اُمّت ِمُسلمہ کی حالت ِزار اور راہِ نجات(تنظیم اسلامی کے زیر ِ اہتمام تین ہفتوں پر مشتمل ملک گیرآگاہی مہم کے تناظر میں )
مسجد جامع القرآن ، قرآن اکیڈمی ڈیفنس کراچی میں امیرِ تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ کے31جولائی 2026ء کے خطاب جمعہ کی تلخیص
مرتب: ابو ابراہیم
خطبہ ٔمسنونہ اور تلاوتِ آیاتِ قرآنی کے بعد!
تنظیم اسلامی کے زیر اہتمام31جولائی سے 21 اگست 2026ء تک’’ اُمّت ِمُسلمہ کی حالت ِزار اور راہِ نجات‘‘ کے عنوان سے پاکستان بھر میں ایک آگاہی مہم کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ مقصد عوام الناس میں یہ آگاہی پیدا کرنا ہے کہ اِس اُمت کی آج جو حالت ِ زار ہے اس کی اصل وجہ کیا ہے اور اُس سے نکلنے کا راستہ اور حل کیا ہے ؟بحیثیت اُمتی ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں ، انفرادی اور اجتماعی سطح پر ہمارے کرنے کے کام کیا ہیں ؟یہی آج کا ہمارا موضوع ہے ۔ ان شاء اللہ !
اُمّت کاوجود اور مقصد
سب سے پہلے اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس اُمّت کی بنیادی جڑ کیا ہے ؟کس مقصد کے لیے اس اُمّت کو کھڑا کیا گیا ہے ؟ حضرت ابراہیم ؈جو ابو الانبیاء ہیں ، امام الناس ہیں اور حضرت اسماعیل ؈ جو کہ ذبیح اللہ ہیں دونوں کی دعائیں ہم قرآن مجید میں پڑھتے ہیں :
{رَبَّـنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَکَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِنَـآ اُمَّۃً مُّسْلِمَۃً لَّکَ ص}( البقرہ :128 ) ’’ اے ہمارے رب! ہمیں اپنا مطیع فرمان بنائے رکھ‘اور ہم دونوں کی نسل سے ایک اُمت اٹھائیو جو تیری فرماں بردار ہو۔‘‘
مسلم فرمانبردار کو کہتے ہیںجو اللہ تعالیٰ کے احکامات کے سامنے سرجھکا دے ۔ معلوم ہوا کہ اس اُمّت کو پیدا کرنے کی دعا ابوالانبیاءؑ اور ذبیح اللہؑ دونوں نے کی تھی ، اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ دعا بھی کی تھی :
{رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْہُمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِکَ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُزَکِّیْہِمْ ط}(البقرہ :129)’’اے ہمارے پروردگار! ان لوگوں میں اٹھائیو ایک رسول خود انہی میں سے‘جو انہیں تیری آیات پڑھ کر سنائے‘اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے‘اور ان کو پاک کرے۔‘‘
یہ کتنی بڑی دعا تھی جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے اس اُمّت کو پیدا فرمایا اور اس کی قبولیت میں اڑھائی ہزار سال سے زیادہ لگے ہیں ۔ بعض مرتبہ ہماری دعائیں فوری قبول نہیں ہوتیں تو ہمیں مایوس نہیں ہو جانا چاہیے بلکہ بعض مرتبہ دعاؤں کی قبولیت کی مختلف شکلیں بھی ہوتی ہیں اور بعض مرتبہ وقت بھی لگتا ہے۔ پھر ابراہیم ؈نے اس اُمّت کا نام بھی رکھا : {مِلَّۃَ اَبِیْکُمْ اِبْرٰہِیْمَ ط ہُوَ سَمّٰىکُمُ الْمُسْلِمِیْنَ لا}(الحج :78)’’تمہارے جدّ ِامجد ابراہیم ؑکی ملت۔اُسی نے تمہارا نام مسلم رکھا ہے‘‘
آج ہم نے آسان سمجھا رکھا ہے مسلمان ہونا ، جمعہ کی دو رکعت نماز پڑھ لیں تو سمجھے مسلمان ہونے کا تقاضا پورا ہوگیا ۔ نماز کی رکعتوں میں اللہ کو بڑا ماننے کے بعد دکان پر سود بھی چل رہا ہے ، دفترمیں رشوت بھی چل رہی ہے ، شادی بیاہ کے موقع پر بے ہنگم ڈانس بھی چل رہا ہے ، بے پردگی بھی چل رہی ہے، معاشرے میں جھوٹ، وعدہ خلافی ، خیانت ، گالم گلوچ بھی چل رہے ہیں لیکن پھر بھی ہم مطمئن ہیں کہ پانچ وقت کی نماز ادا کرلی تو مسلمان ہونے کا تقاضا پورا ہوگیا ۔ یہ بگڑا ہوا تصورِ اسلام ہے ۔جبکہ حقیقت میں اسلام کیا ہے ؟ اللہ فرماتاہے :
{ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃًص} (البقرہ:208) ’’اسلام میں داخل ہو جائو پورے کے پورے۔‘‘
