خواتین کی تعلیم کی اہمیت اور مطلوبہ لائحہ عمل(1)
ثریا بتول
انسانی معاشرہ کی تعمیر و ترقی کے لیے تعلیم و تربیت، علم و آگہی اور شعور بنیادی اہمیت کے حامل ہیں، دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ طبقہ نسواں معاشرے کا کم و بیش نصف حصّہ ہیں۔ لہٰذا اس طبقہ نسواں کی تعلیم و تربیت معاشرے کی صلاح و فلاح کے لیے از بس ضروری اور ناگزیر ہے۔
لفظ تعلیم و تربیت دو اجزا سے مرکب ہے۔ ایک تعلیم، یعنی زندگی گزارنے کے لیے بنیادی اوصاف کا شعور دینا، سکھانا، پڑھانا، معلومات بہم پہنچانا اور دوسرا لفظ 'تربیت ہے جس سے مراد پرورش کرنا، اچھی عادات،یعنی فضائل اخلاق سکھانا اور رذائل اخلاق سے بچانا اور بچوں میں خدا خوفی اور تقویٰ پیدا کرنا ہے۔ لہٰذا تعلیم اور تربیت دونوں اسلام میں بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔
اسلام کانکتہ نظر
اسلام نے علم اور تقویٰ کو یعنی تعلیم و تربیت کو ابتدا ہی سے بنیادی اہمیت دی ۔ چونکہ شریعت اسلامیہ نے مرد و عورت دونوں پریکساں حقوق و فرائض عائد کئے ہیں اور دونوں ہی اپنے فرائض کو پورا کرنے کے لیے یکساں مکلف اور ذِمّہ دار ہیں۔ یہ واضح امر ہے کہ جب تک اپنے فرائض سے متعلق کماحقہ واقفیت نہ ہو،کوئی اپنے فرائض سے متعلق صحیح طور پر عہدہ برآ نہیں ہوسکتا، لہٰذا جب تک علم دین حاصل نہ کیا جائے تب تک دین کے احکام پورا کرنا ناممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دین اسلام نے حصولِ علم کو مرد وعورت دونوں کے لیے یکساں لازمی قرار دیا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے :
((طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ)) (طبرانی)’’یعنی ہر مسلمان مرد (ا ورعورت) پر علم حاصل کرنا فرض ہے۔‘‘
قرآن کریم اور احادیث ِ نبویہ میں علم کی بے مثال فضیلت بیان کی گئی ہے بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں حصولِ علم سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔ قرآنِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے:
{اِنَّمَا یَخْشَی اللہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُاط} (فاطر:28) ’’درحقیقت اللہ کے بندوں میں سے صرف علم رکھنے والے لوگ ہی اس سے ڈرتے ہیں۔‘‘
آقاے نامدارؐ پر جو پہلی وحی نازل ہوئی اس کا آغاز بھی لفظ اقرأ(یعنی پڑھو) سے ہوا تھا۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ علم والے لوگوں کا مقابلہ علم سے بے بہرہ جاہل لوگ کیسے کرسکتے ہیں۔ اِس لیے اسلام نے حصول علم کی بہت تاکید کی۔ مثلاً قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے :
{قُلْ ہَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَالَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ ط}(الزمر:9)’’ان سے پوچھو! کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے دونوں کبھی یکساں ہوسکتے ہیں۔‘‘
