اُمّت ِمُسلمہ کے لیے راہ ِنجات اور رجوع الی القرآن
(تنظیم اسلامی کی مہم کے تناظر میں )
مسجد جامع القرآن ، قرآن اکیڈمی، ماڈل ٹائون لاہورمیں امیر ِ تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ حفظ اللہ کے7اگست 2026ء کے خطابِ جمعہ کی تلخیص
مرتب: ابو ابراہیم
خطبہ ٔمسنونہ اور تلاوتِ آیاتِ قرآنی کے بعد!
تنظیم اسلامی کی ’’ اُمّت ِمُسلمہ کی حالت ِزار اور راہِ نجات‘‘مہم کے تعلق سے گزشتہ خطابِ جمعہ میں ہم نے پڑھا تھا کہ ایمان کی کمزوری ، دنیا کی محبت ، موت کا خوف ، قرآن سے دوری اور دین کے اجتماعی تصور کو بھلا دینا ، ہمارے زوال کے اسباب ہیں، اس زوال سے نکلنا ہے تو ایمان کو تازہ کرنا ہوگا اور ایمان کی آبیاری قرآن کے ذریعے ہوگی۔ دنیا اور آخرت کے حوالے سے حقیقی شعور قرآن کے ذریعے آئے گا ۔ زبانی لحاظ سے تو ہم سب ہی کلمہ گو مسلمان ہیں لیکن دل میں یقین جس ایمان سے پیدا ہوگا وہ قرآن سے آئے گا ۔ لہٰذا انفرادی اور اجتماعی سطح پر رجوع القرآن وقت کی ضرورت ہے اور اسی کے ذیل میں 7 اصولی باتیں آپ کے سامنے پیش کرنا مقصود ہیں :
(1) زندہ اور انقلابی قوت
یہ قرآن مُردوں کے لیے کلام نہیں ہے ، یہ زندوں کی کتاب ہے ۔ جب یہ محمد مصطفیٰﷺ کے قلب اطہر پر نازل ہوا اور آپؐ کی زبان مبارک سے جاری ہواتو صحابۂ کرام ؓ نے اسے ایک انقلابی کتاب، زندہ کلام اور ہدایت کی کتاب کے طور پر قبول کیا اور اس سے ہدایت اور رہنمائی حاصل کی تو اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اُن کے قدموں میں ڈال دیا ۔ اس موضوع پر ڈاکٹر اسراراحمدؒ کی ایک مختصرجامع تحریر’’قرآن اور جہاد‘‘ کے عنوان سے موجود ہے جس کے بارے میں ڈاکٹر صاحب ؒ خود بھی فرماتے تھے کہ اِس تحریر سے مجھے بہت پیار ہے ۔ قرآن سے انقلابی فکر ، نظریہ ، شعور اور ایمان کی آبیاری ہوتی ہے جس کے بعد انسان اللہ پر توکل کرکے انقلاب کے لیے کھڑا ہونے کے قابل ہوتاہے ۔ قرآن کے ذریعے جہاد یہی ہے کہ پہلے خود اللہ کی بندگی میں آجاؤ ، پھر اللہ کی بندگی کی دعوت دوسروں کو دو ، پھر بندگی والے نظام کو قائم کرنے کی جدوجہد کرو ۔ اسی بنیاد پر ماضی میں اُمّت کو عروج ملا ۔ اس کے ایک ہاتھ میں جہالت کے خلاف قرآن کی تلوار تھی اور دوسرے ہاتھ میں ظلم کے خلاف عدل کی تلوار تھی ۔ لیکن جب سے قرآن کو ہم نے انقلابی کتاب سمجھنا اور جہالت کے خلاف تلوار کے طور پر استعمال کرنا چھوڑا ، اور اسے صرف فقہ کی ایک کتاب اور ثواب کی کتاب سمجھ لیا تو ہمارے زوال کا عمل شروع ہوگیا۔ پھر ایک وقت ایسا بھی آیاکہ جب ہمارے ظالم اور گمراہ حکمرانوں نے قرآن پڑھنے پڑھانے پر ہی پابندی لگادی ۔ وہ تو جانتے تھے کہ قرآن ایک زندہ قوت ہے ، انسان کو انقلابی فکر دیتا ہے ، لوگ اسے پڑھیں گے تو کہیں جابر بادشاہتوں کے خلاف کھڑے نہ ہوجائیں۔ اسی طرح جہاد بھی ایمان کی طاقت سے ہوتا ہے ، جب قرآن چھوڑا تو ایمان بھی کمزور پڑ گیا اور ہاتھ عدل کی تلوار اُٹھانے سے قاصر ہوگئے ۔ لہٰذا دوبارہ عروج حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ قرآن کو زندہ قوت سمجھا جائے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