اسلام صرف چند عبادات اور رسومات کا نام نہیں ہے بلکہ ہر لمحے اور ہر کام میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری کا نام اسلام ہے ۔ چاہے شادی بیاہ کا موقع ہو ، ماتم ہو ، دفتر ہو ، دوکان ہو ، عدالت ہو ، پارلیمنٹ ہو ، حکومت ہو، ریاستی ادارے ہوں ، ہر جگہ اللہ کے احکامات کا نفاذ، اللہ کی فرمانبرداری ، اس کا نام اسلام ہے ۔ جیسے خود ابراہیم ؈اور اسماعیل ؈ نےفرمانبرداری کے تقاضے پورے کر کے دکھائے ۔ آج ہم مسلمان کے گھر میں پیدا ہوگئے تو سمجھنے لگ گئے کہ ہماری بخشش ہوگئی ۔ ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ اللہ نے اس اُمّت میں پیدا کیا ہے تو اس کا کوئی مقصد بھی ہے ۔
اُمت کا مقصد ِبعثت
یہ اُمّت کسی معمولی مقصد کے لیے نہیں پیدا کی گئی کہ معاشی ترقی کرلی ، اپنا گھر بنا لیا ، بینک بیلنس اور بزنس سیٹ کرلیا ، بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوا دی ، اولاد کی شادیاں کروا دیں اور بس مقصد پورا ہو گیا ، ہرگز نہیں ! گھونسلے چڑیا بھی بنا لیتی ہے ، جانور بھی بچے پال لیتے ہیں ، معاشی اور دنیوی ترقی تو کفار نے بہت کی ہے ، یہ کوئی بڑا کام نہیں ہے ۔اس اُمّت کی فضیلت بہت بڑے مقصد اور ذِمّہ داری کی وجہ سے تھی ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:{کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ}(آل عمران:110)’’تم وہ بہترین اُمّت ہو جسے لوگوں کے لیے برپا کیا گیا ہے‘تم حکم کرتے ہو نیکی کا‘اور تم روکتے ہو بدی سے۔‘‘
حقیقی معنوں میں دنیا کو لیڈ کرنے کی ذِمّہ داری اس اُمت کو سونپی گئی تھی ۔ دنیا کی امامت اس اُمّت نے کرنی تھی ، دنیا کے لیے رول ماڈل بننا ہے ۔ دنیا سے فتنہ و فساد ، برائی اور شر کو ختم کرنے اور عدل ، انصاف اور خیر کے نظام کو پوری دنیا میں قائم کرنا اس اُمّت کے ذمے لگایا گیا ۔ قرآن پاک میں فرمایا: {کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُہَدَآئَ لِلہِ} (النساء:135 ) ’’‘کھڑے ہوجائو پوری قوت کے ساتھ عدل کو قائم کرنے کے لیے اللہ کے گواہ بن کر۔‘‘اسی طرح سورۃ المائدہ میں فرمایا :{یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَـوّٰمِیْنَ لِلہِ شُہَدَآئَ بِالْقِسْطِ ز}(المائدہ : 8) ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو‘ اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بن جائو۔ ‘‘
اس اُمّت کو کھڑا کرنے کا مقصد یہ تھوڑا ہی تھا کہ ٹرمپ ہمارے فیصلے کرے ، نتن یاہو اور مرحومہ UNO ہماری قسمت کے فیصلے کرے ، G7اور G13بیٹھ کر فیصلے کریں کہ مسلمانوں کو کیا کرنا ہے ؟ بلکہ دنیا کی اقوام کے فیصلے کرنے کی ذمّہ داری اس اُمّت کو سونپی گئی تھی۔ اسی وجہ سے اس کو بہترین اُمّت قرار دیا گیا تھا کہ نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰـکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّـتَـکُوْنُوْا شُہَدَآئَ عَلَی النَّاسِ }( البقرہ :143 )
’’اور (اے مسلمانو!) اسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک اُمت ِوسط بنایا ہے،تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو ۔‘‘
اس اُمّت کو اللہ کے دین کی گواہی دینے کے لیے کھڑا کیا گیا ۔ دین کی گواہی پیش کرنا پہلے کم وبیش سوا لاکھ انبیاء کرام ؓ کے ذمّے تھا اور ختم ِنبوت کے بعد یہ ذمّہ داری اُمّت ِمُسلمہ کے کندھوں پر ہے ۔ فرمایا :{ہُوَ اجْتَبٰـىکُمْ} (الحج:78) ’’اُس نے تمہیں چُن لیا ہے‘‘
دنیا میں اللہ کے نظام کو قائم کرنے کے لیےا س اُمت کو چنا گیا ۔ اگر اس کے لیے جدوجہد کریں گے تو اللہ کی مدد بھی آئے گی ، دنیا میں عزت اور امامت بھی ملے گی ۔ ہم خیر ِ اُمّت بھی قرار پائیں گے اور دنیا میں آنے کا ہمارا مقصد بھی پورا ہوگا ۔ ان شاء اللہ !