مندرجہ ذیل ارشادِ نبوی حدیث کی متعدد کتب میں موجود ہے :
’’عبادت گزار کے مقابلے میں عالم کو وہی فضیلت حاصل ہے جو چودہویں رات کے چاند کو عام تاروں پر ، علماء انبیاء کے وارث ہیں، کیونکہ انبیاء نے ترکہ میں درہم و دینار نہیں چھوڑے بلکہ علم چھوڑا ہے۔ سو جس نے علم حاصل کرلیا اُس نے نبوی ترکہ میں سے وافر حصہ حاصل کرلیا۔‘‘(رواہ الترمذی)
نیز ارشادنبویﷺ ہے:
’’عبادت گزار کے مقابلے میں عالم کو وہی فضیلت حاصل ہے جو مجھے تم میں سے ادنیٰ ترین شخص کے مقابلے میں حاصل ہے۔‘‘ (ترمذی)
علم کی اہمیت کے بارے میں بطورِ نمونہ چند آیات اور احادیث پیش کی گئی ہیں جن سے علم کی بے پایاں فضیلت ثابت ہورہی ہے۔ مگر یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ یہ علم کے جتنے فضائل بیان ہوئے ہیں، صرف اسی عالم ِکے لیے ہیں جو خود اپنے علم کا پابند ہے۔ اس پر مکمل عمل کرتا ہے۔ اس علم کے ذریعے اللہ کی رضا جوئی میں مصروف رہتا ہے۔ اس کے اوامر بجا لاتا ہے اور اس کے نواہی سے دور رہتا ہے کیونکہ علم بغیر عمل کے وبال ہوتا ہے۔
اسلام میں خواتین کی تعلیم و تربیت کا خصوصی اہتمام
قبل از اسلام جاہلی معاشروں میں عورت ہر قسم کے حق سے محروم تھی۔ جہاں عورت زندگی کے حق سے ہی محروم ہو، وہاں اُس کے پڑھنے لکھنے کے حق کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مگر اسلام نے جہاں عورت کو اعلیٰ و ارفع مقام دیا وہاں اُس پر ایک احسان یہ بھی فرمایا کہ اُسے درس و تدریس اور تعلیم و تربیت میں مردوں کے برابر مکلف قرار دیا۔ چونکہ شریعت ِاسلامی کے مخاطب مرد اور عورت دونوں ہیں۔ دینی احکام دونوں پر واجب ہیں اور روزِ قیامت مردوں کی طرح عورتیں بھی ربّ العالمین کے سامنے جواب دہ ہیں۔ لہٰذا عورتوں کے لیے بھی حصولِ علم جو اُن کو بنیادی دینی اُمور کی تعلیم دے اور احکامِ اسلامی کے مطابق زندگی گزارنے کاڈھنگ سکھائے وہ اُن کے لیے فرضِ عین قرا ردیا گیا ہے۔ فرضِ عین سے مراد یہ ہے کہ اسے سیکھنا لازمی ہے اور اگر عورت یا مرد اس میں کوتاہی کرے تو وہ عنداللہ مجرم ہے۔
چنانچہ آنحضور نے ابتدا ہی سے خواتین کی تعلیم کی طرف توجہ فرمائی:’’تم خود بھی ان کو سیکھو اور اپنی خواتین کو بھی سکھاوٴ۔‘‘ (سنن دارمی)
تربیت کے لیے اپنی خدمت میں حاضر ہونے والے وفود کو آپﷺ تلقین فرماتے :’’تم اپنے گھروں میں واپس جاوٴ، اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہو، ان کو دین کی تعلیم دو اور ان سے احکامِ دینی پر عمل کراوٴ۔‘‘ (صحیح بخاری)
آپﷺ کافرمان ہے:’’جس نے تین لڑکیوں کی پرورش کی ، اُن کی اچھی تعلیم و تربیت کی، ان سے حسن سلوک کیا، پھر ان کا نکاح کردیا تو اس کے لیے جنت ہے۔‘‘ (ابودائود )
