(اداریہ) اتحادِاُ مَّت ِ مُسلمہ اور پاکستان کی سلامتی اسلام کے نظامِ عدلِ اجتماعی کو موقع دیجئے! (حصّہ دوم) - رضا ء الحق

10 /

اداریہ


رضاء الحق


اتحادِاُ مَّت ِ مُسلمہ اور پاکستان کی سلامتی

اسلام کے نظامِ عدلِ اجتماعی کو موقع دیجئے!(حصّہ دوم)

گزشتہ شمارہ میں ہم دوسری جنگ عظیم کے خاتمہ کے بعد عالمی سطح پر 4 اہم تبدیلیوں کا تذکرہ کر رہے تھے۔ چوتھی اور آخری سطح پر مسلمان ممالک جو کم و بیش 13صدیوںتک دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور رہ چکے تھے، ان میں قومیت اور دین کے احیاء کی بنیاد پر تحریکوں کا آغاز ہوا۔ ایسی ہی ایک تحریک جو برصغیر میں مسلم قومیت کی بنیاد پر برپا کی گئی، اُس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کی خصوصی نصرت برصغیر کے مسلمانوں کو عطا ہوئی اور پاکستان معجزانہ طور پر معرض وجود میں آگیا۔ تحریک ِپاکستان کے مقبول ترین نعروں’’پاکستان کا مطلب کیا:لاإلٰــہَ إلَّا اللہُ ‘‘ اور’’مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ ‘‘ نے برصغیر کے مسلمانوں میں ایسا ولولہ اور جذبہ پیدا کیا کہ انگریز اور ہندوؤں کی دُہری غلامی سے نجات مل گئی اور 14اگست 1947ء کو پاکستان قائم ہوگیا۔ مدینہ کی ریاست کے بعد پاکستان وہ واحد ملک ہے جو اسلام کی بنیاد پر قائم کیا گیا۔
قیامِ پاکستان کے فوراً بعد ابتدائی چند سالوں کے دوران مملکت ِخداداد میں دین کو قائم و نافذ کرنے کی طرف کچھ پیش قدمی ہوئی۔ 1949ء میں قراردادِمقاصد منظور ہو گئی اور 1951ء میں تمام مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے 31 جید علمائے کرام نے اتمامِ حجت کرتے ہوئے 22 نکات پیش کر دئیے کہ ان کی بنیاد پر پاکستان کو عملی طور پر ایک اسلامی فلاحی ریاست بنا دیا جائے، ہم سب اِس پر متفق ہیں۔ یہ بین المسالک اتحاد کے حوالے سے ایک سنگ ِمیل سے کم نہ تھا۔ پھر 1956ء کے اسلامی آئین پربھی کام شروع کر دیا گیا تھا۔ لیکن شومئی قسمت کہ اُس کے بعد ملک پٹڑی سے اُتر گیا بلکہ صحیح ترین الفاظ میںاُتار دیا گیا۔ سیکولرازم ا ور مارشل لاء نے دین کے نفاذ کی جانب پیش قدمی کو ریورس گیئر لگا دیا۔قیامِ پاکستان کے محض 24 برس بعد ملک کا مشرقی بازو کٹ کر علیحدہ ہوگیا۔لیکن اِن تمام دھچکوں کے علی الرغم پاکستان کا معجزانہ طور قائم رہنا اور انتہائی دگرگوں حالات میں بھی اللہ تعالیٰ کی خاص مدد کا شاملِ حال رہنا یقیناًاِس امر کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان سے کوئی بڑا کام لینا چاہتا ہے۔
اس وقت عالمی منظر نامہ کچھ اس طرح ہے کہ امریکہ، اسرائیل، بھارت پر مشتمل ابلیسی اتحادِ ثلاثہ اپنے عزائم میں متحد ہے۔ افسوس تو اس بات پرہے کہ مسلم ممالک بدترین ناچاقی و نا اتفاقی کا شکار ہیں اور مسلک، نسل، زبان اور خطوں کے تاریخی پسِ منظر کی وجہ سے 57 مسلم ممالک میں اتفاق و اتحاد نام کی کوئی شے دکھائی نہیں دیتی۔ ایک طرف تو مسلمان ’’وہن‘‘ کی اُس بیماری میں بُری طرح مبتلا ہیں جس کی تشخیص نبی مکرم ﷺ نے تقریباً 14 صدیاں قبل ہی فرما دی تھی۔ ’’دنیاکی محبت اور موت سے نفرت‘‘ مسلمانوں، خصوصاً مسلم ممالک کے بادشاہوں، حکومتی زعماءاور مقتدر حلقوں کی اکثریت میں سرایت کر چکی ہے۔ پھر یہ کہ گزشتہ 30 سال کے دوران طاغوتی قوتیں متحد ہو کر مسلم ممالک کو ایک ایک کر کے تباہ و بربادکرتی رہی ہیں جس کی تازہ مثالیں غزہ، فلسطین اور ایران ہیں۔
مسلم ممالک کی حالت یہ ہے کہ اُنہیں عذاب کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے آپس کی خانہ جنگیوں میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک مسلم ملک پر حملہ ہوتا ہے تو باقی سُکھ کا سانس لیتے ہیں کہ ہم بچ گئے !جیسے مرغی کے ڈربے سے قصائی جب ایک کو ذبح کرنے کے لیے نکالتا ہے تو باقی اِسی پر خوش ہو جاتی ہیں کہ ان کی بچت ہو گئی، اگرچہ ایک ایک کر کے تمام مرغیوں کو ذبح کر دیا جاتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مصیبت تو صرف غزہ، لبنان، مغربی کنارے و مشرقی یروشلم، کشمیر، سوڈان، ایران والوں پر ہی ہے، ہم تو بچے ہوئے ہیں! بھلا ایک ایسا ’مشترکہ دفاعی معاہدہ‘ جس میں ایران شامل نہیں، معاہدہ کے اہداف میں صہیونیوں کو دشمن قرار نہیں دیا گیا اور امریکہ و اسرائیل میں اِس معاہدے کے خلاف کوئی ارتعاش دیکھنے میں نہیں آرہا… کیا ایسا معاہدہ غزہ کے مظلوم مسلمانوں کی عملی دادرسی کر سکے گا اور ظالم صہیونیوں کے بازو کاٹ سکے گا؟ سادگی مسلم کی دیکھ! معروف حدیث کے مفہوم کے مطابق دورِ فتن و ملاحم میں کفار مسلمانوں پر حملے کے لیے ایک دوسرے کو ایسے دعوت دیں گے جیسے دسترخوان پر کھانا سجانے کے بعد دعوت دی جاتی ہے۔ نبی مکرم ﷺ کی اس پیش گوئی کو آج سب سر کی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اتحادِ اُمت کے لیے قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے جابجا رہنمائی اور لائحہ عمل واضح کر کے بیان فرمایا ہے۔ سورۃ آل عمران کی آیت103میں فرمایا: ’’اور اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھام لو مل جل کر اور تفرقے میں نہ پڑو ۔‘‘ سورۃ الشوریٰ کی آیت 13 میں فرمایا: ’’قائم کرو دین کو اور اِس میں تفرقہ نہ ڈالو۔‘‘ گویا مسلکی اور فرقہ وارانہ اختلافات سے ایک منزل اوپر یعنی قرآن و سنت کی روشنی میں دین، جو کہ آج مغلوب ہے، کو غالب و نافذ کرنے کی جدوجہد کو اپنا ہدف بنایا جائے تو اُمَّتِ مُسلمہ کی حالتِ زار بدل سکتی ہے۔ لیکن افسوس کہ آج مسلم ممالک کا طرزِ عمل وحی الٰہی کے بالکل برعکس ہے۔
پاکستان کم و بیش 79 سال امریکہ کی غلامی میں بسر کر چکا ہے اور تبدیلی کے آثار نظر نہیں آرہے۔ فوجی اور ہائبرڈ حکومتوں نے ملک کا بیڑا غرق کر دیا اور سیاست دانوں کا یہ حال ہے کہ ان میں سے ہر ایک جی ایچ کیو کے کسی گملے کی پیداوار ہے۔ ملک میں سود کا دھندا عام ہے، وفاقی شرعی عدالت کے ربا کی حرمت کے حوالے سے متعدد فیصلوں کے باوجود ملک شروع دن سے اللہ اور اُس کے رسولﷺ کے ساتھ حالت ِجنگ میں ہے۔ مغربی جمہوریت کے طرزِحکومت کو کسی مقدس صحیفے کی طرح تقریباً مِن و عَن ملک و ملت پر سوار کر دیا گیا ہے۔معاشرتی سطح پر اگرچہ کچھ عرصہ قبل تک حالات نسبتاً بہتر تھے لیکن گزشتہ20 برس کے دوران مغرب کے سوشل انجینئرنگ ایجنڈا کو نافذ کرنے کے لیے پیسہ پانی کی طرح بہایا گیا ہے۔
آج حالت یہ ہے کہ روایتی و سوشل میڈیا فحاشی و عریانی اور توہینِ رسالت ﷺ و مقدسات کے اڈے بن چکے ہیں۔ پارلیمان نے مغرب اور اس کے اداروں کو خوش کرنے کے لیے ٹرانس جینڈر ایکٹ اور اِس جیسے کئی غیر شرعی قوانین کھلم کھلا بنائے ہیں۔ سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بے حیائی کا ایک طوفان ہے۔ خاندانی نظام پر مسلسل یلغار جاری ہے۔
گزشتہ 40 سال کے دوران آئی ایم ایف کے ہتھکنڈوں میں جکڑے جانے اور اشرافیہ کی کرپشن کے باعث ہماری معاشی حالت بھی انتہائی دگر گوں ہے۔ بین الاقوامی سطح پرہم دوست، اتحادی اور دشمن میں فرق کرنے کو تیار نہیں اور اسلامی تعلیمات کے مطابق بین الاقوامی تعلقات قائم کرنا شایدترجیحات میں شامل ہی نہیں۔ پاکستان کی اشرافیہ کا ایک خود ساختہ المیہ یہ بھی ہے کہ امریکہ اور چین کے درمیان سینڈوچ بننے سے کیسے بچا جائے۔ پاکستان سے لُوٹا ہوا پیسہ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں جمع ہے ۔اِنہی ممالک میں جائیدادیں بھی ہیں اور کاروبار بھی۔ اکثریت کے بچے، بچیاں بھی اِنہی ممالک میں پَل بڑھ رہے ہیں اور صدر ٹرمپ کا اچانک پاکستان پر اس قدر مہربان ہو جانا ہمارے لیے خطرے کی گھنٹی ہونی چاہیے۔
ہمیں یہ بھی یاد رہے کہ پاکستان کے بعض علاقے اُس خطے میں شامل ہیں جسے احادیث مبارکہ میں ’’ خراسان‘‘ کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے۔ مستقبل کا منظر نامہ ہمیں چیخ چیخ کر یہ باور کروا رہا ہے کہ ملکی اور عالمی سطح پراگر پاکستان نے کوئی اہم کردار ادا کرنا ہے تو اِس کا آغاز اپنے ملک سےکرناہو گا۔ اللہ تعالیٰ پاکستان سمیت اُمَّتِ مُسلمہ کو اس حالتِ زار سے نکلنے کے لیے قرآن کو اپنا امام بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ یہی ’راہِ نجات‘ ہے۔