رسول اللہ ﷺکی اُمّت:گلوبل امت
اللہ کے رسولﷺ نےایک گلوبل اُمّت ہمیں تیار کرکے دی تھی ، رنگ ، نسل ، زبان ، علاقہ ، ہر امتیاز اور ہر تفریق سے بالا تر ہو کر صرف کلمہ کی بنیاد پر ہم ایک اُمت تھے، فارس کے سلمان ، روم کے صہیب اور حبشہ کے بلالj
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے ۔ مگر آج ہم نے اُمّت کو تقسیم کردیا ، کہیں نسل اور زبان کی بنیاد پر تعصب ، کہیں جغرافیائی بنیادوں پر جھگڑے ، کہیں مسلک کی بنیاد پر لڑائی اور کہیں مال و دولت کی لالچ میں بھائی بھائی کا دشمن ، کہیں وراثت کے جھگڑے عدالتوں تک پہنچ گئے ۔ آج تقسیم در تقسیم ، ٹکڑے ٹکڑے ہو کر ہم زوال کا شکار ہوگئے ۔ اِس زوال سے نکلنے کا واحد راستہ اللہ کے رسول ﷺ نے سمجھا دیا کہ ہم دوبارہ ایک گلوبل اُمّت بن جائیں ۔ اسلام میں وہ طاقت ہے کہ یہ ساری انسانیت کو ایک پیج پر کھڑا کر سکتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے:{اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ} (الحجرات: 10 ) ’’یقیناً تمام اہل ِایمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔‘‘
رسول اللہ ﷺنے صرف اس کادرس ہی نہیں دیا بلکہ حقیقت میں بھائی چارہ کا نظام قائم کرکے بھی دکھایا ۔ انصار مدینہ کے ایثار کی مثالیں قرآن بیان کرتا ہے:{وَیُـؤْثِرُوْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ وَلَـوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌط}(الحشر :9) ’’اور وہ تو خود پر ترجیح دیتے ہیں دوسروں کو خواہ ان کے اپنے اوپر تنگی ہو۔‘‘
ایک روایت کے مطابق ایک گھر سے کھانا پڑوسیوں کے لیے بھیجا گیا ، سات گھروں (ایک راویت کے مطابق 12 گھروں) سے ہوتا ہواواپس اُسی گھر میں آجاتاہے ۔ اخوت کے یہ نظارے بھی اسلامی نظام میں آسمان نے دیکھے ہیں ۔ یہ ایک گلوبل اُمّت تھی جو رسول اللہﷺ ہمیں قائم کر کے عطا کر گئے تھے ۔اسی وجہ سے اُس وقت اُمّت کا عروج تھا ۔
اُمّت کا عروج
یہ اُمّت جو کلمہ کی بنیاد پر کھڑی کی گئی اور جسے اللہ کے رسول ﷺ نے ترتیب دیا ، جو منتخب اُمّت تھی ، جب اس نے قرآن کو تھاما ، قرآن سے ہدایت و رہنمائی حاصل کی ، قرآن کو محض ثواب کی کتاب نہ سمجھا بلکہ اس کو کتاب ِ انقلاب بھی سمجھا ، اس کی تعلیمات کا اپنی زندگیوں میں نفاذ بھی کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس اُمّت کو عروج عطا کیا ۔
اس اُمّت کا عروج مادی وسائل کی بنیاد پر نہیںتھا، مادی وسائل بھی ہونے چاہئیں ، دنیا کے وسائل کا علم اور تحقیق ہونی چاہیے، مگر مسلمان کا بھروسا وسائل پر نہیں ہوتا مسبب الاسباب پر ہوتا ہے۔جنگ بدر میں رسول اللہ ﷺ کی قیادت میں 313کا لشکر ایک ہزار پر غالب رہا ، حالانکہ مدمقابل کے پاس اسلحہ ، گھوڑے اور دیگر وسائل کئی گنا زیادہ تھے ، مگر مومنین کا لشکر اللہ پر بھروسا کر رہا تھا ۔ یہ وہ مومنین تھے جو اللہ کے دین کی خاطر اپنا گھر بار ، عزیز رشتہ دار ،سب کچھ چھوڑ کر آئے تھے۔ اس دن کو اللہ نے یوم الفرقان قرار دیا ہے۔معلوم ہوا کہ اہل ِایمان اگر اللہ کے ساتھ مخلص ہوں تو اللہ کی مدد ان کو حاصل ہوتی ہے ، چاہے مدمقابل وسائل کے لحاظ سے کتنا ہی بڑا اور ترقی یافتہ کیوں نہ ہو ۔ صحابہ کرام ؇ نے اس قرآن کو اپنا عملی منشور بنایاتھا ، راتوں کو تہجد میں وہ قرآن پڑھتے تھے ، اسی قرآن سے ان کے ایمان کی آبیاری ہوئی تھی : قرآن خود کہتا ہے:{وَاِذَا تُلِیَتْ عَلَیْہِمْ اٰیٰتُہٗ زَادَتْہُمْ اِیْمَانًا }(الانفال :2) ’’اورجب انہیں اُس کی آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں توان کے ایمان میں اضافہ ہو جاتا ہے۔‘‘
