیت کے درجے پر فائز کرنا یا پھر یہودیوں کی جانب سے حضرت مریم ؓ کی پاک دامنی پر  بہتان کا لگایا جانا وغیرہ ، قرآن میں آپ کا تفصیلی ذکر کرکے اِن گمراہ کُن عقائد ، تصورات اور الزامات کی نفی کی گئی    اور آپؑ کے پاکیزہ اور نیک کردار کی گواہی دی گئی ۔ قرآن پاک جس انداز سے حضرت مریمi کا ذکر کرتاہے ،  اس سے آپؑ کی عظمت کا اظہار ہوتا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے :
{ وَاصْطَفٰىکِ عَلٰی نِسَآئِ الْعٰلَمِیْنَ(42)}(آل عمران) ’’اور تمہیں تمام جہان کی خواتین پر ترجیح دی ہے۔‘‘ 
  ایک خاص وجہ یہ بھی ہے کہ حضرت عیسیٰ؈ کی ولادت بغیر والد کے معجزانہ طور پرہوئی لہٰذا قرآن میں آپ ؑ کا عیسیٰ ابن مریم ؓ کے نام سے بار بار ذکر آیا ہے ۔ ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ حجرت ِ حبشہ کے موقع پر عیسائی بادشاہ نجاشی ؓ کے سامنے سورۃ مریم کی تلاوت کی گئی تو اُن کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور انہوں نے اسلام قبول کرلیا اور مسلمانوں کی تائید کی ۔ لہٰذا یہ اَمرربی تھا کہ حجرت حبشہ  سے قبل سورۃ مریم کا نزول ہوا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : 
{اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَہُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا(96)} ’’یقیناً جو لوگ ایمان لائے اور اُنہوں نے نیک اعمال کیے ‘ عنقریب اُن کے لیے رحمٰن (لوگوں کے دلوں میں) محبّت پیدا کر دے گا۔‘‘(مریم :96)
سورۃ مریم چونکہ مکی سورت ہے اور مکی سورتوں میں زیادہ تر توحید اور آخرت کا بیان آتاہے ، شرک کی نفی کی جاتی ہے جیسا کہ اسی سورت کی آیات 90 اور 91 میں فرمایا : 
{تَکَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْہُ وَتَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ ہَدًّا (90) اَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمٰنِ وَلَدًا(91)} ’’قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑیں‘ زمین شق ہو جائے اور پہاڑ دھماکے کے ساتھ گر پڑیںکہ انہوں نے رحمٰن کے لیے اولاد قرار دی۔‘‘
اسی طرح آیت 95 میں آخرت کا ذکر آیا:{وَکُلُّہُمْ اٰتِیْہِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَرْدًا (95)} ’’اور قیامت کے دن سب کے سب آنے والے ہیں اُس کے پاس اکیلے اکیلے۔‘‘
مشرکین کو آخرت میں سخت عذاب کا سامنا ہوگا ، جبکہ جو اللہ کے محبوب بندے ہیں ، شرک سے بچتے ہیں اور نیک اعمال کرتے ہیں، اُن کے بارے میں زیر مطالعہ آیت میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ عنقریب لوگوں کے دلوں میں اُن کے لیے محبت ڈال دے گا ۔ اس آیت کی تفسیر میں علماء نے چند اہم نکات پیش کیے ہیں جن کا ذکر یہاں مقصود ہے ۔ 
1۔ ایمان پر استقامت 
