(اداریہ) اتحادِ اُمَّتِ مُسلمہ اور پاکستان کی سلامتی تاریخ کے دریچوں سے (حصّہ اوّل) - رضا ء الحق

10 /

اداریہ
رضاء الحقاتحادِ اُمَّتِ مُسلمہ اور پاکستان کی سلامتیتاریخ کے دریچوں سے(حصّہ اوّل)

پاکستان کو قائم ہوئے 79 برس ہونے کو ہیں۔ چند روز قبل ملک کی ایک اہم شخصیت کا بیان نظر سے گزرا جس میں اُنہوں نے حکومت کی کارکردگی کو صفر قرار دیتے ہوئے گویا اپنی ہی حکومت کو چارج شیٹ کر دیا۔ اِس بیان کے پس پردہ کیا حقائق ہیں اور کس ’نظام‘ کو نافذ کرنے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے، یہ اللہ ہی جانتا ہے۔ لیکن موصوف کے بیان سے یہ بات تو طے ہوگئی کہ ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں نہیں بہہ رہیں۔ ایران۔ امریکہ مذاکراتی عمل میں ’کلیدی‘ کردار ادا کرکے ٹرمپ کی شاباش کا سُرور ابھی ختم نہ ہو پایا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں سب سے بڑے تخریب کار اسرائیل نے اپنی باندی امریکہ کو پھر خوفناک جنگ میں دھکیل دیا ہے۔ حملہ امریکہ اور اسرائیل کرتے ہیں، جواب خطے کے عرب ممالک کو دیا جاتا ہے۔ ہمارے نزدیک صہیونی ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے ابلیسی اور دجالی منصوبے سے ہرگز پیچھے نہیں ہٹیں گے اور مسلم ممالک آپس میں لڑ مڑ کر کمزور ہوتے رہیں گے۔ معاشرت تو اُن کی ایک عرصہ سے وژن 2030ء کے نام ہو چکی ہے، اب شدید معاشی سختی بھی دہلیز پر ہے۔
7 اکتوبر 2023ء کے بعد سے اسرائیل کی غزہ کی وحشیانہ نسل کُشی پر یہ ممالک ایک لفظ نہ بول سکے… نہ مظلوم کی حمایت میں اور نہ ظالم کے خلاف۔ فلسطین اور دنیا کے دیگر کئی ممالک میں مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے ہیں لیکن مسلم دنیا کے عمومی ردِ عمل نے روزِ روشن کی طرح عیاں کر دیا ہے کہ 57 مسلم ممالک کے حکمران و مقتدر طبقات بالخصوص، اور دنیا میں بسنے والےکم و بیش 2ارب مسلم عوام بالعموم بانجھ ہوتے جارہے ہیں۔ الاماشاءاللہ۔ اگرچہ بانجھ پن کے اشارے تو غالباً دوصدیاں پہلے ہی ظاہر ہونے لگے تھے، جب برطانیہ نے نوآبادیاتی نظام (کلونیلزم) کے تحت ایک کاروباری کمپنی بھیج کر برصغیر پاک و ہند کو عملی طور پر فتح کر لیا تھاجس میں مقامی لوگوں نے انگریز کی غلامی قبول کر کے شرمناک کردار ادا کیا۔
19ویں صدی کے وسط سے سلطنتِ عثمانیہ بھی تیزی سے تنزلی کا شکار ہو رہی تھی۔ 1830ء کی دہائی میں سلطنت عثمانیہ نے ایک قانون اپنایا کہ آئندہ عائلی معاملات میں اگر چاہیں تو شریعت کے مطابق فیصلہ لے لیں اور چاہیں تو رواج کے مطابق۔ یہ وہی دور تھا جب سلطنتِ عثمانیہ یورپ کے یہودی بینکاروں کے شکنجہ میں بری طرح جکڑی گئی تھی اور اُن پر بے تحاشا قرض بمعہ سود واجب الادا ہوچکا تھا۔ اس سے تقریباً دوڈھائی صدیاں قبل حالات اتنے مختلف تھے کہ ملکہ برطانیہ جنگ میں جانے سے قبل عثمانی خلیفہ سے درخواست کرتی تھی کہ اس کی غیر موجودگی میں برطانیہ کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت فرما دیں۔ لیکن خلافتِ عثمانیہ پر جدید یورپ کا جادو سر چڑھ کر بولا۔ خلیفۂ وقت کے ’حرم‘ میں فرانس، یونان، پرتگال، اسپین اور نہ جانے کہاں کہاں سے لونڈیاں موجود رہتیں۔ اس سے آگے بڑھ کر اِنہی ممالک کی خواتین کے ساتھ عثمانی حکمرانوں نے شادیاں بھی کر لیں۔ گویا سانپوں اور بچھوؤں کو گھر میں داخل ہونے کے لیے خود ہی اپنا در وا کر دیا۔ خلافتِ عثمانیہ، جس کی ایک دور میں پوری دنیا پر دھاک بیٹھی ہوئی تھی، اب ’’یورپ کا مردِ بیمار‘‘ کہلانے لگا۔ اسی دوران یہود نے ایسی چالیں چلیں کہ سارا یورپ ان کا محتاج اور مقروض ہو کر رہ گیا۔ یورپ کے مرکزی بینکوں پر یہود قابض تھے اور یورپ کے بادشاہ اُن سے سودی قرض لے کر جنگیں لڑتے۔ پھر یہ کہ سٹاک مارکیٹوں پر بھی یہود کا قبضہ تھا۔