وہ قرآن جو قدر کی رات نازل ہوا ، قدر کی رات تقدیروں کو بدل دینے والی رات ہے، اس رات تقدیروں کے فیصلے کیے جاتے ہیں اور اس رات نازل ہونے والا یہ قرآن بھی تقدیروں کو بدل دینے والا ہے ۔ اس قرآن کو جب جماعت صحابہ ؇ نے زندگی کا عملی دستور بنایا تو وہ عرب کے صحراؤں سے اُٹھ کرپوری دنیا کے حکمران ، امام اور فیصلے کرنے والے بن گئے۔ اللہ خود فرماتاہے :
’’اللہ کا وعدہ ہے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں‘کہ وہ ضرور انہیں زمین میں خلافت (غلبہ) عطا کرے گا ‘جیسے اُس نے ان سے پہلے والوں کو خلافت عطا کی تھی۔‘‘(النور: 55 )
اس آیت کو آیت استخلاف کہتے ہیں، یعنی خلافت کے عطا کیے جانے کی بشارت ۔ اس آیت میں یہ وعدہ ہے کہ جو واقعتاً ایمان لانے والے ہوں گے اُنہیں اللہ دنیا میں خلافت عطا کرے گا۔قرآن میں ایک اور جگہ فرمایا :’’اور تم ہی سربلند رہو گے اگر تم مؤمن ہوئے۔‘‘(آل عمران: (139 ہماری طرح صرف زبانی دعوے کرنے والے نہیں بلکہ واقعتاً ایمان لانے والے اللہ کی نصرت پاتے ہیں ۔ واقعتاً ایمان کا معیار اگر دیکھنا ہے تو صحابہ کرام ؇کو دیکھو ۔ اللہ تعالیٰ صحابہ ؇ کے ایمان کو معیار قرار دیتا ہے:
{فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَآ اٰمَنْتُمْ بِہٖ فَقَدِ اہْتَدَوْاج} (البقرہ :137) ’’پھر (اے مسلمانو!) اگر وہ (یہودو نصاریٰ) بھی اُسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لائے ہو‘تب وہ ہدایت پر ہوں گے۔‘‘
اس معیار کا ایمان ہوگا تو اللہ تعالیٰ زمین میں خلافت عطا فرمائے گا ۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے ۔ آج ہمارے ایمان کی حالت یہ ہے کہ خلافت کا نام لینا ہی چھوڑدیا ۔ بعض دینی طبقات میں سے بھی کچھ حضرات کہہ رہے ہیں کہ خلافت کا نام نہ لو ورنہ اُٹھا کر لے جائیں گے ، یہ کردیں گے وہ کردیں ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔خلافت کا نام تو اللہ تعالیٰ خود قرآن میں لے رہا ہے :
{وَاِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰٓـئِکَۃِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً ط}(البقرۃ :30) ’’اور یاد کرو جب کہ کہا تھا تمہارے ربّ نے فرشتوں سے کہ میں بنانے والا ہوں زمین میں ایک خلیفہ۔‘‘
حضرت آدم ؊کو خلیفہ بنا کر دنیا میں بھیجا گیا تھا ، اللہ کے تمام انبیاء کرامj دنیا میں خلافت کے قیام کے لیے آئے تھے ۔ اللہ تعالیٰ داؤد ؊ کے بارے میں فرماتا ہے : {یٰـدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰکَ خَلِیْفَۃً فِی الْاَرْضِ } (ص:26) ’’ اے دائودؑ! ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا ہے۔‘‘
کیا قرآن سے (معاذ اللہ )خلافت کے الفاظ نکال دیں ؟اگر کچھ نام نہاد جہادی تنظیموں نے لفظ خلافت کو بدنام کر دیا ہے تو ان تنظیموں کی مذمت ہونی چاہیے نہ کہ ہم خلافت کو ہی چھوڑ دیں ۔ کیا خلافت راشدہ کا دور پوری دنیا کے انسانوں کے ایک رول ماڈل نہیں ہے ؟ یہاں تک کہ گاندھی جیسے شخص کو بھی یہ کہنا پڑا کہ :میرے پاس نظام کو چلانے کے لیے حضرت ابوبکر وحضرت عمرؓ سے بڑھ کر کوئی مثال نہیں جس کو میں تمہارے سامنے پیش کروں ۔ قائداعظم کو کہنا پڑا کہ : مغرب کے سرمایہ دارانہ نظام نے انسانوں کو غلام بنا دیا ہے ، ہمارا فرض ہے کہ ہم خلافت ِراشدہ کے دور کو نمونہ کے طور پر سامنے رکھتے ہوئے دنیا کے سامنے عہد حاضر کی اسلامی فلاحی ریاست کا نمونہ پیش کریں ۔ آج بھی اسکینڈینیوین ممالک میں’’ عمرلاز‘‘ کے نام سے خلافت راشدہ کے دور کے قوانین نافذ ہیں ۔ صحابہ کرام jنے عدل کی محض باتیں نہیں کیں بلکہ حقیقی معنوں میں عدل و انصاف قائم کرکے دکھایا ۔ دنیا میں جنگوں کی تاریخ پڑھ لیں جب کفار کسی قوم پر جنگ مسلط کرتے تھے تو عورتوں ، بچوں کو بھی قتل کر دیتے تھے، فصلوں سمیت ہر چیز کو تہس نہس کر دیتے تھے ، مگر صحابہ کرامؓ نے کسی بھی جنگ میں عورتوں ، بچوں اور ہتھیار نہ اُٹھانے والوں پر تلوار نہیں تانی ، نہ ہی فصلوں اور درختوں کو نقصان پہنچایا ، نہ لوگوں کی زمینوں پر قبضے کیے ۔ یہی وجہ ہے کہ مفتوحہ علاقوں میں کبھی غیر مسلم عوام نے بھی بغاوت نہ کی بلکہ وہ کہتے تھے جتنے حقوق اسلام نے ہمیں دئیے ہیں اتنے تو ہماری حکومتیں بھی نہیں دیتی تھیں ۔ جو جزیہ لیا جاتا تھا وہ بھی غیر مسلموں کی جان و مال کی حفاظت کے بدلے لیا جاتا تھا ، جہاں صحابہ کرامj یہ حفاظت نہیں کر پاتے تھے وہاں جزیہ بھی واپس کر دیتے تھے ۔ یہ ہے خلافت راشدہ کا نظام ِ عدل ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ رومی سفیر نے جب حضرت عمرفاروق ؓ کو درخت کے نیچے زمین پرسوئے ہوئے دیکھا تو کہا : تم لوگ عدل کرتے ہو اس لیے بے خوف سوتے ہو ، ہمارے حکمران ظلم کرتے ہیں لہٰذا وہ محلات سے باہر بھی نہیں نکل سکتے ۔یہی عدل اسلام کا کیچ ورڈ ہے ۔ اللہ کے رسولﷺ سے کہلوایا گیا:
{وَاُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَکُمْ ط}(الشوریٰ:15) ’’اور (آپؐ کہہ دیجیے کہ) مجھے حکم ہوا کہ مَیں تمہارے درمیان عدل قائم کروں۔‘‘
اسی عدل کے نظام کو صحابہ کرامjنے دنیا میں قائم کیا ۔ یہ نظام تب قائم ہو ا جب صحابہ کرامj نے قرآن سے ہدایت
اور رہنمائی لی ، قرآن کے نور سے اپنے دماغوں کو روشن کیا ، یہی نور جب قرطبہ اور بغداد کی یونیورسٹیوں سے یورپ میں پہنچا تو یورپ کو ڈارک ایجز سے نکالا ۔ بوعلی سینا ، جابر بن حیان ، الخوارزمی اور الرازی جیسے مسلم سائنسدانوں کی کتابیں پڑھ کر یورپ نے سائنس میں ترقی کی ۔ مغرب اگر خلافت راشدہ کے دور کے قوانین اور مسلمانوں کے عروج کے دور کے علوم و فنون کو فالو کرے تو دنیا ان کی تعریف کرے اور اگرہم خلافت کا نام لیں تووہ جرم بن جائے ؟ یہ دنیا کا دہرا معیار ہے ۔
بہرحال صحابہ کرام ؇ کے ایمان کو اللہ تعالیٰ معیار قراردیتا ہے اور ان کی خلافت کے نظام کو آج بھی دنیا معیار مانتی ہے ۔ اس طرح کا ایمان اگر ہم اپنے اندر پیدا کریںگے تو اللہ تعالیٰ ہمیں بھی خلافت اور عروج عطافرمائے گا ۔ ان شاء اللہ !
اُمّت کازوال
اس وقت دنیا میں کم وبیش دو ارب کلمہ پڑھنے والےمسلمان ہیں ، 57 مسلم ممالک ہیں ، دنیا جہاں کے وسائل ہمارے پاس ہیں ، عربوں کے پاس تیل کی دولت ہے ، ہمارے پاس ایٹمی طاقت ، بہترین فوج ، بہترین میزائل ٹیکنالوجی ہے ، ایران اور ترکی کے پاس بھی بہترین میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی ہے ، ملائیشاء کے پاس معاشی ترقی ہے ، دنیا کے ذہین اور باصلاحیت افراد ہمارے پاس ہیں مگر پچھلے سو برس سے سب سے زیادہ لہو مسلمانوں کا بہایا جارہا ہے ، فلسطین ، کشمیر ، برما، بھارت اور کئی علاقوں میں مسلمانوں کی نسل کُشی کی جارہی ہے ۔ عراق ، شام ، لبنان ، لیبیا ، ایران اور افغانستان میں امریکہ نے مسلمانوں کا قتل عام کیا اور یہ لہو آج بھی لبنان ،ایران ، فلسطین ، یمن اور عراق میں مسلمانوں میں بہہ رہا ہے ۔ حالانکہ ہم اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان رکھتے ہیں ، قرآن پر ایمان رکھتے ہیں ، پھر ایسا ہمارے ساتھ کیوں ہو رہا ہے ؟
پہلی وجہ : محدود تصوّرِ دین
ہم نے دین کو محض چند عبادات اور رسومات تک محدود کرلیا ۔ اب بھی ہمارے ہاں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان کو سیکولر سٹیٹ ہونا چاہیے ۔ گویا ہم نے دین کو انگریزی والا religionسمجھ لیا ہے کہ جس کا ریاستی ، سیاسی ، معاشی اور معاشرتی نظام میں کوئی عمل دخل نہیں ہونا چاہیے ۔ حالانکہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے ، یہ نہ صرف انفرادی زندگی کے تمام امور میں رہنمائی دیتاہے بلکہ اجتماعی زندگی کے سیاسی ، معاشی اور معاشرتی نظام میں بھی اپنے نفاذ کا تقاضا کرتاہے ۔ ’’اسلام میں داخل ہو جائو پورے کے پورے۔‘‘ (البقرۃ:208)
یہ پورے کا پورا دین اللہ کے رسول ﷺ اور صحابہ کرامj نے قائم کرکے دکھایا ۔ آج ہمارے ہمارے سینیٹ میں بیٹھے ہوئے لوگ کہتے ہیں کہ اسلامی بینکوں میں کام کرنے والی خواتین ملازمین کو عبایا نہیں پہننی چاہیے ۔ ان کو عبایا سے کیا مسئلہ ہے ، معاشرے میں بے شرمی ، بے حیائی ، فحاشی ، سود ، رشو ت ، کرپشن سمیت ہر برائی اپنے عروج پر ہے اس کے خلاف یہ لوگ کیوں نہیں بولتے؟ ہمارے تعلیمی ادارے برائی کے گڑھ بن چکے ہیں ، FBRکی اپنی رپورٹ کے مطابق اس ادارے میں 7 سو ارب روپے کی کرپشن ہوئی ہے ، ایسے بڑے اور اجتماعی سطح کے جرائم پر بھی یہ لوگ خاموش رہتے ہیں لیکن کوئی مسلم خاتون اگر پردہ یا حجاب کرلے تو ان کو مسئلہ ہو جاتا ہے ۔ ایسے ہی طرز عمل پر اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے :
’’تو کیا تم کتاب کے ایک حصّے کو مانتے ہو اور ایک کو نہیں مانتے؟ تو نہیں ہے کوئی سزا اس کی جو یہ حرکت کرے تم میں سے‘ سوائے ذلت و رسوائی کے دنیا کی زندگی میں۔اور قیامت کے روز وہ لوٹا دئیے جائیں گے شدید ترین عذاب کی طرف۔‘‘ (البقرۃ:85)
آج ہم نے دین کے تصور کو چند عبادات و رسومات تک محدود کرلیا اور اجتماعی سطح پر اس کے نفاذ کو فراموش کر دیا ، اسی وجہ سے آج ہماری ذلت ہے
دوسری وجہ : مرکزیت کا خاتمہ
1924 ء میں خلافت کے انہدام کے ساتھ ہی مسلمانوں کی رہی سہی مرکزیت بھی ختم ہو گئی ۔ اس سے پہلے خلیفہ کی جانب سے اگر کوئی آرڈر یا فتویٰ جاری ہوتا تو وہ پوری اُمت پر نافذ ہوتا تھا۔ایک مرتبہ برطانیہ میں ایک ایسے سٹیج شوکو ترتیب دیا گیا جس میں معاذ اللہ رسول اللہ ﷺ اور امہات المومنین l کی شان میں گستاخیوں کا مذموم منصوبہ بنایا گیا تھا ، یہ خبر جب عثمانی خلیفہ تک پہنچی تو اس نے برطانوی سفیر کو بلا کر تنبیہہ کی کہ اگر یہ سٹیج شو روکا نہ گیا تو پھر برطانیہ کے خلاف جہاد کا اعلان کر دیا جائے گا۔ حالانکہ شو کی ٹکٹس فروخت ہو چکی تھیں ، اس کے باوجود برطانوی حکومت کو وہ سٹیج شو روکنا پڑا کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ اگر خلیفہ نے جہاد کا اعلان کر دیاتو پوری دنیا کے مسلمان برطانیہ کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں گے ۔ حالانکہ اس وقت خلافت آخری سانسیں لے رہی تھی لیکن اس کے باوجود اپنی مرکزیت کی وجہ سے اتنی طاقت کہ برطانیہ جیسی عالمی طاقت بھی اس سے خوف کھاتی تھی ۔ آج ہزاروں فتوے مسلم دنیا میں گردش کر رہے ہیں مگر ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے کیونکہ مرکزیت نہیں ہے ۔ 57 مسلم ممالک ہیں مگر سب امریکہ اور یورپ کے غلام ہیں ، عالمی طاقتیں مسلم ممالک کو ہی آپس میں لڑوا کر ان کی رہی سہی طاقت بھی ختم کر رہی ہیں ۔ مشرق وسطیٰ جنگ کا میدان بن چکا ہے ۔ آج ہماری کوئی طاقت اور حیثیت نہیں ہے کیونکہ ہماری مرکزیت کھو چکی ہے ۔ اس کو دوبارہ قائم کرنے کی ضرورت ہے ۔
تیسری وجہ : دنیا کی محبت اور موت سے نفرت
اللہ کے رسولﷺ نے فرمایاکہ ایک وقت آئے گا کہ اقوام عالم تم پر ایسے ٹوٹ پڑیں گی جیسے کھانے پر دعوت دی جاتی ہے ، صحابہ کرامj نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ کیا اس وقت ہم تعداد میں کم ہوں گے ۔ فرمایا : نہیں ، تم تعداد میں ریت کے ذروں کی مانند ہو گے ، مگر تمہاری حیثیت سمندر پر جھاگ کی مانند ہوگی ، اللہ تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہارا رعب نکال دے ۔ پوچھا ،ا س کی وجہ کیا ہوگی ۔ فرمایا : ((حب دنیا و کراہیۃ الموت )) دنیا کی محبت اور موت سے نفرت ۔ آج دنیا میں دو ارب مسلمان اور 57 مسلم ممالک ہیں مگر ان کی حیثیت دشمنوں کے سامنے سمندر کے جھاگ کی مانند ہے ۔ دنیا پر ان کا کوئی رعب نہیں ۔ دشمن جب چاہتا ہے مسلمانوں کا خون بہاتا ہے ۔ 57 مسلم ممالک کچھ نہیں کر پاتے ۔ کیونکہ ان کو دنیا پیاری ہے ، اپنا اقتدار ، اپنا مال و زر ، یورپ اور امریکہ کے بینکوں میں رکھی ہوئی دولت اور عیاشیاں پیاری ہیں اور موت سے ان کو خوف ہے ۔
چوتھی وجہ : اعمال میں بگاڑ
قرآن میں اللہ فرماتاہے: {ظَہَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ}( الروم:41 ) ’’بحر و بر میں فساد رونما چکا ہے‘لوگوں کے اعمال کے سبب۔‘‘آج انفرادی اور اجتماعی سطح پر ہمارے کرتوت وہ ہیں کہ جنہیں دیکھ کر یہود بھی شرمائیں ۔ قرآن کو ہم نے چھوڑ دیا ، مساجد بے آباد ہیں ، جھوٹ ، وعدہ خلافی ، رشوت ، کرپشن اپنے عروج پر ہے ۔ بیٹیوں کو وراثت میں شرعی حصہ نہ دینا ہم نے جائز سمجھ لیا ، دین سے سرکشی اور بغاوت کو ہم نے ماڈرن ازم سمجھ لیا ، ہمارے انہی کرتوتوں کی وجہ سے آج ہم پر طرح طرح کے عذاب مسلط ہیں ۔ قرآن میں اللہ بتاتا ہے : ’’اور تم پر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ درحقیقت تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی(اعمال) کے سبب آتی ہے اور (تمہاری خطائوں میں سے) اکثر کو تو وہ معاف بھی کر تا رہتا ہے۔‘‘(الشوریٰ:30)
کرنے کا کام:راہِ نجات
راہ نجات کیا ہے؟صحابہ کرام ؓ نے جس راستے پر چل کراور جو ذرائع اختیار کرکے دنیا میںخلافت ، امامت اور عروج حاصل کیا ، اسی طرح موجودہ دور میں بھی مسلمان دوبارہ عروج حاصل کر سکتے ہیں ۔
پہلا ذریعہ :