مکہ مکرمہ میں جب یہ سورت نازل ہوئی، اُس وقت شریعت کے احکام پورے نازل نہیں ہوئے تھے ۔ نماز کا حکم آگیا تھا ، کچھ صدقہ خیرات کی ترغیب موجود تھی، کچھ اخلاقی ہدایات اہل ِایمان کو عطا کی گئیںتھیں لیکن جہاد، زکوٰۃ ، سود کی حرمت سمیت بہت سے نیک اعمال کا حکم ابھی نہیں آیا تھا لہٰذا اُس وقت اصل عمل صالح تھا : ایمان قبول کرنے کے بعد اُس پر ڈٹ جانا۔ یعنی ایمان کا صرف دعویٰ مقصود نہیں تھا بلکہ ایمان لانے کے بعد اُس کا عملی اظہار بھی مطلوب تھا ۔اسی لیے بار بار قرآن پاک میں ایمان اور اعمال صالحہ کا ذکر ساتھ ساتھ آتا ہے ۔ جیسا کہ سورۃ العصر میں ہے : 
{اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ }’’سوائے اُن کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے ۔‘‘
 سورۃ التین میں ہے : {اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ}
’’سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے اور اُنہوںنے نیک اعمال کیے‘‘۔ 
یہ اُس دینی تقاضے کا اظہار ہے کہ صرف زبان سے ایمان کا اقرار کافی نہیں بلکہ عمل سے اُس کا اظہار بھی ہونا ضروری ہے۔ جیسا کہ ہم ایمان مجمل میں پڑھتے ہیں : 
((اٰمَنْتُ بِاللّٰہِ کَمَا ہُوَ بِاَسْمَآئِہٖ وَصِفَاتِہٖ وَقَبِلْتُ جَمِیْعَ اَحْکَامِہٖ اِقْرَارٌ بِاللِّسَانِ وَتَصْدِیْقٌ بِالْقَلْبِ)) ’’میں ایمان لایااللہ پر جیساکہ وہ اپنے ناموں اور اپنی صفتوں کے ساتھ ہے، اور میں نے اُس کے سارے حکموں کو قبول کیا، زبان سے اقرار ہے اور دل سے یقین ہے۔‘‘
بخاری شریف کی ایک روایت کا مفہوم ہے کہ  اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : کوئی بندہ حالت ایمان میں چوری نہیں کرتا، شراب نہیں پیتا، زنا نہیں کرتا۔ معلوم ہوا کہ جب تک اسلام کا دعویٰ صرف زبانی کلامی ہو گا، ایمان زبان کی نوک تک محدود ہوگا تو شراب ، چوری ، زنا اور ہر قسم کے گناہ کا اعتمال رہے گا ۔ جب تک دل میں اللہ کی ذات کا یقین نہ ہو کہ وہ مجھے دیکھ رہا ہے ، جب تک آخرت کا خوف نہ ہو کہ مجھے اپنے اعمال کا حساب دینا ہے ، انسان گناہ سے بچ نہیں سکتا ۔ اس کے برعکس جب یہ  یقین ہو کہ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے ۔ جیسا کہ فرمایا :
{وَہُوَ مَعَکُمْ اَیْنَ مَا کُنْتُمْ ط}(الحدید:4)  ’’اور تم جہاں کہیں بھی ہوتے ہو وہ تمہارے ساتھ ہوتا ہے۔‘‘
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس کوپنج وقتہ نماز کی طرف آتے دیکھو، اُس کے ایمان کی گواہی دو۔‘‘ اس کا دوسرا مطلب یہ ہوا کہ جو نماز کی طرف نہیں آرہا تو اُس کا ایمان کامل نہیں ہے یا عمل اس کے ایمان کا ثبوت پیش نہیں کر رہا ۔ 
2۔ نیک اعمال 
جیسا کہ پہلے ذکر ہوا کہ مکی دور میں شریعت کے تفصیلی احکامات نہیں آئے تھے ، اُس وقت سب سے بڑا اور نیک عمل ایمان پر ثابت قدم رہنا تھا ۔ حضرت بلال ؓ کے سینے پر تپتی دھوپ میں پتھر رکھے گئے، اس کے باوجود ان کی زبان سے احد ، احد کی پکار جاری رہی ۔ حضرت خباب ؓ کو دھکتے انگاروں پر لٹایا گیا ، پیٹھ جل کر سیاہ ہو جاتی ، یہاں تک کہ جلد کے اندر سے چربی پگھلنے سے انگارے بجھ جاتے ، اِس کے باوجود آپؓ ایمان پر ثابت قدم رہے ۔  