(الہدیٰ) کفار کی مخالفت سے رنجیدہ نہ ہوا جائے - ادارہ

10 /
الہدیٰ
 
کفار کی مخالفت سے رنجیدہ نہ ہوا جائے
 
آیت 23 {وَمَنْ کَفَرَ فَلَا یَحْزُنْکَ کُفْرُہٗ ط} ’’اور (اے نبیﷺ!) جو کوئی کفر کرے تو اُس کا کفر آپؐ کورنجیدہ نہ کرنے پائے ۔‘‘
{اِلَـیْنَا مَرْجِعُہُمْ فَنُـنَـبِّئُہُمْ بِمَا عَمِلُوْاط} ’’ہماری ہی طرف ان سب کو لوٹنا ہے ‘ پھر ہم اُنہیں آگاہ کر دیں گے ان کاموں کے بارے میں جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘
{اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ م  بِذَاتِ الصُّدُوْرِ(23)} ’’ یقیناً اللہ خوب جاننے والا ہے اسے بھی جو سینوں میں چھپا ہوا ہے۔‘‘ 
آیت 24 {نُمَتِّعُہُمْ قَلِیْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّہُمْ اِلٰی عَذَابٍ غَلِیْظٍ(24)}’’ہم اُنہیں تھوڑی دیر کے لیے مال و متاع دے رہے ہیں‘ پھر ہم انہیں کھینچ کر لائیں گے ایک بہت گاڑھے عذاب کی طرف۔‘‘ 
ہم نے انہیں دُنیوی زندگی کی صورت میں تھوڑی سی مہلت دی ہے‘جس میں وہ دنیا کے سازوسامان کو کام میں لاتے ہوئے مزے لوٹ لیں۔ پھر ہم انہیں پکڑ کر بہت سخت عذاب کی طرف دھکیل دیں گے۔
 
درس حدیث
 
خوش نصیب کون
 
عَنْ فَضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدِ ؓ  یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَاللہِﷺ  یَقُوْلُ :((طُوْبٰی لِمَنْ ھُدِیَ اِلَی الْاِسْلَامِ وَکَانَ عَیْشُہٗ کَفَا فًا وَقَنَعَ))(رواہ الترمذی)
حضرت فضا لۃ بن عبید ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے سنا : ’’خوش نصیب ہے وہ جسے اسلام کی توفیق ملی اور اُسے بقدرِضرورت زندگی کا سامان حاصل ہے اور وہ اُس پر مطمئن ہے۔‘‘                             
تشریح: کسی انسان کی سب سے بڑی خوش نصیبی اس کا مسلمان ہونا اور نعمت ِ اسلام سے بہرہ ور ہونا ہے کہ اس نعمت کے ساتھ دنیا اور آخرت کی کامیابیاں وابستہ ہیں۔ اس کے ذریعہ وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کو پہچانتا ہے… اُس میں حق اور باطل، خیر اور شر، حلال اور حرام، نیکی اور بدی میں تمیز پیدا ہوتی ہے اور پھر وہ راہِ صداقت پر چل کر کامیابی کی منزل پر پہنچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اپنے بندوں پر اَن گنت انعامات میں سے سب سے بڑا انعام نعمت ِ ہدایت ہے۔  حدیث کے مطابق دوسری نعمت و خوشی یعنی اِس قدر روزی کا حاصل ہونا چاہیے، جو اُسے کفایت کرے، اور تیسری خوش نصیبی کی علامت یہ ہے کہ آدمی اللہ کے دیئے ہوئے رزق پر قناعت کرے۔