(گوشۂ اطفال) حقیقی ہیرو: سیف اللہ حضرت خالد بن ولید ؓ - حسیب آصف شیخ (معاون مرکزی شعبہ نشرواشاعت)

10 /

حقیقی ہیرو: سیف اللہ حضرت خالد بن ولید ؓ

حسیب آصف شیخ(معاون مرکزی شعبہ نشرو اشاعت)

پیارے بچو! ذرا میری بات غور سے سنیں اور اپنے ذہنوں کو تھوڑی دیر کے لیے ٹی وی، کارٹونز اور ویڈیو گیمز کی دنیا سے باہر نکالیں۔
ہم روزانہ ٹی وی پر سُپر مین، بیٹ مین یا اسپائیڈر مین جیسے کرداروں کو دیکھتے ہیں جو عمارتوں پر چھلانگیں لگاتے ہیں، ہوا میں اڑتے ہیں اور لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ سارے کردار تخیلاتی ہیں اور حقیقت میں ان کا کوئی وجود ہی نہیں؟ یہ صرف کاغذوں اور کمپیوٹر پر بنائے گئے فرضی نقش ونگار ہیں۔ جبکہ ہمارے پاس، یعنی ہماری اسلامی تاریخ میں، ایسے حقیقی اور سچے ہیروز کی لمبی فہرست موجود ہے جن کی شجاعت، حکمتِ عملی اور ایمان کے سامنے یہ تمام نقلی اور فرضی سُپر ہیروز پانی بھرتے نظر آتے ہیں۔ آج میں آپ کو اپنے سب سے پیارے اور عظیم ہیرو حضرت خالد بن ولید ؓ کی سچی داستان سناتا ہوں، تاکہ آپ جان سکیں کہ ایک سچا مجاہد اور حقیقی ہیرو کیسا ہوتا ہے۔
ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے حضرت خالد بن ولید ؓ کی بے مثال بہادری، جنگی مہارت اور سچے جذبے کو دیکھ کر انہیں ’’سیف اللہ‘‘کا عظیم الشان لقب عطا فرمایا تھا، جس کا خوبصورت مطلب ہے ’’اللہ کی تلوار‘‘، ذرا رُکیے! جس انسان کو خود اللہ کے   رسول ﷺ نے اللہ کی تلوار کہا ہو، ان کی بہادری کا عالم کیا ہوگا! آپؓ نے اپنی پوری زندگی میں سو (100) سے بھی زائد معرکے اور جنگیں لڑیں اور ماشاءاللہ ایک بھی جنگ میں شکست کا سامنا نہیں کیا۔ان کے جسم کا کوئی عضو ایسا نہیں تھا جس پر کسی جنگ میں لگنے والے زخم کا نشان نہ ہو۔دنیا کی تاریخ میں ایسا کوئی دوسرا جرنیل نہیں ملتا جو سو سے زیادہ جنگوں میں اترا ہو اور ہر بار فتح یاب ہو کر لوٹا ہو۔
لیکن پیارے بچو! یہاں سب سے اہم بات جو سمجھنے کی ہے، وہ یہ ہے کہ حضرت خالد بن ولید ؓ کا جہاد کسی کا ملک چھیننے، لوگوں پر ظلم کرنے، یا اپنی طاقت کا غرور دکھانے کے لیے ہرگز نہیں ہوتا تھا۔ اسلام میں جہاد کا مطلب اپنے فائدے کے لیے لڑنا نہیں ہے، بلکہ جہاد کا مقصد صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے دین کی حفاظت کرنا، سچائی اور عدل کو قائم کرنا اور ظالموں کے چنگل سے بے گناہ مظلوموں کو آزادی دلانا ہوتا ہے۔ حضرت خالد بن ولید ؓجب بھی میدانِ جنگ میں اترتے تو ان کا مقصد صرف اور صرف اپنے رب کی رضا حاصل کرنا ہوتا تھا۔
اس کی ایک سچی اور دل دہلا دینے والی مثال ’’جنگ ِ یرموک‘‘کی ہے۔ اس تاریخی معرکے میں مسلمان مجاہدین کا مقابلہ اس وقت کی دنیا کی سب سے بڑی اور خوفناک سپر پاور یعنی رومی سلطنت سے تھا۔ دشمن کی فوج میں دو لاکھ سے زائد مسلح سپاہی اور جنگی ہاتھی موجود تھے، جبکہ دوسری طرف مسلمان مجاہدین کی تعداد صرف چالیس ہزار کے قریب تھی۔ ظاہری طور پر دیکھا جائے تو چاروں طرف رومیوں کے ہتھیار چمک رہے تھے اور مسلمان تعداد میں بہت کم تھے، لیکن حضرت خالد بن ولید ؓ کے دل میں دشمن کی اس بھیانک طاقت کا رتی برابر بھی خوف نہیں تھا۔ آپؓ نے تمام مسلمانوں کو اکٹھا کیا اور ایمانی جوش سے فرمایا ’’ کہ ہم دشمن کی تعداد یا ان کی ظاہری طاقت کے بل بوتے پر نہیں لڑتے، بلکہ ہم تو صرف اللہ کی ذات پر پورا بھروساکر کے اترتے ہیں اور فتح ہمیشہ اللہ ہی عطا فرماتا ہے۔‘‘ آپؓ نے ایسی زبردست حکمت ِعملی سے حملہ کیا کہ دیکھتے ہی دیکھتے دو لاکھ کا لشکر حواس باختہ ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ایک تاریخی فتح نصیب فرمائی۔
اس کہانی کا سب سے پیارا اور آنکھیں کھول دینے والا سبق اس وقت سامنے آیا جب خلیفہ حضرت عمر فاروق ؓ کے حکم پر حضرت خالد بن ولید ؓ کو سپہ سالاری کے اتنے بڑے عہدے سے ہٹا کر ایک عام سپاہی بنا دیا گیا۔ بچو! اگر کوئی عام انسان ہوتا تو غصے میں آ جاتا کہ اتنی بڑی جنگیں جیتنے کے بعد مجھے عہدے سے کیوں ہٹایا گیا؟ لیکن ہمارے اس سچے ہیرو نے ذرا برابر بھی ناراضگی یا غرور نہیں دکھایا۔ آپؓ نے مسکرا کر سپہ سالاری کا چارج دوسرے صحابی ؓکے حوالے کیا اور فرمایا کہ میں کسی عہدے، نام یا شہرت کے لیے نہیں لڑتا تھا، میں تو صرف اور صرف اپنے اللہ کو راضی کرنے کے لیے لڑتا ہوں! چاہے میں پوری فوج کا قائد بن کر لڑوں یا ایک عام سپاہی بن کر، میرا مقصد اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ہی رہے گا۔
تو پیارے بچو! اس واقعے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اصل بہادر اور حقیقی ہیرو وہ نہیں ہوتا جو ٹی وی سکرین پر اُڑتا ہوا نظر آئےیا جادوئی صلاحیتیں دکھائے، بلکہ سچا ہیرو وہ ہوتا ہے جو سچ کا ساتھ دے، مشکل سے مشکل وقت میں ہمت نہ ہارے، اپنے بڑوں کی عزت کرے، غرور وتکبر سے دور رہے اور اپنی ہر کامیابی پر ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے۔ مجھے امید ہے کہ آج کے بعد آپ کارٹونز کے نقلی ہیروز کو بھول کر حضرت خالد بن ولید ؓ جیسے سچے ہیروز کو اپنا آئیڈیل بنائیں گے!