یورپ میں پہلا پرنٹنگ پریس 1450ء میں ایک سُنار جوہانس گٹنبرگ نے ایجاد کیا۔ پھر کیا تھا، یہود اور یہود نواز افراد کے نظریات و افکار، فلسفہ اور نظام ہائے معیشت و سیاست پر روایت سے ہٹ کرجدید نظریات و فلسفہ پر مبنی کتب بڑے پیمانے پر لکھ کر شائع کی گئیں۔ بعض تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ مادہ پرستی، ہیومن ازم، لبرل ازم، سیکولرازم اور ان کے مابین یورپ میں نام نہاد احیائے علوم اور اصلاح معاشرہ کی تحریکوں کی کامیابی میں بڑے پیمانے پر کتب شائع کیے جانے (یعنی پرنٹنگ پریس) نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ یورپ میں بادشاہ اور پوپ کے گٹھ جوڑ سے صدیوں سے قائم ظالمانہ طرزِ حکومت کو انقلاب فرانس نے نسیاً مَّنسیا کر دیا۔ پروٹیسٹنٹ عیسائیت کی داغ بیل تو 14ویں صدی میں ہی ڈال دی گئی تھی۔ ایک طرف رومیوں کی حکومت کے مظالم تھے تو دوسری طرف پروٹیسٹنٹ عیسائیت (جو خود یہود کی سازش کے تحت معرضِ وجود میں آئی تھی) نے خاص طور پر برطانیہ میں جڑ پکڑ لی۔ یہود نے سودی بینکاری کی اجازت حاصل کر لی اور بڑے سرمایہ داروں، جن میں اکثر یہودی تھے، نے دھڑا دھڑ ’’پرومزری نوٹ‘‘ (Promissery Note) چھاپنا اور جاری کرنا شروع کر دئیے۔ یوں سودی بینکاری کا وہ سلسلہ شروع ہوا جو آج تک تیسری دنیا کے ممالک کے گلے کا پھندا بنا ہوا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ امریکی جنگی آزادی کے اہم جرنیلوں میں سے ایک بڑی تعداد مثلاً جارج واشنگٹن، بینجمن فرینکلن، جیمز اوٹس، جیمز میڈیسن وغیرہ فری میسن تھے۔ فری میسنز اور الومیناٹی جیسے خفیہ گروہوں نے یہود کو سیاسی و معاشی تقویت دینے میں بڑا کردار ادا کیا۔ یہاں تک کہ 19ویں صدی کے اختتام پر یہ فیصلہ کر لیا گیا کہ اب خلافتِ عثمانیہ کا خاتمہ کر کے اس کی جگہ قومیت (Nationalism) کی بنیاد پر چھوٹی چھوٹی مسلم ریاستیں قائم کر دی جائیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اپنی انتہائی دگرگوں حالت کے باوجود بھی جب تک خلافت کا ادارہ قائم رہا، نہ تو یورپ کو قرآن اور صاحب ِقرآن ﷺ کی توہین کی جرأت ہو سکی اور نہ یہود کو ارضِ فلسطین میں آباد ہونے کی اجازت مل سکی، اگرچہ روتھ شیلڈ خاندان نے اس کی بہت کوشش کی۔1903ء میں بابائے صہیونیت تھیوڈور ہرتزل نے ’’Altneuland‘‘ نام کی ایک کتاب تحریر کی جس میں موصوف نے ’’گریٹراسرائیل‘‘ کے خدوخال پیش کر دئیے۔اس سے قبل 1897 ء میں عالمی صہیونی تنظیم کا قیام عمل میں آچکا تھا اور اس کا پہلا اجلاس اسی سال تھیوڈور ہرتزل ہی کے زیرِ صدارت سوئٹزرلینڈ کے شہر بازل Basel)) میں منعقد کیا گیا تھا۔ اسی اجلاس کی کارروائی پر مبنی دستاویز ’’صہیونی پروٹوکولز‘‘ کے نام سے معروف ہوئی ۔ اس دستاویز کوارضِ فلسطین میں دجالی صہیونی ریاست کو قائم کرنے اور دنیا پر یہود کی اجارہ داری کومسلط کرنے کا روڈ میپ یا بلیو پرنٹ بھی کہا جا سکتا ہے۔ یہ وہی دستاویز ہے جسے نامورامریکی صنعتکار ہنری فورڈ اور برطانوی سیاستدان کیپٹن آرچیبالڈ رمزےنےجب دنیا میں جاری واقعات کے ساتھ جوڑ کر دیکھا تو اُنہیں چونکا دینے کی حد تک زمینی حقائق سے مشابہ پایا۔ ہنری فورڈ نے 1921ء میں ایک مشہور انٹرویو میں کہا تھا: ” میں صرف یہی کہوں گا کہ یہ پروٹوکولز جو کچھ پیش کرتے ہیں وہ حالاتِ حاضرہ سے مطابقت رکھتے ہیں… یہ آج تک دنیا کے حالات پر پورا اترے ہیں اور اب بھی فٹ بیٹھتے ہیں۔‘‘