رسولِ اکرم ﷺ کے تبلیغی مشن میں ہفتہ میں ایک دن صرف خواتین کی تعلیم و تربیت کے لیے مخصوص ہوتا تھا۔ اس دن خواتین آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوتیں اور آپؐ سے مختلف قسم کے سوالات اور روزمرہ مسائل پوچھتیں۔ نمازِ عید کے بعد آپ ؐاُن سے الگ سے خطاب کرتے۔ اُمہات الموٴمنین کو بھی آپؐ نے حکم دے رکھا تھا کہ وہ مسلم خواتین کو دینی مسائل سے آگاہ کیا کریں۔ پھر آپؐ نے خواتین کے لیے کتابت یعنی لکھنے کی بھی تاکید فرمائی۔ حضرت شفاء بنت عبداللہ لکھنا جانتی تھیں۔ آپؐ نے انہیں حکم دیا کہ تم اُمّ الموٴمنین حضرت حفصہk کو بھی لکھنا سکھا دو۔ چنانچہ انہوں نے حضرت حفصہkکو بھی لکھنا سکھا دیا۔ آہستہ آہستہ خواتین میں لکھنے اور پڑھنے کا اہتمام اور ذوق و شوق بہت بڑھ گیا۔ عہد ِنبوی کے بعد خلفائے راشدینؓ کے مبارک دور میں بھی خواتین کی تعلیم و تربیت کی طرف بھرپور توجہ دی گئی۔ حضرت عمر بن خطابh نے اپنی مملکت کے تمام اطراف میں یہ فرمان جاری کردیا تھا :
((عَلِّمُوْا نِسَائَ کُمْ سُوْرَۃَ النُّوْرِ…)) (الدرالمنثور)’’ اپنی خواتین کو سورۃ النور ضرور سکھاوٴ کہ اس میں خانگی زندگی اور معاشرتی زندگی کے متعلق بے شمار مسائل واَحکام موجود ہیں۔‘‘
تعلیم نسواں کی اہمیت
اسلا م میں تعلیم نسواں کے بارے میں کبھی دو آراء نہیں ہوسکتیں۔ ایک ہی محکم اور پختہ حکم ہے اور وہ ہے عورتوں کو زیورِ تعلیم سے لازماً آراستہ کرنے کا کیونکہ بے علم اور جاہل عورت معاشرے کی پسماندگی اور ابتری کا باعث بنتی ہے۔موجودہ دور میں سیکولر لبرل نظام کی دلدادہ پڑھی لکھی جاہل عورتوں کو نہ کفر وشرک کی کچھ تمیز ہے، نہ دین و ایمان سے کچھ واقفیت۔ اللہ اور رسول کے مرتبہ و مقام سے ناواقف بعض اوقات شانِ خداوندی میں بڑی گستاخی و بے ادبی سے گلے شکوے کرتی رہتی ہیں۔ اسی طرح شانِ پیغمبری میں بڑی بے باکی سے زبان طعن دراز کرتی ہیں۔ احکامِ شرعیہ کی حکمت اور افادیت سے واقف نہ ہونے کی بنا پر اُلٹی سیدھی باتیں کرتی ہیں، اس کے برعکس ہر طرح کے فیشن، بے حجابی و عریانی اور فضول رسم و رواج کے پیچھے بھاگتی ہیں، شوہر سے ان کی بنتی ہے نہ سسرالی رشتہ داروں سے، انہیں اپنے بہن بھائیوں، رشتہ داروں اور ہمسایوں کے حق حقوق کی ذرا خبر نہیں ہوتی۔ لڑائی جھگڑا اور گالی گلوچ، زبان درازی و لعن طعن کرکے سب سے بگاڑ کر خوش رہتی ہیں۔ وقت کی بھی ان کو قدر نہیں ہوتی۔ فضول باتوں میں ، لعن طعن میں، غیبت اور گالم گلوچ میں سارا وقت برباد کردیتی ہیں۔
غرض ایسی عورتوں کی جہالت کے کون کون سے نقصانات گنوائے جائیں: شوہر، بچے، گھر، اللہ کی دی ہوئی نعمتیں، کسی بھی بات کا اُن کو احساس نہیں ہوتا۔ ان کی زندگی قرآن پاک کے الفاظ ہیں خَسِرَالدُّنْيَا وَالآخِرَةِ کا مصداق ہوتی ہے، یعنی ان کی دنیا بھی برباد اور آخرت بھی تباہ ہوگئی۔ اس طرح کی خواتین یقیناً معاشرے کی تباہی وبربادی کا ہراول دستہ ثابت ہوتی ہیں۔ جیسی گنوار خود تھیں ، ان کی اولاد یعنی نسل نو بھی اسی طرح گمراہ، جاہل اور گنوار ثابت ہوئی۔ اس طرح وہ قوم کو جرائم کی دلدل میں پھنساتی چلی جاتی ہیں۔