{اِنَّــآ اَنْزَلْنٰـہُ فِیْ لَـیْلَۃِ الْقَدْرِ(1)} (القدر) ’’یقیناً ہم نے اتارا ہے اس (قرآن) کو لیلۃ القدر میں۔‘‘
قدر کی رات اللہ تعالیٰ تقدیروں کو بدل دینے والے فیصلے صادر فرماتاہے ، اس رات قرآن نازل ہوا اور قرآن تقدیروں کو بدل دینے والا کلام ہے ۔ مشرکین مکہ بھی اس بات کو مانتے تھے ۔ اس لیے انہوں نے طے کیا کہ لوگوں کو قرآن سننے سے روکا جائے ۔ سورہ حٰم السجدہ میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے :
{وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِہٰذَا الْقُرْاٰنِ} (آیت:26) ’’اور کہا اُن لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا کہ مت سنو اس قرآن کو۔‘‘
مشرکین کا سردار نظر بن حارث عراق اور شام سے گانے بجانے والی کنیزیں لے کر آیا، جب قرآن کی تلاوت ہوتی تو وہ اُن کو گانے بجانے اور شور شرابہ کرنے پر لگا دیتا تا کہ لوگ قرآن کی طرف متوجہ نہ ہوسکیں ۔ مشرکین کو معلوم تھا جس نے قرآن سن لیا ، اُس کے دل میں ایمان اُتر گیا اور پھر وہ جان دینے کے لیے تیار ہو جاتاہے ، ایمان چھوڑنے کے لیے نہیں ۔ حضرت بلال ؓ کو تپتی ریت پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھا جاتااور کہا جاتا کہ محمد ﷺ کے کلمے کا انکار کرو لیکن بلالؓ کی زبان پر احد احد کے سوا کوئی لفظ نہ آتا ۔ حضرت خباب بن الارت ؓ کو دہکتے انگاروں پر لٹایا جاتا یہاں تک کہ پیٹھ سے لہو اور چربی پگھل کر بہنے سے انگارے بُجھ جاتے ۔ ساری کمر جل کر سیاہ ہوگئی ۔مگر خبابh نے محمد مصطفیﷺ کے کلمے کو نہیں چھوڑا۔ یہ اُس ایمان کا اثر تھا جو قرآن کو زندہ قوت سمجھنے سے آیاتھا ۔ کفار کو بھی معلوم تھا کہ قرآن انسانوں کو بدل دینے والا ہے ۔ افراد بدلیں گے تو معاشرہ بھی بدلے گا ۔ معاشرہ بدلے گا تو نظام بھی بدلے گا ۔ لہٰذا اُمّت کو زوال سے نکالنے اور دوبارہ عروج کی طرف بڑھنے کے لیے قرآن کو زندہ قوت سمجھنا لازمی ہے ۔
(2) تعلق بالقرآن
ڈاکٹر اسرار احمد ؒ کی ایک بہت ہی عمدہ کتاب ’’مسلمانوں پر قرآن مجید کے حقوق‘‘ کے عنوان سے 1967ء میں شائع ہوئی ۔ اس کا بہت سی زبانوں میں ترجمہ بھی ہو چکا ہے ۔
پہلا حق: قرآن پر دل و جان سے ایمان لایا جائے ۔ زبانی ایمان کافی نہیں۔ قرآن مجید کائنات کی سب سے بڑی نعمت ہے کیونکہ یہ ایمان اور ہدایت کی دولت ہے جو اللہ نے انسانوں کو دی ہے ۔ قارون کے پاس دولت تھی ، فرعون اور نمرود کے پاس بادشاہت تھی مگر برباد ہوئے کیونکہ ایمان اور ہدایت کی دولت نہیں تھی ۔معلوم ہوا کہ دنیا کی سب سے بڑی دولت ایمان اور ہدایت ہے ۔
دوسرا حق: قرآن کی باقاعدہ تلاوت کی جائے ۔ یہ ہماری روح کی غذا ہے۔جسم کو توانا رکھنے کے لیے ہم دن میں تین چار مرتبہ کھاتے ہیں ، روح کو کم ازکم دن میں ایک بار اس کی غذا دینی چاہیے تاکہ ایمان بھی توانا رہے ۔
تیسرا حق: قرآن کو سمجھنے کی کوشش کی جائے کہ اس میں ہمارے لیے کیا پیغام ہے ۔ ہم دنیا کی ہر کتاب کو سمجھ کر پڑھتے ہیں لیکن واحد قرآن ایسی مظلوم کتا ب ہے جو سمجھے بغیر پڑھی جاتی ہے ۔ جارج برنارڈ شانے کہا تھا:
"Whenever I read the Quran, I find no finer book in existence,but whenever I look at Muslims, I find no worse community in the world."
