(نقطۂ نظر) نظام صرف ناکام نہیں ہوا بلکہ … - ابو موسیٰ

10 /

نظام صرف ناکام نہیں ہوا بلکہ …

ابو موسیٰ

یہ شمارہ جب قارئین تک پہنچے گا تو پاکستان شمسی لحاظ سے اُناسی سال کا ہو چکا ہوگا۔ کوئی ریاست اِس عمر تک پہنچ کر بوڑھی تو نہیں ہوتی لیکن نوزائیدہ بھی نہیں کہلاتی۔ گویا بھرپور جوانی گزارتے ہوئے اُدھیڑ عمر کو پہنچ رہی ہوتی ہے۔ آغاز ہی میں وہ اپنے وجود کی بنیاد پر ایک نظام وضع کرکے ایک ہدف کی طرف بڑھنا شروع کر دیتی ہے گویا اپنے اچھے بُرے کو اچھی طرح پہچان کر ترقی اور خوشحالی کی منازل طے کر رہی ہوتی ہے۔ افسوس صد افسوس کہ پاکستان مختلف اور نئے نئے تجربات کرنے کے باوجود کوئی نظام حتمی طور پر طے نہیں کر سکا۔ تقسیم ہند کے بعد اُناسی سالہ تاریخ کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بھارت جو ہم سے ایک دن بعد یعنی 15 اگست کو آزاد ہوتا ہے تقریباً دو سال میں آئینِ نو کی تشکیل کر لیتا ہے پاکستان کو اِس کام میں نو (9) سال لگے تب بھی ہم کہتے ہیں ’’دیر آید درست آید‘‘ لیکن 1958ء میں ایک فوجی طالع آزما نے بھاری بوٹوں تلے اُسے روند ڈالا۔ 1956ء کا یہ آئین عوامی اسمبلی نے بنایا تھا اور کافی حد تک اِس میں اِسلامی شقات تھیں۔ اِس آئین کی بنیاد میں قراردادِ مقاصد بھی تھی اور 1951ء کے علماء کانفرنس کے بہت سے نکات کا بھی اِس میں احاط کیا گیا تھا۔ یہ آئین صرف 2 سال نکال سکا گویا ’’بِن کھلے کلیان مرجھا گئیں۔‘‘
گیارہ (11) سال تک خاکی حکومت چلی جس کا آغاز تو یوں معلوم ہوتا تھا کہ پاکستان ترقی کی شاہراہ پر سرپٹ دوڑ رہا ہے۔ 1962ء میں ایک خاکی آئین جس کا عوام کی رضا سے کوئی تعلق نہیں تھا ٹھونس دیا گیا۔ 1971ء میں اِس جبر کا اور عوام سے دوری کا نتیجہ سامنے آگیا پاکستان دولخت ہوگیا مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ مغربی پاکستان کو what remains of Pakistan کہا جانے لگا۔ ذولفقار علی بھٹو نے صورتِ حال کو سنبھالا بنگلہ دیش کو بطور حقیقت تسلیم کیا رونا پیٹنا ختم کر دیا گیا بلکہ بعض لوگ یہ بھی کہتے سنے گئے کہ مشرقی پاکستان ہماری معیشت کے لیے ایک بیماری تھی اچھا ہوا نجات حاصل ہوگئی لیکن آج خاص طور پر معاشی حوالے سے صورتِ حال یہ ہے کہ اگر ہم پاکستانی سر اُٹھا کر بنگلہ دیش کو دیکھیں گے تو ہمارے سر سے ٹوپی گِر جائے گی۔ ذوالفقار علی بھٹو سے سو(100) اختلاف لیکن یہ حقیقت تسلیم کیے بھی چارہ نہیں اُن غیر یقینی اور دشوار حالات میں اُنہوں نے قوم کو 1973ء کا متفقہ آئین دیا۔ آئین تو متفقہ بن گیا لیکن قوم خاص طور پر اُس کے بڑوں کی کرتوتوں نے اِس آئین کا وہ حال کیا ہے کہ اگرچہ کہتے تو اب بھی اِسے 1973ء کا آئین ہی ہے اِس کا نام تو نہیں بدلا گیا لیکن اِس کا خالق اگر اِس دنیا میں واپس آجائے تو وہ اُسے اپنا بنایا ہوا آئین تسلیم نہیں کرے گا۔ اُس کی مٹی یوں تو غیروں نے بھی پلید کی لیکن وہ جماعت جس کا سربراہ بھٹو تھا اُس نے بھی اُس کا حلیہ بگاڑنے میں پورا پورا حصّہ لیا۔ لطف کی بات ہے اِس جماعت کا سربراہ ذوالفقار علی بھٹو کا نواسہ ہے۔ 1973ء کے آئین کو خون میں نہلانے میں اُس کا بھی حصّہ ہے۔ گزشتہ تریپن (53) سال میں آئین میں ستائیں (27) ترامیم ہو چکی ہیں۔ خراش تراش کے بعد اِس آئین کی جواب شکل سامنے آئی ہے اُس کا اسلام سے تعلق ہے، نہ عدل سے۔ عدل اسلام کا کیچ ورڈ ہے اور یہ بالکل درست کہا جاتا ہے کہ عدل کو اسلام سے نکال دو تو اسلام میں کچھ نہیں بچتا۔ اِن ترامیم نے عدل کو عدلیہ سمیت اِس بُری طرح کچل دیا ہے کہ جج فیصلہ کرنے سے پہلے طاقت سے پوچھتا ہے بتا تیری رضا کیا ہے۔
پاکستان میں آئین کے حوالے سے ایک بات بالکل واضح ہے۔ ملک میں چار (4) عدد مارشل لائوں کے دوران کبھی یہ قتل ہوا اور کبھی زخمی کرکے اِسے توڑ مڑور کر اپنے اقتدار کے موافق کر لیا گیا اور عدالتیں اِس پر اُسی طرح مہر تصدیق ثبت کرتی تھیں جیسے کچہری کے باہر بیٹھا اوتھ کمشنر نقل بمطابق اصل کی مہر لگاتا ہے لیکن یہ سب کچھ اِن چار مارشل لاؤں میں ہوا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ کسی سویلین دور میں آئین کی اوّل تو باقاعدہ کھلی ریخت نہ ہوئی لیکن اگر ہوئی تو عدلیہ نے فوراً نوٹس لے کر اُسے صراطِ مستقیم پر ڈال دیا اِس لیے کہ سویلین دورِحکومت میں عدلیہ متحرک ہوتی ہے۔ البتہ گزشتہ چار سال میں موجودہ ہائبرڈ نظام میں پہلی مرتبہ ہوا کہ آئین کی بآواز بلند بےحرمتی ہوئی اور تیز آلہ سے شکست و ریخت ہوئی لیکن عدلیہ منہ دیکھتی رہ گئی۔ مثلاً پرویز الٰہی کی پنجاب حکومت کے خاتمہ پر تین ماہ کی مدت میں آئینی تقاضے کے باوجود نئے انتخابات نہ کروائے گئے لیکن کسی عدالت کو یہ اجازت نہ ملی کہ وہ آئین کے روندے جانے پر کوئی فیصلہ دے۔ اِس حوالے سے گزشتہ چار سال میں اِس طرح کے کئی آئین کُش اقدامات کیے گئے جن کا ذکر طوالت کا باعث بنے گا۔ یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ موجودہ نظام کو ہائبرڈ نظام راقم نہیں کہہ رہا بلکہ حکومت کے اہم وزیر اور حکومتی پارٹی کے مرکزی رہنما کہہ چکے ہیں اور کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں۔ یہ گڈمڈ صورتِ حال چل رہی تھی کہ وزیر داخلہ محسن نقوی جو حکومت اور کابینہ میں طاقتوروں کے نمائندہ سمجھے جاتے ہیں، اُنہوں نے ایک عوامی محفل میں ارشاد فرمایا کہ موجودہ نظام ڈیفالٹ کر چکا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ صورتِ حال یہ ہے کہ موجودہ حکومت کے سربراہ یعنی وزیراعظم شہباز شریف چودہ (14) پندرہ (15) گھنٹے کام کرتے ہیں لیکن وہ اگر دن رات کام بھی کریں تو ملک ہرگز آگے نہیں بڑھے گا۔ ملکی حالات ہرگز درست نہیں ہوں گے۔ نہ سیاست سنبھلے گی نہ معیشت اور ہم دس سال بعد یہاں بیٹھے پھر حالات کا رونا رو رہے ہوں گے۔
ملک کے نظام میں انقلابی تبدیلی کی ضرورت ہے پہلا کام یہ کرنا ہوگا کہ مزید صوبے بنانے ہوں گے اِس پر مسلم لیگ (ن) جس کی مرکز اور پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں حکومت ہے وہاں کُھسر پُھسر شروع ہوگئی۔ اِسے مسلم لیگ کی حکومت کے خلاف چارج شیٹ قرار دیا گیا۔ ڈھکے چھپے انداز اور اشارے کناروں سے محسن نقوی کے خلاف بات چلائی گئی۔ لیکن حکومت کی حامی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی صوبوں کی تقسیم کے حوالے سے کھل کر عسکری قیادت کے سامنے آگئی کہ یہ ہم کسی صورت نہیں ہونے دیں گے ’’مرسوں مرسوں سندھ نہ دیسوں‘‘ کے نعرے لگنےشروع ہوگئے۔ البتہ پاکستان پیپلز پارٹی خصوصاً co-chairman بلاول بھٹو نے مسلم لیگ کی مرکزی حکومت اور پنجاب حکومت کے خلاف چارج شیٹ کو درست قرار دیا اور کہا کہ مسلم لیگ کی حکومت کی اُلٹی گنتی شروع ہو چکی ہے البتہ ایسے اشارے بھی دے دیئے کہ حکومتی افراد کی تبدیلی میں اگر صدر زرداری کی صدارت آگے پیچھے کی گئی تب بھی پاکستان پیپلز پارٹی سرنڈر کرنے کی بجائے مقابلہ کرے گی اور کسی کو صدارتی کرسی کی طرف ہاتھ نہیں بڑھانے دے گی۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی دلیری کی دو وجوہات ایک یہ کہ وہ ماضی میں بھی جدوجہد کر چکی ہے اور ضیاءالحق کی سختیاں برداشت کر چکی ہے اور دوسری یہ کہ اُس کے پاس سندھ کارڈ ہے جسے وہ بڑی خوبصورتی سے کھیلتی ہے جبکہ مرکز اور پنجاب میں شرفاءکی حکومت ہر لحاظ سے دیوالیہ ہو چکی ہے۔ کسی زمانے میں پنجاب میں نواز شریف کا طوطی بولتا تھا،اب یہ حالت ہے کہ آئینی تقاضے اور عدالتی احکامات کے باوجود پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کروانے پر تیار نہیں ہوتی اِس لیے کہ اُسے نتائج کا علم ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جب نواز شریف کی مقبولیت عروج پر تھی تب بھی سب کچھ پنجاب میں ہی تھا پنجاب سے باہر کچھ نہیں تھا اور آج صورتِ حال یہ ہے کہ پنجابی شریف فیملی کا نام سننے کے روادار نہیں۔کئی درجن بار اخبارات میں یہ اعلان کیا گیا کہ نواز شریف پنجاب کا دورہ کرکے پنجاب میں جماعت کو بحال کریں گے لیکن یہ اعلانات تک ہی محدود رہا۔ گزشتہ کئی سال سے وہ کوئی ایک عوامی اجتماع بھی منعقد نہیں کر سکے۔ قصۂ مختصر طاقتوروں کے لیے مسلم لیگ (ن) ہرگز کوئی مسئلہ نہیں۔ وہ ووٹ کی بجائے طاقت کو عزت دینے کا پکا جماعتی سطح پر فیصلہ کر چکے ہیں کہ اِسی میں اُن کی بقا ہے۔ اُن ہی کے سہارے دونوں حکومتیں (مرکز اور پنجاب) میں قائم رہ سکتی ہیں اور آئندہ بھی حکومتی ایوان میں داخلہ صرف اور صرف طاقت کے مرہون منت ہوگا۔
بہرحال پاکستان پیپلز پارٹی کے محسن نقوی کے ارشادات کے خلاف ڈٹ جانے سے طاقت کو اپنے خوابوں کی تعبیر نہیں مل سکے گی نہ اٹھائیسواں (28) ترمیم آئین میں ہو سکے گی اور نہ دیہی سندھ کے عوام کو راضی کیا جا سکے گا۔ دیہی سندھ کے عوام کی طاقت کا اندازہ اُس وقت بڑے بڑوں کو ہوگیا تھا جب دریا سندھ سے نہریں نکالنے کا مسئلہ سامنے آیا تھا جو اصلاً پنجاب کے حکمرانوں کی خواہش تھی لیکن عسکری قیادت کی مکمل پشت پناہی بھی حاصل تھی۔ لہٰذا سب کو پسپائی اختیار کرنا پڑی تھی اور دیہی سندھ کے عوام کے کندھوں پر سوار ہو کر پاکستان پیپلز پارٹی کو مکمل کامیابی حاصل ہوئی۔ لہٰذا محسن نقوی صاحب نے اگلی عوامی گفتگو میں سب کچھ سمیٹ دیا۔ صاف کہا کہ شہباز شریف کی موجودہ حکومت اپنے پانچ سال پورے کرے گی۔ کیسا عجب ملک ہے اپنا پاکستان جہاں کابینہ کا ایک رکن وزیراعظم کو یقین دہانی کراتا اور حوصلہ دیتا ہے کہ ہم آپ کے پاؤں کے نیچے سے قالین نہیں کھینچے گیں۔ گویا اگر اُن کے پہلے زوردار اعلان کو سامنے رکھا جائے تو بات واضح ہو جاتی ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ڈٹ جانے سے طاقت کے نمائندے نے ایک تاریخی یوٹرن لیا ہے۔
اب معزز اور محترم طاقت کے نمائندے بات بات پر وزیراعظم کو یقین دہانیاں کروا رہے ہیں کہ اُنہیں بدلا نہیں جا رہا اگرچہ کچھ اچھا نہیں ہو رہا۔ ملک و قوم کی کشتی طوفان میں پھنسی ہوئی اور بہتری کا امکان سِرے سے نہیں ہے جس سے ملک کی سلامتی کو بھی خطرات لاحق ہوگئے ہیں لیکن چونکہ ہمارے اور آپ کے اقتدار کا سوال ہے لہٰذا جو چل رہا ہے چلنے دو، اقتدار کے حوالے سے کسی قسم کا کوئی رسک نہیں لیا جا سکتا اِس پر سہیل وڑائچ جو جنگ اخبار کے سینئر صحافی اور کالم نگار ہیں ،اُنہوں نے موجودہ صورتِ حال پر محسن نقوی کے ٹرن اور یوٹرن پر 8 اگست 2026ء کے جنگ میں ایک کالم میں لکھا ہے جس کا اوّلین حصّہ راقم من و عن نقل کر رہا ہے۔کیونکہ ہم کچھ عرض کریں گے تو شکایت ہوگی وہ لکھتے ہیں: ’’سسٹم ناکام ہو چکا ہے مگر حکومت یہی رہے گی۔ یہ سسٹم دس سال بھی چلے تو کچھ نہیں بدلے گا مگر یہ حکومت پانچ سال پورے کرے گی، شہباز صاحب 18 گھنٹے کام کرتے ہیں گھر کانظام بہتر نہیں ہورہا مگر وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت اپنی مدت پوری کرے گی ۔ معیشت چل رہی ہے نہ سیاست مگر حکومت یہی رہے گی ۔
پاکستان 75 سال سے کچھ نہیں کر سکا نہ اب کچھ کرپارہا ہے مگر حکومت سے کوئی شکایت نہیں، حکومت یہی رہے گی، شہباز شریف 13 سال وزیر اعلیٰ رہے اور اب 4سال سے وزیر اعظم ہیںان 17 برسوں میں کوئی بڑی تبدیلی یا انقلاب نہ آیا مگر حکومت انہی کی رہے گی۔ 17بجٹ آچکے معیشت میں کوئی بدلاؤ نہ آیا مگر یہی حکومت سب سے اچھی ہے، یہی رہے گی۔ پچھلے17 برسوں سے کوئی ڈھنگ کا بلدیاتی قانون نہیں بن سکا بلدیاتی اداروں کو اختیارات نہیں مل سکے مگر حکومت یہی رہے گی،جنرل مشرف نے ڈپٹی کمشنر ختم کر کے اختیارات ضلع کونسل اور مئیرز کو دیئے تھے۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے دوبارہ ڈپٹی کمشنربحال کر دیئےمگر اِن کا نظام کی خرابی میں کوئی قصور نہیں۔ وزیراعظم اور ان کی کابینہ اپنی 5سالہ مدت پوری کرے گی، شہباز حکومت وفاق میں 5 بجٹ دے چکی، کئی آئینی ترامیم کرچکی،بلدیاتی انتخابات کے بارے میں کچھ نہیں کیا، مگر وہ سب سے بہتر وزیراعظم ہیں۔ وہ پورے 5سال وزیراعظم رہیں گے۔ کابینہ ایک مضبوط اورمتحد ٹیم کانام ہوتا ہے۔یہاں وزیر کابینہ کے اندر نہیں کھلے عام لڑتے اور ایک دوسرے کے خلاف بیان دیتےہیں مگر کابینہ اور وزیراعظم یہی سب سے بہتر ہیں، یہی چلیں گے۔
پاکستان ایک زرعی ملک ہے اس سال بمپر فصل ہوئی ہے،پر کیا کریں گندم مہنگے داموں درآمد کرنی پڑ گئی ہے۔ سستے داموں اپنے زمینداروں سے نہیں خرید سکے مگر اس حکومت کی پالیسیاں شاندار ہیں اسے چارج شیٹ کیسے کیا جا سکتا ہے یہی حکومت 5 سال ایسی ہی شاندار پالیسیاں بناتی رہے گی۔ ہر سال دعویٰ کیا جاتا ہے کہ چینی ملکی ضرورت سے زیادہ ہے، وزیراعظم شہباز شریف اور ان کی کابینہ چینی برآمد کرنےکی اجازت دے دیتے ہیں۔ سال کے آخر میں چینی کم پڑ جاتی ہے تو مہنگے داموں درآمد کی جاتی ہے مگر یہ کوئی اسکینڈل تھوڑا ہے، حکومت کی ایمانداری اور عقل مندی پر شبہ کرنا بھی گناہ ہے، اس لیے حکومت پانچ سال پورے کرے گی۔
وزیراعظم سیکریٹریٹ اور 5وزراء کے درمیان تناؤ کی خبریں بالکل جھوٹی ہیں، اس لیے یہی حکومت پوری طاقت اور رفتار سے5سال پورے کرے گی۔ ایک جونیئر اور ٹیکنوکریٹ وزیر کو ویٹو پاور حاصل ہونے کی خبر صرف ہوائی ہے، یہ حکومت بہترین دماغوں پر مشتمل ہے، یہی حکومت چلے گی اور 5سال پورے کرے گی۔ حکومت اور مقتدرہ نے بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے ایس آئی ایف سی طاقتور ون ونڈو بنائی مگر یہ اتنی موثر کیوں ثابت نہ ہو سکی؟ ذمہ دار نوکر شاہی ہے مگر حکومت یہی رہے گی،یہ اپنے پانچ سال پورے کرے گی۔ وزیراعظم لمبی لمبی میٹنگز کرتے ہیں کئی کئی گھنٹے محنت کرتے ہیں مگر فیصلہ نہیں کرتے، کمیٹی بنا دیتے ہیں، تیز ترین فیصلے نہ کر نے کے باوجود حکومت یہی رہے گی ۔
وزیراعظم نے آج تک نہ تو کسی بڑے اجتماع سے خطاب کیا ہے نہ اپنے معاشی ویژن اورپروگرام کی منصوبہ بندی بیان کی ہے مگر اس کے باوجود وزیراعظم یہی سب سے بہتر ہیں وہ پانچ سال پورے کریں گے، لوگ خوامخواہ افواہیں اڑاتے ہیں کہ ایک کابینہ،اور دوسری سپر کابینہ ہے، فیصلے سپر کابینہ کرتی ہے۔ ظاہر ہے یہ سب غلط ہے اس لیے وزیراعظم اور ان کی کابینہ اسی طرح صلاح مشورے کرکے ملک و قوم کی بہتری کے لیے اپنے 5 سال پورے کریں گے۔ وفاق اور پنجاب کی صوبائی حکومت میں دوریاں جھوٹی کہانیاں ہیں اس لیے وزیراعظم کو کوئی خطرہ نہیں۔ نظام خراب ہے تباہ ہو چکا ہے مگر مقتدرہ اور وزیراعظم نہ صرف ایک صفحہ پر ہیں بلکہ اب تو وہ نصاب کا حصہ ہیں، اس لئے حکومت پورےپانچ سال اسی طرح چلتی رہے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف ذاتی طور پر بہت ملنسار اور سب کے ساتھ ملکر کام کرنے میں بہترین ہیں اس لیے ان کا وزیراعظم رہنا ہی بہتر ہے، 5سال وہی رہیں گے۔‘‘ سہیل وڑائچ نے جس صحافتی مہارت سے نظام اور اُس کے سٹیک ہولڈرز کی ناکامی کا تذکرہ کیا ہے وہ یقیناً قابلِ تحسین ہے جبکہ کون نہیں جانتا کہ مذکورہ صحافی مسلم لیگ کے لاڈلے اور طاقتوروں کے دوست ہیں۔ بہرحال اُنہیں صحافت میں اپنی ساکھ کو بھی تو زندہ رکھنا ہے۔ راقم اِس ٹرن اور یوٹرن پر صرف یہ کہے گا کہ اقتدار کتنی ظالم شے ہے انسان سے کیا کچھ کرواتا ہے۔اناللہ وانا الیہ راجعون! رہی بات نظام کی وہ تو عوامی سطح پر گن پوائنٹ پرعدم اعتماد کرواتے ہی ناکام ہو گیا تھا اور گزشتہ چار سال سے ہر روز ناکامی کا منہ دیکھ رہا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اب اس نظام کو کسی نے جیل میں ہوتے ہوئے ننگا کر دیا ہے ، لہٰذا نظام صرف ناکام نہیں ہوا بلکہ ننگا بھی ہوا ہے۔