(حصّہ اوّل)
صحابہ کرام ؓ کو عظمتیں کیوں ملیں ؟
قاری احمد صدیق
انسانی تاریخ میں بے شمار قومیں آئیں، عظیم سلطنتیں قائم ہوئیں، نامور بادشاہ، فلسفی، جرنیل اور مصلح پیدا ہوئے، لیکن اگر اللہ تعالیٰ نے کسی جماعت کو اپنے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی رفاقت کے لیے منتخب فرمایا، ان کی تعریف اپنی آخری کتاب میں نازل فرمائی، ان سے اپنی رضا کا اعلان کیا، ان کے ایمان کی گواہی دی، اُن کے لیے جنت کی بشارت سنائی، اور قیامت تک آنے والی اُمّت کو اُن کے نقشِ قدم پر چلنے کا حکم دیا، تو وہ صرف صحابہ کرام ؓ کی مبارک جماعت ہے۔
یہ وہ مقدس نفوس ہیں جن کی آنکھوں نے جمالِ مصطفیٰ ﷺ کا دیدار کیا، جن کے کانوں نے وحیِ الٰہی کو براہِ راست رسول اللہ ﷺ کی زبانِ مبارک سے سنا، جن کے دل نورِ ایمان سے منور ہوئے، جن کے ہاتھوں نے اسلام کا پرچم بلند کیا، اور جن کے کندھوں پر اللہ تعالیٰ نے قیامت تک آنے والی اُمّت تک دین پہنچانے کی ذِمّہ داری رکھی۔
آج ہمارے ہاتھوں میں اگر قرآنِ مجید ہے، ہماری زبانوں پر کلمۂ توحید ہے، ہماری مساجد میں اذان کی صدائیں گونج رہی ہیں، اور ہمیں نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج اور سنت ِ رسول ﷺ کا علم حاصل ہے، تو یہ سب اللہ تعالیٰ کے بعد انہی پاکیزہ نفوس کی عظیم قربانیوں، اخلاص اور امانت داری کا ثمرہ ہے۔
یہ سوال نہایت اہم ہے کہ آخر صحابہ کرام ؓ کو وہ عظمت کیوں ملی جو کسی اور اُمّت کو نصیب نہ ہوئی؟ کیا صرف اس لیے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں پیدا ہوئے تھے؟ یا صرف اس لیے کہ انہیں آپ ﷺ کی صحبت حاصل ہوئی؟
نہیں! صحبت یقیناً سب سے بڑی سعادت تھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اُنہیں صرف صحبت کی وجہ سے نہیں، بلکہ اُن اوصاف کی وجہ سے عظمت عطا فرمائی جنہیں انہوں نے اپنی زندگی کا شعار بنایا۔ وہ ایمان میں سب سے آگے تھے، محبت ِ رسول ﷺ میں بے مثال تھے، اطاعت میں کامل تھے، اخلاص میں یکتا تھے، قربانی میں بے نظیر تھے، صبر و استقامت میں پہاڑ تھے، عبادت میں نمونہ تھے، اور دین کی حفاظت و اشاعت میں اپنی جانیں کھپا دینے والے تھے۔
صحابہ کرام ؓ کا تعارف
لفظ ’’صحابی‘‘ عربی زبان کے لفظ ’’صحبت‘‘ سے مشتق ہے، جس کے معنی ساتھ رہنے، ہم نشینی اور رفاقت کے ہیں۔
لغت کے اعتبار سے صحابی ہر اُس شخص کو کہا جا سکتا ہے جس نے کسی دوسرے کے ساتھ تھوڑی یا زیادہ دیر رفاقت حاصل کی چاہے وہ مختصر ہی کیوں نہ ہو۔
اصطلاحی تعریف
امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ ’’الإصابة في تمييز الصحابة‘‘میں سب سے زیادہ جامع اور راجح تعریف بیان کرتے ہیں:
’’الصحابي من لقي النبي صلى الله عليه وسلم مؤمنًا به، ومات على الإسلام‘‘
یعنی: صحابی وہ شخص ہے جو نبی کریمﷺ سے اس حال میں ملا کہ آپؐ پر ایمان لایا ہو، اور اسلام ہی پر اس کی وفات ہوئی ہو۔
اس تعریف میں وہ تمام صحابہ شامل ہیں جنہوں نے تھوڑی یا زیادہ مدت صحبت پائی، روایت کی ہو یا نہ کی ہو، غزوات میں شریک ہوئے ہوں یا نہ ہوئے ہوں، بشرطیکہ ایمان پر وفات پائی ہو۔
صحابہ کرام کا مقام قرآن و سنت کی روشنی میں
صحابہ کرامj کا مقام کسی مؤرخ یا عالم نے متعین نہیں کیا، بلکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے متعین فرمایا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان سے اپنی رضا کا اعلان فرمایا
ارشادِ باری تعالیٰ ہے :{وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُہٰجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُمْ بِاِحْسَانٍ لا رَّضِیَ اللہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ وَاَعَدَّ لَہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ اَبَدًاط} (سورۃ التوبہ: 100)’’مہاجرین و انصار میں سے سبقت لے جانے والے اور جو اخلاص کے ساتھ ان کی پیروی کریں، اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے، اور ان کے لیے ہمیشہ رہنے والی جنتیں تیار کر رکھی ہیں۔‘‘
یہ آیت صحابۂ کرام ؓ کی عظمت کی سب سے بڑی دلیل ہے، کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا اور جنت کی بشارت عطا فرمائی۔
اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی گواہی دی
ارشادِ ربانی ہے:{لَقَدْ رَضِیَ اللہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ } (سورۃ الفتح: 18) ’’یقیناً اللہ ان مومنوں سے راضی ہوگیا جب وہ درخت کے نیچے آپ سے بیعت کر رہے تھے۔‘‘
پھر فرمایا:{ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِہِمْ}’’اللہ نے ان کے دلوں کا اخلاص جان لیا۔‘‘
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے باطن کی پاکیزگی کی گواہی ہے۔
صحابہ کے اوصاف خود قرآن نے بیان کیے
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:{مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ ط وَالَّذِیْنَ مَعَہٓٗ اَشِدَّآئُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآئُ بَیْنَہُمْ تَرٰىہُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَّـبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللہِ وَرِضْوَانًاز}(سورۃ الفتح: 29) ’’محمد(ﷺ) اللہ کے رسول ہیں۔ اور جو ان کے ساتھ ہیں‘ وہ کافروں پر بہت بھاری اور آپس میں بہت رحم دل ہیں‘تم دیکھو گے انہیں رکوع کرتے ہوئے‘ سجدہ کرتے ہوئے ‘ وہ (ہر آن) اللہ کے فضل اور اُس کی رضا کے متلاشی رہتے ہیں۔‘‘
اس آیت میں صحابہ کرام ؓ کے پانچ عظیم اوصاف بیان ہوئے:(1)کفار کے مقابلے میں مضبوط۔ (2)آپس میںرحم دل۔(3)عبادت گزار۔ (4)اخلاص والے۔ (5)اللہ کی رضا کے طالب۔
رسول اللہ ﷺ نے انہیں بہترین امت قرار دیا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:((خيرالناس قرني، ثم الذين يلونهم، ثم الذين يلونهم)) ’’سب سے بہترین لوگ میرے زمانے کے ہیں، پھر ان کے بعد والے، پھر ان کے بعد والے۔‘‘(متفق علیہ)
صحابہ کی محبت اہلِ سنت والجماعت کے عقیدے کا حصہ ہے
اہل ِ سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ تمام صحابۂ کرام ؓ سے محبت کی جائے، اُن کا احترام کیا جائے، اُن کے لیے دعائے مغفرت کی جائے، اور ان کے باہمی اختلافات میں زبان کو محفوظ رکھا جائے۔
اِس عقیدے کی بنیاد قرآن کریم ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: {وَالَّذِیْنَ جَآئُ وْ مِنْ م بَعْدِہِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا} (سورۃ الحشر: 10)’’اور جو ان کے بعد آئے وہ کہتے ہیں: اے ہمارے رب! ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو بخش دے جو ایمان میں ہم سے پہلے گزر چکے، اور ہمارے دلوں میں اہلِ ایمان کے لیے کوئی کینہ نہ رکھ۔‘‘
امام طحاویؒ فرماتے ہیں:’’ہم رسول اللہ ﷺ کے تمام صحابہ کرام ؓ سے محبت رکھتے ہیں، کسی کی محبت میں غلو نہیں کرتے اور کسی صحابی سے برأت اختیار نہیں کرتے۔‘‘ ( العقيدہ الطحاوية )
امام احمد بن حنبلؒ فرماتے ہیں:’’اہل ِسنت کا طریقہ یہ ہے کہ صحابۂ رسول ﷺ کی خوبیوں کا ذکر کیا جائے اور اُن کی لغزشوں پر زبان بند رکھی جائے۔‘‘ ( أصول السنة للإمام أحمد )
اسی طرح امام ابو زرعہ رازیؒ فرماتے ہیں:’’جب تم کسی شخص کو صحابۂ کرام ؓ میں سے کسی کی تنقیص کرتے دیکھو تو جان لو کہ وہ گمراہ ہے؛ کیونکہ وہ دراصل دین کے اصل ناقلین کو مجروح کرنا چاہتا ہے۔‘‘ ( خطیب بغدادی، الكفاية في علم الرواية : 97)
جس جماعت سے اللہ راضی ہو، جس کی تعریف قرآن کرے، جسے رسول اللہ ﷺ ’’خیر القرون‘‘ قرار دیں، اور جس کے ذریعے ہمیں قرآن و سنت ملے، اس جماعت سے محبت صرف ایک تاریخی یا جذباتی مسئلہ نہیں، بلکہ ایمان، شریعت اور اہلِ سنت کے عقیدے کا تقاضا ہے۔ اسی بنیاد پر اب ہم یہ جانیں گے کہ آخر وہ کون سے اوصاف تھے جن کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے صحابۂ کرام ؓ کو یہ عظیم مرتبہ عطا فرمایا؟
صحابہ کرام ؓ کو عظمتیں کیوں ملیں
اللہ تعالیٰ نے خود انہیں اپنے نبی ﷺ کی رفاقت کے لیے منتخب فرمایا۔
اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کا انتخاب خود فرمایا، اور اسی طرح انبیاء کے ساتھیوں کا انتخاب بھی اپنی حکمت سے کیا۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :{اَللہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہٗ ط}(الانعام:124) ’’اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت کا کام کس سے لے اور کس طرح لے!‘‘
سیدنا عبداللہ بن مسعودi فرماتے ہیں:’’اللہ تعالیٰ نے بندوں کے دلوں میں دیکھا، تو محمد ﷺ کا دل سب سے افضل پایا، پھر آپؐ کے بعد بندوں کے دلوں میں دیکھا تو صحابہ کرامj کے دل سب سے بہتر پائے، لہٰذا انہیں اپنے نبی کے وزیر اور دین کے مددگار بنایا۔‘‘(مسند أحمد )
اس اثر کو امام ابن تیمیہ، ابن قیم اور علامہ البانی رحمہم اللہ نے قابلِ حجت قرار دیا ہے۔
یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ جس جماعت کو اللہ چن لے، پھر اس کے بارے میں ہمارا معیار اپنی رائے نہیں بلکہ اللہ کا فیصلہ ہوگا۔
انہوں نے ایمان اُس وقت قبول کیا جب ایمان لانا جان ہتھیلی پر رکھنے کے مترادف تھا۔
آج مسلمان گھر میں پیدا ہونا آسان ہے، لیکن مکہ کے ابتدائی دور میں مسلمان ہونا گویا پورے عرب کی دشمنی مول لینا تھا۔
حضرت بلالؓ کو تپتی ریت پر لٹایا گیا، سینے پر پتھر رکھا گیا، مگر زبان پر ایک ہی کلمہ تھا:’’أحد، أحد‘‘
حضرت خباب ؓ کی پیٹھ کو دہکتے انگاروں پر جلایا گیا۔
حضرت سمیہؓ نے اسلام پر جان دے دی اور اسلام کی پہلی شہیدہ بنیں۔
یہ وہ ایمان تھا جو راحت میں نہیں، آزمائش میں ثابت ہوا۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
{مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاہَدُوا اللہَ عَلَیْہِ ج} (الاحزاب:23)’’مومنوں میں ایسے مرد ہیں جنہوں نے اللہ سے کیا ہوا عہد سچا کر دکھایا۔‘‘
انہوں نے دنیا پر آخرت کو ترجیح دی۔
ہجرت صرف شہر بدلنے کا نام نہیں تھا، بلکہ پوری زندگی بدل دینے کا نام تھا۔
سیدنا صہیب رومی ؓ جب ہجرت کے لیے نکلے تو کفار نے راستہ روک لیا۔
انہوں نے فرمایا:’’اگر میں اپنا سارا مال تمہیں دے دوں تو مجھے جانے دو گے؟‘‘
انہوں نے کہا: ہاں۔
صہیبؓ نے سارا مال چھوڑ دیا اور مدینہ روانہ ہوگئے۔
رسول اللہ ﷺ نے انہیں دیکھ کر فرمایا:((ربح البيع أبا يحيى))’’اے ابو یحییٰ! تمہارا سودا کامیاب ہوگیا۔‘‘(مستدرک حاکم )
صحابۂ کرامjکو عظمت اس لیے ملی کہ ان کی محبتِ رسول ﷺ بے مثال تھی۔
دنیا میں محبت کے بڑے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں، مگر صحابۂ کرامj کی محبت محض جذباتی نہیں تھی، بلکہ اطاعت، قربانی اور جان نثاری کی شکل میں ظاہر ہوئی۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:{اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِہِمْ}(الاحزاب:6)’’نبی مؤمنوں پر ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں۔‘‘
صحابہ کرام ؓ نے اس آیت کو صرف پڑھا نہیں، بلکہ اپنی زندگی میں نافذ کیا۔
حضرت زید بن دَثِنَّہ کو جب مشرکین شہید کرنے کے لیے حرم سے باہر لائے تو ابو سفیان (اسلام لانے سے پہلے)نے پوچھا:’’کیا تم پسند کرو گے کہ اس وقت محمد ﷺ تمہاری جگہ ہوں اور تم اپنے گھر میں آرام سے بیٹھے ہو؟‘‘
حضرت زید ؓ نے جواب دیا:’’اللہ کی قسم! میں یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ رسول اللہ ﷺ کے قدم مبارک میں ایک کانٹا بھی چبھ جائے اور میں اپنے گھر میں آرام سے بیٹھا رہوں۔‘‘
ابو سفیان نے کہا:’’میں نے دنیا میں کسی کو کسی سے اتنی محبت کرتے نہیں دیکھا جتنی محمد ﷺ کے صحابہ ؓ ان سے کرتے ہیں۔‘‘( السيرة النبوية لابن هشام 3/169)
غزوۂ اُحد میں جب دشمن کا حملہ شدید ہوا تو حضرت طلحہؓ رسول اللہ ﷺ کے سامنے ڈھال بن گئے۔ تیر اپنے جسم پر لیتے رہے، یہاں تک کہ اُن کا ہاتھ شدید زخمی ہو گیا۔
نبی ﷺ نے فرمایا: ((أوجب طلحة)) ’’طلحہؓ نے (اپنے لیے) جنت واجب کر لی۔‘‘( سنن الترمذی )
جس دل میں رسول اللہ ﷺ کی محبت سب سے بڑھ کر ہوگی، اللہ تعالیٰ اُسے دارین کی عزت عطا فرمائے گا۔
صحابہ کرام ؓ کی کامل اطاعت اور ’’سمعنا وأطعنا‘‘ کے جذبے
صحابہ کرام ؓ کا امتیاز یہ تھا کہ وہ حکم سن کر بحث نہیں کرتے تھے، بلکہ فوراً عمل کرتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:{اِنَّمَا کَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْٓا اِلَی اللہِ وَرَسُوْلِہٖ لِیَحْکُمَ بَیْنَہُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَاط وَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(51)}(النور) ’’حقیقی مؤمنین کو تو جب اللہ اور اُس کے رسولؐ کی طرف بلایا جاتا ہے کہ وہ ان کے مابین فیصلہ کریں تو ان کا قول بس یہی ہوتا ہے کہ ہم نے سنا اور ہم نے مانا!اور وہی لوگ ہیں فلاح پانے والے۔‘‘
جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو مدینہ میں اعلان ہوا۔
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں:’’لوگ شراب پی رہے تھے، اچانک ایک منادی نے حرمت کا اعلان کیا، تو صحابہ کرامj نے فوراً برتن الٹ دیے، شراب بہا دی گئی، یہاں تک کہ مدینہ کی گلیوں میں شراب بہنے لگی۔‘‘(متفق علیہ)
کسی نے یہ نہیں کہا:
(1)پہلے مرحلہ وار چھوڑتے ہیں۔(2)پہلے موجود شراب ختم کر لیتے ہیں۔(3)پہلے نقصان کا حساب کر لیتے ہیں۔
بلکہ صرف ایک جواب تھا: ’’سمعنا وأطعنا۔‘‘
اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے سامنے اپنی خواہش، عقل اور رائے کو تابع کرنا ہی کامیابی کا راستہ ہے۔
صحابۂ کرام ؓ کو عظمت اس لیے ملی کہ انہوں نے اللہ کی راہ میں بے مثال قربانیاں دیں۔
صحابہ کرام ؓ نے صرف زبان سے اسلام قبول نہیں کیا بلکہ اپنے مال، جان، وقت، وطن اور خاندان سب کچھ اللہ کے لیے قربان کر دیا۔
اللہ تعالیٰ نے مہاجرین کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا:{لِلْفُقَرَآئِ الْمُہٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِہِمْ وَاَمْوَالِہِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللہِ وَرِضْوَانًا} (الحشر:8) ’’یہ مال ان مہاجرین کے لیے بھی ہے جو اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے نکال دئیے گئے، وہ صرف اللہ کا فضل اور اس کی رضا چاہتے ہیں۔‘‘
اور انصار کے بارے میں فرمایا:
{وَیُـؤْثِرُوْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ وَلَـوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌط} (الحشر:9)’’وہ اپنی ضرورت کے باوجود دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں۔‘‘
غزوۂ تبوک کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے صدقہ دینے کی ترغیب دی۔ حضرت ابو بکر ؓ اپنا سارا مال لے آئے۔
نبی ﷺ نے پوچھا:’’اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا؟‘‘
عرض کیا:’’اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو۔‘‘(سنن ابن دائود)
حضرت عمرؓفرماتے ہیں:’’میں نے سوچا آج ابو بکر سے آگے بڑھ جاؤں گا، مگر وہ پھر بھی مجھ سے آگے نکل گئے۔‘‘
صحابہ کرامؓ کی عظمت کا راز صرف ایمان نہیں، بلکہ اللہ کی رضا کے لیے ہر چیز قربان کرنے کا جذبہ تھا۔
صحابہ کرامؓ کو عظمت اس لیے ملی کہ اُن کا اخلاص بے مثال تھا
معزز مسلمانو!اللہ تعالیٰ کے ہاں عمل کی قدر اس کی ظاہری مقدار سے نہیں، بلکہ نیت اور اخلاص سے ہوتی ہے۔ صحابۂ کرامj کی زندگی کا سب سے نمایاں وصف یہی تھا کہ وہ ہر عمل صرف اللہ کی رضا کے لیے کرتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:{وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ } (البینہ:5)’’انہیں صرف یہی حکم دیا گیا تھا کہ خالص اللہ ہی کی عبادت کریں۔‘‘
مہاجرین کے بارے میں فرمایا:{یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللہِ وَرِضْوَانًا} (الحشر:8)وہ صرف اللہ کا فضل اور اس کی رضا چاہتے ہیں۔‘‘
جب یہ آیت نازل ہوئی:{لَــنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ط}(آل عمران: 92) ’’تم ہرگز نہیں پہنچ سکتے نیکی کے مقام کو جب تک کہ خرچ نہ کرو اس میں سے جو تمہیں پسند ہے۔‘‘
تو حضرت ابو طلحہؓ فوراً حاضر ہوئے اور عرض کیا: ’’یارسول اللہ! میرا سب سے محبوب مال بیرحاء کا باغ ہے، میں اُسے اللہ کی رضا کے لیے صدقہ کرتا ہوں۔‘‘
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:((بَخٍ بَخٍ، ذَلِكَ مَالٌ رَابِح)) ’’واہ! یہ بڑا نفع بخش مال ہے۔‘‘(متفق علیہ)
آج ہم نیکی بھی کرتے ہیں تو تعریف چاہتے ہیں، تصویر چاہتے ہیں، شہرت چاہتے ہیں؛ جبکہ صحابہ کرامؓ صرف ایک چیز چاہتے تھے: اللہ کی رضا۔ یہی اخلاص اُن کی عظمت کا راز تھا۔ (جاری ہے)