(الہدیٰ) جس نے نیکی کا راستہ اختیار کیا اس نے مضبوط حلقہ تھام لیا - ادارہ

10 /
الہدیٰ
 
جس نے نیکی کا راستہ اختیار کیا اس نے مضبوط حلقہ تھام لیا
 
 
آیت 22 {وَمَنْ یُّسْلِمْ وَجْہَہٗٓ اِلَی اللّٰہِ وَہُوَ مُحْسِنٌ} ’’اور جس شخص نے اپنا چہرہ اللہ کے سامنے جھکا دیا اور وہ احسان کی روش اختیار کرنے والا بھی ہو‘‘
{فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰی ط} ’’تو اُس نے تھام لیا مضبوط حلقے کو۔‘‘
اَلْـعُرْوَۃُ الْوُثْقٰی(مضبو ط کُنڈا یا حلقہ )سے مراد اللہ کا تعلق اور اس کا سہارا ہے۔ اس مضبوط سہارے کو تھامنے کا ذکر اس سے پہلے سورۃ البقرۃ کی آیت ۲۵۶ میں اس طرح آیاہے:{فَمَنْ یَّکْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَیُؤْمِنْم بِاللّٰہِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰی ق لَا انْفِصَامَ لَھَاط} ’’اور جو کوئی انکار کرے طاغوت کا اور ایمان لائے اللہ پر اُس نے تو ایسا مضبوط حلقہ تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں ہے۔‘‘  
{وَاِلَی اللّٰہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرِ(22)}’’اور تمام معاملات کا انجام اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔‘‘ 
 
درس حدیث
 
دولت کی افرا ط کا خطرہ
 
عَنْ عَمْرِو  بْنِ عَوْفٍ ؓ  قَالَ قَالَ رَسُوْلُاللہِﷺ  : ((فَوَاللّٰہِ لَا لْفَقْرِ اَخْشٰے عَلَیْکُمْ وَلٰکِنْ اَخشٰے عَلَیْکُمْ اَنْ تُبْسَطَ عَلَیْکُمُ الدُّنْیَا کَمَا بُسِطَتْ عَلٰی مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ فَتَنَا فَسُوْھَا کَمَا تَنَافَسُوْھَا وَتُھْلِکَکُمْ کَمَا اَھْلَکَتْھُمْ))(صحیح بخاری)
حضرت عمر و بن عوف ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کی قسم! میں تم پر فقر و ناداری کے آنے سے نہیں ڈرتا، لیکن مجھے تمہارے بارے میں یہ ڈر ضرور ہے کہ دنیا تم پر زیادہ وسیع کر دی جائے، جیسے کہ تم سے پہلے لوگوں پر وسیع کی گئی تھی، پھر تم اس کو بہت زیادہ چاہنے لگو، جیسے کہ انہوں نے اِس کو بہت زیادہ چاہا تھا (اور اسی کے دیوانے اور متوالے ہو گئے تھے) اور پھر وہ تم کو برباد کر دے، جیسے کہ اُس نے اُن اگلوں کو برباد کیا۔ ‘‘ 
تشریح:  یہ صحیح بخاری کی ایک حدیث کا آخری حصّہ ہے جس میں نبی کریم ﷺ نے مال و دولت کی زیادتی کے فتنے سے خبر دار کیا ہے۔ رسول اللہﷺ کے سامنے بعض اگلی قوموں اور امتوں کا یہ تجربہ تھا، کہ جب اُن کے پاس دنیا کی دولت بہت زیادہ آئی، تو اُن میں دنیوی حرص اور دولت کی رغبت و چاہت اور زیادہ بڑھ گئی، اور وہ دنیا ہی کے دیوانے اورمتوالے ہو گئے، اور اصل مقصد زندگی کو بھلا دیا، پھر اس کی وجہ سے اُن میں باہم حسد و بغض بھی پیدا ہوا، سستی و کاہلی بھی پیدا ہو گئی اور بالآخر اُن کی اِس دنیا پرستی نے اُن کو تباہ وبرباد کر دیا۔