اِس کے برعکس علم ِدین رکھنے والی خاتون صحیح اور غلط، حق اور باطل، جائز اور ناجائز کی حدود کو جانتی اور پہچانتی ہے اور وہ اپنی زندگی کے پیش آمدہ مسائل کو خوش اُسلوبی سے نمٹا لیتی ہے۔ یہ علم دین اس کو شائستہ اور مہذب بناتا ہے ۔ وہ اپنے بچوں کی بھی صالح تربیت کرکے صالح معاشرہ تعمیر کرنے کا باعث ثابت ہوتی ہے۔
تعلیم نسواں اور مغربی تعلیم
اہل ِ مغرب نے دو صدیاں قبل تعلیم نسواں کا نعرہ بلند کیا، اس سے پہلے مغربی خاتون حیوانوں سے بدتر زندگی بسر کررہی تھی۔ سب سے پہلے نپولین نے نعرہ بلند کیا
’’مجھے پڑھی لکھی مائیں دو، میں تم کو ترقی یافتہ قوم دوں گا۔‘‘
اس کے اس نعرہ کو عورتوں کے حقوق کے سلسلے میں بڑا بنیادی اور انقلابی قرار دیا گیا۔ تعلیم ِنسواں کے اِس نعرہ نے آہستہ آہستہ پیش رفت کی تو وہ ترقی نسواں، حقوقِ نسواں اور پھر مساواتِ مرد وزن کے مختلف مدارج طے کرتا چلا گیا۔ چونکہ اہل ِمغرب خود اپنے مذہب سے بیگانہ ہوچکے تھے۔ اُن کے معاشرے سیکولر، لبرل اور مادّی ہوتے جارہے تھے۔ اس کے زیر ِاثر مغربی عورت کو مردوں کی جکڑ بندیوں اور ظلم وجور سے قدرے آزادی نصیب ہوئی۔ اس نے مردوں کی طرح تعلیم حاصل کی۔ مخلوط ماحول میں تعلیم پانے کے بعد مخلوط ماحول میں اپنی زندگی کی گاڑی چلانے کے لیے ملازمت کرنے لگی۔ بے خدا تعلیم، بے مقصد زندگی، سیکولر ماحول اور اختلاطِ مرد وزن، فحش فلمیں، گندی تصاویر اور مخرب اخلاق لٹریچر اور عریاں لباس ان سب عوامل نے مل کر عورت کو بالکل گمراہ اور بے راہرو کردیا۔
پھر ایسی بے راہرو عورتوں نے مساواتِ مرد وزن کا نعرہ بلند کیا۔ آہستہ آہستہ مردوں کے خلاف محاذ کھولا گیا۔ عورتوں کو شادی، شوہر، بچے اور گھر کے خلاف اُکسایا گیا۔ ہم جنس پرستی عام ہوگئی۔ گھر بے آباد ہوگئے۔ مرد نے عورت کا خرچ اُٹھانے سے انکار کردیا۔ اب مرد صرف اپنے لیے کمائے اورعورت اپنے لیے۔ غرض اس تصورِ تعلیم کے ساتھ مغرب میں جو عورت بگاڑ تحریک شروع ہوئی، اس نے معاشرے کو جڑسے کھوکھلا کردیا۔ فواحش کثرت سے پھوٹ پڑے۔ طلاقوں کی کثرت ہوگئی، جنسی امراض کی زیادتی نے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا بچے نرسریوں میں پل کرجرائم پیشہ اور وحشی بننے لگے اور اب مغرب کا ماحول مکمل طور پر نسوانیت زدہ ہے۔ ناچنے گانے اور مرد کا دل لبھانے کے لیے ہر جگہ اور ہر پلیٹ فارم پر عورت موجود ہے لیکن اُس کا اصل مقام یعنی گھر اُجڑ چکا ہے۔
دوسری طرف مغربی معاشرے میں ذِمّہ دارانہ عہدوں پر عورتوں کو آج بھی تعینات نہیں کیا جاتا۔یہ ہے اس مغربی تعلیم نسواں کا اثر کہ اُس نے مغربی معاشرہ کو ہر طرح سے نقصان ہی پہنچایا ہے اور عورت بالکل شتر بے مہار ہوگئی ہے۔ جو سر عام جنسی ورکر کے طور پر پیسہ کمانے میں مصروف ہے۔
مغرب کا اصرار