3مارچ 1924ءکو خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا۔ سچ تو یہ ہے کہ غیروں سے زیادہ اپنوں کی سازشوں نے خلافت کے ادارے کو منہدم کرنے میں کردار ادا کیا۔ طاغوتی قوتوں کے بعض ایسے مسلم ’غلام‘ بھی شامل تھے جنہیں غداری کے صلے میں بعد ازاں مشرقِ وسطیٰ میں نئی صف بندی کے نتیجے میں بننے والی قومی ریاستیں تحفتاً عطا کر دی گئیں۔ دوسری طرف ترکی (جواب ترکیہ کہلاتا ہے) میں مصطفیٰ کمال پاشا (اتاترک) کی خدمات کے عوض یورپ کی طاقتوں نے ترکیہ کی حکومت اس کے حوالے کر دی۔ ترکیہ میں سیکولر حکومت کے قیام اور خلافتِ عثمانیہ کے انہدام کے بعد ارضِ فلسطین پر برطانیہ نے قبضہ جما لیا اور 1917ء کے بالفور اعلامیہ کے مطابق یہودیوں کو فلسطین میں آباد کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ کچھ زمینیں تو سیدھے سادے فلسطینی مسلمانوں سے خریدی گئیں مگرارضِ مقدس کے بیشتر علاقوں میں صہیونی دہشت گرد تنظیموں نے زبردستی فلسطینی مسلمانوں کی املاک اور زمینوں پر قبضہ جما کر اُنہیں در بدر کر دیا۔ دوسری جنگ عظیم، جو درحقیقت پہلی جنگ عظیم کا ہی ایک ضمیمہ تھا، میں ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل کو قائم کرنے کی حتمی تیاری کی گئی اور صہیونیوں کے دنیا بھر میں رائج کردہ سرمایہ دارانہ نظام، ٹھیٹھ مغربی جمہوری طرزِ حکومت اور وحی سےمبرا و خود ساختہ اخلاقیات(subjective morality) پر مبنی بے حیا تہذیب کی بنیادیں مزید مضبوط کی گئیں۔مؤخر الذکر نظریات کا نشانہ دنیا بھرمیں مسلمانوں کی اشرافیہ اور عوام دونوں تھے،کیونکہ معاشرتی سطح پر اسلامی اقتدار، خاندانی نظام اور تہذیبِ اسلامی بڑی حد تک برقرار تھی۔
دوسری جنگ عظیم کے خاتمہ کے بعد عالمی سطح پر4 اہم تبدیلیاں واقع ہوئیں۔ اوّلاً یہ کہ فرہنگ کی امامت برطانیہ سے امریکہ منتقل ہو گئی بلکہ کر دی گئی۔دوسرا یہ کہ امریکہ اور سوویت یونین، جو دونوں بڑی جنگوں میں اتحادی فوج کا حصّہ تھے، اُن کی اجتماعی نظامِ معیشت کے حوالے سے سرد جنگ کا آغاز ہوا، جو سوویت یونین کی شکست و ریخت پر1991ء میںاختتام پزیر ہوئی۔ امریکہ (سرمایہ دارانہ نظام) کو سوویت یونین (اشتراکیت) کے خلاف فیصلہ کن فتح حاصل ہوئی جس کے نتیجہ میں وہ دنیا کی واحد سپریم طاقت بن گیا۔اس کے بعد امریکہ اور اُس کے اتحادیوں (بشمول نیٹو)نے اپنی ساری توجہ مسلم ممالک کے خلاف نظریاتی اور عسکری جنگیں مسلط کرنے پر مرکوز کر دی۔ تیسرے یہ کہ 14 مئی 1948ء کو ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل قائم کر دی گئی اور اسی سال نکبہ کے دوران لاکھوں فلسطینیوں کا قتل عام کیا گیا اور ان کی صدیوں سے موجود آبادیوں، گھروں اور املاک پر صہیونیوں نے زبردستی قبضہ کر لیا۔ ساتھ ہی دنیا بھر سے یہود کو اسرائیل یعنی مقبوضہ فلسطین میں لا کر آباد کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ عرب ممالک نے 1948ء میں اسرائیل کے خلاف خاصی کامیاب جنگ کی اور وہ فتح کے قریب پہنچ چکے تھے کہ نہ جانے کیوں اچانک عربوں نےجنگ بندی کا اعلان کر دیا۔ چوتھی سطح پر مسلمان ممالک میں قومی دھارے اور احیائے دین کی تحریکوں کا آغاز ہوا، جس کا تذکرہ آئندہ شمارے میں ہوگا۔ ان شاءاللہ! (جاری ہے)