قرآن کے ذریعے تذکیر کیجئے!
حافظ عاکف سعیدحفظ اللہ(سابق امیر تنظیم اسلامی پاکستان)
قرآن حکیم میںجب جنت کا ذکر آتا ہے تو ساتھ ہی جنت کے لیے کوالیفیکیشن بھی مذکور ہوتی ہے۔ کوالیفیکیشن کے حوالے بالعموم ایمان اور عمل ِ صالح کا ذکر ہوتا ہے۔ عمل ِصالح کیا ہے؟
یہ در حقیقت ایمان اوربندگی ٔرب کے تقاضوں کی ادائی ہے، جو قرآن و سنت میں واضح کیے گئے ہیں۔ یعنی آدمی کون سے کام انجام دے اور کن کاموں سے اجتناب کرے ۔ جو شخص ایمان لائے گا اورایمان کے عملی تقاضوں کو پورا کرے گا، وہ جنت میں جائے گا۔ جنت کی کوالیفیکیشن کے لیے دوسرا لفظ ’’متقین‘‘ آتا ہے۔ قرآن حکیم میں کئی مقامات پر یہ بات کہی گئی ہے کہ جنت متقین کے لیے ہے۔ اگر دیکھا جائے تو متقی کے لفظ میںبھی ایمان اور عمل ِ صالح دونوں جمع ہیں۔ اس لیے کہ متقی وہ شخص ہوتا ہے جو اللہ کو رب مان کر اُس کے دئیے گئے احکامات پر چلتا اور اُس کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرتا ہے۔ وہ ہر وقت ڈرتا رہتا ہے کہ کہیں کوئی ایسا کام نہ کربیٹھوں جس سے میرا اللہ مجھ سے ناراض ہو جائے۔ اُسے اس بات پر پختہ یقین ہوتا ہے کہ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے، لہٰذاوہ اپنے آپ کو اللہ کی نا فرمانی اور حرام کاموں سے بچاتا ہے۔سورہ ق کی آیات 34 ،35 میں فرمایا گیا کہ اہل تقویٰ سے کہا جائے گا کہ جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جائو، اور اُن کے لیے وہاں ہر طرح کی نعمت ہو گی، ہر وہ چیز ہو گی جس کی انہیں چاہت ہو گی۔ جنت کی نعمتیں ایسی ہوں گی کہ جو دنیا میں نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہوں گی، نہ کسی کان نے اُن کا ذکر سنا ہو گا اور نہ کسی ذہن کی اُن تک رسائی ہی ہو گی۔ اِن تمام تر نعمتوں سے بڑھ کر نعمت دیدار الٰہی ہوگی۔ اہل ِجنت دنیا میں بغیر دیکھے رب پر ایمان لائے تھے۔ اب اللہ تعالیٰ اُنہیں اپنے دیدار کی نعمت سے فیض یاب کرے گا۔
اللہ تعالیٰ سورہ ق میں فرماتا ہے:{وَکَمْ اَہْلَکْنَا قَـبْلَہُمْ مِّنْ قَرْنٍ ہُمْ اَشَدُّ مِنْہُمْ بَطْشًا فَنَقَّــبُوْا فِی الْبِلَادِط ہَلْ مِنْ مَّحِیْصٍ (36)} ’’اورکتنی ہی قوموں کو ہم نے ان سے پہلے ہلاک کیا ہے جو قوت میں ان سے بڑھ کر تھیں ‘ سوانہوں نے ملکوں کے ملک فتح کیے! پھر کیا وہ کوئی جائے فرار پا سکے؟‘‘
مندرجہ بالا آیت میں اہل مکہ کو حق کی مخالفت کی پاداش میں دنیوی عذاب کے حوالے سے متنبہ کیا جا رہا ہے۔یہاں براہ راست خطاب اہل مکہ سے ہے۔ قریش مکہ خوب جانتے تھے کہ اُن سے پہلے بڑے بڑے فراعنہ اور نمار دہ گزر چکے ہیں۔ بڑی بڑی سلطنتیں نیست و نابووہو چکی ہیں، جن کے ہاں بہت بڑی عسکری قوت اور افواج قاہرہ موجود تھیں۔ اُن کی قوت اور گرفت کا یہ عالم تھا کہ جب کسی قوم پر حملہ آور ہوتیں تو وہ قوم اُن کے استبدادی شکنجے سے نہ نکل سکتی تھی۔ لیکن ان کی تمام تر قوت و طاقت اللہ کے مقابلے میں اُن کے کسی کام نہ آئی۔ جب حق کی مخالفت اور اللہ کی نا فرمانی کی پاداش میں اُن پر عذاب آیا تو وہ شہروں کو کریدنے لگے کہ شاید انہیں کوئی جائے پناہ مل سکے، مگر انہیںکہیں پناہ نہ مل سکی۔ ان کی طاقت و قوت اورکبر کے بت پاش پاش ہو گئے اور انہیں نیست و نابود ہونا پڑا۔ آج ان قوموں کے محض کھنڈر ہی باقی ہیں۔ قریش ان قوموں اور اُن کے احوال سے واقف تھے ۔ اُن کے تجارتی قافلے جب شام کی طرف جاتے تو اپنی آنکھوں سے ان کی ویران بستیاں اور کھنڈر دیکھتے۔ وہ قومِ لوط، قومِ ثموو وغیرہ کے تاریخی مقامات کا مشاہدہ کرتے تھے۔ یہ کھنڈر اور تاریخی آثار اِس بات کے گواہ تھے کہ یہاں کسی زمانے میں بڑی بڑی تہذیبیں موجود تھیں مگر جب ان لوگوں نے آسمانی ہدایت کی نفی کی تو نشان عبرت بنا دیئے گئے۔ قرآن کا انداز خطابی ہے۔ وہ کفار مکہ اور رہتی دنیا تک کے منکرین حق پر یہ واضح کرتا ہے کہ دیکھو تم سے پہلے اگر اتنی طاقتور اقوام اور تہذیبیں عذاب الٰہی سے نہ بچ سکیں، تو تم اللہ کی نا فرمانی اور اُس سے بغاوت کا راستہ اختیار کر کے عذاب سے کیونکر بچ سکو گے ۔
آگے فرمایا:
{اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَذِکْرٰی لِمَنْ کَانَ لَـہٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْــقَی السَّمْعَ وَہُوَ شَہِیْدٌ (37)}’’یقیناً اس میں یاد دہانی ہے اُس کے لیے جس کا دل ہو یا جو توجّہ سے سنے حاضر ہو کر۔‘‘
آیات قرآنی اور اُن میں بیان کردہ یہ واقعات نصیحت اور عبرت کا ذریعہ ہیں۔ ان میں سبق آموزی کا بہت بڑا سامان ہے، مگر اُن لوگوں کے لیے جو دل بیدار رکھتے ہوں، یاجو کان لگا کر حق بات کو سنتے ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان میں قلب بیدار کی صورت میں ایک فیکلٹی رکھ دی ہے، جو اُسے حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہے۔ اگر دل زندہ و بیدار اور نور فطرت سلامت ہو تو تھوڑی سی توجہ دلانے پر بھی انسان کو حقیقت یاد آ جاتی ہے اور اُس کا باطن معرفت الٰہی کے نور سے منور ہو جاتا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق h کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے ایمان کی دعوت سنی تو ایک لمحہ بھی تا خیر نہ کی،فوراً ایمان لے آئے۔ ہاں جس کا دل ہی زنگ آلود ہو جائے پھر اس میں قبولِ حق کی استعدادباقی نہیں رہتی۔ حدیث میں آیا ہے کہ آدمی ایک گناہ کرتا ہے تو اُس کے دل پر ایک دھبہ پڑ جاتا ہے۔ لیکن جب توبہ کرتا ہے تو یہ دھبہ صاف ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر گناہ کے بعد توبہ کی بجائے مزید گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پرایک اور دھبہ پڑ جاتا ہے، تا آنکہ اُس کا دل بالکل سیاہ ہو جاتا ہے۔بالعموم یہ ہوتا ہے کہ پہلے پہل دل گناہ و نا فرمانی پر انسان کو ٹوکتا ہے مگر جب آدمی ضمیر کی آواز پر کان نہیں دھرتا اور بار بار اُسے مسترد کرتا ہے تو دل مردہ ہو جاتا ہے۔ پھر اُس پر کوئی موعظت اثر نہیں کرتی۔ قرآن حکیم جیسی موعظت اور نبی اکرمﷺ جیسا واعظ کون ہو سکتا ہے، مگر اس کے باوجود ابو لہب، ابوجہل، ولید بن مغیرہ ، اور دوسرے سرداران قریش ایمان نہ لائے، کیونکہ اُن کے دل مردہ ہو گئے تھے اور نورِ فطرت سلامت نہ رہا تھا۔
قرآن کی نعمت اور یاد دہانی ایک تو دل بیدار رکھنے والوں کے لیے نافع ہے، دوسرے اُن لوگوں کے لیے مفیدہے جو دعوتِ حق کو پوری توجہ اور دھیان سے سنیں۔ اس انداز سے سننے کے نتیجے میں آدمی کو اندر سے گواہی مل جاتی ہے کہ جو دعوت پیش کی جارہی ہے وہ حق ہے۔ اس بات میں ہمارے لیے خاص طور پر بشارت کا پہلو موجود ہے۔ ہمارے دلوں کی نہ جانے کیا کیفیت ہو گی۔ کیا خبر اِن میں بیداری بر قرار رہ گئی ہو یا نہ ہو تاہم اگر ہم حق بات کو توجہ سے سنیں تو امید ہے کہ ہدایت قرآنی سے مستفید ہوں گے، اس کے برعکس اگر کوئی حق بات سننے ہی کاروادار نہ ہو تو اس کا صاف مطلب یہ ہو گا کہ اُس نے خود ہی اپنی گمراہی پر مہر تصدیق ثبت کر لی ہے۔ ایسے شخص کو قرآنی ہدایت سے فائدہ نہ ہو گا۔
آگے ارض و سماوات کی تخلیق کا ذکر ہے۔ فرمایا:
{وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَا فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ق وَّمَا مَسَّنَا مِنْ لُّــغُوْبٍ (38)} ’’اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے مابین ہے پیدا کیا چھ دنوں میں۔اور ہم پر کوئی تھکان طاری نہیں ہوئی۔‘‘
ساری کائنات کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ تاریخ ِانسانی میں آج تک کسی نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ زمین و آسمان کو اللہ نے نہیں، ہم نے بنایا ہے۔ کفار مکہ بھی اللہ کو کائنات کا خالق تسلیم کرتے تھے۔ یہاں اللہ نے فرمایا کہ ہم نے آسمان و زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔ چھ دنوں سے مراد ہمارے دن نہیں بلکہ چھ ادوار ہیں۔ جیسے ایک درخت کے بیج کو کامل درخت بننے میں وقت لگتا ہے ، اسی طرح کائنات کی تخلیق بھی درجہ بدرجہ اپنی میچورٹی کو پہنچی۔ یہ بھی واضح فرمایا کہ کائنات کی چھ دنوں میں تخلیق سے اللہ پر کوئی تھکان طاری نہ ہوئی، اور یوں اُس غلط فہمی کا ازالہ کر دیا گیا جو تحریف شدہ تورات نے پھیلائی تھی۔ تورات میں ہے کہ اللہ نے چھ دنوں میں زمین و آسمان پیدا کئے اور ساتویں دن آرام کیا۔ اسی سے ہفتہ وار تعطیل کا تصور اخذ کیا گیا ہے ۔ یعنی چھ دن کام اور ساتویں دن آرام کرو۔ قرآن مجید اس اعتبار سے بھی مہیمن ہے کہ وہ سابقہ کتب میں تحریف کے نتیجے میں راہ پا جانے والے غلط تصورات کی نفی کر کے اصل حقائق کو واضح کرتا ہے۔آگے فرمایا:
{فَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَـقُوْلُوْنَ}’’تو(اے نبیﷺ) آپ صبر کیجیے اس پر جو یہ لوگ کہہ رہے ہیں۔‘‘
یعنی کفاردعوت حق کی مخالفت میں آپؐ کے متعلق سخت سے سخت باتیں کہتے ہیں، آپؐ اُن پر صبر کیجئے۔ اپنا کام جاری رکھئے، حق بات کہتے رہیے۔ ایک دن آئے گا اللہ ان سے خود نمٹ لے گا۔ یہ ہدایت حضور ﷺ کے توسط سے آپؐ کے تمام امتیوں کے لیے بھی ہے جو آپؐ کے مشن کو آگے بڑھائیں۔انہیں چاہئے کہ دعوت و اقامت دین کے نبوی مشن کو آگے بڑھانے میں جو مشکلات اور مصائب پیش آئیں اُن پر صبر کریں، مخالفتوں کی پروانہ کریں اور اپنا سفر جاری رکھیں۔
آگے فرمایا:
{وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَـبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَـبْلَ الْغُرُوْبِ (39) وَمِنَ الَّـیْلِ فَسَبِّحْہُ وَاَدْبَارَ السُّجُوْدِ(40)}’’اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجیے سورج کے طلوع ہونے سے قبل اور غروب ہونے سے قبل ۔اور رات کے حصوں میں بھی اس کی تسبیح بیان کرو۔اور سجدوں (نمازوں) کے بعد بھی۔‘‘
تسبیح و تحمید معرفت الٰہی کا ذریعہ ہے۔ اس سے معرفت کی تکمیل ہوتی ہے۔ آپؐ سے فرمایا کہ تین اوقات میں خصوصی طور پر تسبیح وتحمید د کا اہتمام کیجئے،یعنی طلوع آفتاب سے پہلے، غروب آفتاب سے پہلے اور رات کے ایک حصے میں۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدا میں آپؐ پر تین ہی نمازیں فرض تھیں، فجر، عصر اور تہجد۔ بہر حال یہ تین وقت خصوصی طور پرقبولیت کے ہیں بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ یہاں اوقات نماز کی طرف اشارہ ہے۔ قبل الطلوع سے نماز فجر، قبل الغروب، سے ظہر عصر اور من اللیل سے مغرب و عشاء مراد ہیں۔ (واللہ اعلم) قرآن حکیم میں اقامت صلوٰۃ کا حکم تو جا بجا آیا ہے مگر نمازوں کے اس نظام کا اوقات کی ترتیب کے ساتھ ذکر نہیں آیا۔ پنجگانہ نمازوں کا یہ نظام حدیث و سنت ِرسولﷺ سے ملتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ تم ایسے نماز پڑھو جیسے مجھے دیکھتے ہو۔تو نمازوں کا یہ نظام آپؐ کے اسوہ اور سنت و سیرت سے ملتا ہے۔ قرآن حکیم میں محض اس کے اشارات آئے ہیں۔ سجدوں کے بعد تسبیح کرنے سے مراد یہ ہے کہ نماز ادا کر لینے کے بعد بھی کثرت سے تسبیح و تحمید کی جائے۔ چنانچہ فرض نمازوں کے بعد آپؐ کی معمولات میں بہت سے اذکار شامل تھے۔ جیسے اللہ اکبر، استغفراللہ، فرائض کے بعد دُعائیں اور تسبیح فاطمہ وغیرہ ۔ہمیں ان اذکار مسنونہ کا کثرت سے اہتمام کرنا چاہیے۔
آگے بعث بعد الموت کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ فرمایا:
{وَاسْتَمِعْ یَوْمَ یُـنَادِ الْمُنَادِ مِنْ مَّـکَانٍ قَرِیْبٍ(41)}’’اور کان لگائے رکھو جس دن پکارنے والا پکارے گا بہت قریب کی جگہ سے۔‘‘
یہاں نفح ثانی کا ذکر ہے۔جب اللہ مردوں کو دوبارہ زندہ کرنا چاہے گا تو اُس کے حکم سے ایک فرشتہ قریب کی جگہ سے صورمیں پھونکے گا۔’’ قریب کی جگہ ‘‘ کے حوالے سے بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ اس سے مراد بیت المقدس کی چٹان ہے۔ اس چٹان پر سے صور میں پھونکا جائے گاصور کی آواز سب لوگ سنیں گے۔ اس رائے میں کتنا وزن ہے، یہ معلوم نہیں، تاہم یہ واضح ہے کہ صور کی آوازہر آدمی کو بالکل قریب محسوس ہو گی۔ اُسے سن کر وہ یہ محسوس کرے گا گویا میرے سر پر سے صور پھونکا جا رہا ۔ یہ بات آج بآسانی سمجھ آ سکتی ہے۔ آج الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے ایک خبر دنیا کے ایک کونے سے نشر ہوتی ہے اور بیک وقت پوری دنیا میں سنی جاتی ہے۔ ٹی وی پر دنیا کے کسی بھی کونے میںپیش آنے والے واقعہ کی رپورٹ لوگ اپنے گھروں میں بیٹھے یوں دیکھتے ہیں، گویا وہ واقعہ اُن کے سامنے وقوع پذیر ہو رہاہے۔
{یَّوْمَ یَسْمَعُوْنَ الصَّیْحَۃَ بِالْحَقِّ ط ذٰلِکَ یَوْمُ الْخُرُوْجِ(4۲)}’’جس دن کہ وہ سنیں گے ایک چنگھاڑ حق کے ساتھ۔وہ ہو گا نکلنے کا دن۔‘‘
جب لوگ یہ چنگھاڑ سنیں گے تو قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے۔ یہ نفخہ ثانی ہے۔ اس سے پہلے نفخہ اولیٰ وہ ہو گا جس سے ہر ذی حیات پر موت طاری ہو جائے گی۔نفخۂ ثانی پر جس کا یہاں ذکر ہے، سب لوگ جی اٹھیں گے اور قبروں سے نکل رہے ہوں گے۔ یہ ہے نکلنے کا دن۔ اس نکلنے کی کیفیت برسات کے موسم میں پتنگوں کے زمین سے نکلنے کے مشابہ ہو گی۔
آگے فرمایا:
{اِنَّا نَحْنُ نُحْیٖ وَنُمِیْتُ وَاِلَـیْنَا الْمَصِیْرُ (43) یَوْمَ تَشَقَّقُ الْاَرْضُ عَنْہُمْ سِرَاعًاط ذٰلِکَ حَشْرٌ عَلَیْنَا یَسِیْرٌ(44)}’’یقیناً ہم ہی زندہ رکھتے ہیں اور ہم ہی موت وارد کرتے ہیں۔اور ہماری ہی طرف (سب کو) پلٹ کر آنا ہے۔جس دن زمین اُن پر سے پھٹ جائے گی اور وہ تیزی سے نکل پڑیں گے۔یہ (سب کا) جمع کر دینا ہمارے لیے بہت آسان ہے۔‘‘
یعنی موت و حیات سب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ دنیا میں کوئی کتنا بھی جی لے آخر کار اُسے اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔انسان کو پہلی بار بھی اللہ نے پیدا کیا دوبارہ بھی وہی زندہ کرے گا۔ اس دن زمین کی کیفیت یہ ہو گی کہ لوگوں کے اوپر سے پھٹ جائے گی اور وہ اُس میں سےنکل کر یوں دوڑ رہے ہوں گے گویا انہیں کہیں پہنچے کا ٹارگٹ دیا گیا ہو ۔ اللہ نے یہ بھی واضح کر دیا کہ نسل انسانی یعنی حضرت آدم ؑ سے لے کر دنیا میں آنے والے آخر ی انسان تک سب کو دوبارہ زندہ کرنا اور اکٹھے کرنا اُس کے لیے کوئی مشکل نہیں ہے۔ رب کائنات جو اس قدر وسیع کائنات کا خالق و مالک ہے، وہ ایک ہی میدان میں لوگوں کو لا کھڑا کرئے گا اورپھر اُن سے حساب کتاب ہو گا۔
آگے فرمایا:
{نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَـقُوْلُوْنَ وَمَآ اَنْتَ عَلَیْہِمْ بِجَبَّارٍقف فَذَکِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ (45)} ’’(اے نبیﷺ!) ہم خوب جانتے ہیں جوکچھ یہ لوگ کہہ رہے ہیں‘اور آپ ان پر کوئی زبردستی کرنے والے نہیں ہیں۔پس آپ تذکیر کرتے رہیے اِس قرآن کے ذریعے سے ہر اُس شخص کو جو میری وعید سے ڈرتا ہے۔‘‘
یعنی ہمیں خوب معلوم ہے کہ یہ منکرین حق ، یہ مشرکین، اللہ اور نبی کی شان میں گستا خیاںکرتے اور قیامت کے حوالے سے طرح طرح کی باتیں کہتے ہیں۔ ان کی زبانیں، اللہ اس کے رسول اللہ ﷺ اور عقیدہ آخرت کے حوالے سے جو زہر اگلتی ہیں، اللہ اُسے خوب جانتا ہے۔ اے نبیؐ، آپؐ کا کام تو اُن کو قرآن کے ذریعے تذکیرو یاد دہانی ہے۔ آپ ان کو زبردستی راہِ ہدایت پر نہیں لا سکتے۔ آپ قرآن کے ذریعے انہیں یاد دہانی کراتے رہئے۔ جو بھی میری وعید سے ڈرتا ہے اُسے یہ تذکیر فائدہ دے گی۔ تذکیر کا مؤثر ذریعہ میرا یہ کلام ہے۔ بد قسمتی سے آج ہم نے قرآن کو چھوڑا رکھا ہے، اسی لیے ذلیل و خوار ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن حکیم اور اس کی شرح سنت رسول ﷺ پر اپنی تو جہات مرکوز کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔( آمین)