ہم دنیا جہاں کے علوم حاصل کرتے ہیں ،زبانیں سیکھتے ہیں ، لاکھوں کروڑوں روپے بچوں کی تعلیم پر خرچ کرتے ہیں مگر قرآن کی تعلیم حاصل نہیں کرتے ۔ کیا روزِ محشر اللہ پوچھے گا نہیں کہ انگریزی ، فرنچ ، جرمن ، جاپانی تم نے سیکھ لی ، قرآن کیوں نہ سیکھا ؟
چوتھاحق: قرآنی تعلیمات پر عمل کیا جائے ۔ یہ بک آف گائیڈنس ہے، گائیڈنس صرف پڑھنے کے لیے تھوڑی دی جاتی ہے ، بلکہ اس کے مطابق عمل کرنا ہوتاہے ۔ لہٰذا قرآن کی تعلیمات پر انفرادی زندگی میں فوراً عمل شروع کردو جبکہ اجتماعی زندگی میں اس کو نافذ کرنے کی کوشش کرو ۔
پانچواں حق: قرآن کی تعلیم اور اس کے پیغام کو عام کرو ۔ دوسروں تک پہنچاؤ ، یہ ہر مسلمان کی ذِمّہ داری ہے ۔
(3) مغربی نظریات سے فکری آزادی
آج ہمارا دماغ دجالی تہذیب اور مادہ پرستی کے طرزِ فکر میں سوچ رہا ہوتا ہے۔اسباب پر بھروسا ہے ، مسبب الاسباب پر نہیں ۔ آج دینی طبقات میں بھی نمایاں ہونے کا ٹرینڈ چل رہا ہے ، زیادہ فالورز کس کے ہیں ، زیادہ لائکس کس کو ملے ، ٹرینڈنگ کس چیز کی چل رہی ہے، برینڈنگ کس چیز کی چل رہی ہےوغیرہ ۔ گویا لوگوں کی نگاہوں میں مقبول ہونے کی دوڑ لگی ہوئی ہے ، اللہ کی نگاہ میں مقبول ہونے کی نہیں۔ اس موضوع پر ڈاکٹر اسراراحمدؒ نے اپنی کتاب : ’’اسلام کی نشاۃ ثانیہ: کرنے کا اصل کام‘‘میں لکھا کہ مسلم اُمّہ کی نشاۃ ثانیہ تب ہوگی جب مغربی افکار و نظریات کی نفی ہوگی۔ مغرب کی دجالی تہذیب تو اسی پر یقین رکھتی ہے جو نظر آتاہے اور بچپن سے بچوں کو پڑھایا جاتا ہے’’Seeing is believing‘‘خدا تو نظر نہیں آتا، آخرت نظر نہیں آتی ، روح نظر نہیں آتی ۔ یہی وجہ ہے کہ آج دجالی تہذیب ظاہر میں تو خوب ترقی کر رہی ہے مگر باطن میں اندھیرا ہے ۔آج ہمارے افکار پر بھی دجالی تہذیب کا غلبہ ہے ، ظاہری آنکھ کھلی ہے ، باطنی آنکھ بند ہے ، یعنی وحی کی تعلیم کے ذریعے جو شعور پیدا ہوتا ہے وہ ناپید ہے ۔ وحی سے مراد قرآن و حدیث کی تعلیم ہے۔ دونوں تعلیمات مل کر دین کو مکمل کرتی ہیں ۔ مثلاً دجال کا ذکر قرآن میں نہیں ہے لیکن احادیث میں ہے ۔ مصر کے ایک عالم دین نے بڑی پیاری بات کہی کہ اگر احادیث پر اعتماد نہ ہو تو تم دجال کے فتنے سے بچ ہی نہیں سکتے ۔ دجال کا فریب بھی یہی ہوگا کہ جو چیز تمہیں نظر آرہی ہے صرف وہی حقیقت ہے ۔ جبکہ مسلمان کا ایمان غیب پر ایمان سے شروع ہوتاہے ۔
{الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ}(البقرہ:3)
’’ جو ایمان رکھتے ہیں غیب پر‘‘
گویا ہمارے دین اور مغربی دجالی نظام میں زمین و آسمان کا فرق ہے ۔ مغربی تہذیب کے زیر اثر رہتے ہوئے ، اس کے افکار و نظریات اپناتے ہوئے اگر ہم چاہیں کہ ہماری نشاۃ ثانیہ ہو جائے تو یہ ناممکن ہے ۔
اپنی ملت پہ قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسول ہاشمیؐ
ایمان نہیں ہوگا تو باطل کی ظاہری چمک دمک ، تعداد ، اسلحہ ، ٹیکنالوجی اور سسٹم کو دیکھ کر بندہ اتنا مرعوب ہو جائے گا کہ وہ اللہ کے کلام کو باطل کے تابع کرنے میں لگ جائے گا‘ بجائے اس کے کہ خود اللہ کے کلام کے تابع ہو۔ بقول اقبال؎
خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق!
ایمان قرآن سےآئے گا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْہِمْ اٰیٰتُہٗ زَادَتْہُمْ اِیْمَانًا}( الانفال:2 )’’جب انہیں اُس کی آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں توان کے ایمان میں اضافہ ہو جاتا ہے۔‘‘
ایمان کی دولت جب بندے کو ملتی ہے تو پھر اللہ باطن کی بصیرت اُس کو عطا کرتا ہے، پھر وہ اشیاء کی حقیقت کو سمجھنا شروع کرتاہے ، پھر وہ ظاہر کے دجالی دھوکے میں مبتلا نہیں ہوتا ، وہ رب سے امیدیں رکھے گا جو مسبب الاسباب ہے۔پوری کائنات کے تناظر میں دیکھا جائے تو ہماری زمین ایک نکتہ کی حیثیت بھی نہیں رکھتی ، وہ خالق ِکائنات جو پوری کائنات کا نظام چلا رہا ہے ، اس کے لیے اس زمین پر بسنے والے 2 ارب مسلمانوں کو دوبارہ عروج عطا کرنا کوئی مسئلہ نہیں ۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم اس پر یقین اور توکل کرنے کو تیار نہیں ۔ ورنہ وہی رب کائنات ہے جس نے بدر میں ایک ہزار کے لشکر کو 313 کے نہتے لشکر کے ذریعے شکست دے دی تھی ۔ وہ اللہ کے ساتھ مخلص تھے۔ آج ہم میں کتنا اخلاص ہے ، ہر کوئی اپنے گریبان میں دیکھ سکتاہے ۔ ہمارے حکمرانوں کو ٹرمپ کا خوف ہے کہ وہ ناراض نہ ہوجائے ، اللہ کا خوف نہیں ہے ۔ اسی لیے مصیبت میں مبتلا ہیں۔ دجالی تہذیب اور مادہ پرستی کے ان اثرات کا توڑ بھی ایمان کے ذریعے سے ہوگا۔اسی لیے ہر جمعہ کو سورہ کہف پڑھنے کی تلقین کی گئی جس میں خضرؑ اور موسیٰ ؈ کا واقعہ بھی ہے ۔ ظاہر میں کشتی توڑ دی ، بچہ قتل کردیا ، مفت میں دیوار ٹھیک کردی لیکن باطنی حقیقت یہ تھی کہ کشتی بچ گئی ، بچہ اور اس کے والدین جہنم میں جانے سے بچ گئے ، یتیم بچوں کا خزانہ محفوظ ہو گیا۔ قرآن میں اللہ کہتا ہے :
{وَکَانَ اَبُوْہُمَا صَالِحًاج}(الکہف) ’’اور اُن کا باپ نیک آدمی تھا۔‘‘
کبھی باپ کی نیکی بھی اولا د کے کام آتی ہے ۔ قرآن کو یقین کے ساتھ پڑھیں تو اللہ ظاہر کے پرد ے ہٹا کراشیاء کی حقیقت دکھاتا ہے۔
(4)باطن کی تجدیداور اخلاقی تربیت
