دجال کی عالمی حکومت اور نیوورلڈ آرڈر کی حقیقت(قسط :8)رفیق چودھری
موجودہ اُمّت اور اسرائیلی قبضہ
ایک بہت بڑا سوال ذہنوں میں ضرور آئے گا کہ اگر سابقہ اُمّت معزول ہو چکی ہے اور سرزمین موعود کے حوالےسے اُن سے کیے گئے عہد کی بھی تنسیخ ہو چکی ہے تو پھر آج فلسطین پر یہودیوں کا قبضہ کیوں ہورہا ہے؟ جبکہ موجودہ فلسطینی مسلمان حضرت ابراہیم؈ کے دین پر ہیں جن سے اس سرزمین کا وعدہ کیا گیا تھا ؟
اِس سوال کا جواب بھی ہمیں اللہ کی کتابوں اور تاریخ دونوں میں مل جاتاہے ۔ عہد نامہ قدیم کا ہر صفحہ اِس بات کی گواہی دیتا ہے کہ جب بھی سابقہ اُمّت یعنی بنی اسرائیل نے دین ِابراہیم کو چھوڑ کر نمرود کے دین کو اپنایا تو اللہ نے مشرک قوموں کو اُن پر مسلط کرکے یا تو سخت سزا دی یا پھر اُنہیں مقدس سرزمین سے نکال باہر کیا ۔یہی حقیقت بنی اسرائیل کی تاریخ بھی بیان کرتی ہے اور یہی اصول موجودہ مسلمان اُمّت پر بھی لاگو ہورہا ہے ۔ سنن ابن ماجہ میں حدیث ہے کہ اللہ کے رسول ﷺنے مہاجرین صحابہ ؇سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ پانچ چیزیں ایسی ہیں جن میں اگر تم مبتلا ہوگئے تو اس کی سزا تمہیں دنیا و آخرت میں ضرور ملے گی ۔ اِن پانچ چیزوں میں سے ایک یہ بیان ہوئی کہ جب تم اللہ اور اُس کے رسول ﷺ سے کیا گیا عہد توڑو گے تو تم پر دوسری قوموں میں سے دشمن مسلط کر دئیے جائیں گے اور دوسری چیز یہ بھی بیان ہوئی کہ اگر تمہارے حکمران اللہ کے قانون کے مطابق فیصلے نہیں کریں گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان آپس میں لڑائی ڈال دے گا ۔ بدقسمتی سے کالونیل دور سے عالم اسلام کے حکمران اور فیصلہ کن عہدوں پر بیٹھے ہوئے لوگ عالمی دجالی نظام سے اِس قدر مرعوب ہیں کہ اُنہوں نے یہود کی طرح ہی اللہ کی کتاب کو پس پشت ڈال دیا ہے اور زیادہ تر فیصلے طاغوتی نظام سے مرعوبیت کے زیر اثر ہوتے ہیں ۔ لہٰذا اللہ کا فیصلہ صادر ہورہا ہے ۔
موجودہ اُمّت کو بحیثیت مجموعی سرزمین موعود سے بالکل نکالا تو ہرگز نہیں جائے گا کیونکہ یہ اُمّت صرف مخصوص نسل پر مشتمل نہیں ہے بلکہ عالمی اُمّت ہے ، حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری رسول ہیں اورپوری انسانیت کے لیے ہیں ، قرآن اللہ کی آخری کتاب ہے اور روز قیامت تک محفوظ کر دی گئی ہے، دین کو مکمل کر دیا گیا ہے ۔لہٰذا اب اُمت کا ایک گروہ یا ایک حصہ گمراہ ہوگا تو اللہ تعالیٰ اُس کی جگہ کسی اور کو لے آئے گا ۔ جیسے عرب گمراہ ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے تاتار کو اُٹھا دیا۔گویا اُمّت میں ایک جماعت ہر حال میں ایسی رہے گی جو دین ِابراہیم پر قائم رہتے ہوئے جدوجہد کرتی رہے گی ۔ یہی وجہ ہے کہ احادیث میں بھی اس بات کو واضح کیا گیا ہے :
” اور میری اُمّت میں سے ایک جماعت ہمیشہ حق پر لڑتی رہے گی اور اللہ تعالیٰ کچھ قوموں کے دلوں کو ان کی خاطر کجی میں مبتلا رکھے گا اور اُن (قوموں ) کے ذریعہ اُن کو رزق دے گا یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے اور اللہ کا وعدہ آ جائے۔“(سنن النسائی )
”جب اہل ِشام بگڑ جائیں گے تو پھر اس اُمّت میں کوئی خیر باقی نہیں رہے گی اور میری اُمت میں سے ایک گروہ ہمیشہ ایسا رہے گا کہ جسے قیامت تک خدائی نصرت شامل حال رہے گی۔ جو اُنہیں ذلیل کرنا چاہےگا وہ اُن کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے گا۔“(سنن الترمذی)
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت ابراہیم؈ سے کیا گیا عہد موجودہ اُمّت کے ساتھ برقرار رہے گا اور اُسے سرزمین موعود (بلاد شام)سے نکالا نہیں جائے گا بلکہ ایک جماعت بلادشام میں حق پر لڑتی رہے گی یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ؈ تشریف لائیں گے اور دجال کو ختم کرکے پوری دنیا میں اللہ کے نظام کوقائم کریں گے ۔ تاہم جب جب موجودہ اُمّت کی اکثریت دین ابراہیم سے دور ہوگی تو اللہ تعالیٰ مشرک قوموں کو مسلط کرکے اُن کی آزمائش بڑھا دے گا ۔
تاریخ بھی اسی بات کی گواہی دیتی ہے۔636ء سےلے کر پہلی صلیبی جنگ (1099ء) تک یروشلم کا قبضہ و کنٹرول مسلمانوں کے پاس ہی رہا لیکن اِس دوران جیسے جیسے موجودہ اُمّت دین ِابراہیم سے دور ہوتی گئی یروشلم پر اُس کا کنٹرول کمزور ہوتا گیا ، خاص طور پر مامون الرشید کے دور میں جب یونانی فلسفہ اور باطنی و قبالی علوم کا ترجمہ ہوا اوراِس کے بعد اُمّت مسلمہ کا ایک بڑا اور ایلیٹ طبقہ فکری و نظریاتی انتشار کا شکار ہو کر دین ِابراہیم سے دور ہوتا گیا، یہاں تک کہ حسن بن صباح کی جنت اورحشاشین جیسے کئی نمرودی فتنے کھڑے ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے صلیبی قوتوں کو بھیج کر اُمّت ِمسلمہ کو سخت آزمائش میں ڈالا ، بالکل اُسی طرح جس طرح سابق کافر قوموں کے ذریعے بنی اسرائیل کو آزمائش میں ڈالا تھا ۔ یہاں تک کہ 1099ء میں یروشلم پر صلیبیوں کا قبضہ ہوگیا ۔ پھر صلاح الدین ایوبی ؒ کی جدوجہد سے مسلمانوں میں دینی بیداری کی لہر پیدا ہوئی اور اسلام سے تعلق بڑھا تو اللہ تعالیٰ نے 1186ء میں یروشلم دوبارہ اُمّت کو سونپ دیا ۔ البتہ اس دوران اُمّت سخت آزمائشوں سے گزری ۔
کالونیل دور میں اُمّت ِمسلمہ کا بہت بڑا حصہ نام نہاد روشن خیالی ، سیکولرازم ، لبرل ازم، نیشن ازم اور دیگر مغربی تصورات کا شکار ہو گیا، خاص طور پر طبقہ اشرافیہ فری میسنری اور ایلومیناتی جیسی تنظیموں میں شامل ہو کر دین ِابراہیم سے منہ موڑ بیٹھا تو اللہ تعالیٰ کا غضب اسی طرح نازل ہو ا جس طرح بنی اسرائیل پر ہوا تھا ۔ 1918ء میں یروشلم پھر اُمّت کے ہاتھ سے نکل گیا ۔ اِس کے بعد سے جوں جوں موجودہ اُمت ماڈرن ازم ، روشن خیالی اور دیگر خرافات کی وجہ سے دین ِابراہیم سے دور ہوتی جارہی ہے اُسی قدر اِس کی آزمائش بھی بڑھتی جارہی ہے۔ جس طرح سابقہ اُمّت (بنی اسرائیل ) کو اللہ تعالیٰ نے نمرود کے دین پر چلنے والی مشرک قوموں کے ذریعے آزمایا تھا اِسی طرح اب صہیونیوں (جو کہ نمرود کے مشرکانہ دین پر ہیں )کے ذریعے موجود مسلمان اُمّت کو بھی آزمایا جارہا ہے ۔یعنی فلسطین پر موجودہ صہیونی قبضہ اس لیےنہیں کہ اللہ نے اُن سے اس سرزمین کا وعدہ کیا ہے (یہ وعدہ دین ابراہیم کے سچے پیروکاروں کے لیے ہے)بلکہ یہ دین ِ ابراہیم کے سچے پیروکاروں کی آزمائش کے لیے ہے اور اس میں خود بنی اسرائیل کے لیے بھی آزمائش ہے کیونکہ اُنہیں حکم دیا گیا تھا کہ وہ اب اِس سرزمین پر دوبارہ قابض ہونے کی کوشش نہ کریں ۔ یہی وجہ ہے کہ یہودیوں میں سے جو گروہ کسی حد تک اصل یہودیت پر قائم ہیں وہ فلسطین پر ناجائز صہیونی قبضہ کو حکم ِ الٰہی کی خلاف ورزی قراردیتے ہیں اور صہیونی ریاست کی اِسی طرح مخالفت کرتے ہیں جس طرح مسلمان مخالف ہیں ۔ جیسا کہ ناطوری یہودی تسلیم کرتے ہیں کہ اللہ نے اُنہیں سزا کے طور پر سرزمین موعود سے نکال دیا ہے اور وہ اپنی مرضی سے واپس نہیں آسکتے ۔اگر وہ ایسا کریں گے تو اللہ کے حکم کی نافرمانی کریں گے اور اس طرح وہ اللہ کے مزید غضب کے مستحق ٹھہریں گے ۔
اسرائیل کے نام پر فلسطین پر قبضہ کرنے والے اصل یہودی نہیں ہیں بلکہ وہ صہیونی ہیں اور صہیونیت نمرود کے دین پر ہے۔ نمرود کے دین پر چلنے والوں کے ذریعے اللہ نے پہلی اُمت کو بھی آزمایا تھا اور موجودہ اُمّت کو بھی آزمایا جارہا ہے ۔ یہ آزمائش بڑھتی جائے گی ، یہاں تک کہ اگر موجودہ اُمّت بھی ابراہم اکارڈز اور ماڈرن ازم کے نام پر نمرودی دین پر چل پڑی تو مسجد اقصیٰ کو بھی گرا کر اُس کی جگہ تھرڈ ٹمپل ہی کے نام پر وہ معبد تعمیر کیا جائے گا جو نمرودی دین کا مرکز ہوگا ۔یہ کوئی پیشین گوئی نہیں ہے بلکہ سابقہ تاریخ کے تناظر میں حاصل کردہ نتائج کا نچوڑ ہے ۔ باقی اللہ بہتر جانتاہے کیونکہ وہی تقدیر کا بدلنے والا ہے۔ (جاری ہے)
سچائی :کامیابی کا واحد راستہ
حسیب آصف شیخ (شعبہ نشر و اشاعت)
ایک خوبصورت شہر کے ایک سرسبز اور پرسکون محلے میں زین نامی دس سالہ ایک لڑکا اپنے والدین کے ساتھ رہتا تھا۔ زین خاصا ذہین تھا، مگراُس کی ایک بڑی کمزوری تھی موبائل گیمز۔ جب بھی اُس کے ہاتھ میں موبائل آتا، وہ دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو جاتا۔ اُس کی اس عادت کو دیکھ کر اس کے امی ابو نے اُس کے لیے ایک قانون بنایا کہ پہلے سکول کا تمام کام ختم ہوگا، پھر آدھے گھنٹے کے لیے گیم کھیلنے کی اجازت ملے گی۔
شروع میں تو زین اس اصول پر عمل کرتا رہا، لیکن رفتہ رفتہ کھیل کی دھن اُس پر اِس قدر سوار ہوئی کہ اس نے آسان راستہ تلاش کر لیا: جھوٹ بولنا!
جب بھی اُس کا گیم کھیلنے کو دل چاہتا، وہ اپنی کاپیاں میز پر پھیلا کر بیٹھ جاتا اور تھوڑی ہی دیر بعد وہ معصوم سا منہ بنا کر امی کے پاس جاتا اور کہتا، ’’امی! میں نے اپنا سارا ہوم ورک ختم کر لیا ہے اور کل کا سبق بھی یاد کر لیا ہے، کیا اب میں تھوڑی دیر کے لیے گیم کھیل سکتا ہوں؟‘‘امی، جو گھر کے کاموں میں مصروف ہوتیں، زین کی باتوں پر اندھا اعتبار کر لیتیں۔ وہ مسکرا کر اُسے موبائل دے دیتیں۔ زین دل ہی دل میں اپنی چالاکی پر خوش ہوتا کہ اُس نے بغیر محنت کیے اپنا من پسند کام کر لیا ہے۔ وہ کاپیوں پر ادھورے جملے لکھ کر چھوڑ دیتا اور کتابیں پڑھے بغیر بند کر دیتا۔دن گزرتے گئے اور زین کا یہ جھوٹ اس کی روزمرہ کی عادت بن گیا۔ روزانہ سکول سے آ کر وہ امی سے ایک نیا جھوٹ بولتا۔ کبھی کہتا کہ ٹیچر نے آج کوئی ہوم ورک نہیں دیا، تو کبھی کہتا کہ’’ اس نے سکول کے فری پیریڈ میں ہی سارا کام مکمل کر لیا ہے‘‘۔ امی اُس کی باتوں پر بھروسا کرتی رہیں، جبکہ زین کی کاپیاں اور ذہن دونوں خالی ہوتے جا رہے تھے۔پھر وہ دن آیا جس کا خوف ہر اُس بچے کو ہونا چاہیے جو پڑھائی سے جی چراے۔ سکول میں مڈ ٹرم کے امتحانات شروع ہونے والے تھے، لیکن امتحانات سے ایک ہفتہ پہلے استادِ محترم نے کلاس میں داخل ہوتے ہی سرپرائز ٹیسٹ کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے تمام بچوں کو پرچے بانٹتے ہوئے کہا کہ اس ٹیسٹ کے نمبر ز بھی سالانہ نتیجے میں شامل کیے جائیں گے۔
جب پرچہ زین کے سامنے آیا تو اس کے ہاتھوں کے طوطے اُڑ گئے۔ پرچے میں جتنے بھی سوالات تھے، وہ انہی اسباق سے تھے جن کا ہوم ورک زین نے کبھی نہیں کیا تھا اور جن کے بارے میں اُس نے اپنی امی سے جھوٹ بولا تھا کہ اس نے یاد کر لیے ہیں۔ زین نے پرچہ بار بار پڑھا، لیکن اُسے ایک سوال کا جواب بھی نہیں آتا تھا۔ وہ باقی بچوں کو تیزی سے لکھتے ہوئے دیکھتا رہا اور خود ٹھنڈے پسینے میں شرابور چپ چاپ بیٹھا رہا۔ وقت ختم ہو گیا اور اسے خالی پرچہ استاد کے حوالے کرنا پڑا۔دو دن بعد جب پرچے تقسیم ہوئے تو زین کو زیرو نمبر ملا۔ استاد نے اسے پوری کلاس کے سامنے کھڑا کیا اور کہا، ”زین! تم ایک ذہین بچے ہو، پھر یہ اتنی بری کارکردگی کیوں؟“ زین کے پاس شرمندگی سے سر جھکانے کے سواکوئی جواب نہ تھا۔اصلی امتحان تو ابھی باقی تھا۔ سکول ختم ہونے پر استاد نے پرچے پر امی کے دستخط لانے کی ہدایت کی۔ زین ڈرتے ڈرتے گھر پہنچا۔ جب اُس نے کانپتے ہاتھوں سے پرچہ اپنی امی کو تھمایا، تو امی کے قدموں تلے سے زمین نکل گئی۔ لیکن انہیں زین کے فیل ہونے سے زیادہ اس بات کا دکھ تھا کہ ان کا بیٹا اتنے دنوں سے ان سے مسلسل جھوٹ بولتا رہا اور ان کا اعتماد توڑتا رہا۔امی کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر زین کا دل دہل گیا۔ انہوں نے پیار اور سختی کے ملےجلے انداز میں کہا، ’’زین! اگر تم مجھے سچ بتا دیتے کہ تمہیں پڑھائی میں مشکل ہو رہی ہے، تو میں تمہاری مدد کرتی۔ لیکن تم نے جھوٹ بول کر نہ صرف اپنا نقصان کیا بلکہ میرا دل بھی دکھایا۔‘‘سزا کے طور پر زین کی پسندیدہ سائیکل اور موبائل فون تین مہینوں کے لیے بالکل ضبط کر لیے گئے، اور اُسے روزانہ شام کو امی کی نگرانی میں دو گھنٹے مسلسل پڑھائی کرنا پڑی۔ زین کو اپنے کیے پر شدید پچھتاوّا تھا۔ اُس نے رو کر اپنی امی سے معافی مانگی اور وعدہ کیا کہ وہ زندگی میں کبھی جھوٹ نہیں بولے گا۔
اس واقعے نے زین کو ایک بڑا سبق سکھایا۔ اُسے سمجھ آ گیا کہ جھوٹ بول کر انسان وقتی طور پر تو فائدہ حاصل کر سکتا ہے اور دوسروں کو دھوکا دے سکتا ہے، لیکن آخر کار اُس کا انجام صرف شرمندگی، ندامت اور نقصان ہی ہوتا ہے۔ سچائی کا راستہ اگرچہ تھوڑا مشکل ہوتا ہے، لیکن وہی انسان کو عزت اور حقیقی کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔
نتیجہ: جھوٹ ایک ایسا اندھیرا ہے جو انسان کے اپنے ہی مستقبل کو نگل لیتا ہے، جبکہ سچائی عزت اور کامیابی کا واحد راستہ ہے۔