(کارِ ترقیاتی) کہاں ہیں اہل ِ فکر… - عامرہ احسان

10 /

کہاں ہیں اہل ِ فکر…


عامرہ احسان

جب سے شعور کی آنکھ کھولی ہے ع  ’ دگرگوں ہے جہاں تاروں کی گردش تیز ہے ساقی ‘ ہی کا منظر بار بار دہرایا جاتا دیکھا۔ شاید اس لیے کہ یہ آخری دور چل رہا ہے۔ قربِ قیامت کے اعتبار سے۔ خاتم النبینﷺ آکر نبوت رسالت کی تکمیل کر گئے۔ گریٹر اسرائیل برائے آمد ِدجال کی راہ ہم بچشم سر دیکھ رہے ہیں۔ جو بچپن میں ’جن کی جان طوطے میں ہے‘ والی کہانیاں پڑھی تھیں، وہ ہم یوں دیکھ رہے ہیں کہ ’طوطا‘ اسرائیل ہے (گرچہ کر یہہ صورت) ،   اور امریکہ ، یورپ تمام عیسائی، یہودی دنیا کے حکمران جنات (عوام نہیں) کی جان اسرائیل کے تحفظ اور بقا میں ہے۔ مغربی عوام اٹھ اٹھ کر احتجاج ، مظاہروں کے ریکارڈ توڑ چکے۔ مگر ہر جا موساد کی تربیت یافتہ پولیس اور دیگر ہتھکنڈے انہیں پسپائی پر مجبور کرتے ہیں۔ دجال کی پیشانی پر لکھا (احادیث میں مذکور کافر)’ک ف ر‘ اسرائیلی وردی، جنگجو جہاز پر اور امریکی وزیر دفاع ہیگسیتھ کے بازو پر بھی کندہ (ٹیٹو) ہے۔ دو ضعیف فلسطینیوں کو انسانی ڈھال بنا کر ظالمانہ طریقے سے گولیاں مار کر شہید کرنے والی 92 بٹالین، ’  Kfir‘ والی بریگیڈ کے فوجیوں کی تھی۔
  البتہ حیرت انگیز یہ ضرور ہے کہ تین سالوں میں پہلی مرتبہ اسرائیل کی ’رحم دلی‘ کی خبر آئی۔ وہ یہ کہ ان کے وزیر اتمار بن گویر نے فلسطینی قیدیوں کی جیلوں کے گرد خندقیں کھدوائیں تاکہ اس میں (پانی میں )نیل کے   مگر مچھ بطور چوکیدار رکھے جائیں۔ (نیل کے مگرمچھ ، فرعونی زیادہ خونخوار ہوتے ہوں گے!) مگر اسرائیلی کورٹ کی مگر مچھوں کے لیے مامتا تڑپ اٹھی۔ ’جانوروں کو جینے دو‘ نامی تنظیم (اسرائیلی حقوق مگرمچھانِ وطن) نے کورٹ میں رٹ دائر کر دی۔ جانوروں سے بدسلوکی کا اندیشہ تھا اور اسرائیلی عملے کی بھی فکر تھی بظاہر۔ سو یہ پروگرام روک دیا گیا۔ یہ خدشہ بھی ہوگا کہ فلسطینی قیدیوں پر ظلم کی انتہا پر کہیں مگر مچھ آنسو بہاتے اسرائیلی عملے کو ہی نہ نگل جائیں۔ صحابہ کرامj کے واقعات پڑھ رکھے ہیں جہاں جانوروں نے انہیں پہچانا، تعظیم دی اور حکم مانا!
ایران پر جنگ کے حوالے سے سابق مشیر ٹرمپ (جو اس جنگ پر احتجاجاً مستعفی ہو گئے تھے) جو کینٹ نے کہا: ’اہم ترین اقدام جو ٹرمپ کر سکتا ہے یہی ہے کہ وہ فوراً اس جنگ سے نکل جائے۔ یہی بہترین راستہ ہے جنگ ختم کرنے کا‘۔ مشیر صاحب تسلی رکھیں ، ٹرمپ کہہ چکا ہے کہ ایران سے دھیمے سروں میں(Low Key!) بات چیت جاری رہے گی۔ کینٹ بلا سبب بے قرار ہو رہے ہیں۔ کچھ مقاصد ہیں، اہداف ہیں جو حاصل ہو جائیں۔ ایران نے بھی اپنے مطالبات دہرائے ہیں۔ امریکی جنگ کے پس پردہ اسرائیل چہار جانب پنجے پھیلا رہا ہے۔ لبنان میں اب تک3354جان بحق ہو چکے۔ حوثی بھی دوبارہ اٹھ کر سعودی عرب کو نشانہ بنا رہے ہیں۔     ہر مزاور باب المندب دونوں ایرانی دائرۂ اثر میں ہیں۔ باب المندب پر حوثی ہیں جو دوسری طرف سعودی عرب کے اتحادی یمنیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ 11یمنی جاں بحق اور 30 زخمی ہو گئے۔ یمنی ساحل ڈرونز کے ذریعے تباہ حال کر دیا۔
  ادھر ایران نے زرِ تلافی طلب کیا ہے امریکہ سے اس جنگ کا۔ ہرمز کھولنے کے لیے بھی معاوضہ۔ نیز ایران پر پابندیاں اور فوجی دھمکیاں ختم ہوں۔ یہ تو کھلے مطالبے ہیں۔ دنیا کی معیشت بحری تجارت سے وابستہ ہے سو چند کام نکل جائیں۔ مشرق وسطیٰ کا نقشہ کونڈو لیزا رائس دور کی پیشین گوئی/حقیقی خواہش کے مطابق ہو جائے تو سب ٹھیک (ان کے اعتبار سے) ہو جائے گا۔ غزہ پر قبضہ تقریباً ہو ہی چکا۔ خستہ حالی کی آخری انتہاؤں پر فلسطینی پہنچائے جاچکے۔ سعودی عرب نے بحری دفاعی اتحاد بنانے کو   کثیر الملکی کانفرنس بلائی۔ ریاض میں 30 جولائی کو بشمول یورپی یونین کے ، 43 ممالک نے شرکت کی۔ سبھی کو بحری تجارت کو لاحق خطرات کا احساس تھا۔ تا ہم اس اتحاد کی رکنیت صرف 14مسلم ممالک نے اختیار کی ، جو حوثیوں کی دھمکیوں کے پیش نظر بنا ہے۔ ایسی کوششوں میں اطمینان دلانے کو یورپ کی شرکت رہتی ہے!
ٹرمپ کے امن معاہدے کا حقیقی مآل بھی سامنے ہے۔ جس کا بہت چرچا تھا۔ ٹرمپ کے گُن ہم نے بھی گائے ، خود اس کے دعوے بلند بانگ تھے کہ یہ تباہ کن جنگ کا خاتمہ کر دے گا۔ وہ اصلاً آج مظلوم فلسطینیوں کے خلاف وحشی جنگی جنونیوں کی درپردہ فتح تھی۔ ایک مکمل نسل کشی کے جرم کے باوجود فلسطین کو آزاد ریاست تو کیا ہونا تھا ، مغربی کنارہ بھی دن بدن ہاتھ سے جا رہا، ظلم کے شکنجے میں ہے۔ حماس کے ہتھیار ڈالنے اور اسے مکمل ختم کرنے کے ٹرمپ و اسرائیلی عزائم کی تکمیل مطلوب ہے بس۔
آزاد کشمیر کی صورتحال پر بیرونِ ملک مقیم کشمیریوں نے شدید تشویش کا مظاہرہ کیا ہے۔ ڈاکٹر غلام نبی فائی ، چیئر مین عالمی فورم برائے امن و انصاف نے مصدقہ اطلاعات پر (مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے جانی اتلاف کی) قانونی اور اخلاقی تقاضے پر متوجہ کیا ہے۔    یو این ہائی کمیشن نے بھی ہیومن رائٹس کی ذمہ داری کے تناظر میں فوری اور مکمل غیرجانبدارانہ تفتیش کا مطالبہ کیا ہے، راولا کوٹ میں17جولائی کے واقعے پر۔ وگرنہ یہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے موقف کو جموں و کشمیر ، بھارت تنازع پر شدید نقصان پہنچائے گا۔ یہی اظہار  تحریر اً30 برطانوی ممبرانِ پارلیمنٹ اور یوکے بھر میں ان کے ساتھیوں ، بشمول کل جماعتی پارلیمانی گروپ چیئرمین عمران حسین،ممبر پارلیمنٹ نے کیا ہے۔ گرفتاریوں، مواصلاتی سروسز کی پابندیوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے معاملات طے کرنے پر زور دیا ہے۔ 
بھارت میں (نیپال ،سری لنکا اور بنگلہ دیش کی مثل!) اب مودی کی آہنی قوت، کم عمر طلباء اور نہتے نوجوانوں کے شہر شہر پھیل گئے مظاہروں کی حدت سے پگھل رہی ہے۔ وزیر کے استعفیٰ پر بھی کہانی ختم نہ ہوئی۔ فرعون پر سُرسُریوں ،  مینڈکوں ، جوئوں کا عذاب اللہ نے بھیجا تھا۔ یہاں آج کے فراعنہ پر بھی مینڈکوں کی طرح ٹراتے(کاکروچوں کی تشبیہہ دی تھی متکبر جج نے) خط ِغربت کے نیچے سے ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ ان کا مقابلہ کرتے مواصلاتی رابطوں کا گلا گھونٹا، بھوک ،سختی کا عذاب دیا ، دبانے کی کوشش کی۔ مگر یہ برگر، فوڈ پانڈا کلاس تو نہ تھی کہ دب جاتی۔ عوام کے لیے دیوانی مہنگائی ، بے روزگاری، ذلت میں در در کی خاک چھاننا، تن کے کپڑے ، پاؤں کی جوتی ، سواری سے محروم آبلہ پائی آخر کب تلک۔ حکمرانوں کی بد عنوانی ، مراعات کی انتہائیں ، گاڑیوں کے شاندار قافلے ،  عشرت کدے ، بیرونی ممالک میں سرمایہ کاریاں، جائیدادیں ، اولادیں۔ کہانی تمام تحریکوں ، انقلابوں کی متماثل ہے۔ تیونس میں ایک غریب کی ریڑھی ہی تو الٹی تھی اور  عرب بہار نے حکمرانوں کے سبھی عیش بہاریں لوٹ لیں۔ حسنی مبارک، قذافی، بو علی غرض کوئی نہ بچا۔ ڈالروں ، ریالوں بھرے بینک اور ٹرنک سب سامنے آگئے۔ افغانستان میں امریکی تابوت اٹھاتے رہ گئے ، اشرف غنی ڈالر بھر بھر ہیلی کاپٹر لے کر اڑ گیا۔ 
یہ سب امریکہ اور بڑی طاقتیں بھی دیکھ کر رہیں گی۔ جس طرح زہران ممدانی یہودیوں کے گڑھ نیو یارک سے منتخب ہو کر ٹرمپ کو للکارتا رہا۔ اب مشی گن میں مصری مسلمان ڈاکٹر عبد الرحمن عبدل السید (ڈیمو کریٹ) کانگریس کے لیے سینیٹر کے انتخاب پر بطور امیدوار جیت گیا۔ زبردست اسرائیل مخالف ، فلسطینی نسل کشی پر شدید ناقد، ٹرمپ پالیسیوں پر ڈٹ کر آواز اٹھانے والا ۔ حد درجے لیاقت، صلاحیت کا حامل۔ بیوی انڈین مسلمان حجابی ڈاکٹر۔  اس کے خلاف بے پناہ پیسہ انتخابی مہم پر یہودیوں نے لٹایا ،  طاقتور ترین سیاسی مشینری کا استعمال بھی اسے نہ ہرا سکا۔ عوام غضبناک ہیں کہ ان کے خون پسینے کی کمائی نچوڑ کر سرمایہ دار غیر ملکی قوتوں، اسرائیل اور ذاتی مفادات پر    لٹا رہے ہیں۔ یہ لمحۂ فکریہ ہے دنیا بھر کے اقتدار کے نشے میں دھت حکمرانوں کے لیے۔
  عام امریکی اب ہر معاملے پر احتجاج کر رہا ہے۔ ہر گزرتی گاڑی کی نمبر پلیٹ کی تصویر کشی کرتے کیمروں کو عوام نے جابجا توڑ ڈالا شدید احتجاج کیا۔ ’ہماری نجی زندگی میں تانک جھانک کی جرأت کوئی نہ کرے۔ نگرانی کیمرے نامنظور۔ ICE (امیگریشن اور کسٹمز کے جبری نفاذ کا ادارہ) نامنظور !‘ اور یوں سفید فام امریکہ پر سے بھورے ، کالے غیر ملکی نسلوں کے امریکیوں سے ملک پاک کرنے کی   ٹرمپی چاہت مصری نوجوان نے خوابِ پریشاں کردی!
13،14اگست کی درمیانی شب12.00بجے جب پاکستان اس اعلان سے وجود میں آیا کہ ’یہ ریڈیو پاکستان ہے‘،تووہ27رمضان المبارک 1366ھ کی رات تھی۔مگر ہم اسے یومِ آزادی قرار نہیں دے سکتے تھے۔جشنِ آزادی منانے کی گُھلی آزادیاں سلب ہو جاتیں!
کہاں ہیں اہلِ فکر جن کی سوچ کے دھارے
مری مظلوم اس امت کا رخ بدل ڈالیں
 
 
دجال کی عالمی حکومت اور نیوورلڈ آرڈر کی حقیقت
(قسط :9)
 
رفیق چودھری
 
صہیونیوں کا اسرائیلی ماڈل 
ایک زمانہ تھا کہ شام ، کنعان ( فلسطین )کی سابقہ قومیں نمرود کے دین پر تھیں اور ان کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اپنا دین دے کر بھیجا تاکہ وہ مقدس سرزمین میں باطل نظام کو مٹا کر اللہ کا نظام قائم  کریں لیکن بنی اسرائیل گمراہ ہو کر نمرود کے قبالی دین میں داخل ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے بلادِ شام کی سابقہ قوموں کو توفیق دی اور وہ دینِ ابراہیم اپنا کر موجودہ اُمّت ِمسلمہ میں داخل ہوگئیں ۔ لہٰذا اُس عہد کے مطابق جو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ سے کیا تھا ، بلادِشام کے مسلمان ہی سرزمین ِ مقدس کے اصل حقدار ہیں۔ مگر صہیونی ایک طرف دیدہ دلیری کے ساتھ گریٹر اسرائیل کے نقشے لہراتے ہوئے دعویٰ کرتے ہیں کہ دریائے نیل سے دریائے فرات تک کی سرزمین کا اُن سے وعدہ کیا گیا ہے اور دوسری طرف وہ حضرت ابراہیمd کے دین پر چلنے والوں کو سرزمین فلسطین سے نکالنے کےلیے ظلم اور وحشت کی تمام حدیں پار کررہے ہیں ۔یعنی جس شرط پر اللہ نے حضرت ابراہیم ؑ سے سرزمین موعود کا وعدہ کیا تھا ، اُسی شرط کی یہ خلاف ورزی کر رہے ہیں اور اس کے باوجود اس سرزمین پر زبردستی دعویٰ اورقابض ہونے کی کوشش بھی کررہے ہیں۔ اس کیفیت میں اُن کے لیے خود انہی کی کتاب میں اُن کے لیے سبق موجود ہے لیکن وہ غور نہیں کرتے :
”اے اسرائیلی قوم ! کیا یہ تیرے غلط کام کا نتیجہ نہیں ؟ کیونکہ تو نے رب کو اُس وقت ترک کردیا جب وہ تیری رہنمائی کر رہا تھا ۔ اب مجھے بتا کہ مصر کو جاکر دریائے نیل کا پانی پینے کا کیا فائدہ ؟ ملک اسور میں جاکر دریائے فرات کا پانی پینے سے کیا حاصل ؟ تیرا غلط کام تجھے سزا دے رہا ہے ۔ تیری بے وفا حرکتیں ہی تیری سرزنش کر رہی ہیں ۔ چنانچہ جان لے اور دھیان دے کہ اپنے رب کو چھوڑ کر اُس کا خوف نہ ماننے کا پھل کتنا بُرا اور کڑوا ہے ۔ یہ قادرِ مطلق رب الافواج   کا فرمان ہے ۔“ (یرمیاہ2 ، آیات 17 تا 20)
اس گروہ کی اللہ سے بغاوت ، سرکشی ،ظلم اور غلط کاموں کی کچھ تفصیل تو ایبسٹن فائلز میں سامنے آچکی ہے لیکن بہت کچھ زمانے کے لیے جاننا باقی ہے ۔یہاں ’’رب الافواج‘‘کے الفاظ واضح کر رہے ہیں کہ ان کو سزا دینے کے لیے مد ِمقابل فوجوں کا انتظام الٰہی منصوبے کا حصہ ہے۔ آج دنیا میں اسرائیل کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت اور لعنت و ملامت بھی الٰہی منصوبے کا حصہ ہے ۔ اللہ نے اپنی آخری کتاب میں آج سے 14 سوسال پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا : 
’’لعنت کی گئی ان لوگوں پر جنہوں نے کفر کیا بنی اسرائیل میں سے داؤد ؑ کی زبان سے اور عیسیٰ ؑ ابن مریم کی زبان سے بھی یہ اس لیے ہوا کہ اُنہوں نے نافرمانی کی اور وہ حدود سے تجاوزکر جاتے تھے۔‘‘ (المائدہ:78)
یہ اِس بات کی تصدیق ہے کہ اب سرزمین مقدس کا وعدہ اُن لوگوں کے لیے نہیں رہا جنہوں نے اللہ کے پیغمبروں کے دین کو چھوڑ دیا اور قبالہ کے مشرکانہ نمرودی دین کے پیچھے پڑ گئے ۔ اللہ نے اپنی آخری کتاب میں یہ کہہ کر     دو ٹوک انداز میں فیصلہ سنا دیا ہے :
’’ابراہیم نہ تو یہودی تھے اور نہ عیسائی، بلکہ سیدھے راستے والے مسلمان تھے اور وہ مشرک بھی نہیں تھے؟‘‘( آل عمران:67)
جو مشرک نہیں وہی تو سیدھے راستے والا مسلمان ہے لیکن اِس کے باوجود یہاں دوبارہ واضح کیا گیا کہ حضرت ابراہیم d  مشرک نہ تھے ۔ شرک اور بت پرستی کا راستہ حضرت ابراہیمd کے دشمن نمرود کا راستہ تھا ۔ اس نے اللہ کے پیغمبروں کے دین سے بغاوت کرکے اپنا دین بنایا اور جب حضرت ابراہیمdنے اس باطل دین کی مخالفت کی تو اُس نے انہیں سزا کے طور پہلے آگ میں ڈالا اور پھر جلا وطن کردیا ۔ اسی وجہ سے حضرت ابراہیم ؑ کے لیے کنعان کی سرزمین کا وعدہ کیا گیا تھا ۔ بصورت دیگر اس وعدہ کی اور کوئی وجہ نہ تھی ۔ یہاں فیصلہ واضح ہوگیا کہ شام کی سرزمین کا وعدہ ابراہیمd  اور ان کی اس صلبی یا معنوی اولاد کے لیے تھا جو مسلمان تھی اور مشرک نہ تھی ۔ آئندہ بھی اس سرزمین کا وعدہ حضرت ابراہیم  کے اُن پیروکاروں کے لیے ہے جو مسلمان ہوں گے اورشرک نہیں کریں گے۔ جبکہ یہود ونصاریٰ کی اکثریت ابراہیمd کے اسلام والے راستے کو چھوڑ چکی ہے اور واضح طو ر پرنمرود کے  شرک و کفر پر مبنی دین میں پڑ  چکی ہے ۔ خود صہیونی میڈیا نے جنوری 2024ء میں گریٹر اسرائیل کا جو نقشہ جاری کیا ہے اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بنی اسرائیل کے دو بادشاہوں کے نام اور سکے بھی دکھائے گئے ہیں۔ان میں سے ایک نام رحبعام ہے اور دوسرا یربعام ۔ 
حضرت سلیمان ؑ کی وفات کے بعد یہودی ریاست دو حصوں میں تقسیم ہو گئی تھی۔ جنوبی ریاست یہوداہ کہلائی اور اس کا بادشاہ رحبعام بنا جو کہ حضرت سلیمان ؑ کا بیٹا تھا۔ جبکہ شمالی ریاست اسرائیل کہلائی سامرہ جس کا دارلحکومت تھا۔ اس کا بادشاہ یربعام( 922 ق م تا 901 ق م) تھا جو کہ ایک جادوگر تھا اور بچھڑے کی پوجا کرتا تھا۔ Study dictionary Jeroboam کے مطابق یرُبعام نے سونے کے  دو بچھڑے بنائے ، ایک کو بیت ایل میں رکھا اور دوسرے کو دان شہر میں اور لوگوں سے کہا:’’اے بنی اسرائیل! اپنے ان معبود وں کو دیکھو جو تمہیں ملک مصر سے نکال لائے۔ اب تمہیں عبادت کے لیے یروشلم جانے کی ضرورت نہیں بلکہ اپنی قربانیاں ان بچھڑوں کی عبادت گاہوں پر چڑھاؤ۔‘‘ اس طرح وہ اس شخص کے طور پرمشہور ہو گیا جس نے اسرائیل کو گناہ کرنے پر مجبور کیا۔ اس پالیسی پر اسرائیل کے بعدمیں آنے والے تمام بادشاہوں نے عمل کیا۔یہی بات بائبل کتاب تواریخ دوم میں بھی لکھی ہے : 
’’اوراب تم سمجھتے ہو کہ تم واقعی رب کی بادشاہی پر فتح پا سکتے ہو جو داؤد کی اولاد کے ہاتھ میں ہے اور تم سمجھتے ہو کہ تمہارے پاس بڑی فوج ہے اور سونے کے بچھڑے ہیں جو یربعام نے اس لیے بنائے تاکہ تم ان کی پوجا کرو ۔‘‘ (تواریخ 2، باب 13 ، آیت 8)
اسرائیل میں بچھڑے کی پرستش کے ساتھ ساتھ بعل اور اشتر کی پوجا بھی شروع ہوگئی ، ان کے مندر بنائے گئے ۔ اشتر کے فحش ستون بنائے گئے اور ان شرکیہ مقامات پر شرک ، بت پرستی ، بے حیائی اور فحاشی عام ہوگئی ۔ اللہ کے دین سے بغاوت اور سرکشی میں دوسری یہودی ریاست یہوداہ کی حالت بھی اسرائیل سے مختلف نہ تھی جس کے پہلے بادشاہ رحبعام تھے۔بائبل کتاب تواریخ دوم میں ہی اس کا حال بھی لکھا ہے : 
’’جب رحبعام کی حکومت زور پکڑ کر مضبوط ہوگئی تو اس نے تمام بنی اسرائیل سمیت رب کی شریعت کو ترک کر دیا ۔ ان کی رب سے بے وفائی کا یہ نتیجہ نکلا کہ رحبعام کی حکومت کے پانچویں سال مصرکے بادشاہ سیسق نے یروشلم پر حملہ کیا ۔‘‘ (تواریخ 2 ، باب 12)
’’رحبعام نے اچھی زندگی نہ گزاری کیونکہ وہ پورے دل سے رب کا طالب نہ رہا تھا ۔‘‘ (تواریخ 2 ، باب 12، آیت 14)
اللہ تعالیٰ نے سمعیاہ نبیؑ کو بھیج کر بنی اسرائیل کے دونوں گروہوں کو خبردار کیا اور دین ِابراہیم ؑپر لوٹ آنے کی دعوت دی لیکن بنی اسرائیل کے ان لوگوں کی سرکشی اور بغاوت بڑھتی چلی گئی۔
اب چونکہ موجودہ صہیونی ریاست اسرائیل نے اپنا رول ماڈل اسرائیل کی اُس ریاست کو بنایا ہے جس میں بعل اور عشتارات (اشتر ) کی پرستش اور فحاشی پر مبنی نمرودی مذہب اپنے عروج پر تھا اوراُسی کے نام اپنا نام اسرائیل رکھا لہٰذا اسرائیلی میڈیاکا جنوری 2025ء کو جاری کیا گیا گریٹر اسرائیل کا یہ نقشہ قرآن کے موقف (البقرہ :102،101)کی تصدیق کررہا ہے کہ بنی اسرائیل کا ایک گروہ( موجودہ اسرائیل ،  اس کے بانی صہیونی اور ان کی پشتی بان عالمی تنظیمیں) نہ صرف آسمانی کتابوں اور دین ابراہیم کو ترک کر چکا ہے بلکہ شیاطین کے دین پر عمل پیرا ہے جو کہ ابراہیم ؑکے دشمن نمرود کا دین ہے ۔