خواتین کی تعلیم کی اہمیت اور مطلوبہ لائحہ عمل(حصّہ دوم)
ثریا بتول
(گزشتہ سے پیوستہ)
اسلام میں تعلیم ِنسواں کا مقصد
تعلیم ِنسواں کی اسلام نے بہت تاکید کی ہے اور مغربی تہذیب بھی تعلیم ِنسواں پر بڑا زور دیتی ہے مگر دونوں کے مقاصد میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔ مقاصد مختلف ہونے کی بنا پر دونوں تعلیموں کی نوعیت و کیفیت بھی جداگانہ ہے۔
تعلیم نسواں سے متعلق اسلام کے مقاصد
صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی ایک اہم حدیث میں حضرت عبداللہ بن عمرiسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’سنو! تم میں سے ہر شخص نگران ہے اور اُس سے (روزِقیامت) اپنی اپنی رعیت کے بارے میں سوال کیاجائے گا۔ ایک مرد اپنے گھر والوں کا نگران ہے۔ اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہوگا اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کی اولاد کی نگران ہے، اس سے ان کے بارے میں سوال ہوگا۔ غلام اپنے آقا کے مال کا نگران ہے وہ اس کے بارے میں جواب دہ ہے۔ سنو! تم میں سے ہر شخص نگران ہے اور اُس سے اُس کی ذِمّہ داریوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔‘‘(بخاری)
عورت پر شوہر اور اولاد کی ذِمّہ داریاں
قرآن پاک میں نیک عورت کی ذِمّہ داریوں اور فرائض کاذکر ِاس طرح ہوتا ہے :
﴿{فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللہُ ط}(النساء:34) ’’جو نیک عورتیں ہیں وہ فرمانبردار ہوتی ہیں، مردوں کی عدم موجودگی میں اللہ کی حفاظت ونگرانی میں ان کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں۔‘‘
(2) اسی طرح سورئہ الروم آیت نمبر21 میں ارشاد ہوتا ہے :’’اُس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اُس نے تمہاری جنس سے جوڑے بنائے تاکہ تم اُن کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کردی۔ یقیناً اِس میں غوروفکر کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔‘‘
مندرجہ بالا دونوں آیات اور حدیث ِنبوی سے ثابت ہوتا ہے کہ عورت شوہر کی فرمانبردار ہو اس کے مال، گھر، اولاد کی بخوبی حفاظت کرے اور گھر کو اپنے مکینوں کے لیے باعث ِآرام وسکون بنا دے۔ نبی کریم ﷺ نے قریش کی خواتین کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: ’’قریش کی نیک عورتیں بھی خوب ہیں، اِن میں دو باتیں ایسی ہیں جو دوسروں میں نہیں۔ ایک تو وہ اپنے بچوں پر خوب شفقت کرتی ہیں ۔ دوم اپنے خاوند کے مال کی حفاظت کرتی ہیں۔‘‘(بخاری)
اِس لحاظ سے عورت کی تعلیم ایسی ہونی چاہیے جو اُس کو صالح بیٹی، وفا شعار بہن، فرمانبردار بیوی اور باکردارو ہمدرد ماں بنا سکے۔ ابتدائی تعلیم بہت ہی اہمیت کی حامل ہے۔ ابتدائی پانچ سال میں ایک لڑکے اور ایک لڑکی کی ابتدائی تعلیم اسلامی نکتہ نظر سے یکساں ہونی چاہیے، یعنی ہرمسلم بچے کو یہ سبق دینا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کائنات کاخالق و مالک ہے۔ اُس نے اپنی تمام مخلوق کے رزق کا ذِمّہ لے رکھا ہے اور ہم سب اس کے بندے ہیں، ہمیں اسی کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا لازم ہے۔ پھر ہر مسلمان بچے کے دل میں عقیدئہ توحید، عقیدہ رسالت، عقیدہ آخرت اور قرآن و سنت کی اہمیت راسخ کی جائے۔ کفر، شرک اور دہریت یا سیکولرازم کے باطل ہونے کا نقش اُن کے دل میں بٹھایا جائے۔ پھر اُن کو نیکی اور بھلائی کے کاموں کی پہچان کروائی جائے۔ سچائی، صفائی، وقت کی پابندی، محبت، ہمدردی اور ایثار کا سبق دیا جائے۔ افرادِ خانہ کے ساتھ مروّت سے پیش آنے کا عملی درس والدین اپنے روزمرہ معمولات سے اُن کو مہیا کریں۔ پھر طہارت و پاکیزگی کے احکام، وضو کا طریقہ، نماز اور روزے کی ادائیگی، حلال و حرام کے ابتدائی حدود، والدین، رشتہ داروں اور ہمسایوں کے حقوق، شائستہ لباس کے انداز اور معاشرتی زندگی کی پسندیدہ عادات و اطوار ان کو اس طرح ذہن نشین کروائے جائیں کہ وہ اس ابتدائی تعلیم و تدریس کی بنا پر ستھری اور پاکیزہ اسلامی زندگی بسر کرسکیں۔
اس ابتدائی تعلیم کی بیشتر بنیاد گھر میں ہی رکھی جاتی ہے کہ ماں کی گود معصوم بچے کا اوّلین مدرسہ ہے۔ وہی اپنے گھر کی عملی مثالوں سے بچے کو کفروشرک ، گمراہ کن عقائد اور فضول رسوم ورواج سے بچانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
بعدازاں طالبات کے لیے ثانوی تعلیم اِس طر ح کی ہونی چاہیے جس میں عربی زبان کی تدریس لازمی ہو تاکہ قرآن پاک کا ترجمہ و تفسیر سمجھنا اور ان کے لیے ممکن ہوسکے۔ وہ اپنے پیارے نبیؐ کی احادیث کو پڑھ سکیں تاکہ اس سے اُن کے عقائد اور اخلاق میں نکھار پیدا ہو۔ انہیں صالحین کے کردار سے آشنائی ہو ۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور رسولوں کی عدمِ اطاعت کے نقصانات سے وہ واقف ہوسکیں حیا کے زیور سے آراستہ کیا جائے۔ عفت و پاکدامنی اور ستر وحجاب کی حدود سے اُن کو آگاہ کیا جائے۔ کم ا زکم وہ دین کے بنیادی مسائل اِس حد تک سیکھ لیں کہ صحیح اسلامی زندگی گزار سکیں، پھر ان کو انبیا کرام ؓ کی تاریخ پڑھائی جائے، اپنے اسلاف کی تاریخ سے آگاہی دی جائے۔ عہد ِنبویؐ اور خلفاے راشدینj کی تاریخ کے ساتھ صحابیات ؓ کے حالاتِ زندگی سے واقفیت ہو تاکہ بچیوں کے دل پر یہ نقش گہرا پختہ اور مضبوط ہوجائے کہ صرف نیک اور صالح لوگ ہی دنیا میں تعمیر اور ترقی کا کام سرانجام دے سکتے ہیں اور بنی نوع انسان کی خدمت کرسکتے ہیں جبکہ ظالم اور جابر لوگ تو ہمیشہ دنیا میں فساد اور تباہی و بربادی کا باعث ہی بنتے رہے ہیں۔ یہ بات بھی ان کے ذہنوں میں راسخ کردی جائے کہ صرف اسلام ہی اُن کی فلاح کاضامن ہے۔
خواتین کے لیے الگ نصابِ تعلیم
خواتین کے لیے ایسی تعلیم لازمی ہے جوبچوں کی پرورش، تربیت اور سیرت سازی میں معاون ثابت ہوسکے۔ لہٰذا اس کو وہ اُمور ضرور سیکھنے چاہئیں جو ساری عمر گھر میں انجام دینے ہیں مثلاً:
(1) خانہ داری: میسر وسائل میں غذائیت سے بھرپور کھانا تیار کرنا۔
(2) گھر کی ضرورت کے مطابق سلائی کٹائی اور بے کار چیزوں کو کارآمد بنانا، پھٹے کپڑوں کو پیوند لگا کر دوبارہ قابل استعمال بنانا۔
(3) موسم کے مطابق ستر کی حدود کو ملحوظ رکھتے ہوئے لباس تیار کرنا، پھر لباس پہننے کا سلیقہ بھی ہو، تاکہ صفائی ستھرائی سے کم قیمت لباس کو بھی دیدہ زیب بنا سکے۔
(4) گھر کی صفائی ستھرائی اور آرائش میں سلیقہ اور ترتیب کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ کم قیمت مگر سلیقہ سے رکھا ہوا سامان بیش قیمت، مگر بے ترتیبی سے رکھے گئے سامان کے مقابلے میں زیادہ دیدہ زیب اور خوبصورت معلوم ہوتا ہے۔ جبکہ عورت کابے سلیقہ اور پھوہڑ ہونا پورے گھر کو منتشر اور خراب کردیتا ہے۔
(5) گھر کا بجٹ تیا رکرنا: اپنی چادر کے مطابق پاوٴں پھیلانا تاکہ کسی سے ادھار مانگنے کی نوبت پیش نہ آئے۔ ضروری اور اہم چیزوں کو ترجیح دینا، تعیش اور سجاوٹ کی اشیاء کو نظر انداز کرنا ضروری ہے۔
(6) گھر کا اِس طرح بندوبست کرنا کہ ہر ایک کے لیے گھر میں سکون و اطمینان میسر ہو، ہر ایک کی ضرورت و ترجیحات کو سامنے رکھ کر اُن کو آرام مہیا کیا جائے۔ بیمار کی تیمار داری ہو، بچوں کو پڑھانے کا بندوبست ہو۔ افرادِ خانہ باہم پیار و محبت اور حسن سلوک سے پیش آئیں کہ قرآن پاک نے گھر کی اہم صفت اس کا سکون و اطمینان ہونا ہی بتائی ہے۔لہٰذا عزیزوں،رشتہ داروں اور ہمسایوں سے خوشگوار تعلقات قائم رکھنے کا سلیقہ بھی عورت کو سکھایا جانا چاہیے۔
(7) ابتدائی طبی امداد یا فرسٹ ایڈ اور مریضوں کی تیمار داری وغیرہ
(8) بجلی کی گھریلو استعمال کی اشیا کو ٹھیک کرنے کے لیے ابتدائی واقفیت بھی ضروری ہے۔
(9) عورتوں کو فوجی ٹریننگ بھی اتنی ضرور دی جانی چاہیے کہ وہ اپنا دفاع اور تحفظ کرسکیں۔ ضرورت کے وقت ان کو پریشانی نہ اُٹھانا پڑے۔
اعلیٰ تعلیم
مندرجہ بالا تعلیم کے علاوہ جو خواتین مزید تعلیم حاصل کرنا چاہئیں، ان کے لیے تدریس اور طب کے شعبے موجود ہیں، وہ علم و ادب کے میدان میں بہت آگے بڑھ سکتی ہیں۔ نرسنگ اور ہوم اکنامکس کے کورس حاصل کرسکتی ہیں۔ ایسے کام جو گھریلو حدود کے اندر انجام دئیے جاسکتے ہوں ، ان کاعورت کو علم ہونا چاہیے۔ان نصابات میں عورت کی نفسیات، شخصیت اور فطری فرائض کو پیش نظر رکھنا بڑا ضروری ہے مثلاً یہ کہ
(1) خواتین کا منصب اور اُن کے حقوق و فرائض
(2) دائرئہ زوجیت اور فریضہ مادریت کے بارے میں اسلامی حکمت ِعملی
(3) عہد ِنبوی سے لے کر دورِ حاضر تک خواتین کی دینی، علمی، ادبی، ملی، رفاہی اور تعلیمی و تصنیفی سرگرمیاں
(4) ترقی نسواں اور مساواتِ مرد و زن کے نظریہ کا تنقیدی جائزہ
(5) پردے کے موضوع پر عقلی تجربات اور مشاہدے کی روشنی میں دینی احکام کی حکمت اور مصلحت
(6) مذاہب ِعالم اور اسلامی علوم کا تقابلی مطالعہ اور اسلام کی فوقیت و برتری
غرض قرآن و سنت کا گہرا شعور دینا اورنبی پاک کی سیرتِ طیبہ کو زندگی کا محور و مرکز بنا دینا لازمی ہے۔ایسے ہی خواتین کے مسائل اور موضوعات پر ان کو مہارت ہونی چاہیے۔
ملازمت
پھر جو خواتین اپنے دائرہ کارکے اندر مجبوری کے تحت مناسب ملازمت کرنا چاہیں، لازمی ہے کہ وہ پردہ اور حجاب کی شرط کو ملحوظ رکھیں۔ سادگی اور وقار سے اپنے بیرونِ خانہ فرائض انجام دیں۔ مگر یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ عورت کا بہرحال دائرہ کار اُس کا گھر، اُس کا شوہر، بچے اور دیگر افرادِ خانہ ہیں۔ گھر کے نقصانات کی قیمت پر بیرونِ خانہ ملازمت اسلام کے طے شدہ پروگرام کے خلاف ہے۔ علاوہ ازیں اُس کی عفت و عصمت محفوظ و مامون رہے۔ اگر کبھی حیا و عفت پر کوئی گندی چھینٹ پڑگئی تو یہ بہت بڑا نقصان ہوگا۔
مطلوبہ لائحہ عمل
ہمارا میڈیا، سرکاری شعبہ اور مغربی لابی تو وطن عزیز کے ماحول کومغرب کے رنگ میں رنگنے کا تہیہ کئے بیٹھے ہیں۔ ایسے میں یہ کام دینی تحریکوں کا ہی ہوسکتا ہے کہ وہ عورت بگاڑ پروگرام کے لیے انسدادی تدابیر کریں۔
الحمد للہ! وطن عزیز کا متدین اور درد مند طبقہ ہر دور میں اپنے فرائض کو ادا کرنے میں کوشاں رہا ہے۔ آج بے شمار زنانہ مدارس اس سلسلے میں اپنے فرائض ادا کرنے میں کوشاں ہیں۔ اور خواتین کو دشمن کی پُرفریب چالوں سے بچ کراسلام کے سایہ امن و عافیت میں پناہ لینے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ اس طرح1980ء سے مسلم تحریکوں کی طرف سے مثبت پیش رفت ہورہی ہے۔ ہمیں اِس بات کا شدید احساس ہے کہ مغربی لابی کا وار بڑا کاری ہے۔ ان کی پشت پر بے شمار وسائل ہیں، ہمارا سرکاری میڈیا بھی ان کی پشت پناہی کررہا ہے۔ سب سے بُری بات یہ کہ یو این او ان کو ہر طرح کی مادی اور اخلاقی مدد فراہم کررہی ہے۔
ہمارے پاس بے شک وہ وسائل نہیں مگر ہمیں یہ یقین کامل حاصل ہے کہ اقوام عالم کے عروج و زوال میں یہ با ت یکساں رہی ہے کہ جب عورت اپنے صحیح مقام پر فائز ہوئی اور اس نے اپنے فطری فرائض ذِمّہ داری سے ادا کئے تو زندگی کے تمام شعبوں کے لیے معاشرے کو مہذب قابل اور محنتی افراد بکثرت میسر آئے پھر ان پر خوشحالی اور برکت کے باب کھلتے چلے گئے اور یہ سب کچھ تبھی ہوسکتا ہے جب ہر مرد اور ہر عورت دینی تعلیم سے آراستہ اور اس پر کاربند ہو۔ عورت کا احترام سے محروم ہونا اور بچوں کا ماں سے محروم ہونا کسی بھی معاشرہ کی نہایت ابتر حالت ہے۔ جب گھر والی گھر میں نہ رہے بلکہ کمانے کے لیے نکل کھڑی ہو تو اس سے گھر میں جو بدنظمی اور انتشار ہوگا، اس سے زندگی کی اعلیٰ قدریں قدم قدم پر پامال ہوتی ہیں اور معاشرے میں امن وسکون عنقا ہوجاتا ہے۔ لہٰذا عورت کو اس کا صحیح احترام ملنا بھی نتیجہ ہوتاہے ؛ عورت کی صحیح دینی تعلیم اور درست انداز فکر کا…
قرآن و سنت کی تعلیم ہمیں ا س یقین کامل سے مالا مال کررہی ہے اور تجربہ و مشاہدہ اس کی پشت پر مہر تصدیق ثبت کررہا ہے کہ شریعت سکول کالج کا وسیع نیٹ ورک ہی ہمارے لیے کامیابی کی راہیں کھولے گا اور ہماری خواتین کے مسائل حل کرے گا۔ لہٰذا ضرورت ہے کہ ہم اپنی مساعی کو زیادہ وسیع پیمانے پر پھیلائیں۔ ایسے شریعت سکول کالج زیادہ سے زیادہ پیمانے پر وجود میں آئیں جو اسلامی تعلیم کو اپنے روزمرہ نصاب کا حصّہ بنائیں۔ جن کے ماحول اسلامی ہوں، ستروحجاب کے تقاضوں کو ملحوظ رکھ کر ان کونصابی و غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔پرائیویٹ ٹی وی چینل، جرائد و اخبارات اور پریس کانفرنسز میں عورت کی دینی تعلیم پر زور دیا جائے۔
ہمارے استاد، علماء ، صحافی ، سیاستدان اور دیگر سب لوگ مل کر یہ تحریک برپا کریں کہ عورت کو وہ مقام اور حقوق دے دئیے جائیں جو اس کو اسلام نے دیئے ہیں۔ اس غرض کے لیے مغربی نظریہ کا فریب سب پر واضح کرنا چاہیے کہ یہ عورت کے حق میں بلکہ خود معاشرے کے حق میں بھی زہر قاتل ہے۔ اِس کے برعکس اسلام کا دیا ہوا نظام نہ صرف مسلمان عورت کے لیے بلکہ دنیا بھر کی غیرمسلم عورتوں کے لیے بھی بہت دلکشی اور جاذبیت رکھتا ہے اور معاشی لحاظ سے بھی یہی نظام مسلمان معاشرے کے حق میں مفید و معاون ہے۔ اس نظام سے صرف مٹھی بھر اوباش فطرت اور آوارہ مزاج خواتین کو پریشانی لاحق ہوسکتی ہے جو اپنی فطرت مسخ کرکے مغرب کی نقالی کرتی ہیں اور مساوات کے تصور میں مگن مخلوط روزگار کو چند روزہ پُرلطف زندگی گزارنے کا ذریعہ سمجھتی ہیں۔ ایسی خواتین کا زبردست علمی محاکمہ کرکے اُن کو لاجواب کردیا جائے، یہ مسلم خواتین کا فرض ہے!