یہ مکی دور کے اہم اعمال صالحہ تھے ، بعد میں شریعت کے احکامات آگئے جن میں حقوق اللہ بھی شامل تھے ، حقوق العباد بھی شامل تھے ۔ پھر یہ تقاضا بھی آیا کہ اعمال صالحہ کا معاملہ ذاتی نیکی تک محدود نہ رہے بلکہ دوسروں کو دین کی دعوت بھی دینی ہے ، دین کے نفاذ کے لیے جدوجہد بھی کرنی ہے ، اِس جدوجہد میں اپنی جان ، مال ، صلاحیتوں، وسائل  اور وقت کو لگانا ہے ۔ انبیاء کرام ؊ نے یہ سب اعمال کر کے دکھائے ۔ سب سے بڑھ کر امام الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ نے دین کو قائم کرکے دنیا کے سامنے ایک نمونہ پیش کیا ۔ اِس جدوجہد میںطائف اور اُحد میں آپﷺ کا لہو بھی بہا ، آپ ﷺ نے اپنا گھر اور وطن چھوڑا ، ہجرت کی تکالیف برداشت کیں ، اپنے عزیز صحابہ؇ کی جانوں  کے نذرانے پیش کیے ،تب جا کر اللہ کا دین قائم ہوا۔   ختم ِنبوت کے بعد دین کے قیام کی جدوجہد کرنا اُمّت ِمسلمہ کی ذِمّہ داری ہے مگر آج یہ اُمت اس ذمہ داری کو بھول کر چند انفرادی نیکیوں تک محدود ہو چکی ہے ۔ یہ قرآن کا تصورِ اعمال صالح نہیں ہے ۔ یہ محمد مصطفیٰ ﷺکے اعمالِ صالح کا تصور نہیں ہے ۔ جو سچا اُمتی ہے وہ دین کی دعوت دوسروں کو بھی دے گا ، دین کے نفاذ کی جدوجہد میں اپنی جان ، مال، وسائل ، صلاحتیں بھی لگائے گا۔ تب جاکر اعمال صالح کا تصور مکمل ہوگا ۔ 
3۔ دلوں میں محبت پیدا کر دے گا 
زیرِ مطالعہ آیت میں فرمایا : {اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَہُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا(96)} ’’یقیناً جو لوگ ایمان لائے اور اُنہوں نے نیک اعمال کیے ‘ عنقریب اُن کے لیے رحمٰن (لوگوں کے دلوں میں) محبّت پیدا کر دے گا۔‘‘(مریم :96)
مفسرین نے وُدًّاکے کئی مفہوم اور پہلو بیان کیے ہیں ۔ یہاں ہم ان میںسے چند مفاہیم اور پہلوؤں کو سمجھنے کی کوشش کریں گے ۔ ان شاء اللہ !
نمبر1
مفسرین نے لکھا کہ اس کا مفہوم عام محبت سے زیادہ گہرا، لطیف اور پائیدار ہونا ہے۔محبت کے بھی کئی درجات ہوتے ہیں ۔ آج کے دور میں محبت کے نام پر ایک فتنہ بھی برپا ہے کہ نکاح کے مقدس بندھن کے بغیر ہی غیر محرموں کے ساتھ بات چیت ، تعلقات اور اکٹھے رہنا وغیرہ، یہ سب حرکتیں زنا کی ہی شکلیں ہیں اور دین میں حرام ہیں ۔ مفسرین نے لکھا کہ  وُدًّا  محبت کا سب سے گہرا  اور خالص درجہ ہے جس میں ملاوٹ ہو اور نہ ہی لالچ اور خودغرضی ہو بلکہ اخلاص ، ہمدردی اور ایثار کا جذبہ ہو ۔ 
نمبر2:
یہ الفت اور قلبی تعلق کا وہ معاملہ ہے جو اللہ تعالیٰ  اپنے بندوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے پیدا فرماتاہے ۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
{وَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِہِمْ ط لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّـآ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِہِمْ} (الانفال:63) ’’اور اِن (اہل ِایمان)  کے دلوں میں اُس نے الفت پیدا کر دی۔ اگر آپ ؐ زمین کی ساری دولت بھی خرچ کر دیتے تو اِن کے دلوں میں یہ اُلفت پیدا نہیں کر سکتے تھے‘‘