آج مغربی تہذیب دنیا میں بالادست ہے۔ اس لیے اہل ِمغرب مختلف حیلوں سے اسی مغربی بے خدا تعلیم اور ملحدانہ افکار کو اسلامی معاشروں میں رائج کرنا اپنا فرضِ اوّلین سمجھتے ہیں۔ وہ برابر دو صدیوں سے اس کام میں مصروف ہیں۔ لارڈ میکالے کے نظامِ تعلیم نے مسلمانوں کے اندر دین بےزاری اور الحاد کے بیج بونے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ آغاز میں مسلم اہل ِدرد مفکرین و دانشوروں نے خواتین کو مغربی تعلیم کے زہریلے اثرات سے بچانے کی بہت کوشش کی۔ علامہ اقبال ؒنے بہت درد مندی سے قوم کو انتباہ کیا :
جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازَن
کہتے ہیں اسی علم کو اربابِ نظر موت
لیکن مسلمان اپنی سیاسی، ایمانی اور اخلاقی کمزوریوں کے باعث اہل ِمغرب کے سامنے پسپا ہوتے چلے گئے۔ مغربی تعلیم یافتہ مسلمان اسلامی معاشرہ میں اہل ِمغرب کے لبرل اثرات کو تعلیم نسواں کے پردے میں پھیلانے میں مصروف ہوگئے۔
پاکستان اگرچہ اسلام کے نام پر ہی دنیا کے نقشہ پر نمودار ہوا تھا لیکن عملاً یہاں اسلامی نظامِ حکومت رائج ہونا تو کجا، اسلامی نظامِ تعلیم بھی پاکستان کی نوزائیدہ اسلامی مملکت میں آج تک رائج نہیں ہوسکا۔ نتیجہ یہ ہے کہ خود ہماری درس گاہیں مغربی تہذیب اور ان کے افکار کو وطن عزیز میں مقبول و معروف بنانے میں مصروف ہیں۔ تعلیمی ادارے ناچ گانے، رقص اور موسیقی سکھانے کے مرکز بن چکے ہیں۔ موسیقی کی تعلیم باقاعدہ نصاب کا حصّہ قرار دی جارہی ہے۔ مینا بازار، ڈریس شوز اور ورائٹی شوز کوڑھ میں خارش ہیں ۔بقول ماہر القادری مرحوم ؎
قوم کی وہ بیٹیاں جن کو بننا تھا بتول
مدرسوں میں سیکھتی ہیں ناچ گانوں کے اُصول
ہمارے ذرائع ابلاغ بھی اسی مغربی ماحول کو پاکستان میں متعارف کروانے میں دن رات کوشاں ہیں۔ ریڈیو، ٹی وی، سوشل میڈیا، انٹرنیٹ، جرائد و اخبارات صبح و شام فحش گانے، گندی فلمیں اور نیم برہنہ تصویریں دکھا رہے ہیں۔ اوپر سے این جی اوز کی اشاعت ِتعلیم کے نام پر مسلمان معاشروں میں اسلامی تعلیم اور تہذیب کے خلاف جدوجہد۔ پھر عورت کے حقوق کے نام پر منعقد ہونے والی یو این او کی کانفرنسزجن میں ان کے اپنے دئیے گئے ایجنڈے پر عمل درآمد کے سلسلے میں باقاعدہ رپورٹ طلب کی جاتی ہے، عدمِ اطاعت کی شکل میں ایسے ممالک پر معاشی پابندیاں لگ جاتی ہیں۔ اور میڈیا کے ذریعے لعن طعن اور دشنام طرازی کے ذریعہ ان کا ناطقہ بند کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ غرض مغربی تہذیب کو اسلامی ممالک میں مقبول وہردل عزیز بنانے کے لیے اہل ِمغرب اپنے تمام لاوٴ لشکر اور وسائل سمیت مسلم ممالک پر حملہ آور ہیں۔ یہ مغربی یلغار جارحانہ اور شدید ہے جبکہ مسلم ممالک اپنی ایمانی واخلاقی کمزوریوں کے باعث اس کے آگے پسپا ہوتے چلے جارہے ہیں۔ کوئی مسلمان حکمران ایسا نہیں جو ان کے مقابل اسلام کے معاشرتی و خاندانی نظام کا دفاع کرسکے!(جاری ہے)