(قابلِ غور) دعویٰ نہیں، قربانی سچائی کی دلیل ہے - شوکت اللہ شاکر

14 /

دعویٰ نہیں، قربانی سچائی کی دلیل ہے

شوکت اللہ شاکر

عربی ادب میں ایک نہایت بلیغ اور سبق آموز واقعہ بیان کیا جاتا ہے۔ ایک شخص نے راستے میں ایک عورت کو دیکھ کر کہا: ’’میں نے اپنی زندگی میں تم سے زیادہ حسین کسی کو نہیں دیکھا۔‘‘ عورت نے جواب دیا: ’’اگر میری بہن کو دیکھ لیتے، جو میرے پیچھے آ رہی ہے، تو معلوم ہوتا کہ وہ مجھ سے بھی زیادہ حسین ہے۔‘‘ یہ سنتے ہی وہ شخص فوراً مڑا، مگر وہاں کوئی نہ تھا۔ عورت نے مسکراتے ہوئے کہا: ’’اے اپنے دعوے میں جھوٹے شخص! اگر تم اپنے قول میں سچے ہوتے تو میری طرف سے نظریں نہ پھیرتے۔‘‘
یہ محض ایک لطیف حکایت نہیں بلکہ انسانی زندگی کا ایک اٹل اصول ہے کہ دعوے کی صداقت کا فیصلہ زبان نہیں، کردار کرتا ہے۔ انسان جو کچھ کہتا ہے، اس کی سچائی کا معیار اُس کا عمل ہوتا ہے۔ الفاظ اگر کردار کی تائید سے محروم ہوں تو وہ محض آوازیں رہ جاتی ہیں، حقیقت نہیں بنتیں۔
اسی لیے قرآن مجید نے اہلِ ایمان کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا:
{یٰٓــاَیـُّـھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ (2) کَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللہِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ(3)}(سورۃ الصف) ’’اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں؟ اللہ کے نزدیک یہ بات انتہائی ناپسندیدہ ہے کہ تم وہ کہو جو خود نہ کرو۔‘‘
ایمان صرف عقیدہ نہیں بلکہ ایک عہد ہے، اور ہر عہد قربانی کا تقاضا کرتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
 {اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْٓا اَنْ یَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَہُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ(2)} (سورۃ العنکبوت)’’کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ صرف یہ کہنے پر کہ ہم ایمان لائے ہیں، اُنہیں چھوڑ دیا جائے گا اور اُن کی آزمائش نہیں ہوگی؟‘‘ 
یہ آزمائش کبھی مال میں آتی ہے، کبھی وقت میں، کبھی خواہشات میں، کبھی عزت و شہرت میں اور کبھی جان تک کی قربانی کی صورت میں۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں دعوے اور حقیقت الگ الگ ہو جاتے ہیں۔
آج اِس حکایت کا سب سے بڑا پیغام اہلِ دعوت اور اقامت ِ دین کی جدوجہد سے وابستہ افراد کے لیے ہے۔ جو پورے یقین اور اخلاص کے ساتھ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم کرنا چاہتے ہیں، ہم خلافت کے نظام کے قیام کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ یہ یقیناً ایک عظیم مقصد اور ایک مبارک دعوت ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک نہایت اہم سوال بھی وابستہ ہے: کیا ہماری زندگیاں بھی اِس دعوے کی گواہی دیتی ہیں؟
کیا ہمارا بہترین وقت دین کے لیے وقف ہے؟ کیا ہمارا مال اللہ کے دین کے لیے اسی فراخ دلی سے خرچ ہوتا ہے جس طرح دنیاوی ضروریات پر خرچ ہوتا ہے؟ کیا ہماری علمی، فکری اور انتظامی صلاحیتیں اقامت ِ دین کے لیے استعمال ہو رہی ہیں، یا ہم نے اُنہیں دنیاوی ترقی تک محدود کر دیا ہے؟ کیا ہم نے اپنی خواہشات، آرام، مصروفیات اور ذاتی مفادات کو اللہ کے دین پر قربان کرنے کا عزم کیا ہے؟
قرآن مجید اعلان کرتا ہے:
{اِنَّ اللہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَہُمْ وَاَمْوَالَہُمْ بِاَنَّ لَہُمُ الْجَنَّۃَط}(سورۃ التوبہ: 111)
’’بے شک اللہ نے اہلِ ایمان سے اُن کی جانیں اور ان کے مال جنت کے بدلے خرید لیے ہیں۔‘‘
گویا ایمان کی قیمت جان و مال کی پیش کش ہے، صرف جذباتی نعروں کی نہیں۔
اسلام کی پوری تاریخ اس حقیقت کی شاہد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین میں غلبہ اُنہیں عطا کیا جنہوں نے پہلے اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کیا۔ انبیائے کرام علیہم السلام نے اپنی پوری زندگیاں دعوت کے لیے وقف کر دیں۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنے گھر بار چھوڑے، تجارتیں قربان کیں، ہجرت کی، بھوک برداشت کی، میدانِ جہاد میں جانیں پیش کیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہی کے بارے میں فرمایا:
{مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاہَدُوا اللہَ عَلَیْہِ ج }  (سورۃ الا حزاب: 23)’’اہلِ ایمان میں ایسے مرد موجود ہیں جنہوں نے اللہ سے کیا ہوا اپنا عہد سچا کردکھایا۔‘‘
یہی وہ معیار ہے جس پر ہر دور کے داعی، ہر کارکن اور ہر تنظیم کو اپنے آپ کو پرکھنا چاہیے۔ اللہ کے دین کا غلبہ خواہشوں سے نہیں، قربانیوں سے حاصل ہوتا ہے۔ انقلاب صرف تمناؤں سے نہیں آتے، بلکہ مسلسل جدوجہد، صبر، ایثار، نظم، اطاعت اور استقامت سے برپا ہوتے ہیں۔
آئیے! آج ہم اُس عورت کے ایک جملے کو اپنے دل کی آواز بنا لیں: ’’اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہوتے تو پلٹتے نہ۔‘‘اور پھر خود سے سوال کریں: کیا میرے اعمال میرے دعوئوں کی تصدیق کرتے ہیں؟ کیا میری زندگی کا رخ واقعی اللہ کے دین کی طرف ہے، یا میں بھی ہر نئے مفاد، ہر نئی مصروفیت اور ہر نئی خواہش کی طرف پلٹ جاتا ہوں؟
یاد رکھیے! اللہ کے دین کی سربلندی کے دعوے اُس وقت تک معتبر نہیں ہوتے جب تک ان کے پیچھے وقت، مال، صلاحیت، محنت، اطاعت، استقامت اور ایثار کی حقیقی قربانی موجود نہ ہو۔ تاریخ ہمیشہ قربانیاں دینے والوں کو یاد رکھتی ہے، دعوے کرنے والوں کو نہیں۔ اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں قبولیت انہی کو حاصل ہوتی ہے جو اپنے عہد کو عمل سے سچا ثابت کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے جن کے دعووں کی گواہی اُن کا کردار دے، جن کی دعوت کو ان کی قربانی قوت بخشے، اور جن کی زندگی اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے وقف ہو۔ آمین یا رب العالمین!