یہ خاص اللہ کا انعام ہے اور آج اُمّت جس سطح پر ہے، اس کا بڑا تقاضا ہے کہ یہ دعائیں اللہ سے مانگی جائیں:
((اللهم ألف بين قلوبنا وأصلح ذات بيننا واهدنا سبل السلام)) ’’اے اللہ! تو ہمارے دلوں میں الفت و محبت پیدا کر دے، اور ہماری حالتوں کو درست فرما دے، اور راہ سلامتی کی جانب ہماری رہنمائی کر دے۔ ‘‘
بندہ لوگوں کے دلوںمیں اپنے لیے احترام اور الفت کا جذبہ پیدا نہیں کر سکتا جب تک کہ اللہ نہ چاہے ۔ پھر یہ صرف ظاہری تعلق نہیں بلکہ ایک قلبی کشش کا نام ہے۔جو صرف اللہ تعالیٰ پیدا کرتاہے ۔ 
نمبر3
مفسرین نے لکھا کہ محبت حُب سے اور حب قلب کا جذبہ ہے لیکن جب یہ اخلاق ،ہمدردی اور عمل میں ڈھل کر ظاہر ہونے لگے تو اسے وُدًّا  کہا جاتا ہے۔ یعنی یہ محبت کے صرف زبانی دعوے نہیں ہوتے بلکہ اپنے مسلمان بھائی کے لیے اخلاص ، نیکی ، ہمدردی اور ایثار کے جذبے کا نام ہے ۔
نمبر4
مفسرین نے لکھا ہے کہ وُدًّا  وہ محبت ہے جو  حالات کے بدلنے سے ختم نہ ہو، جس میں پائیداری اور ثبات ہو ۔ یہ عارضی جذبات، جذباتی لگاؤ یا فائدے کی بنیاد پر قائم ہونے والی محبت ہرگز نہیں ۔جیسا کہ ہمارے معاشرے میں جب تک بندہ عہدے پر ہوتا ہے ، اس کے لیے تحفے تحائف، گلدستے بھی آرہے ہوتے ہیں ، لوگ عزت و احترام بھی بہت کرتے ہیں ، خوشامد بھی ہوتی ہے لیکن جیسے ہی بندہ ریٹائر ہوا تو تُو کون میں کون ؟ پھر پیسہ ہے ، شہرت ہے ، دوسروں کےکام آتا ہے تو بندے کی قدر ہے ، الفت کے دعوے بھی ہیں لیکن جیسے ہی حالات بدلے ، بیمار پڑ گیا تو پلٹ کر پوچھنا بھی نہیں ۔ یہ        
 دنیا پرستوں کا معاملہ ہوتا ہے۔ اگر ایمان دل میں نہ ہو تو پھر یہی باتیں ہوتی ہیں لیکن اگر ایمان دل میں ہوگا تو دنیا سے جانے کے بعد بھی ہاتھ اٹھیں گے اور دل سے خلوص کے ساتھ دعا نکلے گی ۔{رَّبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًا(24)}(بنی اسرائیل) ’’ اے میرے رب ان دونوں پر رحم فرما جیسے کہ انہوں نے مجھے بچپن میں پالا۔‘‘
{رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ}(الحشر:10)’’اے ہمارے ربّ! تُو بخش دے ہمیں بھی اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ایمان میں ہم سے سبقت لے گئے۔‘‘
اُدھر جنت میں جانے والا بھی ، حالانکہ اُس کو جنت کے نظارے کرائے جارہے ہوں گے مگر وہ دنیا والوں کے بارے میں فکر مند ہوگا :{قِیْلَ ادْخُلِ الْجَنَّۃَطقَالَ یٰـلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَ(26)}(یٰسین)’’کہہ دیا گیا کہ تم داخل ہو جائو جنّت میں!اس نے کہا :کاش میری قوم کو معلوم ہو جاتا۔‘‘
ایمان دل میں ہو اور اس کی بنیاد پر محبت ہو تو رشتہ مرنے کے بعد بھی ختم نہیں ہوتا ۔ یہ وہ محبت ، عزت اور قبولیت ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کے دلوں میں  ڈال دیتا ہے۔ اس حوالے سے مختصر 15 نکات مفسرین نے بیان کیے ہیں ۔ 
1:مقبولیت کا حقیقی سرچشمہ 
