…اٹھتے ہیں بار بار
عامرہ احسان
دو ہفتے امریکہ، ایران جنگ لڑتے، ہانپتے ہوئے اب سفارت کاری کا وقفہ لینے کو رکے ہیں۔ خبریں تو گرما گرم امریکی میڈیا کی طرف سے لگی تھیں کہ اسلحہ کم پڑ گیا ہے۔ گویا لڑتے لڑتے ہوگئی گم، ایک کی چونچ اور ایک کی دم صورت حال بن گئی؟ مگر ٹرمپ نے اسے جھٹلا کر یکسر غلط قرار دیتے ہوئے امریکی اسلحے کی فراوانی کے گن گائے۔ سرکاری طور پر یہ صرف معلومات کی ترسیل میں خلل کا نتیجہ گردانا گیا اور کہا اب سفارت کاری چلے گی۔ پاکستان اور دیگر ثالث، صورت حال کی گرد جھاڑیں گے، پسینہ پونچھیں گے اور تازہ ہوا کے لیے پنکھا جھلیں گے حسب ِسابق۔ اس دوران امریکہ میں معروف ری پبلکن سینٹر لنڈ سے گراہم، جو ٹرمپ کے قریب ترین ساتھی، اسرائیل کے زبردست حمایتی اور 30 سال سے کانگریس کا حصہ تھے، اچانک شہ رگ پھٹنے سے انتقال کر گئے۔ ان کے جنازے کے لیے ملول ومغموم نیتن یا ہو بھی شرکت کریں گے۔ یہ اسرائیل کے لیے ایک بد شگونی ہے۔ (یہودی توہم پرست ہوتے ہیں) پہلے ہی نیو یارک کا میئر ممدانی نیتن یاہو کی جان کا لاگو ہے۔ اس نے بارہا نیتن یا ہو کی گرفتاری کی دھمکی دی ہے۔ اگرچہ نیو یارک شہر (جہاں دنیا بھر میں یہودیوں کی دوسری سب سے بڑی آبادی موجود ہے)گرفتاری کا قانونی اختیار نہیں رکھتا۔ نیتن یاہو نے ممدانی کو نفرت انگیزی کا مرتکب قرار دیا۔ تاہم اسے فکر ہے کہ اب اسرائیل کو پہلے کی سی سیاسی حمایت حاصل نہیں۔ امریکہ میں یہودیوں کے لیے زمین تنگ ہو رہی ہے۔ یہودی وہاں خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔
اب اسے ذرا گریٹر اسرائیل جنگ سے پلٹ کر توجہ دینے کا موقع ملا ہے، تو…بدلا ہوا زمانہ تھا! نیویارک میں سینہ تانے ممدانی للکار رہا تھا۔ لنڈ سے گراہم جیسے گرم جوش حمایتی کی موت بڑا دھچکا تھا۔ 21 جولائی تک 18 امریکی فوجی مر چکے تھے۔ 624زخمی تھے۔ ہیگستھ کے مطابق ایران جنگ پر 37.5 ارب ڈالر لگے ہیں۔ امریکی مرنے والوں کی تعداد پر اعداد و شمار میں الجھاؤ ڈالا جارہا ہے۔ یہ کہہ کر کہ مثلاً اردن میں 2 امریکی فوجی ’اسلامک سٹیٹ‘ سے مقابلے میں مرے۔ اب نئی اصطلاح ایران جنگ کی بجائے ’غیر ملکی آپریشنز ‘بنادی گئی۔ کیونکہ امریکیوں کی بڑی تعداد میں یہ غیر مقبول جنگ ہے۔
ممدانی کی دھمکیوں پر ٹرمپ نے یا ہو کو اطمینان دلایا کہ وہ امریکہ میں کسی صورت گرفتار نہ ہو گا۔ (وہ تسلی رکھے، اسے عذاب کے فرشتے ایک ہی دفعہ گرفتار کریں گے کہ وہ اسی کا مستحق،سزاوار ہے!) عجب اتفاق ہے کہ جیسے جنگ کا اہم مرکزی کردار سیاسی سفارتی اعتبار سے لنڈسے گراہم، شہ رگ پھٹنے سے اچانک چلتا پھرتا غیر متوقع طور پر مر گیا۔ عین اسی طرح افغانستان کے خلاف نام نہاد دہشت گردی کی جنگ میں، امریکہ کا جنگجو سیاستدان رچرڈ ہالبروک بھی شہ رگ پھٹنے سے ہی مرا تھا۔ (13 دسمبر 2010 ء) اوباما اسے امریکی خارجہ پالیسی کی دیو ہیکل شخصیت قرار دیتا تھا۔ جو پیچیدہ جنگوں کو سفارتی، مذاکراتی عمل سے حل کرنے کا ماہر تھا۔ بوسنیا جنگ کو اسی نے ختم کروایا تھا۔ ہالبروک کو صدر او با ما خصوصی طور پر اپنا نمائندہ بنا کر لایا تھا افغانستان پاکستان کے لیے۔ مگر افغان جنگ کا تنائو ایسا تھا کہ جب وہ امریکی سٹیٹ سیکرٹری ہیلری کلنٹن سے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں ملاقات کر رہا تھا تو اچانک گر پڑا۔ اُسے فوراً ہسپتال لے جایا گیا۔ 21 گھنٹے کا آپریشن ہوا۔ جب وہ آپریشن کے لیے لے جایاگیا تو اس نے وہاں بے ہوشی سے قبل موجودطبّی عملے بمع پاکستانی سرجن کو کہا کہ ’’ ہمیں افغانستان میں جنگ کو ختم کرنا ہو گا۔‘‘ آخری سانس تک افغان جنگ اس کے اعصاب پر سوار تھی۔ اب لنڈ سے گراہم کی موت اپنے اندر بہت سے اسباق اور سامانِ عبرت لیے ہے۔ امریکہ اور اسرائیل دونوں کے لیے۔ افغان جنگ تو دنیا بھر کی ایٹمی اور (49) جناتی فوجیں لیے آن اتری تھی نہتوں کی سرزمین پر۔ 9 سال میں ہالبروک کی شہ رگ پھٹ گئی اور انہیں مذاکرات واحد حل نظر آیا! اسی لیے اوباما نے اسے تعینات کیا تھا۔ اب غزہ کے شیروں نے اپنا سب کچھ لٹا دیا۔ انہیں بظاہر محصور اور زیر و زبر کرکے بھی نہ امریکہ کامیاب ہو پایا نہ پوری دنیا کا اسلحہ برباد کر کے اسرائیل کے ہاتھ کچھ آیا۔
اب باری ہے ایران جنگ کے نام پر مشرقِ وسطیٰ تباہ کرنے کی۔ صورت حال سامنے ہے۔ عرب ممالک نے امریکہ کو اڈے دینے میں ساری دولت لٹا دی۔ لیکن اب جو کچھ ہوا، ہو رہا ہے وہ ان ممالک کی معیشت کی تباہی کے سوا کچھ نہیں۔ امریکہ نے سعودیوں کے ساتھ سول جوہری ڈیل کی۔ لیکن امریکی ہر ڈیل میں پھندا ہوتا ہے۔ فوراً ہی ٹرمپ نے شگوفہ چھوڑا کہ یہ معاہدہ تب مکمل ہو گا جب سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرلے گا اور ابرا ہیمی معاہدے پر دستخط کر دے گا۔ پچھلے دورِ صدارت میں ٹرمپ امارات، بحرین اور مراکش سے اسرائیل تسلیم کروا چکا ہے۔ یہ دباؤ دیگر مسلم ممالک کے علاوہ پاکستان پر بھی رکھا گیا۔ غزہ پر مجرمانہ، ظالمانہ نسل کشی کی بے رحم یلغار کے باوجود یہ تقاضا اخلاقی اعتبار سے لائق صد ہزار مذمت وملامت ہے۔ اسرائیل کو اس تناظر میں تسلیم کرنے کا دباؤ امریکہ کو ان تمام جرائم میں برابر کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے جو لائق نفرین ہے۔ ایٹمی پاکستان اور حرمین شریفین کے محافظین کسی طور اُمّت سے یہ غداری کبھی نہیں کر سکتے۔ خواہ کتنا ہی دباؤ، ترغیب و ترہیب کیوں نہ ہو۔ قیامِ پاکستان سے آج تک فلسطین بارے ہمارے طے شدہ مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آسکی۔ بار بار واضح کیا جا چکا کہ سعودی عرب اور پاکستان فلسطینی ریاست کے قیام، 1967ء کی سرحدات کے مطابق، اور القدس کو اُس کا دارالحکومت قرار دینے سے کم پر راضی نہیں۔