باطن کی تجدید سے مراد تجدید ِایمان ہے ۔ ایمان کے صرف زبانی دعوے نہ ہوں بلکہ انسان کا عمل اس کا ثبوت بھی پیش کر رہا ہو ۔ آج سوشل میڈیا پر تو بڑی بحث ہے ، بڑے دعوے ہیں ۔ رات کو تین بجے تک پوڈ کاسٹ چل رہے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد’’مجاہدین‘‘ بیچارے تھک جاتے ہیں اورصبح فجر کی نماز کے لیے بھی اُٹھ نہیں سکتے ۔ایمان اور دینداری کے یہ دعوے لوگوں کے سامنے تو ’’ بہت خوب ‘‘ ہیں لیکن اللہ کے ہاں ان کی کوئی حیثیت نہیںجب تک کہ عملی ثبوت نہ ہو ۔ اس طرح کی زبانی بحثوں سے پھر انقلاب بھی سوشل میڈیا کی حد تک ہی آئے گا جبکہ عملی زندگی میں اس کی کوئی جھلک نہیں ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ آج مسجدیں ویران ہیں ، قرآن گھروں میں موجود ہے لیکن سالہا سال سے کھولا نہیں گیا ، عمل میں سود ، جوا ، شراب ، رشوت سب کچھ چل رہا ہے کیونکہ زبانی دعویٰ مسلمانی کا تو ہے لیکن دل میں یقین نہیں ہے ۔باطن میں ایمان ہوگا تو بندہ عمل کے لیے کھڑا ہوگا ۔ اسی لیے قرآن میں بار بار ایمان کے بعد عمل کی تلقین کی جارہی ہے :
{ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ} (مریم:96) ’’یقیناً جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے ‘ عنقریب ان کے لیے رحمٰن (لوگوں کے دلوں میں) محبّت پیدا کر دے گا۔‘‘
پھر اخلاقی تربیت بھی ضروری ہے ۔ اُم المومنین حضرت عائشہ سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ ﷺ کا اخلاق کیسا تھا ؟ آپؓ نے فرمایا : کَانَ خُلْقُہُ الْقُرْآن ’’آپؐ کا اخلاق سراسر قرآن تھا۔‘‘ اگر تم مجسم قرآن دیکھنا چاہو تو رسول اللہ ﷺ کی ذات کو دیکھو ۔ اسی طرح صحابہ کرامj کے اخلاق کے بارے میں خود قرآن گواہی دیتاہے :
{وَیُـؤْثِرُوْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ وَلَـوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌط}(الحشر :9) ’’اور وہ تو خود پر ترجیح دیتے ہیں دوسروں کو خواہ ان کے اپنے اوپر تنگی ہو۔‘‘
یہی عمل اور اخلاق تھا جو مسلمانوں کو عروج کا ذریعہ بنا ۔ آج اخلاق کہاں ہیں ؟روزانہ سوشل میڈیا پر کوئی نہ کوئی کلپ وائرل ہورہا ہوتاہے جس میں کسی مسلمان کی درندگی اور وحشت کھل کر سامنے آتی ہے ۔ پھر ہم کہیں کہ برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر ۔ کیوں نہ گرے ؟جو ہمارے اعمال اور اخلاق ہیں ، اس کے حساب سے آج دنیا میں سب سے بڑے مجرم ہم مسلمان ہیں ۔ ہمیں قرآن عطا کیا گیا ، مگر آج 57 مسلم ممالک میں سے کوئی ایک بھی ملک ایسا نہیں ہے جہاں ہم دنیا کو دکھا سکیں کہ یہ قرآن کا نظام ہے ۔ حالانکہ دنیا میں اسلام کا نظام ِ عدل قائم کرنے کی ذمّہ داری اللہ نے ختم نبوت کے بعد اس اُمت کو سونپی تھی ۔ ہم نے اس ذِمّہ داری کو فراموش کیا تبھی تو آج ذلیل و رسوا ہیں ۔ ایمان اور اسلام کے زبانی دعوے تو بہت ہیں لیکن جب باطن میں تجدید ِایمان ہوگی تو عمل میں اس کا اظہار ہوگا اور پھر انقلاب آئے گا ۔ جس طرح شروع میں انقلاب آیا تھا ، تب جو اہل ِایمان تھے چلتے پھرتے مجسم قرآن نظر آتے تھے ۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: مومن وہ ہے جسے دیکھ کر اللہ یاد آئے۔آج ہمارے بارے میں گھروالوں کے کیا کمنٹس ہیں ہم سب جانتے ہیں ۔ حضور ﷺ نے اپنی حیات طیبہ کے آخری دنوں میں منبر پر کھڑے ہو کر اپنے آپ کو پیش کردیا تھا کہ اگر میں نے کسی کے ساتھ کبھی کوئی زیادتی کی ہو یا مجھ سے کسی کی حق تلفی ہوئی ہو تو آج آکر اپنا حق لے لے ۔ کیا آج ہم اپنے آپ کو اس طرح اپنے گھروالوں کے سامنے پیش کرسکتے ہیں ؟ اگر آج ہم اپنے آپ کو گھروالوں کے سامنے پیش نہیں کر سکتے تو اللہ کے سامنے کیسے پیش کریں گے ؟ اگر ہم اپنے پانچ چھ فٹ کے قد پر اسلام نافذ نہیں کر سکتے تو پوری دنیا میں انقلاب کے دعوے کیسے کر سکتے ہیں ؟انقلاب کے لیے پہلے گواہی اپنے عمل سے پیش کرنی ہوگی جس طرح حضرت بلال ، حضرت خباب ، حضرت سمعیہ و یاسر؇ نے پیش کی ۔ ان صحابہ کرامj کے کردار کو دیکھ کر لوگ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ کچھ تو سچائی ہے کہ یہ لوگ جان دینے کو تیار ہیں مگر کلمہ چھوڑنے کو نہیں ۔ اس طرح اپنے کردار کی گواہی پیش کر وتو لوگوں کے دلوں پر تمہاری دعوت کا اثر ہوگا ۔ ورنہ نعرے لگا لیں، بڑی بڑی باتیں کر لیں ، لمبی لمبی پوڈ کاسٹ کرلیں ، ہو سکتا ہے سوشل میڈیا پر چند ویوز تو مل جائیں مگر عملی سطح پر کوئی انقلاب نہیں آئے گا ۔
(5)اتحاد
قرآن میں اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے :
{وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللہِ جَمِیْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْاص} ( آل عمران: 103 )’’اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھام لو مل جل کر رہیں اور تفرقے میں نہ پڑو۔‘‘
احادیث میں واضح ارشاد ہے کہ اللہ کی رسی یہ قرآن ہے ۔ جب تک اُمّت نے اس قرآن کو ترجیح دی وہ متحد اور منظم رہی اور دنیا پر اللہ تعالیٰ نے اسے غلبہ عطا کیا ۔ آج پوری دنیا میں اُمّت مغلوب ہے ، دشمنوں کے ہاتھوں کٹ رہی ہے ، مررہی ہے ، ہر جگہ اُمّت کا لہو بہایا جارہا ہے مگر دوسری طرف ہمارا سوشل میڈیا آپس میں مناظروں سے بھرا ہوا ہے ، مسلکی بحثیں چل رہی ہیں ، ایک دوسرے کے خلاف فتوے لگائے جارہے ہیں ، اُمّت تقسیم در تقسیم ہو کر دشمنوں کے لیے تر نوالا بن رہی ہے ۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم نے قرآن کو ترجیح دینا چھوڑ دیا ۔ قرآن نے اُمّت کو ایک عظیم سوچ ، عظیم مشن اور عظیم نظریہ عطا کیا تھا مگر جب اُمّت نے اس بڑے مشن کو فراموش کر دیا تو چھوٹی چھوٹی باتوں میں الجھ بیٹھی ۔ قرآن نے اس اُمّت کو رنگ ، نسل ، زبان ، علاقہ سے بالا تر ہو کر ایک اُمّت بنایا تھا ، آج دوبارہ اگر متحد و منظم ہونا ہے تو اسے قرآن کو تھامنا ہوگا ، اس کو ترجیح دینا ہوگی ۔
(6)عمل کے لیے ہدایت نامہ
قرآن صرف ثواب کی کتاب نہیں اور نہ ہی صرف پڑھنا مطلوب ہے بلکہ اصل میں تو قرآن عمل کے لیے ہدایت نامہ ہے۔ یہ اس لیے نازل ہوا تاکہ ہم اس کی تعلیمات کے مطابق اپنی زندگی گزاریں ۔ سب سے پہلے اپنی ذات سے اس کا عملی نفاذ شروع کرنا ہوگا ۔ اگر میں نماز نہیں پڑھتا ، ماں باپ کا دل دکھاتا ہوں ، پڑوسی کا حق مارتا ہوں ، سود کھاتا ہوں ، رشوت لیتا ہوں ، جھوٹ ، وعدہ خلافی ، خیانت کا مرتکب ہوتا ہوں تو اس میں نہ ریاست کا قصور ہے ، نہ اسٹیبلشمنٹ کا، نہ سیاستدانوں کا ، نہ امریکہ و اسرائیل کا ۔ قرآن کے احکامات پر ذاتی سطح پر جو عمل میں کر سکتا ہوں ، وہ بھی اگر نہیں کررہا تو معاشرے پر قرآنی احکامات کا نفاذ کیسے کروں گا ؟لہٰذا اگر عملی تبدیلی چاہتے ہیں تو آج سے ہی قرآنی تعلیمات پر عمل شروع کردیں اور اس کا آغاز اپنی ذات سے کریں ۔
(7)قرآن کا نفاذ
اللہ کے رسول ﷺ کو قرآن کیوں دیا گیا ، اللہ تعالیٰ خود قرآن میں بار بار آگاہ کر رہا ہے :
{ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ}(الصف:9)’’وہی ہے (اللہ) جس نے بھیجا اپنے رسولؐ کو الہدیٰ اور دین ِحق کے ساتھ تاکہ غالب کر دے اس کو پورے نظامِ زندگی پر‘‘
آپریشن ’’بنیانِ مرصوص‘‘ کا موقع آیا تھا توPTV والوں نے بھی سورۃ الصف کی آیت نمبر 4 کی تشریح پرمبنی ڈاکٹر اسراراحمدؒ کی ویڈیو چلا دی :
{اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِہٖ صَفًّا کَاَنَّہُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ(4)} ’’اللہ کو تو محبوب ہیں وہ بندے جو اُس کی راہ میں صفیں باندھ کر قتال کرتے ہیں ‘ جیسے کہ وہ سیسہ پلائی دیوار ہوں۔‘‘
ہماری گزارش ہے PTV والوں سےبھی ، ریاستی اداروں سےبھی اورتمام کرتادھرتا لوگوں سے بھی کہ جب آپ نے سورۃ الصف کی آیت نمبر 4 کا ویڈیودکھایا تو سورۃ المائدہ کی آیات نمبر 44، 45 اور 47 کا ویڈیو بھی چلا دیں ۔
{وَمَنْ لَّــمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکٰفِرُوْنَ(44)} ’’اور جو اللہ کی اُتاری ہوئی شریعت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہی تو کافر ہیں۔‘‘
{وَمَنْ لَّـمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ(45)}’’ اور جو فیصلے نہیں کرتے اللہ کی اُتاری ہوئی شریعت کے مطابق وہی تو ظالم ہیں۔‘‘
{وَمَنْ لَّـمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ(47)}’’اور جو لوگ نہیں فیصلے کرتے اللہ کے اُتارے ہوئے احکامات و قوانین کے مطابق‘ وہی تو فاسق ہیں۔‘‘
قرآن صرف دشمن کے خلاف سیسہ پلائی دیوار کا تقاضا نہیں کرتا بلکہ اپنے معاشرے کے اندر بھی اللہ کے احکامات کے نفاذ کا مطالبہ کرتاہے ۔ بحیثیت مسلمان اور اُمتی ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ اپنی استطاعت اور استعداد کے مطابق اِس کے لیے کوشش کرے ،مگر جو سب سے زیادہ بااختیار ہیں وہ سب سے زیادہ مکلف ہیں اور روزِ قیامت اس کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔
کرنے کے کام
(1)آج سے ہی ارادہ کرکے قرآن سے اپنا تعلق جوڑنا شروع کردو ۔ تنظیم کے رفقاء کے لیے ہفتے میں ایک دن گھریلو اُسرہ لازم ہے جس میں گھر کے افراد کو جمع کرکے قرآن کے کسی حصے کی تلاوت اور تشریح سنی یا پڑھی جاتی ہے ۔ یہ قرآن مجید کا حق ہے کہ اِس کو پڑھا ، سمجھا اور اس پر عمل کیا جائے اور ہر مسلمان کی ذِمّہ داری ہے کہ وہ اپنے گھر میں اس کی تلاوت ، ترجمے اور تشریح کا اہتمام کرے ، روز قیامت گھر والوں کے بارے میں پوچھا جائے کہ آپ نے ان تک قرآن کا پیغام پہنچایا یا نہیں ۔
(2) گھر کے بعد جہاں تک آپ کا دائرہ اختیار ہے، دفتر ہو ،دُکان ہو ، کارخانہ ہو ، کھیت ہو ، کھلیان ہو ، ہر جگہ ہر مسلمان کی ذِمّہ داری ہے کہ وہ قرآن کا پیغام دوسروں تک بھی پہنچائے ۔ اپنے رشتہ داروں تک پہنچائے ، دوست احباب کی محفل میں دروسِ قرآن کا اہتمام کرے۔ اگر مدرس میسر نہیں تو ڈاکٹر اسراراحمدؒ کی ویڈیو چلا دو ۔ ڈاکٹر صاحب ؒ سے اتفاق نہیں ہے تو کسی بھی صحیح العقیدہ مسلم عالم کا درس لگا دو ۔
(4) ہمارے سامنے بیسیوں ایسی مثالیں موجود ہیں ،جہاں بڑی بڑی کمپنیوں ، انڈسٹریز ، اداروں کے مالکان نے ایک مخصوص دن اور وقت مقرر کر رکھا ہے جب سب ملازمین اور عملے کو اکٹھا کرکے درسِ قرآن کا اہتمام کیا جاتاہے ۔ کراچی ، لاہور ، پشاور اور اسلام آباد میں کئی اداروں میں یہ اہتمام ہو رہا ہے ۔ ان میں تعلیمی ادارے بھی شامل ہیں ۔
الحمد للہ ! اللہ کی توفیق سے قرآن مجید کا متفقہ ترجمہ جس پر پاکستان کے تمام بڑے مکاتب فکر کا اتفاق ہوگیا ہے ، اب وفاق، پنجاب ، صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سرکاری سکولوں میں پڑھایا جارہا ہے ۔ گریڈ 9 سے 12 تک 50 نمبر کا پرچہ امتحانات میں شامل ہوتا ہے ۔ لاکھوں طلبہ استفادہ کر رہے ہیں ۔ پورے پاکستان میں 8 کروڑ بچہ سکول جاتاہے ۔ HECنے گزشتہ سال سے طے کر دیا کہ یونیورسٹیز میں بھی گریجویشن کے نصاب میں قرآن مجید کا ترجمہ بطور لازمی مضمون پڑھایا جائے گا ۔ اس طرف اساتذہ بھی توجہ دیں ، دینی طبقات بھی اپنا کردار ادا کریں۔ ٹی وی چینلز پر صبح کے وقت قرآن کی تلاوت اور تشریح نشر ہوتی ہے، بڑے بڑے بزنس مین کروڑوں روپے لگا کر اپنے کاروبار کی تشہیر کرواتے ہیں تو وہ قرآن کے پروگرام کے ساتھ بھی تشہیر کروادیا کریں ۔ پرائم ٹائم میں قرآن کے پروگرامز آجائیں ۔ ریاست کی سطح پر بھی کوشش کی جائے ۔ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ قرآن کا مطالعہ خود بھی کرے اور دوسروں تک بھی اس کا پیغام پہنچائے اور اس کی تعلیمات پر عمل پیرا بھی ہو ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین !