(زمانہ گواہ ہے) ’’ہمارا تعلیمی نظام : مسائل اور حل‘‘ - محمد رفیق چودھری

10 /

اسلامی نظام ِتعلیم میں اللہ کی معرفت، اللہ کے رسول ﷺ کی اطاعت اور

تخلیق ِ انسان کے مقصد کو اوّلین ترجیح حاصل ہے : رضاء الحق

تعلیمی ترقی برسراقتدار طبقہ کے کسی منصوبے میں سرے سے شامل ہی

نہیں؛ تعلیمی بحران کے ذِمّہ دار والدین بھی ہیں جن کے نزدیک تعلیم کا مقصد

صرف اولاد کو پیسہ کمانے کی مشین بنانا ہے :ڈاکٹر انوار علی ابرار

ہمارا تعلیمی نظام اورہمارے تعلیمی ادارے بُرائی کے گڑھ بن چکے ہیں،

وہاں سے صرف بُرائی نکل رہی ہے :پروفیسر ڈاکٹر میاں محمد اکرم

’’ہمارا تعلیمی نظام : مسائل اور حل‘‘

پروگرام ’’ زمانہ گواہ ہے ‘‘ میں معروف دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کا اظہار خیال

میز بان : وسیم احمد

مرتب : محمد رفیق چودھری

سوال:  ملک کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں گزشتہ چند دہائیوں سے بہت سے نظریاتی اور معاشرتی بحران دیکھنے میں آ رہے ہیں جن میں الحاد، فحاشی، بے راہ روی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال عام سی بات ہے،پھر سوشل میڈیا کی مختلف ایپس کے بے جا اور غلط استعمال کا بڑھتا ہوا رجحان بھی ہے۔ آپ کا کراچی کے بڑے معروف اداروں میں تدریس کا تجربہ ہے۔ آپ ہمیں یہ بتائیں کہ یہ سارے معاملات کس طرف جا رہے ہیں، اِس بگاڑ کا ذِمّہ دار کون ہے اور اِس سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟
ڈاکٹر انوارعلی:سب سے پہلے تو اِس بگاڑ کا ذِمّہ دار برسر اقتدار طبقہ ہے ، معذرت کے ساتھ کہوں گا کہ اُس نے خود غرضی کے سارے میڈلز اپنے نام کرلیے ہیں ۔  ترجیحات تو بہت دور کی بات ہے ان کے خواب و خیال میں بھی تعلیمی ترقی کا کوئی حصہ نہیں۔ نوجوانوں کا مستقبل، قوم کا مستقبل ان کی کسی بھی پلاننگ میں باقاعدہ شامل نہیں  ہے ۔کم و بیش تمام حکومتوں کا یہی طرزعمل رہا ہے ۔ حکومت میں آنے اور اس کو چلانے کے لیے جو اصول و ضوابط   طے کیے گئے ہیں، ان میں کہیں بھی تعلیم کا کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ ایک ایشو یہ بھی ہے کہ جن لوگوں کو اقتدار میں آنا ہوتاہے وہ تعلیم یافتہ لوگوں کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ وہ کبھی بھی نہیں چاہتے کہ تعلیم اس قوم میں عام ہو جائے اور ہر شخص تعلیم سے بہرہ مند ہو کر باشعور ہوجائے ۔ اس کے بعد انتظامیہ بھی ذِمّہ دار ہے، ہر ادارے میں نااہلی شدت کے ساتھ موجود ہے ۔یہی نااہلی تعلیمی اداروں میں بھی پہنچی ہوئی ہے جس کا شاخسانہ پوری قوم بھگت رہی ہے۔ تیسرے نمبر پر ذِمّہ دار اساتذہ ہیں ۔ کسی بھی معاشرے کی تشکیل میں اساتذہ کا بہت بڑا کردار ہوتا ہے مگر ہمارے ہاں پیسہ کمانے کی دوڑ میں جس طرح ہر شخص لگا ہوا ہے ، اساتذہ بھی اسی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں ، وہ اپنا مرتبہ بھول چکے ہیں اور اپنی ذِمّہ داریوں سے غافل ہیں ۔ اچھے اساتذہ بھی ہیں مگر بہت کم ہیں ۔ اس کے بعد والدین ذِمّہ دار ہیں کیونکہ والدین نے تعلیم کا جو مقصدطے کیا ہوا ہے اور جو اپنے بچوں کی ذہن سازی کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ میرا بچہ پیسہ کمانے کی مشین بن جائے ۔ انتہا یہ ہے کہ والدین بچوں کو پاس کروانے کے لیے نقل کروا رہے ہیں ، سفارش کروا رہے ہیں ، اچھی تعلیم و تربیت اُن کا مقصد ہی نہیں ہے بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ اُن کی اولاد جلد سے جلد پیسہ کمانے کے لائق ہو جائے ۔ پھر ہم سب اپنی جگہ ذِمّہ دار ہیں کیونکہ ہم تبدیلی نہیں چاہتے بلکہ جس طرح کی ذہن سازی کی گئی ہے ہم اُسی دائرے میں قید ہیں ۔ اس بگاڑ کا حل یہ ہے کہ سب سے پہلے ہم تجدید ایمان کا اہتمام کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ سے لے کر آخری نبی ﷺ تک تمام انبیاء کرامf کے ذریعے جو تعلیم عطا کی ہے، اس میں فوکس اللہ کی ذات ہوتی ہے ، ایسی تعلیم زندگی کا اصل مقصد بتاتی ہے جبکہ ہم نے جس تعلیم کو لازم سمجھ لیا ہے، اس کا مقصد صرف دنیا کا حصول ہے ۔ تجدید ایمان ہوگا تو زندگی کا مقصد بھی واضح ہوگا ۔ پھر تعلیم کا مقصد بھی مدنظر رہے گا ۔ اگر مذہب اور دین کو ایک طرف رکھ کر سوچیں تب بھی تعلیم کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ انسان ایک اچھا شہری بن جائے جو معاشرے کی تعمیر و ترقی میں مثبت کردار ادا کرے ، نہ کہ مقصد صرف پیسہ کمانا ہو ۔ سب سے پہلے تعلیم کا مقصد واضح کرنا ہوگا ، اس کے بعد اگلے مراحل میں سے ایک نصاب کی ازسر نو درستگی ہے ، یونیورسٹی کے نظام کو بہتر بنانا ہے اور پھر اسی تناظر میں پورے نظامِ تعلیم کو ترتیب دینا ہے ۔ 
سوال: تعلیمی ادارے کی بنیادی ذِمّہ داری تو تعلیم دینا ہے ،تربیت تو فیملی کی ذِمّہ داری ہے؟
میاں محمد اکرم:بچوں کی تربیت والدین کی بھی ذمّہ داری ہے ، تعلیمی اداروں کی بھی ذِمّہ داری ہے اور معاشرے کی بھی ذِمّہ داری ہے لیکن بڑا کردار تعلیمی اداروں نے ہی کرنا ہوتاہے ۔ میڈیا بھی اِس کا ذِمّہ دار ہے۔ اس وقت کردار سازی ساری کی ساری میڈیا کر رہا ہے مگر وہ کردار سازی سب کو معلوم ہے منفی ہورہی ہے ۔ خاص طور پر سوشل میڈیا نے بچوں کے کردار ، اخلاق اور ذہنوں کو بگاڑنے میں بہت منفی کردار ادا کیا ہے ۔پھر یہ کہ  سب سے بڑی ذمّہ دار ریاست ہے ۔ ریاست کی ترجیحات میں اب اچھی تعلیم و تربیت ہے ہی نہیں ۔ صوبہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں تو سرکاری تعلیمی اداروں کی بھی نجکاری کی جارہی ہے ۔ یعنی حکومتیں اس ذمّہ داری سے سرے سے ہی جان چھڑانا چاہتی ہیں ۔ 
سوال:پنجاب حکومت نے اب تک 13ہزار سرکاری سکول آؤٹ سورس کر دئیے ہیں ۔ یہ پالیسی ملک کو کس طرف لے کر جائے گی؟نیز یہ بھی بتائیے کہ تعلیمی نصاب میں ایسی کیا تبدیلیاں کی جائیں کہ ہمارے بچے سپائیڈرمین اور بیٹ مین بننے کی بجائے حضرت علیؓ ، خالد بن ولیدؓ ،  صلاح الدین ایوبی  ؒ اور محمد بن قاسمؒ جیسا بننا پسند کریں ؟
میاں محمد اکرم: بنیادی طور پر نصاب کا مقصد  بچوں کی ذہن سازی کرنا اور اُنہیں بہتر معاشرے کی تشکیل کے لیے تیار کرنا ہوتا ہے ۔ جہاں تک مسلمان معاشرے کا تعلق ہے تو وہاں تعلیم کا مقصد بہت ہی اعلیٰ ہونا چاہیے ۔ جیسا کہ قرآن میں فرمایا : 
{رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْہُمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِکَ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ  وَیُزَکِّیْہِمْ ط}(البقرہ :129) ’’اے ہمارے پروردگار! ان لوگوں میں اٹھائیو ایک رسول خود انہی میں سے‘جو انہیں تیری آیات پڑھ کر سنائے‘اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے‘اور ان کو پاک کرے۔‘‘ 
یعنی کتاب و حکمت کی تعلیم دینا اور ان کا تزکیہ کرنا اسلامی نظامِ تعلیم کے بنیادی اجزاء ہیں ۔ حکمت سے مراد وہ شعور ہے جو انسان کو سیدھے راستے پر گامزن کرتاہے ۔  تزکیہ سے مراد کردار سازی ہے ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے جو تعلیم اُمّت کو دی، اُس میں یہ ساری چیزیں شامل تھیں ۔ ہمارے لیےہر میدان میں اور ہر سطح پر اُسوہ رسول اللہ ﷺ کی ذات ہے ۔ اُسی طرز کی تعلیم ہمیں اپنے بچوں کو دینی چاہیے ۔ سب سے پہلے انہیں مقصدِ زندگی بتایا جائے کہ انسان کو صرف اس لیے پیدا نہیں کیا گیا کہ وہ جانوروں کی طرح کھائے پیئے ، زندگی گزارے اور مرجائے بلکہ اسے ایک عظیم کردار نبھانے کے لیے بھیجا گیا ہے اور وہ کردار ہے :خلیفۃ اللہ فی الارض ۔ جیسا کہ قرآن میں فرمایا :
 { اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً ط} (البقرۃ:30) ’’ میں بنانے والا ہوں زمین میں ایک خلیفہ۔‘‘ 
اب یہ خلافتِ ارضی کا جو کردار ہے ، اس کے حوالے سے ہمیں آخرت میں جواب بھی دینا ہے۔اس حقیقی تصورِ زندگی کو قرآن و احادیث کی روشنی میں تعلیمی نصاب میں شامل ہونا چاہیے ۔ پھر سیرت رسول ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کی سیرت کے مختلف پہلو نصاب میں شامل ہونے چاہئیں ۔ اسی طرح اسلامی تاریخ کے جو ہیروز ہیں ، جیسا کہ حضرت علی ؓ، خالد بن ولید ؓ، صلاح الدین ایوبی  ؒ ،   محمد بن قاسمؒ کے کارناموں کا ذکر نصاب میں آئے۔ پھر جن لوگوں نے علوم و فنون میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں، اُن کی تفصیل نصاب میں شامل ہو ۔ اسلامی معاشرت کے تناظر میں تعلیمی نصاب کی سمت متعین ہونی چاہیے ۔ اِس کے برعکس ہمارے موجودہ نصاب میں جو چیزیں  شامل ہیں، اُن کا نہ تو اسلامی معاشرت سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی ہماری عملی زندگی سے ۔جیسا کہ گڈبائے مسٹر چپس اور مسز کیتھرائن کے مضامین جن لوگوں نے پڑھے تھے وہ وہی پڑھا پڑھا کر ریٹائر ہو گئے ، اب بھی وہی پڑھائے جارہے ہیں ۔حالانکہ اگر آپ کو انگلش سکھانی ہے تو ایسے مضامین بھی شامل کیے جا سکتے ہیں جن میں اسلامی معاشرت کے حوالے سے ذہن سازی ہو ۔ اس حوالے سے ایک جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے کہ پرائمری میں بچے کی اسلامی تناظر میں تعلیم و تربیت کس لیول تک ہونی چاہیے ، مڈل میں کس لیول تک ہونی چاہیے اور پھر میٹرک تک جب بچہ پہنچ جائے تو اُسے اسلامی معاشرت کی کس حد تک آگاہی اور شعور حاصل ہو ۔ اِس ضمن میں سب سے بڑی ذِمّہ داری ریاست کی ہوتی ہے ۔ دنیا بھر کے ممالک میں جب بجٹ پیش ہوتا ہے تو اس میں ایک بڑا حصہ تعلیم پر خرچ ہوتا ۔ دنیا بھر کے معیشت دان کہتے ہیں کہ تعلیم پر خرچ بہتر مستقبل پر سرمایہ کاری ہے ۔ جتنا اس پر آپ خرچ کریں گے قوم کا مستقبل اتنا ہی بہتر ہوگا ۔ مگر ہمارے ہاں حکومتوں نے اپنے سر سے اس بوجھ کو سرے سے ہی اُتار کر پھینک دیا ہے ۔ پھر اساتذہ کا بھی وہ کردار نہیں رہا جو ہونا چاہیے تھا ۔ طلبہ کا بھی یہ ذمّہ دارانہ کردار نہیں ہے کہ جدھر کی ہوا چل رہی ہو اُسی رو میں بہتے چلے جائیں بلکہ انہیں بہتر سے بہتر انسان بننے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ 
سوال:ہمارے ہاں بعض پڑھے لکھے لوگ یکساں نصابِ تعلیم کی بات کرتے ہیں کہ اگر ہر طالب علم کو ایک جیسا نصاب پڑھنے کو ملے گا تو پھر امیر اور غریب کے درمیان مقابلے کی فضا ایک جیسی ہوگی ۔ آپ یہ بتائیں کہ کیا یکساں نصابِ تعلیم پورے ملک میں تعلیمی فرق کے خاتمے کا سبب بن سکتاہے ؟ 
رضاء الحق:ہمارے دین میں سب سے پہلی وحی میں جو سب سے پہلا حکم آیا ہے وہ اللہ کے نام سے پڑھنے کا حکم ہے:{اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ(۱)} (العلق) ’’پڑھیے اپنے اُس رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔‘‘
اسی طرح سورۃ الرحمٰن میں فرمایا : {اَلرَّحْمٰنُ (1) عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ (2) خَلَقَ الْاِنْسَانَ (3) عَلَّمَہُ الْبَیَانَ (4)} ’’رحمٰن نے‘قرآن سکھایا ۔اُسی نے انسان کو بنایا۔اس کو بیان سکھایا۔‘‘
یعنی اسلامی نظامِ تعلیم میں اللہ کی معرفت، اللہ کے رسول ﷺ کی اطاعت اور تخلیق انسان کے مقصد کو اولین ترجیح حاصل ہے ۔ لہٰذا بنیادی چیز تعلیمی پالیسی ہے ۔ جب ہم اپنی تعلیمی پالیسی کا درست سمت میں تعین کرلیں گے اور یہ سمجھیں گے کہ اِس کے نتیجے میں مطلوبہ اہداف حاصل ہو جائیں گے تو اس کے بعد اگلے مراحل میں طے ہوگا کہ نصاب میں کیا چیزیں شامل کی جائیں ۔ جبکہ ہمارے ہاں تو تعلیمی پالیسی کی سمت کا تعین ہی نہیں ہو سکا ۔ ہمیں معلوم ہی نہیں کہ ہم کہاں جانا چاہ رہے ہیں ، جہاں جارہے ہیں، اس کا انجام کیا ہوگا۔ فی الحال تو ہماری تعلیمی پالیسی کا یہ مقصد بھی نظر نہیں آتا کہ ہمارے بچے سکولز ، کالجز ، یونیورسٹیز میں جاکر عصری علوم میں اتنی مہارت حاصل کریں کہ جدید ٹیکنالوجی اور ریسرچ میں آگے بڑھ سکیں اوراچھے، بااخلاق اور باکردار انسان بن جائیں ۔ ہاں بس اتنا ضرور نظر آتاہے کہ ہم اپنے بچوں کو پیسے کمانے کی مشین بنانا چاہتے ہیں۔ جب کوئی واضح اور بڑا ہدف ہی نہیں ہے تو پھرنصاب جو مرضی بنا لیں اس کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔
سوال: ہمارے ہاں جو بھی نئی حکومت آتی ہے وہ اپنی تعلیمی پالیسی دیتی ہے ، تعلیمی بجٹ میں اضافے کا اعلان بھی کیا جاتاہے لیکن صورتحال یہ ہے کہ دنیا بھر کی     ٹاپ رینکنگ کی 350  یونیورسٹیوں میں کوئی ایک بھی پاکستانی یونیورسٹی شامل نہیںہے ۔قائداعظم یونیورسٹی پاکستان کی ٹاپ رینکنگ یونیورسٹی ہے لیکن وہ بھی 381 نمبر پر آتی ہے ۔ ہماری تعلیمی پالیسیوں اور تعلیمی بجٹ میں  اضافے سے کوئی بہتری کیوں نہیں آرہی ؟
رضاء الحق: مغرب کی جن 350یونیورسٹیز کا آپ نے ذکر کیا وہاں بھی تعلیم کا کوئی اعلیٰ مقصد نہیں ہے ۔ زیادہ سے زیادہ دنیوی ترقی کا حصول عام مقصد ہے ، آخرت کی دائمی زندگی کا تصور اور کردارسازی اِس میں بھی شامل نہیں ہے ۔ اگر ایسا ہوتا تو آپ کو مغرب میں معاشرتی برائیاں دکھائی نہ دے رہی ہوتیں۔ اس سے بدتر حال ہمارے ہاں ہے کہ آخرت کو ترجیح بنانا تو دور کی بات ، دنیوی ترقی ، ریسرچ اور ٹیکنالوجی میں آگے بڑھنا بھی ہمارے تعلیمی اہداف میں شامل نہیں ہے ۔ حالانکہ ہمارے دین میں وحی کا آغاز ہی اللہ کے نام سے علم کے حصول کی تلقین سے ہوا ۔ جب ہم اس نکتے کو اپنی تعلیمی پالیسی کا محور و مرکز بنائیں گے تو کردارسازی بھی ہوگی اور ٹیکنالوجی میں بھی ترقی ہوگی ۔ مسلمانوں نے ابتدائی دور میں دونوں لحاظ سے ترقی کی ۔ علوم و فنون میں بھی آگے بڑھے اور اخلاق و کردار کی بھی عمدہ مثالیں قائم کیں ۔ بہت سی ایجادات اور دریافتیں مسلمانوں نے کیں ۔ زوال تب آیا جب ہم نے  اپنے معاشی ، سیاسی ، معاشرتی ، تعلیمی اور عدالتی نظام کو مغربی فکر اور سوچ کے تابع کردیا ۔ آج بھی ہم نے اولیول،   اے لیول کو مغربی معیار کے طور پر اپنا یا ہوا ہے حالانکہ مغرب میں اِن کی اہمیت پر سوال اُٹھ رہے ہیں ۔ اسی طرح ہم مغربی ماہرین تعلیم کو اپنے ہاں تعلیمی پالیسیاں اور نصاب ترتیب دینے کے لیے یا اساتذہ کو ٹریننگ دینے کے لیے بلاتے ہیں ، حالانکہ اُن کا اپنا نظام تعلیم سیکولر ہے جس میں خدا کا تصور ہے اور نہ ہی آخرت کا کوئی تصور ہے ، وہ دین کو تعلیم سے نکال چکے ہیں ۔ جب ایسے لوگوں سے ٹریننگ لے کر ہمارے اساتذہ آگے پڑھائیں گے تو پھر اس کے نتائج وہی نکلیں گے، جو آج ہمیں نظر آرہے ہیں ۔ پھر یہ کہ ہمارا نظام تعلیم بھی انگریزوں کا بنایا ہوا ہے ۔ انگریزوں کے یہاں آنے سے پہلے یہاں شرح خواندگی 100 فیصد تھی ۔ آج 60 فیصد بھی نہیں ہے ۔ 
ڈاکٹر انوارعلی:ترجیحات کا تعین بہت اہم ہے ۔ جو چیز آپ کوترقی دلاتی ہے وہ ہے : ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ ۔ ریسرچ اور تعلیم بھی لانگ ٹرم انوسٹمنٹ ہوتی ہے ۔ حکومت اس طرح ملک اور قوم کے بہتر مستقبل کے لیے نوجوانوں  پر خرچ کرتی ہے ۔ انہی نوجوانوں نے آگے جاکر ملک کی باگ ڈور سنبھالنا ہوتی ہے ۔ ہمارے ہاں اس انوسٹمنٹ کا کوئی تصور ہے ہی نہیں۔ اکثر ذہین اور باصلاحیت نوجوان اس لیے پیچھے رہ جاتے ہیں کہ ان کے پاس سرمایہ نہیں  ہوتا، وہ اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کر پاتے ۔ حتیٰ کہ سرکاری یونیورسٹیوں کے اخراجات بھی لوئر مڈل کلاس کے لوگ برداشت نہیں کر پاتے ۔ اس وجہ سے بھی نااہل لوگ آگے آجاتے ہیں اور باصلاحیت لوگ پیچھے رہ جاتے ہیں ۔ اسی طرح ریسرچ کے شعبے میں بھی حکومت کو بہت زیادہ انویسٹ کرنے کی ضرورت ہے ۔ عالمی سطح پر یونیورسٹی رینکنگ کا indicator ریسرچ آؤٹ پٹ ہوتا ہے۔ جب تک آپ کا ریسرچ آؤٹ پٹ نہیں ہوگا تو آپ رینکنگ میں پیچھے رہتے جائیں گے ۔ ایک نہایت اہم بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ ہمیں ترقی کے اپنے معیار طے کرنے ہوں گے ۔ اگر مغرب کی نقل کریں گے تو اس میں بے حیائی بھی ہے ، فحاشی ، عریانی ، بے شرمی اور الحاد وغیرہ بہت سی برائیاں بھی ہیں۔ اگر ہم مغربی تہذیب کو ترقی یافتہ سمجھ کر اپنے ہاں اپلائی کرنے کی کوشش کریں گے تو پھر وہی کچھ ہو گا جو آج ہمیں نظر آرہا ہے ۔پھر نہ اِدھر کے رہیں گے اور نہ اُدھر کے ۔ ہماری اپنی اقدار و روایات ہیں ،  حیاء اور ایمان کے تقاضے ہیں لہٰذا ہمیں اپنی اقدار و روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترقی کے معیار طے کرنے ہوں گے ۔ 
سوال:قرآن و سنت کی روشنی میں تعلیم کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے؟ کیا دینی اور دنیوی تعلیم کے لیے مدرسہ اور اسکول کو الگ الگ بنانا درست ہے یا یہ ایک ہی چھت کے نیچے ہونی چاہیے ؟
ڈاکٹر انوارعلی: جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے کہ ہمارے دین میں جو پہلی آیت نازل ہوئی اُس میں علم حاصل کرنے کا حکم ہے ۔ اس سے ہمارے دین میں علم کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے ۔ اسی طرح احادیث میں بھی تحصیل علم کی بہت زیادہ فضیلت بیان کی گئی ہے ۔ اسلام کے نظامِ تعلیم کا حتمی مقصد یہ ہے کہ ایک مسلمان اس قابل ہو جائے کہ وہ اپنے اللہ کو راضی کر سکے۔ ایک مسلمان کے لیے تو یہی سب سے اہم بات ہے ۔ اگر یہ مقصد مدنظر نہ ہو تو پھر اس کی پوری زندگی کسی کام کی نہیں ۔اس بے مقصد زندگی میں وہ جو کچھ بھی حاصل کرے گا سب یہیں  چھوڑ جائے گااور آخرت میں اس کا کوئی فائدہ اُس کو نہیں  ملے گا ۔ جہاں تک مدرسہ اور سکول کی بات ہے تو یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ پاکستان بننے کے بعد جو پہلا کام ہونا چاہیے تھا وہ یہ تھا ایک ایسا نظامِ تعلیم رائج کیا جاتا جس سے گزرنے کے بعد ایک پاکستانی بحیثیت مسلمان اپنے دینی علوم کے ساتھ ساتھ دنیوی علم بھی حاصل کر سکتا۔ سورۃ آل عمران میںاللہ تعالیٰ فرماتاہے :
{رَبَّـنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلًاج سُبْحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ(191)} ’’اے ہمارے ربّ! تو نے یہ سب کچھ بے مقصد توپیدا نہیں کیاہے۔تو پاک ہے (اس سے کہ کوئی عبث کام کرے)‘ پس تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے!‘‘ 
ڈاکٹراسراراحمدؒ  اس آیت کی تشریح میں بہت اہم نکتہ بیان کیا کرتے تھے کہ ریسرچ اور تحصیل علم کا حتمی مقصد اور نتیجہ یہ ہونا چاہیے کہ ایک شخص اس قابل ہو جائے کہ اپنے اللہ کو پہچان سکے اور اس کے بعد وہ اللہ کا بہترین بندہ بن کر اُسے راضی کرنے کے قابل ہو جائے ۔ اگر ایسا ہوگا تو وہ معاشرے میں بھی بہت مثبت رول ادا کر سکے گا ۔ لیکن ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم نے انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کے بعد بھی ان کا رائج کیا ہوا نظام جاری رکھا۔ پاکستان بننے کے بعد ہم نے مغربی تعلیم پر ہرسال کروڑوں روپے خرچ کیے مگر مدرسہ کو صرف چندوں پر چھوڑدیا ۔ یعنی حکومتوں نے دینی تعلیم سے نہ صرف منہ موڑ لیا بلکہ مدرسہ اور دینی تعلیم کو تحقیر کا نشانہ بنا کر اس کو لوئر کلاس کی تعلیم سمجھ لیا گیا ۔نتیجہ یہ نکلا کہ ہم ذہنی غلامی سے آج تک آزاد نہ ہو سکے ۔ اسلام کا وہ نظام تعلیم ہم نے چھوڑ دیا جو1300 سال سے رائج تھا جس میں تزکیہ نفس کا ایک پہلو ہوتا تھا ، استاد اور شاگرد کے درمیان ادب اور احترام کا رشتہ ہوتااور ایک اخلاقی اور شخصیت سازی کا ایک معیار ہوتا تھا اور پھر سند جاری کرنے کا ایک معیار تھا ، جس کی وجہ سے ہماری تاریخ میں بڑے نامور لوگ پیدا ہوئے ۔ یہ وہ لوگ تھے جن کے ایک ہاتھ میں قرآن ہوتا تھا اور دوسرے ہاتھ میں دنیا کو تسخیر کرنے کے لیے تلوار ہوتی تھی۔انہوں نے طب ، ریاضی ، فلکیات ، کیمسٹری اور فزکس میں مہارت حاصل کی ۔ وہی لوگ تھے جنہوں نے اس سائنس کی بنیاد رکھی جس کی بنیاد پر آج مغرب سورج چاند ستاروںپر کمند ڈال رہا ہے ۔ آج بھی ہمیں سکول اور مدرسہ کو ایک کرنے کی ضرورت ہے ۔ مدرسہ و سکول کے تصور نے ہمارے معاشرے میں جو تقسیم پیدا کردی ہے اُس کے بہت سے نقصانات ہیں ۔ 
سوال:نوجوان نسل کی کردار سازی کے لیے آپ ہمیں بطور ماہرِ تعلیم کیا مشورہ دیں گے۔ابتدا کہاں سے ہو،  کس عمر کے بچے کو سکول یا مدرسے میں داخل کرنا چاہیے اور اس کی تربیت اور کردار سازی میں والدین کا کتنا حصہ ہونا چاہیے اور اساتذہ کا کتنا حصہ ہونا چاہیے ؟
میاں محمد اکرم:بچے کی ابتدائی تعلیم و تربیت گھر میں ہی ہونی چاہیے جہاں 5 سال تک وہ ماں باپ کو دیکھ کر سیکھتا ہے اور اس کی ذہنی نشو و نما ہوتی ہے ۔ 5 سال کی عمر میں وہ اِس قابل ہو جاتاہے کہ وہ مدرسہ یا سکول میں جا کر سیکھ سکے ۔ ہمارے ہاں تین سال کے بچے کو بھی سکول میں بھرتی کر دیا جاتاہے جو کہ غلط طرزِعمل ہے ۔ بہتر یہی ہے کہ 5 سال تک آپ بچے کو گھر میںہی بنیادی اسلامی عقائد و اطوار سکھائیں ۔ ایمان داری ، سچائی ، احترام اور ادب کی باتیں سکھائیں ، نماز پڑھنا ، دعا مانگنا ، ذکر و اذکار کرنا سکھائیں ۔آج کے مغربی ممالک میں بھی 5 سال تک گھر میں بنیادی تعلیم و تربیت دی جاتی ہے ۔ ہم نے ظلم یہ کیا کہ 3 سال کے بچے کو سکول میں ڈال دیا اور پھر 5 سال کی عمر تک اُس کے قد کاٹھ سے بھی کتابوں کا بوجھ دگنا کر دیا کہ وہ اُس کا بوجھ اُٹھانے سے قاصر ہوتا ہے ۔ حکومت کی یہ ذمّہ داری ہے کہ وہ ایسا قانون بنائے کہ 5 سال سے کم عمر بچوں کو سکول بھیجنے پر پابندی ہو ۔والدین اور اساتذہ بچے کے لیے رول ماڈل ہوتے ہیں ، وہ جتنے اچھے ہوں گے اتنا ہی بچے کے ذہن اور کردار پر اچھا اثر پڑے گا ، اِس کے بعد معاشرہ اگر بُرا ہوگا تو بچے میں بھی برائی آئے گی ۔ آخر میں میڈیا کا کردار سب سے اہم ہے مگر آج ہم جانتے ہیں کہ میڈیا کس قدر بچوں کو بگاڑ رہا ہے ۔  خاص طور پر گھر میں ٹی وی پر بچے ڈرامے دیکھتے ہیں اور ان ڈراموں میں جب بے شرمی اور بے حیائی عام ہوتی ہے ، محبت کے نام پر غیر محرموں کے ساتھ تعلق ، کزنز کا آپس میں غیر شرعی تعلق اور یہ سب چیزیں دیکھ کر بچے کا کردار بھی منفی سانچے میں ڈھل جاتاہے ۔ سوشل میڈیا تو اِس سے بھی آگے نکل کر بچوں کے کردار اور نفسیات کو بگاڑ رہا ہے ۔ یہ ریاست کی ذِمّہ داری ہے کہ وہ ان سب چیزوں کو درست کرے ۔ ہمارے دینی حلقوں ، مذہبی اور دینی جماعتوں کو بھی خاص طور پر امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے فریضہ کی اہمیت کو اجاگر کرنا چاہیے اور اس حوالے سے عوام میں شعور بیدار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ 
ڈاکٹر انوارعلی: اللہ کے نبی ﷺکا ارشاد ہے کہ ماں کی گود سےگور تک علم حاصل کرو ۔ یہی سب سے بڑا اشارہ ہے کہ کسی بھی بچے کے لیے  پہلا انسٹیٹیوٹ اس کی ماں کی گود ہےجس کو ہم نے چھین لیا ہے ۔تہذیبی جنگ  نے ہمارے بچوں سے اُن کی مائیں چھین لی ہیں ، اب  سکولوں میں تنخواہ دار ٹرینرز ہوتی ہیں، جس طرح سرکس کے جانوروں کو اُچھلنا کودنا سکھایا جاتاہے بس یہی کچھ وہ سکھا رہی ہوتی ہیں ۔ بچوں کی تعلیم و تربیت میں جو ماں کا کردار تھا اُس کو ہمیں واپس لانا پڑے گا ۔ 
سوال: دنیا کے کامیاب تعلیمی ماڈلز میں سے ہم کیا سیکھ سکتے ہیں اور ہمارے یہاں خرابی نصاب میں ہے یا نظام میں ہے، تدریس میں ہے یا نیت اور ارادے میں ہے؟
رضاء الحق: کسی نہ کسی درجہ میں خرابی ان سب میں ہے لیکن ہم یہ دیکھیں کہ ہمارا دین ہمیں کیا رہنمائی دیتا ہے۔ ہمارا دین ایک مکمل نظام حیات ہے اور ہر شعبے کے متعلق رہنمائی دیتاہے ۔ اللہ پاک فرماتاہے :
’’اے ایمان والو!اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کےنقش قدم پر نہ چلو بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔‘‘(البقرہ :208)
اگر ہم مکمل دین کو اختیار نہیں کریں گے تو پھر شیطان کے نقش قدم پر چلیں گے ۔ اسلامی نظام تعلیم کو ہم نے چھوڑا تو پھر خرابیاں ہی خرابیاں پیدا ہوں گی ، غریب کے لیے تعلیم ، نصاب اور نظام الگ ہے ، امیروں کے لیے الگ ہے ۔ حالانکہ دنیا کے ہر ملک میں تعلیم سب کے لیے ایک جیسی اور برابر ہوتی ہے ، سیاسی اور معاشی نظام سب کے لیے یکساں ہوتاہے ۔ یہ نہیں ہوتا کہ ریاست کہے کہ ملک کے جس حصے میں جس طرح کا چاہو معاشی نظام قائم کرلو ، جس طرح کا چاہو سیاسی نظام قائم کرلو ، چاہو تو خلافت قائم کرلو ، چاہو تو بادشاہت قائم کرلو ۔ بلکہ ریاست ہر جگہ ملک میں ایک جیسے نظام کا تقاضا کرتی ہے تو پھر تعلیم کے معاملے میں ہمارے ہاں الگ الگ نظام اور معیارات کیوں ہیں ؟  یہ خرابی اسلامی نظام کو چھوڑنے کی وجہ سے آئی ہے اور ایک خرابی سے پھر کئی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں جن کو آج ہم بھگت رہے ہیں ۔اسی طرح معاشی ، معاشرتی اور سیاسی سطح پر جو خرابیاں پیدا ہورہی ہیں وہ بھی اسی غلطی کا نتیجہ ہیں کہ ہم نے مغرب کے نظام کو اپنے اوپر مسلط کر لیا۔ حالانکہ یہ نظام ہمارے لیے مفید ہو ہی نہیں سکتا ۔  بحیثیت مسلمان ہمارا دین ہم سے ایمان و حیاء کا تقاضا کرتاہے ، حلال اور حرام کے درمیان فرق کا تقاضا کرتاہے، آخرت کی جوابدہی کا احساس دلاتاہے جبکہ مغربی نظام میں یہ سب چیزیں نہیں ہیں ۔ وہاں ایمان کی بجائے الحاد ہے اور حیاء کی بجائے بے حیائی اور بے راہروی ہے اور اِسی وجہ سے آج ہمارے تعلیمی ادارے اِن برائیوں کا گڑھ بن چکے ہیں ۔ اِسی طرح ہمارا دین عورت اور بچوں کی کفالت کی ذِمّہ داری مرد پر ڈالتا ہے تاکہ عورت کو کمانے کے لیے گھر سے باہر نہ جانا پڑے ۔ اگر اِس فطری قانون پر عمل ہو تو زنااور عورت کے استحصال کے بہت سے راستے خود بخود بند ہو جاتے ہیں ۔ جیسا کہ اللہ بھی یہی حکم دیتاہے : {لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓی} (بنی اسرائیل: 32) ’’ زنا کے قریب بھی مت جائو‘‘
بہرحال اسلام کا جو سوشیو پولیٹیکل اکنامک سسٹم ہے وہ زندگی کے ہر شعبہ میں ایسے فطری قوانین عطا کرتاہے کہ ہر سطح پر برائی کا خاتمہ ہو سکتاہے ۔ مغربی نظام میں یہ خاصیت نہیں ہے ۔ 
میاں محمد اکرم: ہمارے ہاں جو نظامِ تعلیم رائج ہے اُس میں صرف یہ ہے کہ استاد پڑھا رہا ، طالب علم سن رہا ہے ، اس کے بعد نوٹس ہیں ، رٹّا ہے اور پچھلے 10 سال کےپیپرز میں سے ہی پیپرز تیار ہوتا ہے ۔ وہی چند مخصوص سوالات پر رٹا لگا کر طالب علم صرف پاس ہونے کی کوشش کرتاہے ۔ حالانکہ دنیا میںتعلیمی معیار کے لحاظ سے جو سرفہرست ممالک ہیں (فن لینڈ ، سنگا پور ، جاپان ) ان میں رٹا سسٹم نہیں ہے ، وہاں پر ہوم ورک کا تصور بھی نہیں ہے ، کتابوں کا انبار بھی اتنا نہیں ہوتا کہ طالب علم اُن کواٹھا ہی نہ سکے ۔اس کے برعکس وہاں بچے کو تحقیق کرنے ، سوالات اُٹھانے ، ہر چیز کے منفی اور مثبت پہلوپر غور کرنے کا موقع دیا جاتاہے تاکہ بچہ خود ذہن کااستعمال کرے ، غوروفکر کرے اور نتائج اخذ کرے ۔ اِس طرح بچے کے اندر سوچ اور فکر پیدا ہوتی ہے ، وہ تحقیق کرتاہے اور دنیا میں آگے بڑھتا ہے ، دنیا میں جن قوموں نے بھی ترقی کی ہے اُنہوں نے اسی طریقے سے کی ہے ۔ رٹا لگانے سے بچہ پاس تو ہو جائے گا مگرتحقیق و تدبر میں خالی ہوگا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت دنیا میں 90 فیصد ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ وہ 23 ممالک کر رہے ہیں جو سب سے زیادہ ترقی یافتہ ہیں ۔ دنیا کی 84 فیصدتجارت اُن کے ہاتھ میں ہے ۔  اُنہوں نے اعلیٰ تعلیم کو انڈسٹری سے جوڑ دیا ہے ۔ انڈسٹری انوسٹمنٹ کرتی ہے ، نوجوان ریسرچ کرتے ہیں ، نئی سے نئی چیزیں ایجاد کر رہے ہوتے ہیں، دنیا خریدتی ہے ، اُن کی معیشت بڑھتی ہے ، نوجوانوں کے اندر جذبہ بھی پیدا ہوتا ہے اور انڈسٹری بھی ترقی کرتی ہے ۔ ہمارے لیے   کردار سازی اور معاشرتی اقدار کو اختیار کرنا بھی ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ دنیا کے ساتھ چلنے کے لیے ان چیزوں کو بھی سیکھنے کی ضرورت ہے ۔ اللہ پاک حکم دیتا ہے :
{وَاَعِدُّوْا لَہُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ } (الانفال:60)’’اور تیار رکھو اُن کے (مقابلے کے ) لیے اپنی استطاعت کی حد تک طاقت۔ ‘‘
قوت صرف اسلحہ سے نہیں آئے گی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی میں بھی ترقی کرنا ہوگی ۔ ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ میں آگے بڑھنا ہوگا ۔ 
سوال:ہم اپنے نصابِ تعلیم میں کیا تبدیلیاں لائیں کہ  ہمارا طالبِ علم واقعتاً کچھ سیکھ سکے اور دنیا میں پاکستان کا نام روشن کر سکے ؟
ڈاکٹر انوارعلی: اس وقت ہمارا نوجوان بڑے شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہےاور اس ذہنی دباؤ کی وجہ یہ ہے کہ والدین نے بچوں کو صرف ایک ہدف دیا ہوا ہے کہ پڑھ لکھ کر زیادہ سے زیادہ پیسہ کماؤ ۔ جبکہ دوسری طرف ہمارا نظامِ تعلیم رٹے سسٹم والا ہے ، ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ والا تو ہے نہیں کہ بچے پریکٹیکلی کچھ سیکھ کر آگے بڑھیں ، ایجادات کریں اور معاشی ترقی کا ذریعہ بنیں ۔ جبکہ ہمارا نوجوان رٹا سسٹم سے پاس تو ہو جاتاہے مگر عملی طور پر کچھ نہیں کرپاتا تو پھر مایوسی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتاہے ۔ لہٰذا سب سے پہلے تعلیم کا مقصد واضح ہونا چاہیے ۔ اس کے بعد نصاب میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ چین نے پچھلے دنوں 12 ہزار آن گوئنگ پروگرامز ختم کر دئیے اور 10 ہزار نئے پروگرامز شروع کیے ۔انہوں نے اپنی ضروریات اور مارکیٹ کو دیکھا اور اس کے مطابق فوری تبدیلی کر دی ۔ ہم اتنے غلام ابن غلام ہیں کہ   سالہا سال سے مغرب کا دیا ہوا نظام لے کر چل رہے ہیں ۔ ریسرچ کے معاملے میں بھی ہم نے مغرب پر مکمل انحصار کیا ہوا ہے اور اپنی انڈسٹری بھی بند کر دی ہے ۔ جو بھی ٹیکنالوجی ،مصنوعات ، ادویات ، آئیڈیاز وہاں سے آتے ہیں ہم ان کو اپنا نے پر مجبور ہیں ۔ زراعت میں ترقی کے لیے بھی ہم مغرب کے محتاج ہیں ، ہماری یونیورسٹیوں نے  ماہرین پیدا کرنے بند کردئیے۔ ان تمام شعبوں میں ہمیں اپنی ضروریات کے مطابق خود ریسرچ اور ڈویلپمنٹ کرنے کی ضرورت ہے ۔ پھر ہمارا نصاب بھی وہی 50سال پہلے والا ہے ، وہی چیزیں اب بھی پڑھائی جارہی ہیں ، جب رٹا لگا کر ہمارا نوجوان پا س ہو جاتاہے لیکن عملی میدان میں اُترتے اُسے اندازہ ہو جاتا ہے کہ وہ 50 سال پیچھے ہے تو ذہنی دباؤ اور مایوسی کا شکار ہو جاتاہے۔ پھر جب ہمارا اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان دیکھتا ہے کہ اتنی محنت کرنے اور پڑھنے کے باجود میں کچھ نہیں کر پار ہا جبکہ ایک ان پڑھ اور کم پڑھا لکھا ٹک ٹاکر ، یوٹیوبریا کھلاڑی اربوں میں کما رہا ہے تو اس کاتعلیم اور سنجیدگی پر سے اعتماد ویسے ہی اُٹھ جاتا ہے۔ اسی وجہ سےآج ہمارے ہاں رول ماڈلز اور سٹارز اعلیٰ تعلیم یافتہ ، علماء ، فضلاء ، حکماء ، پروفیسرز ، محققین اور مصنفین نہیں بلکہ جاہل اور مسخرے ٹک ٹاکر ، یوٹیوبر ، ادارہ کار یا کھلاڑی بن گئے ہیں ۔ جبکہ رسول اللہ ﷺنے تو اسٹارز اپنے صحابہ کرام؇ کو کہا تھا۔ لہٰذا ہمیں اپنے نصاب کو بدلنے کے ساتھ ساتھ سوچ اور پالیسی میں بھی تبدیلی لانی ہوگی ،رٹا سسٹم کو ختم کرکے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی ، اساتذہ ، پروفیسرز ، محققین اور سائنسدانوں کو عزت اور احترام دینا ہوگا ، انہیں سہولیات فراہم کرنا ہوں گی ۔ حکومت اور ریاست کو بھی اپنی ذمّہ داریاں پوری کرنا ہوں گی اور تعلیمی اداروں کو بھی اپنا معیار بہتر بنانا ہوگا۔