مسئلہ قادیانیت
نام کتاب: مسئلہ قادیانیت
مولف: جمیل اطہر قاضی
ناشر: کتاب سرائے ،لاہور
بعداز خدا بزرگ تو ہی قصہ مختصر
مبصر: خالد نجیب خان(معاون مرکزی شعبہ نشرو اشاعت)
خالق کائنات نے جس ذات اقدس پر اپنا دین مکمل کیا، یقیناً وہ ذات اکمل و اطہر ہے اورآپ ﷺ پر نبوت کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔آپ ﷺکے وصال کے فوراً بعد ہی کئی لوگوں نے نبوت کے جھوٹے دعوے کر کے ختم ِ نبوت کا فتنہ کھڑا کرنے کی کوشش کی مگر خلیفۂ اوّل حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی بروقت کارروائی نے اُس وقت یہ فتنہ ختم کر دیا مگر اسلام دشمن طاقتوں نے محض اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لیے مختلف اوقات میں مختلف لوگوں کو نبوت کے جھوٹے دعوے کے ساتھ نہ صرف کھڑا کیا ہے بلکہ اُن کی پشت پناہی بھی کرتی رہیں ۔مرزا غلام احمد قادیانی بھی ایک ایسے ہی شخصیت تھی۔ ہفت روزہ چٹان کے چیف ایڈیٹر آغا شورش کاشمیری نے لکھا ہے کہ مرزا غلام احمد 1864 ءتا 1868ء ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ پنجاب کی کچہری میں معمولی تنخواہ پر ملازم تھا۔دوران ملازمت اس نے سیالکوٹ کے پادری مسٹر بٹلر ایم اے سے رابطہ کیا ۔وہ عموماًاُس کے پاس آتا رہتا تھا، دونوں اندر خانہ بات چیت کرتے رہتے۔ بٹلر نے اپنےوطن واپس جانے سے پہلے اس سے تنہائی میںچند ملاقاتیں کیں اور پھر اپنے ہم وطن ڈپٹی کمشنر کے ہاں گیا، اُسے رپورٹ دی اور چلا گیا۔ اُدھر مرزا غلام احمد نے استعفی دیا اور قادیان چلا گیا ۔برطانوی ہند کی سینٹرل انٹیلیجنس کے مطابق ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ نے چار لوگوں کو انٹرویو کے لیے بلایا تھاجن میں سے مرزا غلام احمدکودعویٰ نبوت کے لیے نامزد کیا گیا ۔
مرزا غلام احمد کی562صفحات پر مشتمل پہلی تصنیف’’براہین احمدیہ‘‘چار حصّوں میں شائع ہوئی۔ پہلے دو حصّے 1880 ءمیں شائع ہوئے، تیسرا حصّہ 1882 ءمیں اورچوتھا حصّہ 1884 ءمیں شائع ہوا۔ مرزا غلام احمد کے دوسرے بیٹے مرزا بشیر احمد ایم اے کی تعالیف ’’سلسلہ احمدیہ‘‘کے مطابق مرزا قادیانی کو’’ماموریت کا تاریخی الہام‘‘ مارچ 1882 ء میں ہوا۔ اِس سے پہلے 1880 ءمیں ’’فہم من اللہ‘‘ ہونے کا اعلان کیا اور اپنے مجدد ہونے کا ناد پھونکا ،دسمبر 1888ء میں اعلان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اُسے بیعت لینے کا حکم دیا ہے۔1891ء میں اپنے مسیح موعود ہونے کی خبردی اور ظلی نبی ہونے کی اصطلاح ایجاد فرمائی۔پھر1901ء میں نبوت کا دعوی کیا اور نومبر 1904 ءمیں کرشن ہونے کا اعلان کیا۔(معاذاللہ)یہی وہ سال تھے، جب انگریزی سیاست اپنے استعماری عزائم کو پروان چڑھانے کے لیے پنجاب اور سرحد کے مسلمانوں کا شکار کر رہی تھی۔
دوسری طرف اِس فتنہ کی سرکو بی کے لیے علماء وقت اوردانشوراپنا کردارادا کر کے اللہ کے ہاں سرخرو ہوتے رہے ہیں۔ بے شک عقیدۂ توحید کے بعد عقیدۂ ختم نبوت مسلمانوں کا سب سے بڑا عقیدہ ہے جس کی دینی،آئینی قانونی اور سماجی حیثیت ہے، بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ عقیدئہ ختم نبوت جزو ایمان نہیں بلکہ اصل ایمان ہے ۔پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ سے لے کر ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ آغا شورش کاشمیری اورمولانا مودودیؒ سے لے کر شاہ احمد نورانی ؒ و مولانا مفتی محمود تک علماء وشیوخ نے اِس محاذ پر بھرپور پہرہ دیا اور آخر کار 7 ستمبر1974ء کو قادیانی غیر مسلم قرار دے دئیے گئے۔ دنیا بھر میں پاکستان وہ پہلا ملک تھا جہاں قادیانیوں کوغیر مسلم قرار دیا گیا۔
توقع تو یہ تھی کہ ختم نبوت کے حوالے سے یہ فتنہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا مگر معلوم ہوا کہ قادیانیوں نے اسلام کے خلاف اپنی کوششیں ترک نہیں کیں بلکہ آئے روز کہیں نہ کہیں سے یہ خبر آتی رہتی ہے کہ قادیانی عقیدئہ ختم نبوت میں نقب لگانے کی ناپاک جسارت کر رہے ہیں مگر آج بھی کوئی نہ کوئی بزرگ ،عالم دین ،دانشور یاصحافی اِس محاذ پر کھڑا مل جاتا ہے۔ توہین مذہب کا کوئی کیس اُٹھا کر دیکھ لیں اُس کے پس پردہ قادیانی ہی کھڑے ملتے ہیں اوریہی قادیانی بیرون ملک خصوصاً غیر مسلموں کے پاس جا کر کہتے ہوئے ملتے ہیں کہ پاکستان میں انہیں مذہبی آزادی حاصل نہیں ہے ۔
پاکستان کی صحافت اردو ہو یا انگریزی یا پھرعلاقائی زبانوں کی ،ہر وقت عقیدئہ ختم نبوت کے دفاع کے لیے چوکس رہی ہے۔آغا شورش کاشمیری ہوں،حمید نظامی ہوں، مجید نظامی ہوں،الطاف حسن قریشی ہوں یا مجیب الرحمن شامی سمیت سینکڑوں صحافیوں نے موقع کی مناسبت سے اِس محاذ پر نہ صرف پہرہ دیا ہے بلکہ میدان مارا بھی ہے۔پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی گولڈن جوبلی تقریبات کے موقع پرجمیل اطہر قاضی نے ’’مسئلہ قادیانیت ‘‘کے عنوان سے 1164 صفحات پر مشتمل کتاب شائع کی ہے جس میں قیام پاکستان کے فوری بعد سے لے کر آج تک اِس موضوع پر شائع ہونے والے مضامین شامل کیے گئے ہیں۔ پاکستان کی اُس نسل کے لیے ،جسے نظریۂ پاکستان اور پاکستان کے حوالے سے بہت زیادہ معلومات حاصل نہیں ہیں،کے لیے زیر نظر کتاب ایک قیمتی تحفہ ہے۔ یہ مضامین کم و بیش تمام مکاتب فکراور مسالک کی نمائندگی کرنے والے ہیں ۔کئی مضامین تو درحقیقت اُس وقت کی رپورٹس ہیں، جب 1973ء کے آئین کے تحت بننے والی پہلی قانون ساز اسمبلی قادیانیوں کی بیخ کنی کے لیے قانون سازی میں مصروف تھی۔ یوں یہ کتاب ایک تاریخی دستاویز بن گئی ہے۔
کتاب زیر نظر کے فلیپ پر آغاشورش کاشمیری،محمود شام اور مجیب الرحمٰن شامی کی تحریریں شامل کی گئی ہیں جبکہ فہرست میں بھی کئی نامور صحافیوں کے نام درج ہیں جو اس بات کی دلیل ہے کہ اِس میں صفحہ اوّل کے صحافیوں کا بھی حصّہ شامل ہے۔ مؤلف ِ کتاب روزنامہ جراءت ، تجارت، The Business اور ہفت روزہ اخبار خواتین لاہور کے چیف ایڈیٹر ہیں جو1953ء کی تحریک ختم نبوت میں صرف 12 سال کی عمر میں ٹوبہ ٹیک سنگھ ریلوے اسٹیشن پر قادیانیوں کے خلاف نظم پڑھنے کے جرم میں گرفتار کئے جاچکے ہیں۔اُن کے بارے میں جبار مرزا کا کہنا ہے کہ جمیل اطہر قاضی محبت، سخاوت ، عنایت، طمانیت، استقامت کا قطب مینار ہیں۔اُن کی شخصیت امانت، دیانت، صداقت اورصحافت کا مرکب ہے۔وہ خفیہ صوفی اور بڑی عزت والے ہیں۔
بے شک اللہ سبحان و تعالیٰ نے اُن سے مسئلہ قادیا نیت کے عنوان سے کتاب مرتب کروا کے بہت بڑا کام لیا ہے جس کے لیے وہ مبارک باد کے مستحق ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اُن کی یہ کاوش اپنی جناب میں قبول فرمائے۔
زیرنظر کتاب چوتھا ایڈیشن ہے جس میں کتاب کے پہلے ایڈیشنز پر تبصرے بھی شامل کیے گئے ہیں۔ سفید آفسیٹ کاغذ پر ہارڈ کور اور ڈسٹ کور کے ساتھ چھپی یہ کتاب 6500 روپے کے عوض کتاب سرائے لاہور الحمدمارکیٹ غزنی سٹریٹ اردو بازار لاہور سے حاصل کی جا سکتی ہے۔ژژ