(گوشۂ تربیت) اُمّت ِ مسلمہ کی حالت ِ زار اور راہِ نجات - شوکت اللہ شاکر

13 /

اُمّت ِ مسلمہ کی حالت ِ زار اور راہِ نجات

حدیث ِ رسول ﷺ کی روشنی میںشوکت اللہ شاکر

رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے صرف اپنے زمانے کی ہدایت کے لیے نہیں بلکہ قیامت تک آنے والی اُمّت کی رہنمائی کے لیے مبعوث فرمایا۔ آپ ﷺ کی بہت سی احادیث ایسی ہیں جن میں آئندہ پیش آنے والے حالات کی خبر دی گئی ہے۔ ان ہی میں سے حضرت ثوبان ؓ کی روایت کردہ یہ حدیث ہے، جسے محدثین نے اُمّت ِمسلمہ کے زوال اور اس کے علاج کے حوالے سےاس حدیث کوبنیادی اہمیت دی ہے۔ اگر مسلمان اس حدیث کو سمجھ لیں تو انہیں اپنے زوال کا سبب بھی معلوم ہو جائے گا اور عزت و سربلندی کا راستہ بھی۔
حضرت ثوبان ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’قریب ہے کہ دوسری قومیں تمہارے خلاف اس طرح جمع ہو جائیں جیسے کھانے والے اپنے دسترخوان پر جمع ہوتے ہیں۔‘‘ ایک صحابیؓ نے عرض کیا: کیا اس وقت ہماری تعداد کم ہوگی؟ آپ ﷺ نے فرمایا:’’ نہیں، بلکہ تم اس وقت بہت زیادہ ہوگے، لیکن تم سیلاب کے جھاگ کی مانند بے وقعت ہو جاؤ گے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہارا رعب نکال دے گا اور تمہارے دلوں میں 'وَہْن ڈال دے گا۔‘‘ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! وَہْن کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:’’ دنیا کی محبت اور موت کو ناپسند کرنا۔‘‘(سنن ابی داود،)
یہ حدیث بظاہر چند جملوں پر مشتمل ہے، لیکن حقیقت میں اُمّت ِ مسلمہ کے زوال اور عروج کا مکمل منشور ہے۔
پہلی حقیقت: دشمنوں کا متحد ہو جانا
آپ ﷺ نے فرمایا:’’وہ وقت قریب ہے کہ جب مختلف قومیں مسلمانوں کے خلاف متحد ہو جائیں گی۔‘‘ حیرت کی بات یہ ہے کہ جن قوموں کے مفادات آپس میں متضاد ہوں گے، وہ بھی مسلمانوں کے مقابلے میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں گی۔
یہ اس بات کی علامت ہے کہ جب کوئی اُمّت اپنے اصل مشن سے غافل ہو جاتی ہے تو دوسروں کے لیے آسان شکار بن جاتی ہے۔
دوسری حقیقت: تعداد نہیں، معیار اہم ہے۔
صحابۂ کرام ؓ نے فوراً سوال کیا کہ کیا اس وقت مسلمانوں کی تعداد کم ہوگی؟
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’نہیں بلکہ اس وقت تم بہت زیادہ ہو گے۔‘‘
یہ جواب اُمّت کے لیے ایک بڑا سبق ہے۔ اسلام نے کبھی صرف تعداد پر اعتماد کرنا نہیں سکھایا بلکہ ایمان، کردار، علم، اخلاص اور تقویٰ کو اصل قوت قرار دیا ہے۔
بدر میں313 اہل ِ ایمان نے ہزار کے لشکر کو شکست دی، کیونکہ ان کے دل ایمان سے بھرے ہوئے تھے۔
تیسری حقیقت: سیلاب کا جھاگ
’’تم سیلاب کی جھاگ کے مانند ہو گے۔‘‘
سیلاب کا جھاگ بہت زیادہ ہوتا ہے، مگر اس کی کوئی حقیقت، وزن یا استحکام نہیں ہوتا۔
اسی طرح وہ اُمّت جو قرآن سے دور، اخلاق سے خالی، علم سے محروم، باہمی اختلافات میں مبتلا اور دنیا پرست ہو جائے، وہ تعداد میں کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو، اس کی ہیبت باقی نہیں رہتی۔
چوتھی حقیقت: رعب ختم ہو جانا
’’اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کے سینوں سے تمہارا خوف نکال دے گا۔‘‘
جب مسلمان اللہ کی اطاعت چھوڑ دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے دشمنوں کے دلوں سے اُن کا رعب نکال دیتا ہے۔
قرآن کریم فرماتا ہے:
’’اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا۔‘‘ (محمد: 7)
پانچویں حقیقت: اصل بیماری ’’وَہْن‘‘
صحابہؓ نے پوچھا:’’وہن کیا چیز ہے۔‘‘
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’یہ دنیا کی محبت اور موت کا ڈر ہے۔‘‘
یہی اس حدیث کا مرکزی نکتہ ہے۔
دنیا کی محبت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان تجارت، ملازمت یا زراعت نہ کرے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا آخرت پر غالب آ جائے، مال و منصب مقصدِ زندگی بن جائیں، حق قربان ہو جائے اور دین صرف رسم بن کر رہ جائے۔
اور’’موت سے نفرت‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ انسان اللہ کی راہ میں کسی قربانی کے لیے تیار نہ رہے، حق بات کہنے سے ڈرے اور اپنی آسائش کو دین پر ترجیح دے۔
اُمّت کی موجودہ حالت
آج ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمان وسائل کے باوجود دوسروں کے محتاج ہیں، آبادی کے باوجود منتشر ہیں، اور قرآن رکھنے کے باوجود اس کی تعلیمات سے دور ہیں۔ یہ حدیث ہمیں دوسروں کو الزام دینے سے پہلے اپنا محاسبہ کرنے کی دعوت دیتی ہے۔
راہِ نجات
اس حدیث کی روشنی میں اُمّت کی نجات کے بنیادی ستون یہ ہیں:
ایمان کی تجدید اور اللہ سے مضبوط تعلق۔
قرآن و سنت کی طرف مکمل رجوع اور ان کے مطابق انفرادی و اجتماعی زندگی کی تشکیل۔
تزکیۂ نفس اور دنیا کی محبت سے دلوں کو پاک کرنا۔
علم، حکمت اور صحیح دینی فہم کو عام کرنا۔
اتحادِ اُمّت اور فرقہ واریت و تعصبات سے اجتناب۔
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو زندہ کرنا۔
دعوتِ دین اور اقامتِ دین کے لیے منظم اور پُرامن جدوجہد کرنا، تاکہ معاشرہ عدل، امانت، شوریٰ اور اللہ کی ہدایت کے مطابق استوار ہو۔
صبر، استقامت، ایثار اور قربانی کو اپنی اجتماعی زندگی کا شعار بنانا۔
حاصل مطالعہ
یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ اُمّت کا زوال بیرونی سازشوں سے پہلے اندرونی کمزوریوں سے شروع ہوتا ہے، اور اس کا عروج بھی باہر سے نہیں بلکہ ایمان، تقویٰ، اصلاحِ نفس اور اللہ کے دین سے وفاداری سے شروع ہوتا ہے۔ جب مسلمان اپنی ذِمّہ داریوں کو پہچانیں گے، قرآن و سنت کو اپنی زندگی کا محور بنائیں گے اور اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے اخلاص کے ساتھ کوشش کریں گے تو اللہ تعالیٰ کی نصرت دوبارہ ان کے شاملِ حال ہوگی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا کی محبت اور’’وَہْن‘‘ کی بیماری سے محفوظ فرمائے۔ قرآن و سنت پر کامل استقامت عطا فرمائے، اُمّت ِ مسلمہ کو اتحاد، عزت اور صحیح دینی بصیرت عطا فرمائے، اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے جن کے بارے میں فرمایا:
{وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ(83)} (القصص)’’اور انجامِ کار متقین ہی کے لیے ہے۔‘‘