قرآن کو صرف کتابِ ثواب نہ سمجھیں بلکہ کتاب انقلاب بھی سمجھیں اور اس تناظر میں بھی اس سے رہنمائی حاصل کریں ۔ قرآن تقدیروں کو بدل دینا والا ہے۔ اسی قرآن سے ایمان کی آبیاری ہوگی اور ایمان ہی وہ طاقت ہے جو مسلمان کو کفر اور باطل کے خلاف کھڑا کرتا ہے ۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہمارا ایمان اگر ہمیں نماز کے لیے مصلے پر کھڑا نہیں کر سکتا تو وہ باطل نظام کے خلاف کیسے کھڑا کرے گا ؟ لہٰذا انقلاب کے لیے پہلا کام ہمیں جو کرنا ہے وہ ہے قرآن کے ذریعے ایمان کی آبیاری ۔ کفار کو وسائل پر بھروسا ہوتاہے جبکہ مسلمان کی اصل طاقت ایمان اور اللہ پر بھروسا ہے ۔
اپنی ملت پہ قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسولِ ہاشمیؐ
دنیوی مال و دولت اور وسائل تو فرعون ، نمرود ، ہامان اور شداد کے پاس بھی بہت تھے ۔ مگر زندگی کے امتحان میں وہ ناکام و نامراد ٹھہرے ۔ مسلمان کی دنیا و آخرت میں کامیابی کا پہلا ذریعہ ایمان ہے اور ایمان کا ذریعہ قرآن ہے ، قرآن سے جڑ جاؤ تو ایمان حاصل ہوگا اور ایمان سے دنیا و آخرت میں کامیابی ملے گی ۔
دوسرا ذریعہ :اجتماعی توبہ و اصلاح
انفرادی اصلاح یہ ہے کہ اللہ کی نافرمانی چھوڑ دو ، گناہ اور حرام سے بچو ، اپنے باطن کو پاکیزہ کر و ،سچی توبہ کرکے اللہ سے اپنا تعلق مضبوط بناؤ ۔ پھر اجتماعی سطح و اصلاح یہ ہے کہ ہم دین کے جامع تصور اپنا ئیں ، اجتماعی دینی ذمّہ داریوں کو پورا کریں ، دینی اجتماعیت اختیار کریں اور اللہ کے دین کو بطور نظام قائم کرنے کی جدوجہد میں حصّہ لیں ۔ یہ ہمارے اجتماعی گناہوں کا کفارہ ہوگا اور اللہ تعالیٰ کی مدد ہمیں حاصل ہوگی ۔
تیسرا ذریعہ : تفرقہ کو چھوڑ دیں
قرآن اُمت کو جوڑنے والا ہے : {وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللہِ جَمِیْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْاص}( آل عمران:103) ’’اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھام لو مل جل کر اور تفرقے میں نہ پڑو۔‘‘ قرآن کو مضبوطی سے تھامیں گے ، اس سے رہنمائی اور ہدایت حاصل کریں گے تو تفرقہ اپنے آپ ختم ہو جائے گا ۔ تفرقہ تب پڑا جب ہم نے قرآن کو چھوڑ کر اپنے اپنے مکتب بنالیے جیسے دیوبندی ، اہلحدیث ، بریلوی ، شیعہ وغیرہ ۔ اسی تفرقہ کی وجہ سے اُمت تقسیم ہو کر کمزور ہو گئی اور آج دشمن ہم سب کو قتل کر رہے ہیں ۔ دوبارہ متحد ہونا ہے تو اپنے فکر کو وسیع کرو ، قرآن کو مرکز ہدایت بناؤ تو قرآن تمہیں وہ عظیم مشن سونپے گا جو نبی اکرم ﷺ کا مشن تھا ، اس کے سامنے تمہارے چھوٹے چھوٹے اختلافات خود بخود ماند پڑ جائیں گے ۔
چوتھا ذریعہ : اقامت دین کی جدوجہد
صحابہ کرام ؓ نے صرف اسلام کو قبول ہی نہیں کیا بلکہ اسلام کو قائم اور نافذ کرکے بھی دکھایا ۔ قرآن میں اللہ فرماتاہے:{یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَنْصُرُوا اللہَ یَنْصُرْکُمْ وَیُثَبِّتْ اَقْدَامَکُمْ (7)}(سورہ محمد) ’’اے اہل ِایمان! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور وہ تمہارے قدموں کو جما دے گا۔‘‘
جب صحابہ کرام ؓ نے اللہ کے دین کی مدد یعنی اقامت کے لیے اپنی زندگیاں وقف کردیں تو اللہ کی مدد آئی اور 313 ہو کر بھی ایک ہزار پر غالب رہے ۔
یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات
آج بھی اگر اُمّت رسول اللہ ﷺ کے مشن کو اپنا ئے گی ، اللہ کے دین کے قیام کیے لیے جدوجہد کرے گا تو اللہ کی نصرت ان کو حاصل ہو گی اور انہیں دوبارہ عروج حاصل ہو گا ۔ ان شاء اللہ !یہی وہ پیغام ہے جو تنظیم اسلامی کی اس مہم کے ذریعے ہم عوام الناس اور خواص تک پہنچانا چاہتے ہیں ۔ اس مہم میں ہمارا ساتھ دیجئے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان سب باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین !