قرآن کی بدولت اُمّت کو عروج ملا مگر آج اس کو فراموش کردینا
ہماری ذِلت و رسوائی کی بنیادی وجہ بن گیاہے :شجا ع الدین شیخ
دین میں کئی چھوٹے چھوٹے مسلم ممالک کا کوئی تصور نہیں ہے، ایک اُمّت کا
تصور ہے، تفرقہ کی ایک جدید شکل نیشن سٹیٹس کا تصور بھی ہے :رضاء الحق
اللہ نے ہمیں عقیدے کی بنیاد پر ایک اُمت بنایا تھا لیکن ہم رنگ ، نسل ، زبان اورجغرافیہ
کو عقیدے پر ترجیح دے کر مختلف اقوام میں بٹ گئے : ڈاکٹر فرید احمد پراچہ
اُمت کو زوال سے نکالنے کے لیے جہاں عوام کی اصلاح کی ضرورت ہے، وہاں
حکمرانوں کو بھی لگام ڈالنے کی ضرورت ہے : علامہ حسین اکبر
’’زوال اُمّت کے اسباب اور نجات کی راہ ‘‘
پروگرام ’’ زمانہ گواہ ہے ‘‘ میں معروف دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کا اظہار خیال
میز بان : وسیم احمد
مرتب : محمد رفیق چودھری
سوال: اِس وقت دنیا میں 57 مسلم ممالک ہیں ، کم و بیش 2 ارب مسلمان ہیں ، دنیا جہان کے وسائل ہونے کے باوجود اُمّت مسلمہ پوری دنیا میں اِس وقت ذلیل و خوار ہے۔ آپ کی نظر میں اُمت مسلمہ کے زوال کا سب سے بڑا سبب کیا ہے؟
ڈاکٹر فرید احمد پراچہ: یہ ایک ایسا موضوع ہے جس کو اِس وقت زیربحث لانا چاہیے۔ اس لیے کہ 57 مسلم ممالک ہیں ، 2 ارب مسلمان ہیں ، دنیا کے وسائل اور اسباب کا بہت بڑا حصہ ہمارے پاس ہے ، زرخیز زمینیں ، سمندر اوربندرگاہیں ، بہترین موسم اور جتنے بھی ذرائع دنیا میں عروج حاصل کرنے کے ہو سکتے ہیں ، وہ سب ہمارے پاس ہیں ۔ اِس سب کے باوجود بھی دنیا میں جنازے اُٹھتے ہیں تو ہمارے اُٹھتے ہیں ، جنگیں ہم پر مسلط ہیں ، نسل کشی ہماری ہورہی ہے، مہاجرکیمپ دنیا میں ہمارے ہیں ، دنیا کے کسی ملک میں ہماری افواج داخل نہیں ہو سکتیں لیکن کفار کی افواج مسلمانوں کا لہو بہانے کے لیے ہر جگہ داخل ہو رہی ہیں ۔ اس وقت ہماری حالت زوال پذیر اُمّت کی ہے ۔ اس زوال کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اللہ نے ہمیں ایک اُمّت بنایا تھا لیکن ہم تقسیم ہو کر مختلف اقوام میں بٹ گئے ۔ قوم اور اُمّت میں فرق ہے ۔ قومیں عصبیتوں سے بنتی ہیں ، اُمّت عقیدے سے بنتی ہے ۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے :
{اِنَّ ہٰذِہٖٓ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً ز} (الانبیاء:92) ’’یقیناً یہ تمہاری اُمّت ‘ ایک ہی اُمّت ہے‘‘
اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک عقیدے کی بنیاد پر اُمّت واحدہ بنایا تھا ، ہم رنگ ، نسل ، زبان اور علاقہ کو عقیدے پر ترجیح دے کر مختلف اقوام میں بٹ گئے ۔ پھر اللہ نے فرمایا :
{وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللہِ جَمِیْعًا}(آل عمران:103) ’’اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھام لو مل جل کر۔‘‘
لیکن ہم نے اللہ کی رسی یعنی قرآن کو چھوڑا تو فرقوں میں بٹ گئے ۔ پھر فرمایا :
{وَاذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللہِ عَلَیْکُمْ اِذْ کُنْتُمْ اَعْدَآئً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖٓ اِخْوَانًاج}(آل عمران:103) ’’اور ذرا یاد کرو اللہ کا جو انعام تم پر ہوا جبکہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے‘تو اللہ نے تمہارے دلوں کے اندر اُلفت پیدا کر دی‘پس تم اللہ کے فضل و کرم سے بھائی بھائی بن‘گئے۔‘‘
اسلام سے قبل یعنی زمانہ جاہلیت میں مسلمان مختلف اقوام اور قبائل کی صورت میں بٹے ہوئے تھے اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے ، اسلام نے ایک کلمہ کی بنیاد پر جوڑ کر ہمیں ایک اُمّت بنایا ، ہم نے اس بہت بڑی نعمت کو بھی فراموش کردیا اور دوبارہ قبائل اور اقوام میںبٹ کر ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہو گئے ۔ پھر یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس اُمّت کو شہادت علی الناس کا عظیم الشان مقصد دے کر اُمّت ِوسط بنایا ہے اور فرمایا ہے کہ تم پوری انسانیت پر گواہ بنائے گئے ہو، تمہارا کام انسانیت پر حق کی گواہی دینا ہے ۔ ہم نے اس عظیم مقصد کو بھی فراموش کردیا اور اُمّت ِوسط کی حیثیت بھی نہ رہی ۔ پھر اللہ نے اس اُمّت کو جس وجہ سے خیر اُمّت قراردیا تھا وہ یہ فریضہ تھا :
{کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ} (آل عمران:110)’’تم وہ بہترین اُمت ہو جسے لوگوں کے لیے برپا کیا گیا ہے‘‘
اس اُمّت کو ایک ٹاسک دیا گیا تھا کہ اس نے پوری دنیا کے انسانوں کی اصلاح کرنی ہے ، ان تک اللہ کا پیغام پہنچانا ہے ، برائی سے روکنا ہے اور نیکی کا حکم دینا ہے۔یہ تمام ذِمّہ داریاں فراموش کردینے کی وجہ سے ہم پر زوال آیا اور ہماری حالت وہ ہوگئی جس کے بارے میں اللہ کے رسول ﷺ نے پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ ایک زمانہ آئے گا کہ دیگر قومیں تم پر ایسے ہی ٹوٹ پڑیں گی جیسے کھانے پرلوگ ٹوٹ پڑتے ہیں،پوچھا گیا: کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے؟فرمایا :نہیں، تم اُس وقت بہت ہو گے، لیکن تم سیلاب کی جھاگ کے مانند ہو گے، اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے دلوں سے تمہارا خوف نکال دے گا، اور تمہارے دلوں میں وہن ڈال دے گا ۔ پوچھا گیا : وہن کیا چیز ہے ؟فرمایا : (( حُبُّ الدُّنْیَا وَکَرَاہِیَۃُ الْمَوْتِ)) دنیا کی محبت اور موت کا ڈر ۔یہ بھی اُمّت کے زوال کا ایک بڑا سبب ہے ۔ ہمارے حکمرانوں نے دنیا کی محبت میں وسائل صرف کیے لیکن دین کے لیے اُن کا استعمال نہ کیا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے :
{وَاَعِدُّوْا لَہُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ}(الانفال:60) ’’اور تیار رکھو اُن کے (مقابلے کے ) لیے اپنی استطاعت کی حد تک طاقت۔‘‘
عربوں کے پاس بے انتہا دولت ہے ، اس کو اُمت کے اتحاد ، استحکام ، اسلحہ ، ٹیکنالوجی ، علم کے فروغ ، مشترکہ منڈیوں کے لیے استعمال ہونا چاہیے تھا مگر ایسا نہ ہوا ۔ پاکستان جیسے ممالک نے بھی اپنے ہاں سودی معیشت اور کرپشن کے نظام کو جاری رکھا۔ اسلامی نظام نافذ نہ کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہم IMFکی غلامی سے نکل نہیں پارہے ۔ ہم سود کی قسطیں ادا کرنے کے لیے مزید سود لے رہے ہیںجبکہ اصل زرِ قرض بڑھ رہا ہے ۔ گویا کہ ہم ایک منحوس دائرے میں پھنس چکے ہیں۔ اللہ کا فرمان ہے :
{وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِیْ فَاِنَّ لَہٗ مَعِیْشَۃً ضَنْکًا}(طٰہٰ:124) ’’اور جس نے میری یاد سے اعراض کیا تو یقیناً اُس کے لیے ہو گی (دنیا کی)زندگی بہت تنگی والی۔‘‘
یہ سارے اسباب ہیں ہمارے زوال کے ۔ ہمارے دریا سارا سال بہتے ہیں، دھوپ سارا سال نکلتی ہے ، ہوائیں سارا سال چلتی ہیں لیکن ہم ان چیزوں سے بجلی نہیں بنا رہے اور بجلی پیدا کرنے کے نام پر چند خاندانوں کے بند کارخانوںکو سالانہ اربوں روپے قوم کے دے رہے ہیں ۔
سوال:اُمّت ِمسلمہ کی اصلاح کا آغاز حکمرانوں کی تبدیلی سے ہوگا یا افراد اور معاشرے کی اصلاح سے؟
علامہ حسین اکبر: ہمیں یہ کام دونوںلحاظ سے کرنا پڑے گا۔جہاں عوام کی اصلاح کی ضرورت ہے وہاں حکمرانوں کو بھی لگام ڈالنے کی ضرورت ہے ۔ عوام کو متوجہ کرنے کی ضرورت ہے کہ آپ غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ ہمارے تعلیمی ادارے اس وقت یرغمال بن چکے ہیں۔ ہمیں جائزہ لینا چاہیے کہ وہاں کیا پڑھایا جارہا ہے ۔ہمارے نوجوان یورپ کی یونیورسٹیوں میں پڑھنے جاتے ہیں تو وہاں سے کیا لے کر آتے ہیں ، اس پر بھی توجہ دینی ہوگی۔ علم کو صرف پیسہ کمانے کا ذریعہ سمجھ لیا گیا ہے ۔ اِسی طرح سوشل میڈیا ، انٹرنیٹ کے غلط استعمال کو روکنا ہوگا ۔ مغرب میں آج بچوں کے ہاتھ میں موبائل دینے پر پابندی لگائی جارہی ہے ۔ یورپ جس چیز کو اپنے لیے ترقی کا سبب سمجھتا تھا وہ ان کے زوال اور بربادی کا باعث بنا ۔ وہ تو اس کو چھوڑ چکا لیکن ہم اسے سینے سے لگا کر خود کو ماڈرن سمجھ رہے ہیں ۔عوام کی اصلاح کے میدان میں علماء اور دینی طبقے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔دینی طبقہ فرقہ پرستی اور فقہی بحثوں میں اُلجھنے اور قوم کو الجھانے کی بجائے اُمّت کے اتحاد و اتفاق پر اپنی توانائیاں اور صلاحیتیں خرچ کرے ، علمی بحثوں کی بجائے عملی کردار ادا کرنے کو ترجیح دے ۔ مشترکات پر سب مل کر کام کریں ۔ دینی دروازوں پر لڑنے کی بجائے دینی منزل پر فوکس کریں جوکہ سب کی ایک ہے ۔ اسی طرح ہمیں کرپشن کو ہر سطح پر روکنا ہوگا ۔ ہم جن ممالک کی ترقی کی مثالیں دے رہےہیں اُنہوں نے امیر اور غریب کے لیے ایک ہی قانون بنایا اور جس نے بھی کرپشن کی اُس کو لٹکا دیا ۔ جہاں تک حکمرانوں کی اصلاح کا تعلق ہے تو احتساب کا مطالبہ کرنا ہوگا کہ کس نے کس مقصد کے تحت سود لیا اور ملک کو سودی شکنجے میں دیا ۔ قوم سے اربوں کھربوں روپے کا جو ٹیکس لیا جاتاہے وہ کہاں جارہا ہے ؟ اصل بات یہ ہے کہ حکمران قرض اُتارنا ہی نہیں چاہتے ورنہ حکمران مخلص ہو جائیں تو چند دنوں میں ملک کا قرض اُتارا جا سکتا ہے ۔ خدا نے ہمیں اَن گنت وسائل عطا کیے ہیں مگر ان کو استعمال کرنے اور ان کی صحیح تقسیم کا نظام ہمارے پاس نہیں ہے ۔ ابھی گندم بارشوں میں خراب ہو رہی ہے اور حکمران باہر سے گندم منگوانے کے لیے تیار بیٹھے ہیں ۔ اس وجہ سے کسان بے چارا بھی محنت کرنے کے باوجود رُل رہا ہے ۔ اگر کفار مل کر معاشی ، سیاسی اور عسکری اتحاد بنا سکتے ہیں تو مسلمان کیوں نہیں بنا سکتے ۔ اگر یورپی ممالک مل کر مشترکہ کرنسی بنا سکتے ہیں تو مسلم ممالک کیوں نہیں بنا سکتے ۔ اسلام میں تو بارڈر کا تصور ہی نہیں ہے ۔ تمام مسلمان اُمّت ِواحد کی مانند ہیں ۔ اگر اکیلا ایران سپر طاقت کو ذلیل کر سکتا ہے تو پوری اُمّت مل کر کفار کا مقابلہ کیوں نہیں کرسکتی ۔ اُمّت کو جگانے کے لیے علماء بہترین کردار ادا کرسکتے ہیں ۔ ہمارے پاس خطاب جمعہ کا بہترین پلیٹ فارم موجود ہے ۔ پورے ہفتے دشمن جتنابھی پروپیگنڈا کرے ، جمعہ کے اجتماع میں قرآن و سنت کی تعلیم کے ساتھ ساتھ حالات حاضرہ پر بھی اُمّت کی ذہن سازی ہونی چاہیے ۔
سوال:کیا وجہ ہے کہ فلسطین ہو، کشمیر ہو، برما ہو، یا دنیا کے دیگر خطوں میں جہاں پہ بھی مسلمان آباد ہیں ان پر ظلم و ستم ہو رہا ہے۔ 57 مسلم ممالک اس کے خلاف کوئی مشترکہ موقف نہیں اپنا پارہے ؟
رضاء الحق:پہلی بات تو یہ ہے کہ دین میں مسلم ممالک کا کوئی تصور نہیں ہے ، ایک اُمّت کا تصور ہے ۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے :{اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ ط} (الشوریٰ:13) ’’کہ قائم کرو دین کواور اس میں تفرقہ نہ ڈالو۔‘‘
تفرقہ مسلک کے لحاظ سے بھی ہوتا ہے اور ایک نئی صورت نیشن سٹیٹس کی صورت میں بھی اس کی سامنے آگئی جس نے اُمّت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا کہ ہم ٹکڑوں میں بٹ کر کمزور ہو گئے ۔ اب ان سٹیٹس کے سامنے چھوٹے چھوٹے علاقائی یا قومی مسائل تو ہیں مگر اُمّت کی سطح پر کوئی بڑا مشن ان کے مدنظر نہیں رہا ۔ خاص طور پر جس مقصد کے لیے اس اُمّت کو کھڑا کیا گیا تھا کہ اللہ کے دین کا غلبہ ہو ، شہادت علی الناس کا فریضہ ادا ہو اور اللہ کے دین کو قائم و نافذ کرنے کی جدوجہد کی جائے،وہ فراموش کر دیا گیا ۔ اپنی اپنی علیحدہ شناخت بنا لی ، کسی نے کہا ہم فرعونوں کی اولاد ہیں ، کسی نے کہا ہم نمرودوں کی اولاد ہیں ۔ اس طرح ہم چھوٹے چھوٹے علاقائی ، قومی یا نسلی مفادات میں اُلجھ کر رہ گئے ۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن کسی ایک مسلم ملک پر حملہ کرتا ہے تو باقی مسلم ممالک صرف اپنے مفاد کو دیکھتے ہوئے اُس کے ساتھ کھڑے نہیں ہو سکتے ۔ جیسا کہ فلسطین کے معاملے پرایک آدھ مسلم ملک کی محدود کوششوں کے علاوہ 57 مسلم ممالک کچھ نہیں کر سکے، کیونکہ سب کو اپنے اپنے مفادات عزیز تھے ۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک ایک کرکے سب کی باری آرہی ہے ۔ جب تک ہم دین کے مفاد کے لیے ذاتی مفادات کی قربانی نہیں دیں گے تب تک اللہ کی مدد نہیں آئے گی ۔ جیسا کہ قرآن میں فرمایا : {اِنْ تَنْصُرُوا اللہَ یَنْصُرْکُمْ وَیُثَبِّتْ اَقْدَامَکُمْ(7)} (سورۃ محمد)’’اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور وہ تمہارے قدموں کو جما دے گا۔‘‘
ہم سے پہلی اُمّت ِ مسلمہ یعنی بنی اسرائیل نے جب دین سے بغاوت کی تو اللہ نے اسے منصب سے معزول کردیا۔ احادیث میںمستقبل کے حوالے سے خبریں آتی ہیں ۔ ایک روایت میں ہے کہ اُمّت ِ مسلمہ پر بھی وہ تمام احوال لازماً وارد ہو کر رہیں گے جو بنی اسرائیل پر وارد ہوئے تھے ‘ جیسے ایک جوتا دوسرے جوتے کے مشابہ ہوتا ہے۔آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہم نے یہود اور اُن کے زیر اثر نصاریٰ کا پورے کا پوراسیاسی ، معاشی اور معاشرتی نظام اپنا لیا ہے ۔ اسلامی نظام کو قائم کرنے کے لیے ہم تیار نہیں ہیں ۔ انفرادی سطح پر نماز ، روزہ ، زکوٰۃ اور حج تو کسی درجے میں ہے مگر اجتماعی دینی ذِمّہ داریوں کو ہم نے بالکل بھلا دیا ہے جن میں دوسروں کو دین کی دعوت دینا، دین کے نظام کو قائم کرنے کی جدوجہد کرنا بھی شامل ہیں۔روزِ محشر جس طرح انفرادی دینی فرائض کے متعلق پوچھا جائے گا اسی طرح اجتماعی دینی ذِمّہ داریوں کے متعلق بھی سوال ہوگا ۔ اس حوالے سے لوگوں میں شعور اُجاگر کرنے کے لیے تنظیم اسلامی کے زیر اہتمام 31 جولائی سے 21 اگست 2026ء تک ’’ اُمّت مسلمہ کی حالت زار اور راہ ِنجات‘‘ کے عنوان سے ایک مہم چلائی جارہی ہے ۔اُمّت کو زوال سے نکالنے کے لیے قرآن واضح لائحہ عمل دیتا ہے۔ جیسا کہ فرمایا :
{وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللہِ جَمِیْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْاص} (آل عمران:103)’’اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھام لو مل جل کر اور تفرقے میں نہ پڑو۔‘‘
احادیث کے مطابق قرآن اللہ کی رسی ہے ، اس کی تشریح احادیث میں ہے ۔ اگر ہم قرآن وسنت کو زندگی کا لائحہ عمل بنائیں گے تو ہم دوبارہ متحد اور منظم ہو کر ایک اُمت بن سکتے ہیں ۔ پھر ہمارا اجتماعی معاشی اور عسکری نظام بھی بن سکتاہے ۔
سوال:زوالِ اُمّت میں باہمی تفرقے اور دشمنوں کی سازشوں میں سے کس کا زیادہ عمل دخل ہے ؟
ڈاکٹر فرید احمد پراچہ:دیکھئے ! بیرونی سازشیں اُس وقت کامیاب ہوتی ہیں جب اندرونی انتشار اور افتراق ہو ۔ انفرادی سطح پر شیطان اُس وقت حملہ آور ہوتا ہے جب انسان عقیدے یا عمل کے لحاظ سے کمزور ہوتاہے ۔ اسی طرح جب اُمّت بحیثیت مجموعی کمزور ہو گئی ، خلافت ملوکیت میں تبدیل ہو گئی تو بیرونی سازشوں کو بھی راستے مل گئے ۔ اس کے بعد اُمّت کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے لیے یہودو نصاریٰ نے اُمّت ِمسلمہ کو سازشوں کا مرکز بنا لیا ۔ اُمّت چھوٹے چھوٹے مسائل اور بحثوں میں الجھ کر رہ گئی ۔ جب چنگیز خان کی فوجیں بغداد پر حملہ آور ہو رہی تھیں تو بغداد میں مناظرے ہو رہے تھے ۔ اگر اندرونی سطح پر علمااور منبرو محراب مضبوط ہوں ، مدارس کا نظام محفوظ ہو ، خلافت کا نظام مستحکم ہو تو بیرونی سازشیں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتیں ۔ اللہ تعالیٰ نے تو قرآن مجید میں ہمیں کھل کر بتادیا تھا :
