سدا بادشاہی صرف اللہ کی!
ابو موسیٰ
یورپ میں صنعتی انقلاب اور سیاسی کُشادگی ایک ہی وقت میں آئی۔ تاجِ برطانیہ کی وسعت کے بارے میں یہ کہا جاتا تھا کہ اُس میں سورج غروب نہیں ہوتا۔ برصغیرہند میں انگریز کی بلاشرکت غیرے حکومت تھی۔ لہٰذا برطانیہ میں حالات کا اثر بالواسطہ برصغیر پر بھی ہوتا تھا۔ 1857ء میں برصغیر میں سیاسی طوفان نے عسکری صورت اختیار کر لی۔ انگریز کے خلاف مقامی لوگوں نے بغاوت کر دی ظاہری طور پر تو اِس بغاوت میں بلاامتیاز رنگ و نسل اور مذہب سب ہندوستانی شامل تھے لیکن اِس کے کرتا دھرتا اور اصل رہنما مسلمان ہی تھے ہندوؤں کی شرکت بڑی بادل نحواستہ تھی اور اِس کی وجہ بڑی ظاہر و باہر تھی انگریزوں نے برصغیر کا اقتدار مسلمان سے چھینا تھا جبکہ انگریزوں کے برصغیر میں آنے سے ہندوؤں کا صرف آقا ہی تبدیل ہوا تھا پہلے وہ مسلمانوں کے غلام تھے اور اب وہ انگریزوں کے غلام ہوگئے۔ لیکن مسلمانوں کا تخت اوندھا ہوگیا لہٰذا وہ بدترین متاثرین تھے۔ اِس جنگ کو مسلمان جنگ آزادی کہتے ہیں جبکہ انگریز غدر اور ریاست کے خلاف بغاوت کہتے تھے۔
بہرحال آزادی کی اِس جنگ کے خاتمے اور ناکامی کے بعد انگریز اِس نتیجہ پر پہنچا اور بڑا درست طور پر پہنچا کہ برصغیر پر حکومت کرنے کے لیے مسلمانوں کو سبق سکھانے بلکہ صحیح معنوں میں کرش کرنے کی ضرورت ہے وگرنہ وہ کسی بھی وقت اُس کے قبضہ اور تسلط کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں ، کیونکہ مسلمان اپنے مذہبی جذبہ کو بروئے کار لا کر جسے وہ جہاد کہتے ہیں دشمن کے خلاف بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جان پر بھی کھیل جاتے ہیں۔ لہٰذا ان تمام عوامل کو counterکرنا ہوگا۔ مسلمانوں کے خلاف فیصلہ کن اقدام کرنے کے لیے اُنہیں divide & rule کے ’’سنہری اصول‘‘ پر عمل کرنا ہوگا۔ لہٰذا ایک طرف انگریز اور ہندوؤں نے زیادہ سے زیادہ مسلمانوں سے تنگی اور نارواسلوک کا سلسلہ شروع کر دیا۔ دوسری طرف غلام احمد قادیانی کے ذریعے جو شعر و شاعری بھی کرتا تھا، اُس نے مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنا اور جہاد کے خلاف پروپیگنڈا کرنا شروع کر دیا۔ اُس کا ایک شعر:
اب چھوڑ دو جہاد کا اَے دوستو خیالدِین کے لیے حرام ہے اب جنگ اور قتالبرصغیر کے مسلمانوں کی بدقسمتی غلام احمد قادیانی ایک بہت بڑا عالم دین تھا گمراہ ہونے سے پہلے اُس نے کئی مذہبی مناظروں میں بڑے بڑے پادریوں کو شکست فاش دی لیکن ہوسِ دنیا اور شہرت کی بے لگام خواہش نے اُسے دین ِاسلام کا دشمن بنا دیا۔ بہرحال انگریز کے ایجنڈے کو تکمیل دیتے ہوئے اُس نے برصغیر کے بہت سے پڑھے لکھے لوگوں کو گمراہ کر دیا۔ گویا انگریز مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے میں کسی حد تک کامیاب ہوگیا۔ ہندو اگرچہ پہلے ہی انگریز سے مراعات حاصل کرکے اُس کے حلیف بن چکے تھے لیکن دنیا خاص طور پر یورپ میں جمہوریت کے غلغلے نے پانسہ پلٹ دیا۔ ہندو نے یہ راز پالیا کہ اگر ہندوستان میں جمہوریت آتی ہے تو وہ برصغیر میں حکمران بن سکتے ہیں جو طاقت کے بل بوتے پر یعنی شمشیر زنی سے اُن کے لیے صدیوں سے ممکن نہیں تھا۔ یہاں ضمنی طور پر عرض کر دیا جائے کہ ہندوستان ہندوؤں کا ہے کا دعویٰ کرنے والے ہندو کسی دور میں بھی پورے ہندوستان پر حکومت قائم نہ کر سکے تھے۔ مغلوں نے سب سے پہلے ہندوستان کو متحد کر کے مرکزی حکومت قائم کی۔ بعدازاں انگریزوں نے ہندوستان سمیت سارے برصغیر پر حکومت کی۔ اب ہندو کو تخت و تاج کے خواب آنا شروع ہوگئے اور اُس نے اپنے خوابوں کی تعبیر پا لینے کے لیے انگریزوں کو برصغیر سے نکالنے کی جدوجہد شروع کر دی۔ اُدھر عالمی جنگوں نے انگریز کو کمزور کر دیا تھا۔
انگریز قوم سے بہت سے اختلافات کے باوجود یہ اعتراف لازم ہے کہ وہ ایک دوربین قوم ہے حالات کو سمجھ لینا، اپنی قوت اور حیثیت کا صحیح اندازہ کرنا، مستقبل پر گہری نظر رکھنا اور کوئی بڑا قدم اُٹھانے سے پہلے ناپ تول کر لینا اور اُس کے منطقی انجام کا ادراک کرنا اُن کی بنیادی صفات ہیں جو اُن کے لیے بڑی سود مند رہیں۔ لیکن جس طرح ایک انسان عقلِ کُل نہیں ہوتا لغرزشوں اور خطاؤں سے پاک نہیں ہوتا، ہوسِ اقتدار میں خود فریبی کا شکار ہو جاتا ہے یہی معاملہ معاشروں اور اقوام کا ہوتا ہے۔ لہٰذا ہر کمالے رازوالے کا اصول کارفرما ہوتا ہے جس سے یہ سب یعنی فرد، معاشرہ اور قوم اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مار کر مر جاتے ہیں یا زخمی ہو جاتے ہیں۔
برطانیہ بھی سورج غروب نہ ہونے والی سلطنت سے پھر ایک چھوٹے جزیرہ کی حیثیت سے واپس آگیا۔ سدا بادشاہی اللہ کی اور صرف اللہ کی۔ بہرحال انگریز نے صورتِ حال کا صحیح اندازہ لگاتے ہوئے برصغیر کی آزادی کے راستے میں اب کم از کم کوئی عسکری سطح کی رکاوٹ ہرگز نہ ڈالی۔ 1885ء میں ہندوؤں نے کانگرس کے نام کی سیاسی جماعت بنالی۔ برصغیر میں اُس وقت مہاتما گاندھی کانگرس کا باقاعدہ ممبر نہ ہونے کے باوجود ہندوؤں کا رہنما اور رہبر تھا۔ اُسی کی لیڈر شپ میں کانگرس نے ’’ہندوستان چھوڑو‘‘ کی تحریک شروع کر دی جو برصغیر کے کونے کونے میں پھیل گئی۔ انگریز کو برصغیر سے نکالنے کے بعد اُس وقت ہندو خاص طور پر اُن کے رہنماؤں کو چندرگپت موریہ سے بھی بڑی سلطنت کے تخت پر براجمان ہونا صاف نظر آ رہا تھا۔ وہ خوشی سے پاگل ہوئے جا رہے تھے۔ پھر یہ کہ مسلمان عوام 1857ء کی شکست اور انگریز کی زیادیتوں سے مایوسی کا شکار تھے اور مسلمانوں کے اکثر لیڈر انگریز کی مداح سرائی اور چاپلوسی سے عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے تھے اور آزادی کے نام سے ناواقف ہو چکے تھے۔ انگریزوں کی بخشی ہوئی زمینوں کی وجہ سے راجے مہاراجے اور نواب بنے بیٹھے تھے۔ بہرحال نواب وقار الملک جیسے بھی کچھ نواب اور راجے تھے جو انگریز سے تعاون تو کر رہے تھے لیکن اِس تعاون نے غلامی کی صورت اختیار نہیں کی تھی۔ 1906ء میں ڈھاکہ میں نواب وقار الملک کی رہائش گاہ پر مسلمانوں نے بھی ایک سیاسی جماعت مسلم لیگ ہند کے نام سے بنانے کا فیصلہ کیا۔ سچی بات یہ ہے کہ اُس وقت تک مسلم لیگ کے قیام کا مقصد سیاسی گپ شپ کے لیے ایک پلیٹ فارم قائم کرنے کے سوا کچھ نہ تھا۔ لیکن کانگرس بڑی سنجیدگی سے انگریزوں کو ہندوستان سے نکالنے کی کوشش کر رہی تھی ہندوؤں کے مظاہرے بھی جاری تھے اور گاندھی کے وقتاً فوقتاً مرن برت بھی جاری تھے اور انگریز سے ہندوستان چھوڑنے کا مطالبہ بڑی شدت سے ہو رہا تھا اُس وقت تک مسلمانوں کا رویہ کوئی ایسا جارہانہ نہ تھا لیکن یہ بھی ایک حقیقت تھی کہ مسلمان جانتا تھا کہ اُسے ثانوی درجہ کا شہری بنا دیا گیا ہے۔ محمد علی جناح جنہوں نے اپنا سیاسی کیریئر کا آغاز کانگرس سے کیا تھا وہ ایک عرصہ تک کوشش کرتے رہے کہ کانگرس اور مسلمانوں یا مسلم لیگ کے درمیان پُل کا کردار ادا کریں اور انگریز کو ہندوستان سے رخصت کریں۔اُنہوں نے ایک وکیل ہوتے ہوئے سیاست میں بھی اپنی ایک حیثیت قائم کر لی تھی اُن کے سیاسی قد کاٹھ کو پورے ہندوستان میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا تھا۔ کچھ عرصہ کانگرس میں رہنے کے بعد ہندوؤں کے ناقابل فہم رویہ سے مایوس ہو کر وہ مسلم لیگ میں آگئے اور اپنی توانائیوں کا مرکز مسلم لیگ کو بنا لیا۔ لیکن مسلم لیگ کے بارے میں اُنہیں معلوم ہوا کہ یہ نوابوں کی جماعت ہے۔ عوامی سطح میں اِس کی کاوشیں کہیں نظر نہیں آتی اور اِس کے بڑے انگریز حکومت سے تعلقات بہتر بنانے میں مصروف رہتے ہیں۔ لہٰذا مسلم لیگ سے بھی مایوس ہو کر وہ انگریز کو ہندوستان سے نکالنے کی بجائے خود ہندوستان سے نکل کر انگریزوں کے دیس انگلستان پہنچ گئے اور کم از کم ظاہری طور پر ہندوستان کے معاملات سے لاتعلق ہوگئے۔
البتہ عقابی نگاہیں رکھنے والے علامہ محمد اقبالm جو صحیح معنوں میں چمن کے دیدہ ور تھے وہ سمجھ گئے تھے کہ مسلمانان ِہند کے بہترین اور موزوں ترین لیڈر محمدعلی جناح ہی ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا اُنہوں نے محمد علی جناح سے خط و کتابت کی اور اُنہیں ہندوستان واپس آکر مسلمانوں کی قیادت کرنے کا مشورہ دیا۔ اِسی دوران 1931ء میں انگلستان میں دوسری گول میز کانفرنس ہوئی جس میں علامہ اقبال کو بھی شرکت کی دعوت ملی۔ علامہ نے اِس موقعہ کو غنیمت جانا اور کانفرنس میں شرکت کے دوران محمد علی جناح سے پے درپے ملاقاتیں کیں اور اُنہیں ہندوستان آکر مسلمانوں کی قیادت سنبھالنے کی پُرزور ترغیب دی۔ محمد علی جناح اِس حوالے سے متذبذب تھے، تب اُنہوں نے ایک تاریخی جملہ کہا ’’ہندو ناقابلِ اصلاح ہیں اور مسلمانوں کے رہنماؤں سے جو بات میں صبح کو کرتا تھا وہ رات تک انگریز حکومت کو پہنچ جاتی تھی۔‘‘ بہرحال محمد علی جناح کو خوش قسمتی سے کچھ کارآمد مسلمان رہنماؤں کا ساتھ میسر آگیا۔ اِس پر ہندوؤں کی جماعت کانگرس کے کان بھی کھڑے ہوگئے اُنہوں نے سمجھ لیا کہ ہندوستان کی آزادی کے حوالے سے معاملات کچھ اور موڑ مڑ رہے ہیں۔ ابھی مسلم لیگ کی طرف سے کوئی سرکاری سطح پر الگ ملک کا ذکر نہیں ہو رہا تھا۔ صرف ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ ہوانے والی زیادتیاں اور اُن کے بنیادی حقوق کا ہی بآواز بلند ذکر ہو رہا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا بطور الگ ریاست ذکر تاریخ میں بہت متنازع ہے۔ علامہ اقبال جو 1938ء میں اِس دارِفانی سے کوچ کرگئے تھے، اُنہوں نے الٰہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ہندوستان کے شمال مغرب میں ایک اسلامی ریاست تقدیر مبرہم ہے، لیکن اُنہوں نے پاکستان کا نام نہیں لیا تھا۔ البتہ مسلم لیگ اب ایک ایسی تحریک بن چکی تھی جسے انگریز ہندوستان میں کسی فیصلہ کرنے کے حوالے سے ignore نہیں کر سکتا تھا۔ کانگرسی رہنما خاص طور پر مہاتما گاندھی یہ صورتِ حال دیکھ کر کہ معاملات کس طرف جا رہے ہیں، بُری طرح تڑپ رہے تھے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ 23مارچ1940ء کا مسلم لیگ کا مشہورِ زمانہ منٹو پارک میں اجلاس جس میں مسلمانانِ ہند کے لیے الگ ریاست قائم کرنے کا ذکر تو ہے لیکن اِس اجلاس میں بھی پاکستان کا باقاعدہ نام نہ لیا گیا۔ علامہ اقبال کے ایک فلسفی، ملّی شاعر، مسلمانانِ ہند کا ہی نہیں عالمِ اسلام کا سیاسی اور مذہبی رہبر و رہنما ہونے کے حوالے سے ہرگز دورائے نہیں ہیں لیکن یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ ہندوستان سے الگ ہونے والی مذہبی ریاست کا نام پاکستان ہوگا، اِس کا سہرا چودھری رحمت علی مرحوم کے سر پر ہے۔ لہٰذا اگرچہ مسلم لیگ نے سرکاری سطح پر پاکستان کا نام ابھی استعمال کرنا شروع نہیں کیا تھا لیکن چودھری رحمت علی نے اِس حوالے سے جو عوامی سطح پر کام کیا تھا اور اُن کی تحریریں عوام نے پڑھی اور سنی تھیں جس سے پاکستان کا نام عوامی سطح پر سامنے آچکا تھا۔
23 مارچ کے منٹو پارک لاہور کے جلسہ کی ہندو پریس نے اپنے روایتی تعصب کی بنیاد پر یوں رپورٹنگ کی کہ اِسے باقاعدہ پاکستان کا بحیثیت ریاست مطالبہ قرار دے دیا۔ یہ درحقیقت عیار کوّے کا گُوبر میں گرِنا تھا۔ جو کام کرنے اور نام لینے میں مسلم لیگ ابھی کچھ ہچکچا رہی تھی، وہ دشمن نے کر دیا۔ مسلم لیگ نے بھی اب اِسے سرکاری طور پر تسلیم کر لیا کہ اُن کا پاکستان کے نام سے ایک الگ ریاست کا مطالبہ ہے۔ پھر گاندھی اور محمد علی جناح جو اب قائداعظم بن چکے تھے اُن کے درمیان مذاکرات کا ایک طویل سلسلہ چلا اور اِس میں بہت نشیب و فراز آئے جن کا ذکر طوالت کا باعث بنے گا۔ ان میں کیبنٹ مشن کا قائداعظم کا تسلیم کرنا اور بعدازاں پنڈت نہرو کے ایک جملہ سے اُن کی بدنیتی سامنے آنے پر قائداعظم کا کیبنٹ مشن کو تسلیم کرنے سے پیچھے ہٹ جانا ہے۔ بہرحال اِن مذاکرات میں کانگرس اور گاندھی روایتی عیاری اور مکاری کا مظاہرہ کر رہے تھے جبکہ قائداعظم کیstraight forward nessبڑی واضح ہوکر سامنے آرہی تھی۔ اِس حوالے سے سمندر کو کُوزے میں بند کرنے کے لیے ایک ہی مثال کفایت کرے گی۔ ایک اجلاس کے بعد قائداعظم نے مہاتما گاندھی سے ایک سیدھا سوال کرکے جواب کا مطالبہ کیا، لیکن گاندھی جو خود کو ایک روحانی رہنما کے طور پر بھی پیش کرتے تھے۔ وہ فوری طور پر کوئی واضح جواب دینا نہیں چاہتے تھے لہٰذا فرماتے ہیں:
"My inner light does not allow
meto answer."
اِس پر قائداعظم نے فوراً کہا:"
"To hell with your inner light."
قصۂ کوتاہ گاندھی نے اپنا آخری فیصلہ یہ کہہ کر سنا دیا کہ پاکستان میری لاش پر ہی بنے گا۔ لیکن تحریک پاکستان کو اب روکنا انگریز حکومت کے بس کی بات نہ تھی۔ پھر ایک شاعر کے اِس مصرعہ نے مسلمانانِ ہند میں آگ لگا دی ’’پاکستان کا مطلب کیا: لاالہ الا اللہ‘‘۔ حقیقت یہ ہے کہ اب پاکستان کا مطالبہ بالفاظِ دیگر اسلام کا مطالبہ بن چکا تھا اور حیرت کی بات یہ ہے کہ ہندوستان کے دوردراز کے علاقے جن کا پاکستان کا حصّہ بننے کا سوال ہی نہیں بنتا تھا وہاں کے مسلمانوں نے بھی قیامِ پاکستان کے لیے مال و جان کی قربانی کا اظہار کیا۔ 3جون1947ء کو کانگرس کے ایک سرکاری وفد نے مسلم لیگ کے ساتھ مذاکرات میں پاکستان کے وجود کو تسلیم کرنے کا اظہار کر دیا لیکن پنڈت نہرو کی سربراہی میں اِس وفد کو یہ مسئلہ پڑ گیا کہ اِس فیصلہ کی باپو یعنی مہاتما گاندھی کو اطلاع کون کرے۔ وفد کا کوئی ممبر یہ ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں تھا کیونکہ اِس فیصلے نے تو اُس خواب کو چکنا چور کر دیا تھا کہ ہندو تاریخ میں پہلی مرتبہ سارے ہندوستان پر راج کریں گے۔ اُنہیں اپنی ساری جدوجہد مٹی میں ملتی ہوئی محسوس ہوئی۔ بہرحال اُنہوں نے وقتی طور پر یہ کڑوا گھونٹ بھرنا منظور کر لیا۔ البتہ ساتھ اندر کی خواہش بھی سامنے آگئی کہ پاکستان اپنا الگ وجود چند ماہ سے زیادہ قائم نہیں رکھ سکے گا یہی وجہ ہے کہ وہ آج تک پاکستان کو دلی طور قبول نہیں کر سکے۔
اُس وقت کے حالات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ مسلمانانِ ہند کے لیے کسی طرح بھی ایک سود مند پلان نہ تھا۔ اصل میں قائداعظم پر بے تحاشہ دباؤ تھا اور تاثر یہ دیا گیا کہ یہ قبول کر لو وگرنہ کچھ ہاتھ نہ لگے گا۔ شنید یہ ہے کہ قائداعظم کو کہا گیا تھا کہ ہم بصورتِ دیگر معاملات کو جُوں کا توں چھوڑ کر چلے جائیں گے پھر مسلمانوں کو خود ہندو اکثریت سے نمٹنا ہوگا۔ معلوم ہوتا ہے قائداعظم نے فیصلہ کیا کہ سارا جا رہا ہے تو تھوڑے پر قناعت کرلی جائے اور اُنہوں نے بادلِ نحواستہ کیبنٹ مشن پلان قبول کر لیا لیکن آسمانوں پر کچھ اور فیصلے ہوچکے تھے۔ پنڈت نہرو جیسا گھاگ سیاست دان یہ کہنے کی غلطی کر بیٹھا کہ 10 سال کے بعد کون کسی کو الگ ہونے دے گا۔ قائداعظم نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے حریف کی نیت میں فتور ہے لہٰذا ہم اِس کیبنٹ مشن کو رد کرتے ہیں۔ اُدھر مسلم لیگ کی تحریک پاکستان روز بروز زور پکڑتی جا رہی تھی۔ تقسیم ہند کے حوالے سے اِس تاریخی حقیقت کو بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ جہاں مسلمانانِ ہند نے مال و جان کی بازی لگا دی تھی وہاں نئی سپر پاور امریکہ کی خواہش تھی کہ سوویت یونین اور بھارت کے درمیان ایک مذہبی ریاست ہونا چاہیے جو سوویت یونین کے کمیونزم کا سیکولر بھارت سے سرحدی ملاپ نہ ہونے دے۔اِس لیے کہ یہ امریکہ کے مفادات کے خلاف تھا اورسرمایہ دارانہ نظام پر چوٹ پڑ سکتی تھی۔
لہٰذا اِن اسباب اور وجوہات کی بنا پر ہندوستان کو متحد رکھنے اور پاکستان کے قیام کو روکنے کی تمام کوششیں ناکام ہوگئیں۔ یاد رہے کہ پاکستان کے قیام کے راستے میں صرف ہندوؤں کی جماعت کانگرس ہی رکاوٹ نہیں تھی بہت سے مسلم شخصیات اور مسلمانوں کی جماعتیں بھی پاکستان کا بننا مسلمانوں کے لیے ضرر رساں قرار دے رہی تھیں۔ یہاں راقم، اِن سب کے بارے میں یہ کہنا کہ خدانحواستہ وہ مسلمانوں کے غدار تھے یا بہی خواہ نہیں تھے مکمل طور پر غلط اور انتہائی لغو بات سمجھتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اپنی اپنی سوچ کا زاویہ ہے اُن کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ ہندوستان متحد رہے گا تو مسلمانوں کی قوت بھی متحد رہے گی اور پاکستان بننے کی صورت میں چونکہ تمام مسلمان پاکستان کی طرف ہجرت نہیں کر سکیں گے لہٰذا مسلمانوں کی قوت تقسیم ہو جائے گی۔ گویا وہ اصلاً مسلمانوں کے خیرخواہ ہی تھے صرف زاویۂ نگاہ کا فرق تھا۔ اِس نظریہ کی حامی شخصیات میں ابوالکلام آزاد ، مولانا مودودی اور حسین احمد مدنیm بھی تھے اور جماعتوں میں جمعیت علماء اسلام ہند اور جماعت اسلامی جیسی بڑی جماعتیں بھی تھیں۔ ان شخصیات اور جماعتوں کے بارے میں یہ سوچنا کہ وہ مسلمانوں کے بہی خواہ نہ تھے انتہائی غلط اور گمراہ کن سوچ ہے۔ حسین احمد مدنی ؒکا اندازِ فکر خاص طور پر قابلِ ذکر ہے آپ نے ایک روز اپنے مریدین کو بتایا کہ اُنہیں کشف ہوا ہے کہ پاکستان کا بننا اللہ تعالیٰ کے ہاں طے ہو چکا ہے اِس پر مریدوں نے کہا کہ حضرت پھر ہم کیوں پاکستان بننے کی مخالفت کر رہے ہیں؟ اِس پر حضرت نے ایسی بات کہی جو سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہے آپ نے فرمایا: ’’ہم نے اپنا کام زمینی حقائق کے مطابق کرنا ہے جبکہ فیصلے مشیت ایزدی کے ہی مطابق ہوں گے‘‘۔ لہٰذا آپ یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ بھارت میں جو مسلمانوں کے ساتھ تقسیم کے بعد سلوک ہوا اُس نے ثابت کیا کہ ہند کی تقسیم اور پاکستان کا قیام ہی بہتر فیصلہ تھا لیکن موجودہ حالات اور اُن سے نتائج کے حوالے سے بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ اُن مسلمان شخصیات اور اسلامی جماعتوں کے خدشات کوئی ایسے غلط نہ تھے یہاں یہ بھی نوٹ کریں کہ مولانا ابوالکلام آزاد نے یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان میں اسلام نہ آسکے گا اور بھارت میں مسلمان امن نہ پا سکیں گے۔ اُن کا صاف اشارہ یہ تھا کہ جو لوگ پاکستان بنانے میں آگے آگے ہیں اُن کا اسلام کے ساتھ کتنا عملی تعلق ہے اور وہ پاکستان میں اسلام کے نفاذ کے لیے کیا کر سکیں گے جس کا نتیجہ بقول مولانا یہ نکلے گا کہ پاکستان کمزور ہو جائے گا بلکہ انتہائی کمزور ہوگا اور بھارت میں مسلمانوں کے تحفظ کے لیے کچھ نہ کر سکے گا۔ لہٰذا اُن کے بقول دونوں صورتوں میں مسلمان نقصان میں رہیں گے۔ اہلِ پاکستان کو اُن سے اختلاف کرنے کا پورا پورا حق ہے لیکن زمینی حقائق اور اپنی موجودہ صورتِ حال پر بھی ناقدانہ نگاہ ڈالنے کی بھی ضرورت ہے۔
قصۂ مختصر انگریز سے آزادی حاصل کرنے کے حوالے سے ہندوؤں کی جماعت کانگرس نے بھی کوئی کسر نہ چھوڑی اور مسلمانوں کی جماعت نے بھی ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ فرق صرف یہ تھا کہ ہندو ہندوستان کو متحد رکھنا چاہتے تھے اور مسلمانِ ہند کو تقسیم کرکے پاکستان حاصل کرنا چاہتے تھے مسلمان کامیاب ہوئے اور پاکستان معرضِ وجود میں آگیا۔ آج بھارت اور پاکستان کے حالات کا دیانت داری اور غیر جانبداری سے جائزہ لیا جائے تو کیا انگریز کو دیس نکالا دے کر ہندو بھارت میں اور مسلمان پاکستان میں ایسی زندگی گزار رہے ہیں کہ کہا جائے کہ تقسیم اور آزادی عوامی سطح پر بڑی ثمر آور ہوئی ہے لوگ خوشی سے نہال ہیں اور ترقی کے زینے طے کر رہے ہیں۔ یاد رہے بات اکثریت کی ہوتی ہے تو اکثریت کا جواب واضح نفی میں ہے ایسا کیوں ہوا؟ تاریخ اِس کا واضح جواب دیتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی قوم اپنے بنیادی نظریہ سے ہٹ جائے تو وہ اوّل تو کامیاب ہی نہیں ہوگی اور اگر کوئی بہتری ہوگی تو وہ جزوی اور عارضی ہوگی اور جلد قوم اندھیروں میں ٹھوکر کھانے لگے گی۔ سوویت یونین اپنے نظریہ کمیونزم سے دور ہوا تو شکست و ریخت کا شکار ہوگیا۔ تقسیم ہند کے وقت مسلم لیگ نے ’’پاکستان کا مطلب کیا: لا الٰہ الا اللہ‘‘ کا نعرہ لگایا تھا یا اُس سے متاثر ہوئے تھے۔ قائداعظم کی بات آن دی ریکارڈ ہیں کہ جب اُن سے پوچھا گیا کہ پاکستان کا آئین کیا ہوگا تو اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کا آئین تو چودہ سو سال پہلے تشکیل پاگیا تھا۔ یہ اعتراف نہ کرنا بدترین ہٹ دھرمی ہوگی کہ تحریک پاکستان کو اسلام کا انجکشن لگا تو وہ کامیاب ہوئی اور صاف بات ہے شروع شروع میں اِس کے لیے کوشش بھی ہوئی۔ 1949ء میں قراردادِ مقاصد کو منظور کرنا آخر چہ معنی دارد۔ 1951ء میں اسلام کے عملی نفاذ کے حوالے سے 31 علماء کے 22 نکات نے تو میدان صاف کر دیا تھا کوئی رکاوٹ نہ رہی تھی لیکن لیاقت علی کی شہادت جو ایک طے شدہ منصوبہ کے تحت ہوئی تھی، اُس کے بعد بیک گیئر لگ گیا۔ پاکستان اور مسلمانانِ پاکستان پستی کی گہرائیوں میں ڈوبتے چلے گئے۔ نظریۂ پاکستان عملی طور پر دفن ہوتا چلا گیا اور ہم تسلیم کریں یا نہ کریں ہم سیکولرازم کی لپیٹ میں آتے چلے گئے۔ اسلام جو مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے درمیان سیمنٹ کا کام دے رہا تھا بیچ میں سے نکل گیا۔ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا، وہ پاکستان جس نے اپنا پہلا بجٹ غیر ملکی قرضہ کے بغیر بنایا تھا۔ آج قرض کے پہاڑوں تلے دبا ہوا ہے۔
نظریہ ٔپاکستان سے لاتعلقی ایک ایسی تباہ کن اور دل سوز سانحہ ہے کہ آج یہ سمجھنا مشکل نہیں ہےکہ ہمارا وجود ہے مگر نہیںہے۔اسلام پاکستان کی بنیاد اور جمہوریت ذریعہ تھی، آج نہ اسلام ہے نہ جمہوریت۔ پاکستان کی داخلی اور خارجی پالیسیاں ہمارے دوست نما دشمن بناتے ہیں۔ بجٹ IMF بنا کر دیتا ہے، ہم چوں چراں نہیں کر سکتے۔ محتاجی ہی محتاجی ہے کہ ہم سر اٹھا کر چل نہیں سکتے۔ اِس تھوڑے کو بہت سمجھیں، ماؤف ذہن اور خون خون ہوا دل اِس سے زیادہ کہہ نہیں سکتا یا کہنا نہیں چاہتا۔
کاش ہم نظریۂ پاکستان یعنی اسلام سے روگردانی نہ کرتے تو آج یہ دیس صحیح معنوں میں پاکستان ہوتا۔ بھارت کا معاملہ تھوڑا سا مختلف ہے بھارتی لیڈر شپ نے کسی نظام کا اعلانیہ وعدہ تو نہیں کیا تھا لیکن وہ سیکولر نظام کے علاوہ کوئی تصور نہیں رکھتے تھے۔ مودی سرکار سے پہلے بھارت خواہی نحواہی سیکولر بنیادوں پر کام کرتا رہا۔ خاص طور منموہن سنگھ کا وزیراعظم بننا، اُن کے سیکولر ہونے کا ثبوت تھا۔ اُن کے لیے بہت مفید رہا اور اُن کی اکانومی دن دگنی رات چوگنی ترقی کرتی رہی۔ لیکن مودی کے ہندوازم نے بھارت کی بنیادوں پر بے دریغ کلہاڑا چلا دیا۔ گویا بات کچھ اِس طرح ہوگئی کہ اسلامی نعروں کے باوجود پاکستان اسلام سے دور ہوتا چلا گیا اور سیکولرازم کا نعرہ لگانے والا بھارت ایک ہندو مذہبی ریاست کی شکل اختیار کرنے لگاصاف معلوم ہو رہا ہے کہ سیکولرازم سے دوری بھارت کو تباہ و برباد کر دے گی اور بھارت کے مسائل اتنے سنگین ہوتے جا رہے ہیں کہ اُن کا شاید کوئی حل ہی نہ نکل سکے اور بھارت ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے اِس وقت بھارت کے بہت سے ڈویژن اور تحصیلیں ایسی ہیں جہاں حکومتی رٹ نام کی کوئی چیز نہیں۔
راقم انتہائی دیانت داری اور کسی تعصب کے بغیر یہ کہنا چاہتاہے کہ پاکستان اب بھی اگرعملی طور پر اسلام کی طرف اپنا رخ کرلے تو بہت جلد بہتری ہو سکتی ہے۔ لیکن مودی نے سیکولرازم کا راستہ چھوڑ کر بھارت کو ایسے گھمبیر اور لاینحل مسائل میں پھنسا دیا ہے کہ بھارت پاکستان سے کہیں زیادہ گھمبیر مسائل میں پھنس چکا ہے۔ بہرحال ہماری پاکستان کے عوام اور حکمرانوں کے لیے دعا ہے کہ وہ ترک کردہ صراط مستقیم پر واپس آجائیں اور پاکستان کو صحیح معنوں میں اسلام کا قلعہ بنا دیں۔ آمین یا رب العالمین!
tanzeemdigitallibrary.com © 2026