اور اب تو یہ مطالبہ مسلم سرحدات عبور کر کے دنیا کے سبھی ممالک اور اُن کے عوام کا مطالبہ بن چکا ہے۔ قیدیوں پر مظالم، اب مغربی کنارے پر غزہ جیسے حالات پیدا کرنا اور جنگ بندی و دیگر بین الاقوامی قوتوں کی شراکت سے کیے گئے تمام معاہدے توڑ ڈالنا ہرگز قابل قبول نہیں۔ ؎
گئے دن کہ تنہا تھے ہم انجمن میں
یہاں اب مرے راز داں اور بھی ہیں
ادھر ہرمز اورحوثیوں کے قبضے میں باب المندب!یہ غنیمت ہے کہ حوثیوں نے واضح کر دیا کہ وہ باب المندب پر صرف سعودیوں پر بندش عائد کر رہے ہیں۔ یہ وگرنہ خطے میں شدید تناؤ کا باعث بنے گا۔ تاہم پاکستان میں تو لگتا ہے کہ دونوں بحری ناکوں نے ہمارے ٹماٹر، پیاز، دالیں، دودھ، دہی سب روک رکھا ہے۔ بجلی کابل جھٹکے مارتا ہے۔ افغان سرحدوں پر کشیدگی نے ہمارے تازہ پھل، کھیرے، سبزیاں روک رکھی ہیں۔ پانچ دریاؤں سے لبریز ملک، قطبین کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ گلیشیر رکھنے والا پاکستان! زراعت سے تہی ہو کر صرف رئیل اسٹیٹ ماسٹر ٹرمپ کے زیر سایہ رقبوں کی خرید و فروخت اور بلند و بالا عمارات کا معمار اور ڈیلر ہو کر رہ گیا ہے۔ ہم ثالثیوں میں مصروف ہیں۔ ثالثوں کو بھنڈی توری ، آٹے دا ل کا بھائو کیا معلوم!
ملک میں عوام اپنی اصل شناخت ایمان و اسلام بھلائے صوبہ در صوبہ منقسم ہونے کے شوق میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ آزاد کشمیر کے انتخابات کا پہلا مرحلہ ہنگاموں اور شدید کشیدگی کی زد میں رہا۔صورت حال نہایت سنگین ہے۔ اندریں حالات کشمیر کی حساسیت کی بنا پرپاکستان اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔اسی دوران حیدر آباد میں ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی نے فرمایا کہ ان کی پارٹی اپنے علیحدہ صوبے کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹی، جو سندھ میں سے وضع کیا جائے گا۔ دوسرے لیڈر مصطفیٰ کمال نے کراچی میںکہا کہ ملک بھر میں نئے انتظامی یونٹس کا نظام بنانے، نئے صوبے بنانے کی ضرورت ہے تاکہ بہتر سروسز فراہم کی جاسکیں۔ یہ بھی خالد مقبول نے فرمایا کہ نیا صوبہ زمین کے تبادلے اور مادری زبان کی بنیاد پر بنایا جائے گا۔دونوں حضرات وفاقی وزرا بھی ہیں۔ ملکی معیشت ڈوبے چلی جا رہی ہے۔ روزگار، دانہ پانی ملے گا تو زبان بولنے کے لائق ہوگی ورنہ کہاں کی مادری زبان۔ یہاں تو ساری زبانیں انگریزی کی بھینٹ چڑھ چکیں! حکمران ان کے مسئلے انگریزی میں سلجھانے میں ہمہ تن مصروف ہیں۔ فی الحال تو چپ ہی بھلی۔
اس وقت دنیا کے کئی خطے جنگوں کی زد میں ہیں، بشمول مشرقِ وسطیٰ، روس،یوکرین، سوڈان، مالی، لیبیا وغیرہ۔ ان کے اسلحے لڑ لڑ کے ختم ہو جائیں گے تو سید نا مہدی ؑ اور سیدنا عیسیٰؑ ابن مریم تشریف لا کر انہیں واپس انسانیت کے اسباق پڑھائیں گے۔ تب تک اللہ اللہ کریں!
مر مر کے زندہ ہونے کا آتا ہے ہم کو ڈھنگ
گر گر کے بار بار ہم، اٹھتے ہیں بار بار