{لَا تَـتَّخِذُوا الْیَہُوْدَ وَالنَّصٰرٰٓی اَوْلِـیَـآئَ م} (المائدہ :51)’’یہودو نصاریٰ کو اپنادلی دوست(حمایتی اور پشت پناہ) نہ بنا ئو۔‘‘
{قَدْ بَدَتِ الْـبَـغْضَآئُ مِنْ اَفْوَاہِہِمْ ج وَمَا تُخْفِیْ صُدُوْرُہُمْ اَکْبَرُط }(آل عمران:118) ’’ان کی دشمنی اُن کے منہ سے بھی ظاہر ہو چکی ہے۔اور جو کچھ اُن کے سینے چھپائے ہوئے ہیں وہ اس سے بھی بڑھ کر ہے۔‘‘
یہود و نصاریٰ کا طرزِعمل آج بھی وہی ہے ۔ وہ آج بھی اُمّت ِ مسلمہ کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں ، منصوبے بنا رہے ہیں ۔ ارشاد ہوتاہے کہ :
{وَلَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَہُوْدُ وَلَا النَّصٰرٰی حَتّٰی تَــتَّبِعَ مِلَّـتَہُمْ ط}(البقرہ:120) ’’ ہرگز راضی نہ ہوں گے آپؐ سے یہودی اور نہ نصرانی جب تک کہ آپؐ پیروی نہ کریں ان کی ملت کی۔‘‘
جب تک ان کا ورلڈ آرڈر نہیں مان لو گے یہ تم سے راضی نہیں ہوں گے۔ یہ ساری چیزیں تو ہمارے سامنے واضح تھیں اورقرآن پاک نے یہ بھی بتا دیا کہ:
{وَلَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْہَبَ رِیْحُکُمْ } (الانفال:46)’’اور آپس میں جھگڑا نہ کرو ورنہ تم ڈھیلے پڑجائو گے اور تمہاری ہوا اُکھڑ جائے گی ۔‘‘
آج اُمّت کی یہی صورتحال ہے۔ اس سے نکلنےکے لیے قرآن مجید ہمیں لائحہ عمل بھی دے رہا ہے :
{وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللہِ جَمِیْعًا}(آل عمران:103)
’’اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھام لو مل جل کر۔‘‘
{اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ}(الشوریٰ:13) ’’کہ قائم کرو دین کو۔‘‘
یہ ساری چیزیں تو ہمارے پاس موجود ہیں۔ اب ٹھیک وقت پر تنظیم اسلا می نے یہ مہم شروع کی ہے۔ یہ بھی ہمیں معلوم ہوگیا کہ یہود ونصاریٰ نے ہمیں مسلک کی بنیاد پر آپس میں لڑایا ، تقسیم کیا ، کمزور کیا ۔ان چیزوں سے ہم نقصان بھی اُٹھا چکے ہیں ۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے باہمی اتحاد و اتفاق سے دشمنوں کو منہ توڑ جواب دیں ۔
سوال: اُمّت کی نشاۃ ثانیہ اور نجات محض جذباتی قسم کے نعرے لگانے ،جلسے جلوس منعقد کرنے سے ممکن ہو سکے گی یا اس کے لیے ہمیں کوئی ٹھوس عملی اقدامات کرنا پڑیں گے؟
علامہ حسین اکبر:قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے :
{ قُوْٓا اَنْفُسَکُمْ وَاَھْلِیْکُمْ نَارًا}(التحریم:6) ’’بچائو اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اُس آگ سے‘‘
سب سے پہلے تو اصلاح کا عمل اپنی ذات سے شروع کرنا ہوگا ، پھر اپنے گھر والوں اور پھر معاشرے کی باری آئے گی ۔ اس کے ساتھ ساتھ دشمن کی چالوں پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔ ہماری ایجنسیاں اور حکومت خود یہ کہہ رہی ہیں کہ 90فیصد فسادی مواد سوشل میڈیا پر بیرون ممالک سے ڈالا جارہا ہے ۔ اگر ایسی بات ہے تو پھر اس کو روکنے کے لیے اقدامات کیوں نہیں کیے جارہے؟ سوشل میڈیا اور انٹر نیٹ کے منفی اثرات سے اپنی نسلوں اور گھروالوں کو بچانے کے لیے اگر مغرب میں اقدامات ہورہے ہیں تو ہم کیوں نہیں کر رہے ؟حکومت اور حکمرانوں کی بھی اصلاح کی ضرورت ہے ۔ وہی لوگ اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں جو IPPsکے نام پر قوم کے اربوں روپے بلا وجہ لوٹ رہے ہیں ، جبکہ دوسری طرف اگر عوام نے اپنی بچت کے لیے سولر لگا لیے تو وہ بھی حکومت کو برداشت نہ ہوئے ، 200 یونٹ سے ایک یونٹ بھی اگر اوپر ہو جائے تو غریب آدمی کو تین چار گنا زیادہ جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے ۔ یعنی حکومت کی جانب سے جو بھی اقدامات کیے جارہے ہیں وہ عوام کی سہولت کو مدنظر رکھ کر نہیں کیے جارہے ۔ علماء کو بھی چاہیے کہ وہ اِس ظلم کے خلاف آواز اُٹھائیں ، حکمرانوں کے آلہ کار نہ بنیں ۔ ہمارے تعلیمی نصاب پر بھی سخت ترین حملہ ہو چکا ہے ، اگر اس جانب توجہ نہ دی گئی تو ہماری نسلوں کے پاس ڈگریاں تو ہوں گی مگر انسانیت باقی نہیں رہے گی ۔ تمام مسالک اور مکاتب فکر کے علماء اور ادارے آپس میں اتحاد اور اتفاق کی فضا کو ہموار کریں ، ہمارے درمیان 95فیصد مشترکات موجود ہیں ، ان پر اتفاق ہو جائے تواُمّت متحد ہو جائے گی اور دشمن خود ہی خوف زدہ ہو جائے گا ۔ مثلاً تمام مسالک کے نزدیک سود حرام ہے ، اس کے خلاف سب مل کر جدوجہد کریں تو کامیاب ہو سکتے ہیں ۔
سوال: اُمّت ِمسلمہ کو زوال سے نکالنے کے لیے ہمیں کیا ٹھوس اور عملی اقدامات کرنے ہوں گے، بلٹ پوائنٹس کی صورت میں بتا دیں ؟
ڈاکٹر فرید احمد پراچہ:سب سے پہلے تو پاکستان میں اتحادِ اُمّت کی ایک پوری تحریک اُٹھانی چاہیے ۔اس ضمن میں علماء سب سے بہترین کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ تمام مکاتب فکر کے 31 علماء کے 22 نکات پہلے سے موجود ہیں ۔ اِن پر اکٹھا کیا جائے ۔ جولوگ فرقہ واریت اور انتشار پھیلاتے ہیں چاہے اُن کا تعلق کسی بھی فرقے سے ہو، اُن کے خلاف ایک مشترکہ بورڈ بنایا جائے۔ سوشل میڈیا پر فرقہ وارانہ اور اشتعال انگیز مواد شیئر کرنے پر پابندی عائد کی جائے ۔ پھر مشترکہ معاشی منڈیاں قائم کرنے کے لیے تحریک چلائی جائے ،مشترکہ ٹی وی چینلز بنائیں جائیں جو اُمّت میں اتحاد کی ضرورت اور اہمیت کو اجاگر کریں ۔ اپنی مشترکہ کرنسی ہو ، مسلم ممالک کے درمیان ویزہ پالیسیوں کو آسان کیا جائے ، سیاحت کے نام پر ہی سہی مسلم عوام ایک دوسرے ممالک کا دورہ کریں ۔
رضاء الحق:امریکہ سمیت دنیا کے تمام بڑے ممالک سیکولرازم سے واپس مذہب کی طرف لوٹ رہے ہیں ۔ وہ اپنی مذہبی کتابوں میں موجود مستقبل کی پیشین گوئیوں کے مطابق منصوبہ بندی کر رہے ہیں ۔ مثلاً یہودونصاریٰ کے مذہبی لٹریچرمیں ایک بڑی جنگ آرمیگاڈان کا ذکر ہے ، وہ اسی کے تناظر میں پالیسیاں اور منصوبے بنا رہے ہیں ، یہودیوں کے نزدیک گریٹر اسرائیل کا قیام اور مسجد ِ اقصیٰ کو (معاذ اللہ) شہید کر کے اُس کی جگہ تھرڈ ٹیمپل کی تعمیر اہم ہے اور وہ اس کے لیے کوشش کررہےہیں ۔ وہ اپنے مذہبی تناظر میں اپنے مسایاح (دجال ) کے لیے راہ ہموار کر رہے ہیں۔ ہمیں بھی چاہیے کہ احادیث میں مستقبل کے حوالے سے جو پیشین گوئیاں اور خبریں ہیں ان کے مطابق اپنی تیاری کریں ۔ احادیث میں ہے کہ خراسان سے اسلامی فوجیں جائیں گی اور حضرت مہدیؒ کی نصرت کریں گے ۔ دجال کے خلاف لڑیں گی ۔ خراسان میں پاکستان ، افغانستان اور شمالی ایران کے علاقے بھی شامل ہیں ۔ کیوںنہ ہم خراسان کے اس خطے کو مل کر مستحکم کریں ۔ اِسی میں ہماری نجات ہے ۔ ورنہ ہماری نجات ویژن 2030ء میں ہے اور نہ ہی اقوام متحدہ کے عالمی منصوبوں میں ہے ، نہ IMFکے اہداف کے چکر میں اُلجھے رہنے میں ہے ۔ ہمیں یہودونصاریٰ کی پالیسیوں پر چلنے کی بجائے قرآن وسنت سے رہنمائی لینا ہوگی ۔ قرآن و سنت سے ہی انقلابی سوچ حاصل کرکے اُمّت نے پہلے بھی عروج حاصل کیا تھا ۔ اب بھی اسی راستے سے دوبارہ عروج حاصل ہو سکتا ہے ۔
سوال:اُمّت ِمسلمہ کو زوال سے کیسے نکالا جائے ، اس کے لیے راہ نجات کیا ہے ؟
شجاع الدین شیخ : بنیادی بات یہ ہے کہ؎
اپنی ملت پہ قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسول ہاشمی
اس اُمّت کی اٹھان اسلام پر ہے۔ ابراہیم اور اسماعیل eنے اس اُمّت کے لیے دعا مانگی تھی :{ وَمِنْ ذُرِّیَّتِنَـآ اُمَّۃً مُّسْلِمَۃً لَّکَ ص}(البقرہ :128) ’’اور ہم دونوں کی نسل سے ایک اُمّت اٹھائیو جو تیری فرماں بردار ہو۔‘‘
یعنی اس اُمت کے خمیر میں اسلام شامل ہے ۔ اب ہمارا مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخلص ہو جائیں ،یہود و نصاریٰ پر بھروسا کرنے کی بجائے اللہ پر توکل کریں ۔ کفار و مشرکین کا معاملہ اور ہے ، ان کے لیے دنیا میں چھوٹ ہے مگر آخرت میں پکڑ ہوگی ۔ فرعون ، ہامان ، شداد ، نمرود ، قارون کو دنیا میں بہت کچھ ملا مگر آخرت میں ناکام ہوئے ۔ مسلمان کے حالات تب سدھریں جب وہ اللہ کے سامنے مکمل جھک جائے گا ۔ بصورت دیگر دنیا میں بھی مار پڑے گی اور آخرت میں بھی سخت حساب ہوگا ۔سابقہ اُمّت کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
{وَاَنِّیْ فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ(47)} (البقرۃ) ’’اور یہ کہ میں نے تمہیں فضیلت عطا کی تمام جہانوں پر۔‘‘
ان کو تورات اور انجیل عطا ہوئی ۔کم و بیش 14 صدیوں تک اُن کے ہاں انبیاء کرامf کے نزول کا سلسلہ جاری رہا ، ان کو طالوت ؑ، دائودؑ اور سلیمانؑ کے دور میں بڑی بڑی بادشاہتیں عطا ہوئیں ۔ لیکن قوم کی سرکشی اور بغاوت کی وجہ سے سے زوال آیا ۔ قرآن میں ذکر ہے :
{وَضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ الذِّلَّــۃُ وَالْمَسْکَنَۃُق وَبَآئُ وْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللہِ ط}(البقرۃ:61) ’’اور ان پر ذلت و خواری اور محتاجی و کم ہمتی تھوپ دی گئی۔اور وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹے۔‘‘
بنی اسرائیل کے زوال کی ایک بنیادی وجہ دنیا کی محبت اور موت سے نفرت تھی ۔ قرآن میں اللہ بتاتا ہے:
{اَلْفَ سَنَۃٍج}( البقرۃ:96 )’’ ہزار برس ہو جائے۔‘‘ پھر یہی قرآن بتاتاہے :
{کِتٰبَ اللہِ وَرَآئَ ظُہُوْرِہِمْ} (البقرہ:101)
’’ اللہ کی کتاب کو پیٹھوں کے پیچھے پھینک دیا‘‘
اوریہی قران بتاتا ہے کہ انہوں نے پیغمبر کے مشن کا ساتھ نہ دیا ۔
{فَاذْہَبْ اَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلَا اِنَّا ہٰہُنَا قٰـعِدُوْنَ (24)} (المائدہ) ’’بس تم اور تمہارا رب دونوں جائو اور جا کر قتال کرو‘ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔‘‘
آج اُمّت ِمسلمہ کا بھی یہی حال ہے ۔ دنیا کی محبت اور آخرت فراموشی ، اللہ کی کتاب کو چھوڑ دیا ،قرآن کو بس ایصال ثواب کی کتاب سمجھ لیا گیا ، کسی کا انتقال ہوگیا تو کھول کر ثواب کی غرض سے پڑھ لی ، حالانکہ یہ مُردوں کی کتاب نہیں ہے ، یہ زندہ کتاب ہے ۔ اللہ خود کہتا ہے :
{ فِیْہِ ذِکْرُکُمْ ط }( الانبیاء: 10 ) ’’(اے لوگو!) اب ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب نازل کر دی ہے‘ اس میں تمہارا ذکر ہے ۔ تو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟‘‘
آج بھی اس میں ہمارے لیے رہنمائی موجود ہے مگر ہم میں سے 99 فیصد مسلمان ایسے ہیں جنہوں نے زندگی میں کبھی مکمل ترجمہ قرآن تک نہیں پڑھا ۔ یعنی ہم نے اِسے کتابِ ہدایت سمجھا ہی نہیں ۔ حالانکہ اللہ خود کہتاہے :
{ یَہْدِیْ لِلَّتِیْ ہِیَ اَقْوَمُ} (بنی اسرائیل :9)
’’ راہنمائی کرتا ہے اُس راہ کی طرف جو سب سے سیدھی ہے‘‘
پھر اللہ فرماتاہے :
{اِنَّــآ اَنْزَلْنٰـہُ فِیْ لَـیْلَۃِ الْقَدْرِ(1)} ’’یقیناً ہم نے اتارا ہے اس (قرآن) کو لیلۃ القدر میں۔‘‘
قدر کی رات میں اللہ تعالیٰ تقدیروں کا فیصلہ کرتاہے ، قرآن تقدیروں کو بدل دینے والا کلام ہے جو اسی رات نازل ہوا ۔ اللہ کے نبیﷺ نے قرآن کے ذریعے انقلابی جماعت تیار کی جس کے سامنے قیصر و کسریٰ جیسی سپرپاور ز بھی گھٹنوں کے بل گرگئیں ۔ قرآن کی بدولت ہی اُمّت کو عروج ملا ۔ مگر آج اس کتاب کو فراموش کردینا ہماری ذلت و رسوائی کی بنیادی وجہ بن گیا ہے ۔ 57مسلم ممالک میں سے ایک بھی ملک ایسا نہیں ہے جہاں قرآن کا نظام نافذ ہو ۔ اِس اُمت کو امام بنایا گیا ، دنیا کے فیصلے اس نے کرنے تھے مگر آج ہمارے فیصلے دنیا کرتی ہے ۔ اِس ذلت و رسوائی سے نکلنے کا حل یہ ہے کہ ہم اللہ کے سامنے جھک جائیں ۔ اللہ پوری کائنات کا خالق و مالک ہے اور ہر چیز پر قادر ہے۔ اِس نے کفار کے 1 ہزار کے لشکر کو 313اہل ِ ایمان کے ذریعے شکست دی تھی ۔ اللہ آج بھی ہمیں دشمنوں پر غلبہ عطا فرما سکتاہے ۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہمارا اللہ پر پہلے جیسا توکل اور یقین نہیں رہا ۔ اللہ فرماتاہے :
{وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(39)} (آل عمران) ’’اور تم ہی سربلند رہو گے اگر تم مؤمن ہوئے۔‘‘
وہ حقیقی ایمان قرآن سے آئے گا ۔ اللہ فرماتاہے :
{اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْہِمْ اٰیٰتُہٗ زَادَتْہُمْ اِیْمَانًا}(الانفال:2)’’جب اُنہیں اُس کی آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تواُن کے ایمان میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔‘‘
وہ ایمان جو واقعتا ًدل میں ہو تو قران کہتا ہے:
{یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَنْصُرُوا اللہَ یَنْصُرْکُمْ وَیُثَبِّتْ اَقْدَامَکُمْ(7)} (سورۃ محمد)
’’اے اہلِ ایمان! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور وہ تمہارے قدموں کو جما دے گا۔‘‘
ہم اگر اللہ کے دین کے غلبے کے لیے جدوجہد کریں گے تو اللہ کی مدد آئے گی اور پھر دشمن چاہے جتنا بھی طاقتور ہو ، اللہ کی مدد کے سامنے اُس کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی ۔ اقامت ِدین کی جدوجہد کا آغاز ہم نے اپنی ذات سے کرنا ہے ، سب سے پہلے ہمارے ذِمّہ جو فرائض و واجبات ہیں ان کو ادا کریں ، گناہوں سے اپنے آپ کو بچائیں ، اس کے بعد اپنے گھر والوں کوجہنم کی آگ سے بچانے کی کوشش کریں ، پھر دین کی دعوت معاشرے تک پہنچائیں اور آخر میں اجتماعی سطح پر اللہ کے دین کے غلبے کی جدوجہد میں شریک ہوں ۔ قیامِ پاکستان کا مقصد بھی وہی ہے جس کے لیے یہ اُمّت کھڑی کی گئی ، جس کے لیے اللہ کے نبی ﷺ کو بھیجا گیا ۔ اللہ فرماتاہے :{ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ} (الصف:9)’’تاکہ غالب کر دے اس کو پورے نظامِ زندگی پر‘‘
اللہ کے دین کو غالب کرنا حضورﷺ کا مشن تھا ۔ آج ہم فقہی مسائل ، مسلکی معاملات میں اُلجھ کر اس عظیم مشن کو بھول بیٹھے ، یہ بڑا مشن ہمارے سامنے ہوگا تو فرقہ واریت کا عنصر خوبخود پیچھے چلا جائے گا ،اُمّت کے اتحاد کی شکل بنے گی ، اگر کفار مل کر یورپی یونین بنا سکتے ہیں، عسکری اتحاد بنا سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں بنا سکتے ۔ علم اور ریسرچ کے میدان میں اتحاد کیوں نہیں ہو سکتا ۔ اسی شعور کو اجاگر کرنے کے لیے تنظیم اسلامی کے زیر اہتمام 31 جولائی سے 21 اگست تک ’’اُمّت ِمسلمہ کی حالت ِ زار اور راہِ نجات‘‘ کے عنوان سے ایک ملک گیر آگاہی مہم چلائی جارہی ہے ۔ سوشل میڈیا ، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر بھی اِس مہم کو جاری رکھا جائے گا ، خطبات جمعہ کے ذریعے ، ہینڈبلز ، بروشرز ، بینرز کے ذریعے بھی اِس پیغام کو عوام تک پہنچانے کی کوشش کی جائے گی ۔ ناظرین سے گزارش ہے کہ آپ دعا بھی کریں اور اس میں اپنا حصّہ بھی ڈالیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین !