اپنے آپ اور اہل و عیال کو جہنم کی آگ سے بچاؤ!
مرکزی شعبہ تعلیم و تربیت تنظیم اسلامی
بحیثیت ِ مسلمان ہمارا اصل نصب العین یہ ہے کہ ہم اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کی رضا حاصل کریں، ہمیں میدانِ حشر کی سختیوں سے بچا لیا جائے، جہنم سے چھٹکارا حاصل ہو جائے، اورہمیں اللہ تعالیٰ جنت الفردوس میں داخل فرمادے۔
اِس کے لیے ضروری ہے کہ ہمیں اپنی ذِمّہ داریوں کا بخوبی علم ہو، تاکہ ہم اِن ذِمّہ داریوں کو ادا کر کے رضائے الٰہی کے امیدوار بن جائیں۔ اِنہی ذِمّہ داریوں کی ادائیگی کے لیے ہم تنظیم ِ اسلامی میں شامل ہوئے ہیں۔
تنظیم ِ اسلامی کے رفیق ہونے کے ناطے، جب ہمیں اپنی ذِمّہ داریوں کا احساس ہوتا ہے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہم جس معاشرے کا حصّہ ہیں، اس کی اکثریت کا تصورِ دین نہ صرف محدود ہے بلکہ مسخ شدہ بھی ہے۔ نماز، روزہ اور چند دیگر انفرادی اعمال کو ہی اصل دین سمجھا جا رہا ہے۔اِس صورتِ حال میں ہمارے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے تو ہم اپنی اصلاح پر کمربستہ ہو جائیں۔ ہمارے دین کے مطلوبہ اوصاف پورے شعور اور گہرائی کے ساتھ ہمارے اندر پیدا ہو جائیں اور ہماری زندگی کا ایک مستقل حصّہ بن جائیں۔اگر دینی فرائض اور ان کے تقاضے خود ہم پر ہی پوری طرح واضح نہ ہوئے، اور ہماری ہی اصلاح نہ ہوئی، تو ہم نہ آخرت میں اپنی کامیابی یقینی بنا سکتے ہیں، اور نہ ہی اپنےاہل و عیال کی، جن سے ہم محبت کرتے ہیں اور جن پر جان نچھاور کرتے ہیں۔
سوچیے! کیا ہم ان کو جہنم کے حوالے ہوتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں؟
انسان دوسروں کی اصلاح بھی اُسی وقت بہتر طور پر کر سکتا ہے جب وہ خود بھی نیکی کا نمونہ ہو۔
اللہ تعالیٰ سورۃالتحریم کی آیت 6 میں فرماتا ہے:
{یٰٓــاَیـُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَکُمْ وَاَھْلِیْکُمْ نَارًاوَّقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ عَلَیْھَا مَلٰٓئِکَۃٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللہَ مَآ اَمَرَھُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ(6)} ’’اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اُس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں، اس پر ایسے فرشتے مقرر ہیں جو نہایت سخت گیر اور طاقتور ہیں، وہ اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم انہیں دیا جاتا ہے، وہی کرتے ہیں۔‘‘
اِس آیت کی تشریح میں بانی ٔ تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسرار احمدؒ فرماتے ہیں:’’اس آیت میں اہلِ ایمان کو اُن کے اہل و عیال کے بارے میں خبردار کیا جا رہا ہے کہ بحیثیت ِشوہر اپنی بیویوں اور بحیثیت ِ باپ اپنی اولاد کو دین کے راستے پر ڈالنا تمہاری ذِمّہ داری ہے۔ یہ مت سمجھو کہ اُن کے حوالے سے تمہاری ذِمّہ داری صرف دنیوی زندگی فراہم کرنے کی حد تک ہے، بلکہ ایک مومن کی حیثیت سے اپنے اہل و عیال کے حوالے سے تمہارا پہلا فرض یہ ہے کہ تم اُنہیں جہنم کی آگ سے بچانے کی فکر کرو۔ اس کے لیے ہر وہ طریقہ اختیار کرنے کی کوشش کرو جس سے اُن کے قلوب و اذہان میں دین کی سمجھ بوجھ، اللہ کا تقویٰ اور آخرت کی فکر پیدا ہو جائے، تاکہ تمہارے ساتھ ساتھ وہ بھی جہنم کی آگ سے بچ جائیں۔
جہنم پر بڑے تند خو، بہت سخت دل فرشتے مامور ہیں۔ وہ فرشتے مجرموں کو جہنم میں جلتا دیکھ کر اُن پر رحم نہیں کھائیں گے اور نہ ہی وہ اُن کے نالہ و شیون سے متاثر ہوں گے۔ تو کیا ہم ناز و نعم میں پلے ہوئے اپنے لاڈلوں کو جہنم کا ایندھن بننے کے لیے ان سخت دل فرشتوں کے سپرد کرنا چاہتے ہیں؟ بہرحال، ہم میں سے ہر ایک کو اس زاویے سے اپنی ترجیحات کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم اپنے اہل و عیال کو جنت کی طرف لے کر جا رہے ہیں یا جہنم کا راستہ دکھا رہے ہیں۔ اپنے بہترین وسائل خرچ کر کے اپنی اولاد کو ہم جو تعلیم دلوا رہے ہیں، کیا وہ اُن کو دین کی طرف راغب کرنے والی ہے یا ان کے دلوں میں دین سے بغاوت کے بیج بونے والی ہے؟ اگر تو ہم اپنے اہل و عیال کو اچھا مسلمان بنانے کی کوشش نہیں کر رہے اور اُن کے لیے ایسی تعلیم و تربیت کا اہتمام نہیں کر رہے جو انہیں دین کی طرف راغب کرنے اور فکر ِ آخرت سے آشنا کرنے کا باعث بنے، تو ہمیں جان لینا چاہیے کہ ہم محبت کے نام پر اُن سے عداوت کر رہے ہیں۔‘‘(بیان القرآن جلد ہفتم ص 289)
اگر ہم خود دین کے تقاضے اچھی طرح سمجھ چکے ہیں، دین کا فلسفہ اور دین کا نظام ہم پر اچھی طرح واضح ہو چکا ہے، اور قرآنِ مجید کے ذریعے کسی درجے میں ہم شعوری ایمان بھی حاصل کر چکے ہیں، تو ہم جس بھی درجے میں ہوں گے، چین سے نہ بیٹھ سکیں گے۔ اپنے والدین، بہن بھائی، ازواج اور اولاد سے ہماری محبت کا تقاضا یہی ہوگا کہ ہم اُنہیں جہنم کی آگ سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کریں ۔
تنظیم ِ اسلامی کا رفیق ہونے کے ناطے ہمارا نصب العین ہی یہی ہے کہ ہمیں اُخروی نجات اور رضائے الٰہی حاصل ہو جائے۔ اس کا طریقۂ کار یہی ہے کہ اس دنیا میں رہتے ہوئے ہم خود اپنی بھی اصلاح کریں، اور اِس کے ساتھ ساتھ درجہ بدرجہ اپنے اہل و عیال، دوست احباب اور رشتہ داروں کو بھی دین پر چلنے کی دعوت دیں، اور ان کی اصلاح بھی ہمارے مقصد ِ زندگی کا حصّہ بن جائے۔ والدین اگر خود نماز پابندی سے پڑھتے ہوں، تفکر اور تدبر کے ساتھ قرآنِ مجید کا مطالعہ کرتے ہوں، سچائی اور تقویٰ کے راستے پر چلنے کی جدوجہد کر رہے ہوں، خواہشات نفسانی سے اپنے آپ کو روکتے ہوں، غصہ کی حالت میں اپنے آپ پر قابوپانے والے ہوں۔ تو لازماً اولاد پر بھی اِن باتوں کا اثر ہوگا۔ عملی نمونہ زبانی نصیحت سے کہیں زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔اسلام میں خاندان کو بنیادی اکائی کی حیثیت حاصل ہے۔ ایک صالح خاندان پورے معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بنتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’ تم میں سے ہر شخص نگہبان (ذمہ دار) ہے، اور تم میں سے ہر شخص سے اُس کی رعیت (یعنی جن کی ذِمّہ داری اُس کے سپرد ہے) کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ ‘‘(متفق علیہ)
مطلب یہ ہے کہ ہم نہ صرف اپنے بارے میں بلکہ اپنے گھر والوں کے بارے میں بھی اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کے حضور جواب دہ ہیں کہ ہم نے سیدھے راستے کی طرف اُن کی رہنمائی کی تھی یا نہیں، ہم نے اُن کے سامنے ایک عملی نمونہ پیش کیا تھا یا نہیں۔بطور رفیق ِ تنظیم ِ اسلامی یہ بات بھی ہمارے پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ اپنے اہلِ خانہ کا تعلق اللہ تعالیٰ سے اور قرآن سے جوڑا جائے، انہیں حدیث اور سنت کی عملی تعلیم دی جائے، انہیں عبادات، معاملات اور بنیادی اخلاقیات کا نہ صرف واضح شعور دیا جائے بلکہ یہ تمام معاملات اُن کی عملی زندگی کا ایک حصّہ بن جائیں۔
اسی طرح ضروری ہے کہ بچپن ہی سے اُنہیں نماز کی عادت ڈالنی چاہیے۔ فرمانِ نبوی ﷺ:
’’اپنی اولاد کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو، اور دس سال کی عمر میں نماز نہ پڑھنے پر تنبیہ کرو۔‘‘ (ابو داؤد)
قرآن اور نماز کے ساتھ ساتھ بچوں کو شرم و حیا، سچائی و ایمانداری، حلال و حرام کی تمیز، بزرگوں اور والدین کا ادب وغیرہ جیسی باتوں کی طرف بھی توجہ دلائیں۔جب بچے جوانی کی عمر کو پہنچ جائیں تو اب اُن کو دین کے اجتماعی فرائض، مثلاً دعوت و تبلیغ، امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور اقامت ِ دین کے تصورات بھی سمجھائیں۔ہمارے اسلاف اپنی اولاد کی دینی تربیت کا خصوصی اہتمام فرماتے تھے۔ وہ اُنہیں دنیا کی آسائشوں سے بے رغبتی کی تعلیم دیتے۔ انہیں اپنی اولاد کی دنیا سے زیادہ آخرت کی کامیابی کی فکر ہوتی تھی۔حضرت عمر بن عبد العزیز ؒ اور امام احمد بن حنبل ؒ اپنی اولاد کی تربیت کا خاص اہتمام فرماتے اور اُن کو رات کے وقت عبادت کے لیے بیدار کرتے۔ انہیں نیکی کی ترغیب دیتے اور برائیوں سے منع کرتے تھے۔موجودہ دور میں والدین کو بہت سے نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ شر سے آلودہ معاشرہ، بے حیا اشتہاری مہمات اور بل بورڈز، سوشل میڈیا، موبائل اور انٹرنیٹ پر بے حیائی اور فحاشی، اسکول، کالج اور یونیورسٹیوں کا ماحول، برے دوست اور بری سوسائٹی ایسے مسائل ہیں جن کا نہ چاہتے ہوئے بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔
دوسری طرف نہ گھروں میں دینی ماحول ہے، نہ ہی درس گاہوں میں۔ مساجد میں دینی تعلیم کی طرف کم اور فرقہ پرستی کی طرف زیادہ توجہ ہے۔ اِن حالات میں گھر میں دینی ماحول بنانا پہلے سے بھی کہیں زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔لہٰذا اِس زہریلے ماحول میں والدین کی ذِمّہ داری اور زیادہ بڑھ گئی ہے کہ وہ نہ صرف اپنی اولاد کی گھر میں دینی تربیت کی طرف توجہ دیں بلکہ اپنی اولاد کے دوستوں، اُن کی مصروفیات اور ان کی آن لائن سرگرمیوں پر بھی گہری نظر رکھیں اور اُن کی صحیح رہنمائی کریں۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا فرمائے کہ ہم اپنی بھی اصلاح کریں اور اپنے گھر والوں کی بھی اصلاح کریں۔ اللہ رب العزت صحیح معنوں میں ہمیں نبی اکرم ﷺ کے اُسوۂ مبارک پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!