(خصوصی رپورٹ) تقریب عطائے اسناد 2026ء - مرتضی احمد اعوان

14 /

تقریب عطائے اسناد 2026ء

رجوع الیٰ القرآن کورسز(سال اوّل ودوم)

مرتضیٰ احمد اعوان

 
رجوع ا لی القرآن کورسزسال اوّل ودوم کی اختتامی تقریب قرآن اکیڈمی لاہور میں منعقد ہوئی جس کی صدارت صدر انجمن خدام القرآن لاہور محترم ڈاکٹر عارف رشید نے کی۔تقریب کاآغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ پارٹ ون کےطالب علم حافظ سید محبوب علی نے سورۃ الکہف کے آخری رکوع سے تلاوت کی اور پھر اس کاترجمہ بیان کیا۔کلیۃ القرآن کے طالب علم اسرار احمدنے نعت رسول مقبولﷺ پیش کی۔ کورسز کے کوآرڈینیٹر  محترم سجاد سندھونے سٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دئیے ۔ 
استاد محترم حافظ مومن محمود نے’’ طالب علم کون ہے ؟‘‘ کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ نبی اکرمﷺ نے طالب علم کے فضائل کثرت سے بیان کیےہیںکہ جو علم کی طرف چلتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ کھول دیتے ہیںاور اس کے لیے فرشتے پروں کو بچھا دیتے ہیں۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا تھا کہ یہ طالب علم ہے کون؟مفتی محمد شفیع  ؒ فرماتے ہیں کہ طالب علم وہ ہے کہ جس کے دل و دماغ میں ہر وقت علم کی تڑپ رہتی ہے اور وہ ہر وقت کسی نہ کسی علمی مسئلے کے بارے ہی میں سوچ بچار کرتا رہتاہے ۔یعنی وہ علم سے سیر نہیں ہوتا۔رسول اللہﷺ نے بھی فرمایا کہ طالب علم اور طالب دنیا کا پیٹ نہیں بھرتا۔ہمیں علم کو مشغلہ نہیں بنانا چاہیے بلکہ دین کے احیا کے لیے علم حاصل کرنا چاہیے۔ آج کے دور میں علم کا مقصد عمل ہونا چاہیے ۔عمل اگر علم کے بغیر ہو تو فساد برپا ہوگا۔ قیامت کے دن سب سے زیادہ نقصان اُٹھانے والوں میں سے ایک وہ شخص ہوگا جس کا علم اُسے فائدہ نہ دے۔ آج کے دور میںسوشل میڈیا کے ذریعے بولنے والے زیادہ ہیں لیکن ان کے علم میں رسوخ کی بجائے سطحیت کا غلبہ ہے ۔علماء کا ادب نہ ہونے کے برابر ہے بلکہ دوسروں پر تکفیر اور تفسیق کے فتوے لگائے جارہے ہیں ۔تمام علوم کو درجہ بدرجہ حاصل کرکے علوم عالیہ کی تحصیل کرنی چاہیے ۔ تمام علوم کا مرکز قرآن مجید ہے ۔یعنی مقصد اللہ کی وحی کو سمجھنا ہے ۔ مفسرین علوم عالیہ کی تحصیل کرکے قرآن کی تفسیر لکھتے تھے ۔
استاد محترم ڈاکٹر رشید ارشد نے کتاب ریاض الصالحین کے مقدمہ کا مطالعہ کرواتے ہوئے کہا کہ بندوں کو اللہ کی عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے ۔ اصل زندگی دنیا نہیں ہے بلکہ آخرت ہے ۔ دنیا کی لذتوں کے پیچھے بھاگنا ٹھیک نہیں ہے ۔یہ دنیا ختم ہونے والی ہے۔ اللہ کے نیک بندوں نے فتنوں کے اندیشے سے(یعنی مادیت پرستی)کو تج دیا تھا۔حب الوطنی اصل جنت ہے ۔ہر مکلف کے لیے لازم ہے کہ وہ جنت کو حاصل کرنے کا اہتمام کرے۔اس دنیا میں رسول اللہ ﷺ کی سنتوں کو اپنانا چاہیے ۔نیکی میں تعاون، زہد، نفس کی ریاضتوں سے اپنے اعضا ءکو ہر طرح کے ٹیڑھ سے بچانا ہے ۔آج کے دور میںاستاد سے تعلق اور کتاب کے مطالعہ کی ضرورت ہے۔ کیونکہ کتاب ہی علم کا اصل سورس ہے ۔ جس شخص کا علم کا سورس( سکرین) ہے وہ کچھ بھی حاصل نہیں کرسکتا۔آپ طلبہ نے جو علم بھی حاصل کیا ہے اس کودوسروں تک پہنچانا ہے کیونکہ جو لوگ دوسروں کو خیر کی تعلیم دیتے ہیں ان کے لیے اللہ کی رحمتیں ہیں ۔   
کوآرڈینیٹر محترم سجاد سندھو نے دونوں کورسز کی سمری پیش کی ۔ اُنہوں نے کہا سال اول میں31طلبہ نے داخلہ لیا جبکہ21 طلبہ نے کورس کی تکمیل کی ۔استاد محترم مفتی ارسلان محمود نے پارٹ ون میں تجوید،حفظ اور فقہ العبادات، محترم ڈاکٹر رشید ارشد نے مطالعہ حدیث ، اسلام کی نشاۃ ثانیہ :کرنے کااصل کام،محترم فیاض قیوم نے عربی گرائمر کی تینوں کتابیں پڑھائیں اور محترم آصف حمید نے عربی کلاسز کی نگرانی کی ۔محترم ذیشان اشرف نے عربی گرائمر کلاس میں معاونت کی۔ محترم مومن محمود نے قرآنی سورتوں کی صرفی ونحوی  ترکیب اور ترجمہ، محترم محمود حماد نے منتخب نصاب (مکمل) اور سیرت النبیﷺ، محترم حافظ عاطف وحید نے معاشیات اسلام اور محترم ثاقب احمد نے قصص النبیین کی تدریس کی۔ 
اضافی محاضرات میںنائب ناظم شبان ختم نبوت مولانا شفیع الرحمان نے ’’عقیدہ ختم نبوت‘‘ممبر شوریٰ شبان ختم نبوت مفتی سیف اللہ نے ’’حیات عیسیٰ علیہ السلام‘‘ اور مولانا سفیان غوری نے ’’ختم نبوت کی اہمیت و فضیلت‘‘ پر لیکچرز دئیے۔ امیرتنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ نے طلبہ سے ملاقات کی اور ان کے سوالوں کے جواب دئیے ۔
سال دوم میں8طلبہ نے داخلہ لیا تھاجبکہ4طلبہ نے کورس کی تکمیل کی ۔۔ڈاکٹر رشید ارشد نے مصطلح الحدیث اور ریاض الصالحین، مومن محمود نے عربی کی تفاسیر (تسہیل العلوم)‘ مفتی ارسلان محمود نے اصول الفقہ،نکاح وطلاق کے مسائل اورکاروبار سے متعلقہ مسائل واحکام، محترم ثاقب احمد نے عربی کامعلم(حصہ سوم وچہارم)اور محترم مکرم محمود نے الاربعین فی اصول الدین کی تدریس کی ۔
اس کے بعد طلبہ نے اپنے تاثرات بیان کیے۔
سال اوّل کے سی آر محترم ڈاکٹر فاروق اختر نے کہا کہ آج کا دن یادگار لمحات کا دن ہے ۔ ہم نے دین کو سمجھنے اوراس کو اپنی زندگیوں پر نافذ کرنے کی کوشش کی ۔قرآن اور مسنون دعائیں سیکھیں تاکہ اللہ کے احکامات پر عمل پیرا ہو سکیں۔سال کے شروع میں یہ علمی سفر مشکل لگ رہا تھا لیکن اساتذہ نے بہتر راہنمائی کی ۔ اساتذہ،کلاس فیلوز، خاندان اور والدین کا شکریہ جن کی دعائوں اور تعاون سے آج کامیاب ہوئے ہیں ۔علم بڑی نعمت ہے لیکن اصل کامیابی اس پر عمل کرنے سے ہے۔یہ سب ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے لیے صدقہ جاریہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ۔
سال دوم کے طالب علم محترم سہیل احمد نے کہا کہ سب سے پہلے ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور نبی اکرمﷺ کی شان اقدس میں درود وسلام پیش کرنا چاہیے۔ آج کا دن شکر اور عزم کا دن ہے ۔اساتذہ کے سامنے بیٹھنے سے ہمیں اپنی جہالت کا احساس ہوا۔     دنیا وآخرت میں کامیابی کا رازقرآن وسنت پر عمل کرنے سے ہے ۔ اساتذہ نے بہت عمدہ راہنمائی کی ۔ قرآن اکیڈمی میں ہمیں بہت بہتر ماحول میسر آیا۔اللہ تعالیٰ ڈاکٹر اسرار احمدؒ کی قبر کو نور سے منور فرمائے جنہوں نے اس ادارے کی داغ بیل ڈالی۔
  صدرمرکزی انجمن خدام القرآن لاہور محترم ڈاکٹر عارف رشید نے صدارتی خطاب میں فرمایا کہ والد محترم ڈاکٹر اسرار احمدؒ کا لگایا ہوا یہ پودا ہے جس کے بطن سے پورے پاکستان میں اکیڈمیز نے جنم لیا۔الحمدللہ!عملی طور پر دیکھا جائے تو اس علم کو پھیلانے میں کراچی لاہور سے آگے ہے ۔امیر تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ جس طرح اس کا م کے لیے اپنی توانائیاں لگا رہے ہیں وہ قابل ستائش ہیں ۔ڈاکٹر صاحب ؒمسلسل اس مشن میں لگے رہے تاکہ لوگ قرآن سے جڑ سکیں۔قرآن اکیڈمی کا یہ خطہ ارضی اسی غرض کے لیے ماڈل ٹائون میں لیا گیا تھا کیونکہ یہاں سے پنجاب یونیورسٹی قریب تھی۔ ڈاکٹر صاحب چاہتے تھے کہ نوجوان طلبہ اس کام کے لیے آگے آئیں ۔ان کانصب العین اقامت دین کی جدوجہد تھی اس کے لیے انہوں نے تنظیم اسلامی قائم کی ۔مجھے آپ لوگوں پر رشک آتا ہے ۔ آپ کے والدین کی بہت بڑی قربانی ہے جن کی دعائوں کے طفیل آپ لوگوں نے یہ علم حاصل کیا۔ آپ نے جو علم حاصل کیا اس پر خود عمل پیر اہوں اور پھر اس کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے تعلیم وتدریس کا سلسلہ شروع کریں۔ورنہ جو حاصل کیا ہے وہ ذہن سے  محو ہو جائے گا۔
اس کے بعد طلبہ میں اسناد تقسیم کی گئیں۔ سال اوّل کے طلبہ میںمحترم ڈاکٹر عارف رشید جبکہ سال دوم کے طلبہ میں محترم ڈاکٹر ابصار احمد نے اسناد تقسیم کیں ۔
ناظم اعلیٰ مرکزی انجمن خدام القرآن لاہور محترم حافظ عاطف وحید نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کورسز کا انعقاد بہت بڑی ذِمّہ داری ہے ۔ کیونکہ ان کورسز میں شریک لوگوں نے اپنے قیمتی اوقات ہمیں دئیے ہوتے ہیں لہٰذا ہماری کوشش ہوتی ہے کہ جو لوگ بھی یہاں سے فارغ ہوںوہ بامقصد علم لے کر جائیں ۔آج ہمیں سب سے پہلے اعلیٰ اور بہترین کلمات کے ساتھ اللہ کاشکر ادا کرنا چاہیے۔میں اپنے اساتذہ کرام کابہت ممنون احسان ہوں کہ انہوںنے جذبہ، خلوص اور محنت کے ساتھ طلبہ کو پڑھایا۔مجھے ان پر فخر ہے ۔اساتذہ کی کوئی دنیوی غرض نہیں بلکہ صرف اور صرف اللہ کی رضا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کے اس انفاق وقت کو قبول فرمائے ۔ان کے علم وفضل میں مزید اضافہ فرمائے ۔اورانہیں تاحیات اس ادارے کے ساتھ معاونت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔میںطلبہ کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ہمیں برداشت کیا۔ اللہ تعالیٰ آپ کے اس انفاق وقت کو قبول فرمائے ۔آپ سے گزارش ہے کہ ہم سب کو اپنی دعائوں میں یاد رکھیں ۔
  آخر میں محترم مفتی ارسلان محمودکی دعا پر اس تقریب کا اختتام ہوا۔تقریب کے بعد تمام حضرات کے لیےظہرانے کا اہتمام کیا گیا تھا۔