تنظیم اسلامی شعبہ خواتین کا ششماہی اجتماع
رپورٹ: حلقہ خواتین، قرآن اکیڈمی لاہور
تنظیم اسلامی شعبہ خواتین کا ششماہی اجتماع برائے معاونات ، مدرسات، سینئررفیقات اور (تنظیم میںشمولیت اختیار کرنے والی) نئی رفیقات 16مئی 2026 کو خواتین ہال قرآن اکیڈمی لاہور میں منعقد ہوا، جس میں رفیقات نے بھرپور شرکت کی۔ ششماہی اجلاس میں چونکہ 6ماہ کی کارکردگی کا جائزہ، کرنے کے کام اور اسلوبِ کار کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس لیے خواتین سنجیدگی سے ناظمات اور معاونات کو سننے کے لیے آتی ہیں تاکہ ان کی نصیحات کوسن کر عمل پیرا ہوسکیں۔ 09:30 بجے صبح اجتماع کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جس کی سعادت محترمہ سنعیہ نے حاصل کی۔ اُنہوں نے سورۃ الفرقان کی آیات 63 تا 77 کی تلاوت کی۔
اِس کے بعد نعت ِرسول مقبول محترمہ طوبیٰ احمد نے پیش کی۔ اس کے بعد امۃ المعطی صاحبہ نے بانی محترمؒ سے غیر معمولی عقیدت کے حوالے سے وضاحت کی، کہ اُن سے محبت اور عقیدت ہونا بجا ہے لیکن عقیدت میں اعتدال سے ہٹ جانا مناسب نہیں ہے۔ وہ بھی بندہ بشر تھے، معصوم عَنِ الخطاء نہیں تھے۔ اُن سے بھی غلطی کا امکان ہے، خاص طور پر فقہی معاملات میں فتویٰ دینے سے وہ ہمیشہ اجتناب کرتے تھے۔ لیکن اب سوشل میڈیا اُن کے حوالے سے فقہی مباحث کو بھی نمایاں کررہا ہے، اس لیے ہم سب کو اُن کی مغفرت کے لیے اور درجات کی بلندی کی دعا کرنی چاہیے۔ اس ضمن میں بانی محترمؒ کی تعلیمات بہت واضح ہیں۔ ہم نے اُن سے سیکھا ہے کہ کسی کی محبت میں اتنا آگے نکل جانا کہ بس اُسی کی بات کو درست سمجھا جائے، اور اختلاف کی گنجائش نہ رکھی جائے۔ ’’شرک فی المحبت‘‘ کے ذیل میں آتا ہے۔ یہی بات نبی کریمﷺ نے فرمائی کہ ’’تیرا کسی شے سے محبت کرنا تجھے اندھا اور بہرا کردیتا ہے۔‘‘ اِس ضمن میں ہمیں اپنا جائزہ لیتے ہوئے اپنا قبلہ درست رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ حدیث مبارکہ(( ’’یَدُ اللہِ عَلَی الْجَمَا عَۃِ، وَ مَنْ شَذَّ شَذَّ فِی النَّارِ)) (رواہ ترمذی)’’اللہ تعالیٰ کا ہاتھ جماعت پر ہے اور جو شخص جماعت سے الگ ہوا وہ اکیلا جہنم میں ڈالا جائے گا۔‘‘کے حوالے سے ہمیں مغالطہ ہوجاتا ہے کہ شائد کسی بھی جماعت سے نکلیں گے تو آگ ٹھکانہ ہے۔ ایسا نہیں ہے بلکہ اس سے مراد مجموعی طور پر اُمَّتِ مُسلمہ ہے اور بانی محترمؒ بھی اسی مؤقف کے حامل تھے۔ ہمیں یہ بھی مغالطہ لگتا ہے کہ جو مدارس میں پڑھا رہے ہیں یا جو لوگوں کو ناظرہ قرآن یا ترجمہ پڑھا رہے ہیں وہ دین کا کام نہیں کررہے حالانکہ یہ سب بھی دین کا کام ہے۔
اس کے بعد تنظیم اسلامی کی سینئر رفیقہ کوثر باجی صاحبہ نے بیعت کی اہمیت اور تنظیم اسلامی کے مقاصد پر روشنی ڈالی۔ اُنہوں نے کہا کہ آج کے دور میں ماں کا کردار دعوت و اصلاحِ خاندان میں بہت ضروری ہے۔ مسلمان ماں کو اپنے دائرہ کار میں بیک وقت تکبیر رب بھی کرنی ہے، شہادت علی الناس بھی کرنا ہے ۔ الاقرب فاالاقرب کی ترتیب کو مد نظر رکھتے ہوئے، اقامتِ دین بھی کرنا ہے۔ بیعت کے بعد کون کون سی پابندیاں ایک مسلمان عورت پر لگیں گی۔انہوں نے خواتین مشاہیر ِاسلام کے کارنامے بھی بیان کئے۔اسلام کی پہلی حافظہ خاتون کا ذکر کیا، پہلی شہیدہ خاتون اور ام المساکین حضرت خدیجہ k کا بھی ذکر کیااور مسلمان عورتوں کو تلقین کی کہ زندگی رب کی رضا میں گزاریں۔انہوں نے دینی محافل میں شرکت کو اللہ سے محبت کا مظہر قراردیا۔اقامت ِدین کے زمرے میں اُنہوں نے خواتین کو آگاہ کیاکہ اپنے آپ کو بھی اور اپنے گھر والوں کو بھی آگ سے بچائو۔
اِس کے بعد سینئر معاونہ شہلا اظہر صاحبہ نے اسرہ میں پڑھائی کا طریقہ کار بیان کیا۔ ان کے بیان کا اہم پہلو یہ تھا کہ ہر شخص کو جواب دہی کا احساس ہونا چاہئے، اپنے اسرہ کو دعا ، اخلاص، جذبہ اور برکت کے ساتھ منعقد کریں اور اسرہ کے لٹریچر کو مذاکرہ کے طور پر منعقد کریں تاکہ ہر رفیقہ کے ذہن تک نصاب کی رسائی ہو۔اپنے لیے عزیمت اور دوسروں کے لیے رخصت کا اصول رکھنا چاہیے۔
اِس کے بعد فیروزہ کلیم صاحبہ نے اسرہ کے مقاصد پر روشنی ڈالی کہ اسرہ میں فرد کی تربیت ہونی چاہیے۔ صبر اور اخلاص کے ساتھ فرداً فرداً مسائل کو حل کرنا چاہیے۔ اگر اسرہ کی رفیقات میں کمی ہے تو اپنی تربیت کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔ ہر لمحہ اس حقیقت کو مد نظر رکھیں کہ ہم سب نے اپنے رب کے پاس اکٹھا ہونا ہے، اس لیے ہر عمل کو اخلاص کے ساتھ انجام دیں۔تربیت اور ماحول اگر درست ہوں تو راستہ آسان ہوجاتا ہے اور مجاہدہ کرنا بھی آسان ہوجاتا ہے۔ اپنی ساتھیوں کی خبر گیری اخلاص کے ساتھ کریں۔ اجتماعیت میں دین پر عمل پیرا رہنا آسان ہوتا ہے۔ معاونہ کے لہجے میںاپنی رفیقات کے لیے نرمی اور اخلاص ہوناچاہیے۔ نرمی ہمیشہ خیر لاتی ہے۔مسلمان عورت کے لیے رول ماڈل صحابیاتl ہیں۔اپنی اناکو محدود کریں۔ عاجزی پیدا کریں اور ہر لمحے سیکھنے کی آرزو رکھیں۔ اپنے تجربات کو اسرہ میں ضرور ڈسکس کریں تاکہ دوسروں کی رہنمائی ہوسکے۔
امۃ المحصی صاحبہ نے خواتین کے نظام العمل کتابچہ کا دوبارہ مطالعہ کروایا تاکہ خواتین کے ذہن میں اُن کے فرائض تازہ ہوجائیں۔ انہوں نے اس پروگرام کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ یہ ششماہی پروگرام دو سال بعد منعقد ہورہا ہے۔ اس سے قبل 25مئی2024 کو ہوا تھا۔ معاونات اور مدرسات کے لیے تربیتی اعتبار سے یہ پروگرام بہت اہمیت کا حامل ہے۔آئندہ ان شاء اللہ ہم کوشش کریں گے کہ پروگرام ہر 6ماہ بعد منعقد ہوجایا کرے۔ انہوں نے بتایا کہ اگرچہ ہماری تنظیم کا یہ مزاج نہیں ہے کہ خواتین کے بڑے بڑے پروگرامز منعقد کئے جائیں۔ تاہم یہ ششماہی پروگرام چونکہ تربیتی ہے اس لیے اس کے انعقاد کے لیے مردوں کی طرف سے بھرپور تعاون رہا۔رفیقات و مدرسات کے اوصاف اور ذِمّہ داریاںکیا ہیں؟ اقامتِ دین کی منزل کو کھول کر بیان کیا گیا۔ اپنا جائزہ لیں کہ ہم ان ذِمّہ داریوں کوپورا کررہے ہیں یا نہیں۔ خواتین دینی ماحول میں رہ کر مردوں کی اطاعت کے اندر دینی فرائض کو سرانجام دیں۔ اپنا جائزہ لیںکہ ہم کن چیزوں پر وقت لگاتے ہیں۔ اسرہ میں باہم مشورہ سے پروگرام منعقد کریں، نئی رفیقات باقاعدگی سے ماہانہ رپورٹس دیں تاکہ اپنے فرائض کے معاملے میں بہتری لاسکیں اور ان کی معاونات اس ضمن میں بہت محبت سے ان کی رہنمائی کریں۔
اگلے ششماہی پروگرام میں نظام العمل کا بہت اچھی طرح مطالعہ کرکے آنے کی تاکید کی اور یہ بھی بتایا کہ معاونات اور سینئر رفیقات سے اس بارے میں زبانی ٹیسٹ لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ معاونات اور مدرسات سے منتخب نصاب برائے خواتین حصّہ سوم، ’’مباحث ِ عمل ِ صالح‘‘ کا پہلا مقام سورہ البقرۃ (آیات222تا237) کا تحریری ٹیسٹ لیا جائے گا۔
ایک سینئر رفیقہ تنظیم اسلامی جو 25سال سے ہوم سکولنگ کررہی ہیں، اُنہوں نے اس کے طریقۂ کار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ لاڈ میں بگاڑ ہے اور تربیت میںپیارہے۔
اس کے بعد امۃ المعطی صاحبہ نے نئی آنے والی رفیقات کو اپنے تعارف کے لیے بلایا۔ تنظیم میں خواتین کی شمولیت کی تعداد بڑھنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔
پروگرام کا اختتام ناظمہ عالیہ صاحبہ کی دعا کے ساتھ ہوا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت پر استقامت عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!