اللہ کے ہاں مقبولیت کا حقیقی سرچشمہ ایمان اور اعمال صالح ہیں ۔ انسانوں کے دلوں میں سچی اور پائیدار محبت صرف اور صرف ایمان اور اعمال صالح کے ذریعے ہی پیدا ہو سکتی ہے۔ دنیوی تدابیر ، بناوٹی قسم کی باتوں ، مصنوعی ذرائع سے حاصل کی گئی مقبولیت اور محبت پائیدار نہیں ہو سکتی ۔ 
2:مقبولیت اور اللہ کی صفتِ رحمٰن 
اس آیت میں اللہ کا صفاتی نام الرحمٰن آیا جس کا مطلب ہے بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ۔ لوگوں کے دلوں میں کسی انسان کے لیے محبت اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور اُس کے رحم اور فضل کی وجہ سے پیدا ہوگی ۔ انسان کی اپنی محنت اور کوشش سے نہیں ۔ اللہ چاہتا ہے کہ بندوں میں اللہ کی صفت ِرحمن کا عکس نظر آئے۔ مشہور حدیث کے الفاظ ہیں کہ :تم زمین والوں پر رحم کرو ، آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا ۔ یعنی رحمت کی یہ کیفیت ہمارے اندرپیدا ہو تو رحمان بھی دلوں میں الفت پیدا کرے گا ۔ اللہ ہی ہے جو دلوں کو جوڑنے والا، دلوں میں محبت ڈالنے والا ہے۔ 
3:اعمال سے ایمان کا ثبوت 
 زیرِ مطالعہ آیت کی تشریح میں بخاری اور مسلم میںایک مشہور حدیث بھی بیان ہوئی ہے ۔ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا : ’’جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل ؑ سے فرماتا ہے: میں فلاں سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو، تو جبریلdاس سے محبت کرتے ہیں، پھر وہ آسمان میں آواز دے کر کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ فلاں شخص سے محبت کرتا ہے، تم بھی اُس سے محبت کرو، چنانچہ آسمان والے اُس سے محبت کرتے ہیں، پھر اُس کے لیے زمین میں مقبولیت رکھ دی جاتی ہے ‘‘۔البتہ اللہ کی محبت باغیوں، سرکشوں ، نافرمانوں اور معصیت کرنے والوں کے لیے نہیں ۔ بلکہ جیسا کہ زیر مطالعہ آیت میں فرمایا کہ ایمان لانے والوں اور اعمال صالحہ کرنے والوں کے لیے ہے ۔ یہاں دین کا جامع تصور بھی سامنے آتاہے کہ صرف زبان سے ایمان کا دعویٰ کافی نہیں بلکہ اعمال سے اس کا ثبوت بھی پیش کرنا ہے ۔ تب حقیقی محبت اور مقبولیت حاصل ہو سکتی ہے ۔ 
نمبر 4:مصنوعی مقبولیت بمقابلہ ربانی محبت
ایک مصنوعی مقبولیت ہے ،اتنے سبسکرائبر ہیں ، اتنے فالورز ہیں ، اتنے لائکس اور ویوز ہیں وغیرہ ۔پہلے زمانے میں شاعروں اور درباری لکھاریوں کی مٹھی گرم کرکے قصیدے لکھوائے جاتے تھے، آج پوڈکاسٹ کا دور ہے ، اینکرز بٹھائے ہوئے ہیں، جن کی طرف سے لفافہ مل جاتاہے اُن کے گُن گائے جاتے ہیں ۔ اسی طرح ظاہری ٹھاٹ باٹ ہے ، دولت کی بنیاد پر شہرت ہے ، پروٹوکول ہے ، ہٹو بچو کی صدائیں ہیں ۔ لیکن یہ حقیقی مقبولیت نہیں  ہے، کتنے ہی بڑے اداکاروں کو ہم نے دیکھا ہے بڑھاپے میںرو رہے ہوتے ہیں اور دہائیاں دے رہے ہوتے ہیں، مگر کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں ہوتا ۔ اس کے برعکس کئی ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کے مرنے کے بعد بھی دنیا اُن سے محبت کرتی ہے ۔ جیسا کہ اللہ کے رسولوںؑ کا معاملہ ہے ، صحابہ کرام ؓ کا معاملہ ہے ، صدیاں گزرجانے کے بعدبھی ہمارے دل اُن کی محبت میں دھڑکتے ہیں ، احترام سے نام لیتے ہیں ۔ یہ ربانی محبت کا اثر ہے ۔ 
نمبر5: دلوں پر اختیار اللہ کا ہے
جب انسان رحمٰن کا ہو جائے تو رحمٰن مخلوق کے دلوں کو اُس انسان کی طرف موڑ دیتا ہے۔لہٰذا سچی محبت اور حقیقی مقبولیت چاہیے تو رحمٰن کے بندے بن جاؤ ، اس کے لیے سب سے بڑھ کر محنت کرنے والے ہو جاؤ ۔ جیسا کہ قرآن میں تقاضا آتاہے : 
{قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (162)}(الانعام)’’ آپؐ کہیے میری نماز‘ میری قربانی‘ میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔‘‘
 میری زندگی کا مقصد تیرے دین کے سرفرازی
میں اسی لیے مسلماں، میں اسی لیے نمازی
جب انسان رحمٰن کی بندگی اختیار کرلے تو رحمٰن اُس کی محبت لوگوں کے دلوں میں ڈال دے گا ۔ 
نمبر6: دشمنی پر باطنی سچائی کا غلبہ
اہلِ باطل کی تمام تر مخالفت، بغض اور دشمنی کے باوجود مومن کی باطنی پاکیزگی اور عمل کی سچائی بالآخر لوگوں کے دل فتح کر لیتی ہے۔ زیر مطالعہ آیت مکہ میں جب نازل ہورہی تھی تو مشرکین اہلِ ایمان کے دشمن بنے ہوئے تھے ، اسی وجہ سے اہل ایمان کو پہلے حبشہ کی طرف ہجرت کرنا پڑی ، پھر مدینہ کی طرف ہجرت کی ، مشرکین کے مظالم سہے ، حضرت بلالؓ کو لوگوں نے تپتی ریت پر ، سینے پر پتھر رکھے ہوئے دیکھا ، حضرت خبابؓ کو دہکتے انگاروں پر لٹائے ہوئے دیکھا تو لوگوں کے دل نے گواہی دی کہ ان کے پاس حق ہے ،یہ جان دینے کو تیار ہیں مگر محمدﷺ کی بات کو چھوڑنے کو تیار نہیں ۔لوگوں کے دل نرم ہوئے اور پھر وہ مکہ اہلِ ایمان کے ہاتھوں فتح ہوگیا ۔ 
{وَرَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللہِ اَفْوَاجًا(2)} (النصر)’’اور آپؐ دیکھ لیں لوگوں کو داخل ہوتے ہوئے اللہ کے دین میں فوج در فوج۔‘‘
لوگ جو ق درجوق اللہ کے دین میں داخل ہونے لگے ۔  دشمنی پر باطنی سچائی کا غلبہ ہوگیا ۔ اگر ایمان والے حق پر ڈٹے ہوں تو بالآخر اُن کی یہی سچائی لوگوں کے دلوں کو جیت لیتی ہے۔غزہ میں مسلمان خواتین کے ایمان اور استقامت کو دیکھتے ہوئے آسٹریلیا کی 50 خواتین نے اسلام قبول کرلیا ۔ باطل کے مقابلے میں کردار کی گواہی دلوں کو جیت لیتی ہے ۔ 
نمبر7:دعوتِ دین کے لیے سازگار ماحول
لوگوں کے دلوں کا دین کی دعوت دینے والے کی طرف مائل ہو جانا، داعی کی محبت لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو جانا دعوت کے کام کے لیے مفید ہوگا اور یہ دعوت کا کام کرنا صرف مسجد کے خطیب، امام ، معلم ، مبلغ یا مولوی صاحب کا کام نہیں ہے بلکہ محمد مصطفیٰ ﷺ کے ہر اُمتی پر فرض ہے ۔ اگر ہر اُمتی اعمال صالح سے اپنے ایمان کا ثبوت پیش کرے تو اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں میں اس کی محبت ڈال دے گا اور اس طرح دعوت کا کام تیزی سے آگے بڑھے گا ۔ 
نمبر8: نیت اخلاص والی ہو
اخلاص کے بغیر اعمال کی قبولیت ممکن نہیں ۔ جیسا کہ حدیث میں ہے : (( إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ)) ’’اعمال اور نیکیوں کی قبولیت کا دارومدار نیتوں پر ہے۔‘‘
اگر نیت خالص ہو اور بندے میں للہیت ہو تواعمال قبول ہوں گے اور پھر اللہ تعالیٰ مخلوق کے دلوں میں محبت ڈال دے گا۔ہم عوام کے دلوں کو مائل کرنے کے لیے 100 جتن کرتے ہیں ، اگر صرف اللہ کے ساتھ خالص ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں کو ہماری طرف پھیر دے گا ۔ 
نمبر9: ایمان والوں کا آپس کا تعلق 
سورۃ الحجرات کی اِس آیت کا حوالہ اکثر دیا جاتاہے : 
{اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ }(آیت:10) ’’یقیناً تمام اہل ِایمان آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔‘‘
مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ آیت اہل ایمان کے آپس میں گہرے روحانی تعلق ، الفت اور حقیقی بھائی چارے کی ضمانت دیتی ہے ۔ ایمان والے اگر اللہ کے ساتھ مخلص ہوں گے تو اللہ اُن کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے محبت ڈال دے گا ، اِس طرح اُن کا بھائی چارہ مضبوط ہوگا۔آج اُمّت ِمسلمہ کی جو حالت ہے ، اس کی بنیادی وجہ اُمّت کا انتشار ہے اور اس انتشار کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہم اللہ کے ساتھ مخلص نہیں رہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
{وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(139)} ( آل عمران) ’’اور تم ہی سربلند رہو گے اگر تم مؤمن ہوئے۔‘‘ 
مگر آج اُمّت مغلوب ہے ۔ آج اگر ہمارا ایمان ہمیں اُٹھا کر مصلے پر کھڑا نہیں کر رہا تو ہم باطل قوتوں کے خلاف کیسے کھڑے ہوں گے اور جنت میں کیسے چلے جائیں گے۔ اگر اللہ کے ساتھ مخلص ہو جائیں تو اللہ ہمارے دلوں کو جوڑ دے گا ، اُمّت کا انتشار ختم ہو جائے گا اور اُمّت ایک بار پھر غالب ہوگی ۔ 
10: تزکیہ نفس اور شخصیت کی جاذبیت
عالم عرب کےایک مفسر نے بہت قیمتی نکتہ بیان  کیا ہے کہ نیک اعمال انسان کی اندرونی شخصیت کو خوبصورت بناتے ہیں، اس کی روح کونکھارتے ہیں ، شخصیت کی نورانیت اور جاذبیت قدرتی طور پر دوسروں کو متاثر کرتی ہے۔ جیسے کبھی کبھی ظاہر کا لباس کچھ لوگوں کو متاثر کرتا ہے، ایمان والے کا ایمان اور اس کے نیک اعمال کا نور دوسروں کو متاثر کرتاہے ۔ایمان اور نیک اعمال کی بدولت اللہ تعالیٰ لوگوں  کے دلوں کو انسان کی طرف مائل کر دے گا ۔ 
11: دنیا میں آخرت کی جزا کا ایک عکس
اصل بدلے کا دن توآخرت میں ہے لیکن دنیا میں بھی اللہ کبھی کچھ دکھاتا ہے۔ جس طرح کئی قوموں کو دنیا میں سزا ملی ، بدترین عذابوں کا شکارہوئیں جیسا کہ قومِ نوح ، قومِ عاد وثمود وغیرہ ۔ نافرمان قوموں کے لیے اصل عذاب تو آخرت میں ہے لیکن اُن کو دنیا میں بھی سزا ملی ، اسی طرح اللہ کے نیک بندوں کے لیے اصل اجر تو آخر ت میں ہے لیکن اللہ دنیا میں بھی ان کو بعض اوقات مقام دیتاہے ۔ دنیا میں نیک بندوں کو ملنے والی مقبولیت ، عزت اور محبت آخرت میں ملنے والے عظیم اجر کا ایک پیش خیمہ ہے۔
12: حسد اور بغض کا شرعی علاج
حسد اور بغض کی وجہ سے قابیل نے ہابیلؓ کو قتل کیا تھا اور آج تک اس وجہ سے قتل بھی ہوتے ہیں ،   لوٹ مار بھی ہوتی ہے ، کئی طرح کے فساد جنم لیتے ہیں ۔ اس کا علاج یہ ہے کہ لوگوں میں عزت پانے کے لیے کسی سے حسد یا مقابلے کی کوشش نہ کریںبلکہ اللہ کے ساتھ مخلص ہو جائیں ، نیک اعمال سے اپنے ایمان کا ثبوت پیش کریں تو اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں میں ہماری محبت اور عزت پیدا کردے گا ۔ حسد اور بغض سے بھی انسان بچ جائے گا ۔ 
13: راہِ حق میں صبر کا انعام 
مکہ کے 13 سالہ دور میں اہلِ ایمان کو بہت زیادہ مشقتوں ، مصائب اور آلام سے گزرنا پڑا ۔ یہی وجہ ہے کہ مکی صورتوں میں اہلِ ایمان کے لیے صبر کی تلقین اکثر نظر آتی ہے ۔ 
{فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا(5)} (الانشراح) ’’تو یقیناً مشکل ہی کے ساتھ آسانی ہے۔‘‘
 {وَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ} (المزمل:10) ’’اور جو کچھ یہ لوگ کہہ رہے ہیں اس پر صبر کیجیے۔‘‘
{فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا(5)}(المعارج)
 ’’تو آپؐ بڑی خوبصورتی سے صبر کیجیے۔‘‘
 { وَمَا صَبْرُکَ اِلَّا بِاللہِ}(النحل:127)  اور آپ کا صبر تو اللہ ہی کے سہارے پر ہے۔‘‘
سبق کیا ہے ؟ راہِ حق میں ابتدا میں بہت زیادہ مشکلات آتی ہیں ۔ بہت سے صبر کے مراحل سے گزرنا پڑتاہے ، اگر بندہ ثابت قدمی کا مظاہرہ کرے جو کہ ایمان اور عمل صالح کا تقاضا ہےتو بالآخر اللہ تعالیٰ محبت اور عزت ایمان والوں کو عطا فرماتا ہے۔
14:انبیاءؑ ،صحابہؓ اور اولیاء ؒکی دائمی یادگار
ہم ہر نماز میں اللہ کے نبیوںؑ پر درود بھیجتے ہیں : 
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ .
اکثر انبیاء آل ابراہیم ؑ میں سے تھے ۔صدیاں گزر جانے کے بعد بھی ہم ان سب کا نام عزت اور احترام سے لیتے ہیں ۔ کروڑوں دلوں میں ان کی محبت اور احترام ہے ۔ یہ زیر مطالعہ آیت کی عملی تفسیر ہے جو ہمارے سامنے آرہی ہے ۔ 
15:خوف اور تنہائی کاخاتمہ
جو شخص اللہ کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط کر لیتا ہے، اللہ تعالیٰ اُسے مخلوق میں تنہا نہیں چھوڑتا بلکہ اُس کے ارد گرد مخلص اور محبت کرنے والے بندے پیدا فرما دیتا ہے۔ اللہ نے حضورﷺ کو صحابہؓ عطا فرمائے جنہوں نے آپ ﷺ کے مشن کے لیے اپنی جانیں تک نچھاور کردیں اور آپ ﷺ کے مشن کو پوری دنیا میں پھیلایا ۔  یہ بہت ہی عمدہ نکتہ ہے کہ لوگ راہِ حق پر ہیں اور چاہتے ہیں کہ انہیں لوگوں کی ہمدردی اور سپورٹ حاصل ہو تو وہ زیادہ سے زیادہ اللہ کے ساتھ تعلق مضبوط کرلیں ، اللہ تعالیٰ انہیں ہمدرد ، مددگار اور وفادار رفقاء عطافرمائے گا ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی یقین عطا فرمائے اور عمل صالح کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!