صحابہ کرام ؓ کو عظمتیں کیوں ملیں ؟(حصّہ دوم)
قاری احمد صدیق
(گزشتہ سے پیوستہ)
صحابۂ کرام ؓ کو عظمت اس لیے ملی کہ وہ آزمائشوں میں پہاڑ کی طرح ثابت قدم رہے
دین صرف آسانیوں کا نام نہیں، بلکہ آزمائشوں میں ثابت قدم رہنے کا نام ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:{اِنَّمَا یُوَفَّی الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَہُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ (10)}(الزمر)
’’صبر کرنے والوں کو بے حساب اَجر دیا جائے گا۔‘‘
اُحد کے موقع پر شدید انتشار پیدا ہوا، لیکن چند جاں نثار صحابۂ رسول اللہ ﷺ کے گرد ڈٹے رہے۔ اِن میں حضرت ابو بکر، عمر، علی، طلحہ، سعد بن ابی وقاص اور دیگر رضی اللہ عنہم شامل تھے۔
حضرت سعد ؓ فرماتے ہیں:’’اُس دن میں رسول اللہ ﷺ کی طرف سے تیر چلا رہا تھا، اور آپ ﷺ فرما رہے تھے:((ارْمِ فِدَاكَ أَبِيْ وَأُمِّي)) ’’تیر چلاؤ، میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔‘‘(متفق علیہ)
حضرت خباب بن الا ٔرت ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے ظلم کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے سابقہ اہلِ ایمان کے صبر کا ذکر فرمایا اور صبر کی تلقین کی۔(صحیح البخاری )
صحابہ کرام ؓ مشکلات دیکھ کر پیچھے نہیں ہٹے، بلکہ ہر آزمائش نے اُن کے ایمان کو مزید مضبوط کیا۔ یہی استقامت اُنہیں تاریخ کا عظیم ترین قافلہ بنا گئی۔
صحابۂ کرام ؓ قرآنِ کریم کے سچے محب تھے
صحابہ قرآن صرف پڑھتے نہیں تھے، بلکہ اسے اپنی زندگی کا دستور بناتے تھے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں:
’’ہم دس آیات سیکھتے، پھر جب تک اُن پر عمل نہ کر لیتے، اگلی دس آیات نہیں پڑھتے تھے۔‘‘(مصنف ابن أبي شيبة)
حضرت عثمان بن عفان ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:((خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهٗ))’’تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔‘‘( صحیح البخاری )
رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد جنگِ یمامہ میں حفاظ کی بڑی تعداد شہید ہوئی۔ حضرت عمر ؓ نے حضرت ابو بکر ؓ کو قرآن ایک مصحف میں جمع کرنے کا مشورہ دیا۔ پھر حضرت زید بن ثابت ؓ کی سربراہی میں نہایت احتیاط سے قرآن جمع کیا گیا۔( صحیح البخاری )
اگر صحابہ کرام ؓ یہ خدمت نہ کرتے تو آج قرآن کی حفاظت کا یہ عظیم انتظام ہمارے پاس نہ ہوتا۔
ہم روز قرآن پڑھتے ہیں، مگر کیا ہم اس کے احکام پر بھی عمل کرتے ہیں؟ صحابہ ؓ کی عظمت اس لیے تھی کہ ان کا قرآن سے تعلق تلاوت، فہم اور عمل تینوں پر مشتمل تھا۔
صحابۂ کرام ؓ نے دین کو پوری امانت کے ساتھ اُمّت تک پہنچایا
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:{کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ}(آل عمران:110) ’’تم وہ بہترین اُمّت ہو جسے لوگوں کے لیے برپا کیا گیا ہے۔‘‘
نبی کریم ﷺ نے حجۃ الوداع میں فرمایا:
((فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِب)) ’’جو موجود ہے، وہ اس پیغام کو غیر موجود تک پہنچا دے۔‘‘(متفق علیہ)
صحابہ کرام ؓ نے اس حکم کو اپنی زندگی کا مشن بنا لیا۔ کوئی شام پہنچا، کوئی عراق، کوئی مصر، کوئی خراسان، کوئی افریقہ اور کوئی سندھ کے علاقوں تک۔ انہی کی محنت سے قرآن، حدیث، فقہ اور سنت پوری اُمّت تک پہنچی۔
سیدنا ابو ہریرہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے دعا کی درخواست کی کہ علم محفوظ رہے۔ آپ ﷺ نے دعا فرمائی، اور پھر حضرت ابو ہریرہ ؓ نے پانچ ہزار سے زائد احادیث اُمّت تک پہنچائیں۔(صحیح البخاری)
صحابۂ کرام ؓ اللہ تعالیٰ نے سے اپنی رضا کا اعلان فرمایا
دنیا کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ لوگ انسان سے راضی ہوں، بلکہ یہ ہے کہ اللہ رب العزت راضی ہو جائے۔ صحابۂ کرام ؓ وہ خوش نصیب جماعت ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا کا اعلان فرمایا۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
{لَقَدْ رَضِیَ اللہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِہِمْ فَاَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ عَلَیْہِمْ وَاَثَابَہُمْ فَتْحًا قَرِیْبًا(18)} (الفتح:18)’’اللہ راضی ہو گیا اہل ِ ایمان سے جب کہ وہ آپؐ سے بیعت کر رہے تھے ‘درخت کے نیچے ‘تو اللہ کے علم میں تھا جو کچھ اُن کے دلوں میں تھا‘تو اللہ نے ان پر سکینت نازل کر دی اور انہیں (بدلے میں) ایک قریبی فتح بخشی۔‘‘
یعنی اللہ تعالیٰ نے صرف اُن کے ظاہری عمل کو نہیں دیکھا بلکہ فرمایا:{ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِہِمْ } اللہ نے ان کے دلوں کا اخلاص دیکھا، اس لیے ان سے راضی ہوگیا۔
سن 6 ہجری میں حدیبیہ کے مقام پر تقریباً چودہ سو صحابہ کرام ؓ نے درخت کے نیچے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر موت تک وفاداری کی بیعت کی۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:((لَا يَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ مِمَّنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ)) ’’جن لوگوں نے درخت کے نیچے بیعت کی، اُن میں سے کوئی جہنم میں داخل نہیں ہوگا۔‘‘(صحیح مسلم)
ہم اللہ کی رضا چاہتے ہیں، مگر کیا ہمارے دل بھی اخلاص، وفاداری اور اطاعت سے بھرے ہوئے ہیں؟ صحابہ کرامj کی عظمت کا اصل راز یہی تھا۔
صحابۂ کرامj نے دین کے لیے اپنی جانیں پیش کیں
بدر اسلام اور کفر کے درمیان پہلا فیصلہ کن معرکہ تھا۔
تعداد صرف 313 تھی، سامان نہ ہونے کے برابر تھا، مگر ایمان پہاڑوں سے زیادہ مضبوط تھا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:{وَلَقَدْ نَصَرَکُمُ اللہُ بِبَدْرٍ وَّاَنْتُمْ اَذِلَّـــۃٌج}(آل عمران:123)’’اور اللہ نے تو تمہاری مدد بدر میں بھی کی تھی جبکہ تم بہت کمزور تھے۔‘‘
رسول اللہ ﷺ نے اہلِ بدر کے بارے میں فرمایا: ((لَعَلَّ اللهَ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ، فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ)) ’’اللہ تعالیٰ نے اہلِ بدر پر خصوصی نظر ِرحمت فرمائی اور فرمایا: جو چاہو عمل کرو، میں نے تمہیں بخش دیا۔‘‘( متفق علیہ)
جب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’وہ جنت جس کی وسعت آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔‘‘
حضرت عمیرؓ نے کھجوریں ہاتھ سے پھینک دیں اور فرمایا:’’اگر میں یہ کھجوریں کھاتا رہا تو زندگی لمبی ہو جائے گی۔پھر میدان میں اترے اور شہید ہوگئے۔‘‘( صحیح مسلم )
بدر کا سبق یہ ہے کہ کامیابی تعداد، وسائل یا اسباب سے نہیں، بلکہ ایمان، توکل اور اطاعت سے ملتی ہے۔
صحابۂ کرام ؓ ایک دوسرے سے بے مثال محبت کرتے تھے
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں کافروں پر سخت ہیں آپس میں رحمدل ہیں، تو اُنہیں دیکھے گا رکوع اور سجدے کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں ہیں، ان کا نشان ان کے چہروں پر سجدوں کے اثر سے ہے، ان کی یہی مثال تورات میں ہے اور ان کی مثال انجیل میں ہے۔‘‘(الفتح:29)
اور انصار کے بارے میں فرمایا: ’’اور (ان کے لیے) جنھوں نے ان سے پہلے اس گھر میں اور ایمان میں جگہ بنا لی ہے، وہ ان سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کر کے ان کی طرف آئیں اور وہ اپنے سینوں میں اس چیز کی کوئی خواہش نہیں پاتے جو ان (مہاجرین) کو دی جائے اور اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں، خواہ انھیں سخت حاجت ہو۔‘‘ (الحشر:9)
سیدنا عبدالرحمن بن عوف ؓ جب مہاجر مدینہ بنے تو رسول اللہ ﷺ نے مہاجرین اور انصار کے درمیان مواخات قائم فرمائی۔
حضرت سعد بن ربیع ؓ نے فرمایا:’’میرا آدھا مال لے لیجیے۔‘‘
حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ نے جواب دیا:’’بارك الله لك في مالك، دلني على السوق‘‘ ’’اللہ آپ کے مال میں برکت دے، مجھے صرف بازار کا راستہ بتا دیجئے۔‘‘ ( صحیح البخاری )
یہ اخوت دنیا کی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے۔آج اُمّت فرقوں، تعصبات اور نفرتوں میں تقسیم ہے، جبکہ صحابہؓ کا راز باہمی محبت، ایثار اور اخوت تھا۔
صحابۂ کرامj دنیا میں رہتے تھے مگر دنیا اُن کے دل میں نہیں رہتی تھی
صحابہ نے حکومتیں حاصل کیں، خزانے آئے، مگر اُن کی زندگی سادگی، عدل اور خوفِ خدا سے معمور رہی۔
حضرت عمر بن خطاب ؓ کی ملاقات کے لیے سفیرانِ فارس مدینہ آئے تو خلیفۂ وقت کو تلاش کرنے لگے۔ بتایا گیا کہ مسجد کے قریب ایک درخت کے نیچے آرام فرما رہے ہیں۔ وہ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ حضرت عمر فاروق ؓ بغیر کسی محافظ کے زمین پر لیٹے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا:’’آپ نے عدل کیا، اس لیے امن پایا، اور اطمینان سے سو گئے۔‘‘
یہ واقعہ مشہور ہے، اگرچہ اس جملے کی سند محدثین کے معیار کے مطابق ثابت نہیں؛ تاہم حضرت عمر ؓ کا عدل اور سادہ طرزِ زندگی متعدد صحیح روایات سے ثابت ہے، مثلاً ان کا رعایا کے حالات معلوم کرنے کے لیے راتوں کو گشت کرنا۔(صحیح البخاری )
غزوۂ تبوک کے موقع پر حضرت عثمان ؓ نے اتنا مال پیش کیا کہ رسول اللہ ﷺ خوش ہو گئے اور فرمایا: ’’آج کے بعد عثمان کو (اس نیکی کے بعد) جو بھی عمل ہو، اس سے اسے نقصان نہیں ہوگا۔‘‘( جامع الترمذی )
صحابہ کرام ؓ نے دنیا کو ہاتھ میں رکھا، دل میں نہیں۔ اِسی لیے دنیا اُن کے قدموں میں آئی، مگر وہ دنیا کے غلام نہیں بنے۔
صحابۂ کرام ؓ نے رسول اللہ ﷺ کی سنت کو اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھا
صحابہ کرام ؓ کی عظمت کا ایک بڑا راز یہ تھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ہر حکم کو زندگی کا دستور سمجھتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
{وَمَآ اٰتٰىکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُج وَمَا نَھٰىکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْاج } (الحشر:7)’’رسول تمہیں جو دیں وہ لے لو، اور جس سے منع کریں اُس سے رک جاؤ۔‘‘
حضرت نافع ؒ فرماتے ہیں:’’عبداللہ بن عمر ؓ جہاں رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھتے، وہیں نماز پڑھتے، جہاں آپ ﷺ آرام فرماتے، وہیں آرام کرتے، حتیٰ کہ سفر کے راستوں میں بھی آپ ﷺ کی سنت کی پیروی کرتے۔‘‘(متفق علیہ)
امام مالک ؒ فرماتے تھے کہ ابن عمر ؓ سنت کی پیروی میں سب سے زیادہ محتاط تھے۔
آج ہم محبتِ رسول ﷺ کا دعویٰ تو کرتے ہیں، لیکن ہماری زندگی سنت کے مطابق کتنی ہے؟ صحابہ کرام ؓ نے محبت کو عمل سے ثابت کیا۔
صحابہ کرام ؓ کو اللہ تعالیٰ نے پوری اُمّت کے لیے نمونہ بنا دیا
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:{فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَآ اٰمَنْتُمْ بِہٖ فَقَدِ اہْتَدَوْاج }(البقرۃ:137)
’’اگر وہ بھی اِسی طرح ایمان لے آئیں جیسے تم ایمان لائے ہو تو ہدایت پا جائیں گے۔‘‘
اِس آیت میں صحابۂ کرام ؓ کے ایمان کو ہدایت کا معیار قرار دیا گیا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ((عليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين، تمسكوا بها، وعضوا عليها بالنواجذ))
’’میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھو۔‘‘(جامع الترمذي)
اُمّت کی عزت نئے راستے ایجاد کرنے میں نہیں، بلکہ صحابہ کرام ؓ کے راستے پر چلنے میں ہے۔
صحابۂ کرام ؓ نے اُمّت تک دین کو صحیح حالت میں پہنچایا
اگر صحابہ کرام ؓ نہ ہوتے تو:قرآن ہم تک نہ پہنچتا۔ حدیث محفوظ نہ رہتی۔نماز، زکوٰۃ، حج اور دیگر احکام کی عملی شکل معلوم نہ ہوتی۔
امام ابو زرعہ رازی ؒ فرماتے ہیں:’’جب تم کسی شخص کو صحابۂ رسول ﷺ میں سے کسی کی تنقیص کرتے دیکھو تو سمجھ لو کہ وہ زندیق ہے؛ کیونکہ قرآن، رسول اور دین سب ہمارے پاس صحابہ کرام ؓ کے ذریعے پہنچے ہیں۔‘‘ ( امام خطیب بغدادی )
صحابۂ کرام ؓ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت اور جنت کا وعدہ عطا فرمایا
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:{رَّضِیَ اللہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ}(التوبہ: 100) ’’اللہ اُن سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے۔‘‘
یہ قرآن کا ایسا اعزاز ہے جو مجموعی طور پر صحابۂ کرامj کے لیے بیان ہوا۔ اللہ کی رضا سے بڑھ کر کوئی فضیلت نہیں۔
صحابہ کرام ؓ کی عظمت کے ضمن میں ہماری ذِمّہ داریاں
صحابۂ کرام ؓ کے فضائل بیان کرنے کا مقصد صرف تاریخی معلومات حاصل کرنا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم اُن کے حقوق پہچانیں اور اپنی ذِمّہ داریاں ادا کریں۔ اگر ہم واقعی ان سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں تو اس محبت کے کچھ عملی تقاضے بھی ہیں۔
1۔ تمام صحابۂ کرام ؓ سے محبت کرنا
صحابۂ کرام ؓ سے محبت ایمان کا تقاضا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اُن سے راضی ہوا اور رسول اللہ ﷺ نے ان کی تعریف فرمائی۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’اہلِ ایمان کی نشانی یہ ہے کہ وہ اپنے سے پہلے ایمان لانے والوں کے لیے دعا کرتے ہیں، نہ کہ ان کے خلاف دل میں بغض رکھتے ہیں۔‘‘(الحشر:10)
2۔ ان کا احترام کرنا اور زبان کی حفاظت کرنا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’میرے صحابہ کو برابھلا نہ کہو۔‘‘ (صحیح بخاری)
اس لیے کسی بھی صحابی ؓ کی تنقیص، توہین یا بے ادبی سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے۔
3۔ ان کے باہمی اختلافات میں خاموشی اور عدل اختیار کرنا
صحابۂ کرام ؓ بھی انسان تھے، بعض اجتہادی اختلافات ہوئے، لیکن اُن سب کے بارے میں حسنِ ظن رکھنا اور زبان کو محفوظ رکھنا اہلِ سنت کا طریقہ ہے۔
امام طحاویؒ فرماتے ہیں:’’ ہم صحابہ ؓ سے محبت رکھتے ہیں اور ان کے بارے میں خیر ہی کہتے ہیں۔‘‘(العقيدۃ الطحاويۃ)
4۔ ان کی سیرت کا مطالعہ کرنا
ہم اپنے بچوں کو دنیا کے ہیروز تو بتاتے ہیں، مگر صحابہ کرامj کی زندگیاں نہیں پڑھاتے۔ حالانکہ اصل ہیرو وہ ہیں جنہیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے سراہا۔
5۔ ان کے اوصاف اپنانے کی کوشش کرنا
صرف فضائل پڑھ لینا کافی نہیں، بلکہ ان جیسا ایمان،ان جیسا اخلاص،ان جیسی عبادت،ان جیسی سنت کی پیروی،ان جیسی قربانی،اور ان جیسا تقویٰ پیدا کرنا ہماری ذِمّہ داری ہے۔
6۔ اپنی اولاد کو صحابہ ؓ کی محبت پر تربیت دینا
یہ محبت خود بخود پیدا نہیں ہوتی بلکہ تعلیم و تربیت سے منتقل ہوتی ہے۔ بچوں کو خلفائے راشدینؓ، عشرہ مبشرہ، اہلِ بدر، مہاجرین اور انصار کے واقعات سنانے چاہئیں۔
7۔ صحابہ کرامj پر ہونے والے اعتراضات کا
علمی جواب دیناآج سوشل میڈیا پر صحابۂ کرام ؓ کے بارے میں شبہات پھیلائے جاتے ہیں۔ ہماری ذِمّہ داری ہے کہ مستند علم حاصل کریں، جذبات کے بجائے قرآن، صحیح حدیث اور معتبر اہلِ علم کی روشنی میں ان کا جواب دیں۔
8۔ اُمّت کے اتحاد کو فروغ دینا
صحابۂ کرام ؓ کی ایک نمایاں صفت باہمی محبت اور اخوت تھی۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:{رُحَمَآئُ بَیْنَہُمْ }(الفتح: 29) اگر ہم صحابہ کرامj سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں تو ہمیں بھی نفرت، حسد، تعصب اور فرقہ واریت سے بچ کر اُمّت کے اتحاد کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔
معزز مسلمانو!
اگر ہم چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی عزت عطا فرمائے، تو صرف ’’رضی اللہ عنہم‘‘ پڑھ لینا کافی نہیں، بلکہ اُن کے اوصاف کو اپنی زندگی میں اتارنا ہوگا۔
صحابہ کرام ؓ سے محبت صرف زبان کا دعویٰ نہیں، بلکہ:اُن کا احترام کرنا ، ان کے لیے دعا کرنا ،ان کی سیرت کا مطالعہ کرنا،ان کے نقشِ قدم پر چلنا،اور ان کے دفاع کو اپنا دینی فریضہ سمجھناہی سچی محبت کی علامت ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں صحابۂ کرام ؓ سے سچی محبت، ان کے طریقے پر چلنے اور قیامت کے دن ان کی رفاقت نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!