(خصوصی مہم) اُمّت ِمُسلمہ کی حالت ِزار اور اہل ِدین کی ذمہ داری - مولانا محمد عارف

14 /

اُمّت ِمُسلمہ کی حالت ِزار اور اہل ِدین کی ذمہ داری

مولانا محمد عارف

آج عالم اسلام جس المناک صورت حال سے دوچار ہے اُس نے ہر دردمند مسلمان کو بے چین و مضطرب کر رکھا ہے اور بظاہر اس دلدل سے نکلنے کی کوئی صورت بھی دکھائی نہیں دے رہی۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سنگینوں کے حصار میں نہتے عوام ظلم و تشدد کے ایک اور دور سے گزر رہے ہیں، روہنگیا مسلمان اپنے وطن اراکان (میانمار / برما) کی شہریت سے محروم ہو کر پڑوسی ممالک میں دربدر خاک چھاننے پر مجبور ہیں،فلسطینی مسلمان گزشتہ 78 برس سے اسرائیلی جارحیت کا سامنا کر رہے ہیںاور غزہ و مقبوضہ فلسطین پر نا جائز صہیونی ریاست اسرائیل کی جارجیت اور مسلمانانِ غزہ و فلسطین کی نسل کُشی کی موجودہ لہر کو شروع ہوئے1000 دن سے زائد گزر چکے ہیںلیکن مسلمانانِ غزہ و فلسطین اپنے وطن کی آزادی اور خودمختاری کی منزل سے کوسوں دور نظر آتے ہیں،ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں نے مسلمان ممالک اور دنیا کے امن کو دائو پر لگایا ہے۔سعودی عرب اور یمن میں آپس کی خانہ جنگی اور بیرونی مداخلت نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے،سنکیانگ کے مسلمانوں کو اپنے اردگرد کسی کی طرف امید کی نظر سے دیکھنے کی سہولت حاصل نہیں ہے،جبکہ عراق، افغانستان اور لیبیا وغیرہ میں استعماری سازشیں عروج پر ہیں۔
مگر عالم اسلام کی قیادتوں کو اس طرف دیکھنے کی فرصت نہیں ہے اور وہ اپنی ترجیحات اور مفادات کی دنیا میں گم ہو کر رہ گئی ہیں۔ امریکہ دنیا بھر کے مسلم ممالک پر کسی نہ کسی شکل میں حملہ آور ہے۔ حالت یہ ہے کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی کا اہم ترین ستون اسرائیل کی حفاظت ہے چاہے وہ خود بربادی کا شکار کیوں نہ ہو جائے۔
جناب نبی اکرمﷺ کا یہ ارشاد گرامی آج ہمارے سامنے ایک زندہ حقیقت کی صورت میں جلوہ گر ہے کہ دنیا کی قومیں تم مسلمانوں پر حملہ آور ہونے کی ایک دوسرے کو ایسے دعوت دیں گی جیسے تیار دسترخوان پر کوئی میزبان اپنے مہمان کو کھانے کی دعوت دیتا ہے۔ آج ہم مسلمان دنیا کی قوموں کے سامنے ’’تر لقمہ‘‘ کی صورت میں بکھرے پڑے ہیں اور استعماری عزائم رکھنے والی ہر قوم حسب استطاعت اپنا حصّہ وصول کرنے میں مصروف ہے۔ یقیناً یہ اس نوآبادیاتی دور کا منطقی نتیجہ ہے جو مسلم ممالک و اقوام نے گزشتہ دو صدیوں کے دوران مختلف آقاؤں کی غلامی میں گزارا ہے، اور اس دوران سب سے زیادہ زور مسلمانوں کو ایمان و عقیدہ سے محروم کرنے، ان کی تہذیبی و اخلاقی اقدار کو ختم کرنے، اور ان پر دین و ثقافت کے ذوق و احساس تک سے محروم قیادتیں مسلط کرنے پر رہا ہے، چنانچہ آج اسی نوعیت کی قیادتیں عالم اسلام کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں اور ہم آزاد کہلانے کے باوجود ’’ریموٹ کنٹرول غلامی‘‘ کے حصار میں جکڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان جیسے اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا آج بد ترین سیاسی، معاشی اور معاشرتی بحران کا شکار ہے۔ نظام جمہوری ہو، مارشل لائی ہو یا ہائبرڈ، ملکی مفاد اور دین کے قیام ونفاذ کی طرف پیش قدمی صفر کے برابر ہے۔
ہماری سیاسی صورت حال یہ ہے کہ57حکومتیں اور فوجیں رکھنے کے باوجود ہم اپنے فیصلے خود کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، ہمارے معاشی وسائل ہمارے کنٹرول میں نہیں ہیں، اور ہماری تہذیب و ثقافت مسلسل یلغار کی زد میں ہے جس کے باعث ہم اپنی نئی نسل کے عقیدہ و ایمان کے حوالہ سے بھی عدم تحفظ کا شکار ہو چکے ہیں، بلکہ فکری اور تہذیبی طور پر نئی نسل ہمارے ہاتھوں سے نکلتی دکھائی دے رہی ہے۔ اس وقت سب سے زیادہ مشکل صورت حال سے اہل ِدین دوچار ہیں جن کے لیے خدمات سرانجام دینے کا کام کٹھن سے کٹھن تر ہوتا جا رہا ہے کہ دین کی بات کرنا، کسی دینی تقاضے کی طرف حکمرانوں کو توجہ دلانا، اور دینی اقدار و روایات کے تحفظ کی خاطر آواز اٹھانا بتدریج ’’جرم‘‘ سمجھا جانے لگا ہے۔ اور معاملہ جناب رسول اکرم ﷺ کے اس ارشاد گرامی کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے کہ دین کی بات کرنا ’’كَالْقَابِضِ عَلَى الْجَمْرِ‘‘ جلتے انگارے کو ہاتھ میں لینے کے مترادف ہو جائے گا۔ مگر ان حالات میں سب سے زیادہ ذمہ داری بھی اہل ِدین ہی کی بنتی ہے کہ مایوسی کی دلدل میں دھنستی چلے جانے والی امت کا عالم اسباب میں آخری سہارا بہرحال وہی ہیں اور جو بھی کرنا ہے انہوں نے ہی کرنا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے پاس اکابر کی جدوجہد کا تسلسل موجود ہے، ان کی روایات کا اثاثہ محفوظ ہے اور قرآن و سنت کے ساتھ ساتھ فقہی احکام و قوانین کا ذخیرہ ہمارے سامنے ہے، ہمیں نہ صرف خود کو اس سنگین صورت حال میں اُمّت کی راہنمائی اور قیادت کے لیے مستعد رکھنا ہے بلکہ نئی نسل کو بھی اس کے لیے تیار کرنا ہے، اور اپنے علمی، دینی اور روحانی ماضی کے ساتھ وابستگی کو مستحکم رکھتے ہوئے ’’رجوع الی اللہ‘‘ کا بطورِ خاص اہتمام کرنا ہے کیونکہ اصل قوت وہی ہے اور فیصلے وہیں ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ اہل ِدین کے تمام طبقوں کو اس نازک وقت میں اپنے اپنے دینی فرائض صحیح طور پر سرانجام دیتے رہنے کی توفیق سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین!