اُمَّتِ مُسلمہ کے زوال کی سب سے بڑی وجہ قرآن سے دوری
ہے۔ (شجاع الدین شیخ)
باطل قوتیں پاکستان اور افغانستان کے درمیان دشمنی پیدا کرنا
چاہتیں ہیں۔ (سراج الحق)
دینی جماعتیں اُمَّت کو زوال سے نکالنے کے لیے متحد
ہو جائیں۔ (مولانا زاہد الراشدی)
ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے قرآن کا پیغام عام کرنے کے لیے اپنی
زندگی وقف کر رکھی تھی۔ (ڈاکٹر عارف رشید)
اُمَّت کو زوال سے نکالنے کے لیے وہی راستہ اپنانا ہوگا جس
سے پہلی مرتبہ عروج حاصل ہوا تھا۔ (رضاء الحق)
قرآن آڈیٹوریم لاہور میں ’’اُمَّتِ مُسلمہ کی حالت ِ زار اور راہِ نجات‘‘ کے عنوان سے تنظیم اسلامی کے زیرِ اہتمام سیمینار
مرتب : مرتضیٰ احمد اعوان
تنظیم اسلامی کے زیر ِاہتمام ’’ امت مسلمہ کی حالت زار اور راہ نجات‘‘ کے عنوان سے مہم جاری ہے جس کا مقصد اُمّت ِمسلمہ کو اس کے حقیقی مقام، ذِمّہ داری اور موجودہ حالات کے اسباب سے آگاہ کرنا اور قرآن وسنت کی طرف اجتماعی رجوع کی دعوت دینا ہے ۔ اسی مہم کے سلسلے میں تنظیم اسلامی کے زیر ِ اہتمام 9اگست 2026ء کو قرآن آڈیٹوریم لاہور میں ’’اُمَّتِ مُسلمہ کی حالت ِ زار اور راہِ نجات‘‘ کے عنوان سے ایک مرکزی سیمینار منعقد کیا جس کی صدارت امیرتنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ نے کی ۔ اس سیمینار میں جماعت اسلامی کے سابق امیر محترم سراج الحق اور گوجرانوالہ سے معروف عالمِ دین اور ماہنامہ الشریعہ کے مدیرمولانا زاہد الراشدی نےبطور مہمان مقررین شرکت کی۔ پروگرام کا آغاز صبح ساڑھے دس بجےتلاوت کلام پاک سے ہوا۔ قرآن اکیڈمی، لاہور کی مسجد کے امام محترم قاری احمد ہاشمی نے تلاوت کلام پاک کی سعادت حاصل کی ۔اس کے بعد محترم طیب رسول نے نعت ِ رسولؐ مقبول پیش کی۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض جناب فاروق گیلانی نے انجام دیئے۔
تنظیم اسلامی کے مرکزی ناظم نشروا شاعت محترم رضاالحق نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اُمّت ِمسلمہ کی تاریخ کو دیکھا جائے تو دور نبوی اور خلافت راشدہ اس کے بہترین ادوار ہیں جن میں مسلمانوں کا تین براعظموں پر غلبہ رہا۔پھر دور ملوکیت میں مسلمان رفتہ رفتہ زوال کاشکار ہوئے ۔لیکن عمومی طور پر اسلام دنیا پر غالب رہا۔خلافت ِعثمانیہ کے دور میں بھی مسلمانوں کا رعب ودبدبہ باطل طاقتوں پر قائم تھا۔حتیٰ کہ خلافت ِ عثمانیہ جب کمزور تھی تواس وقت بھی انہوںنے یہودیوں کو فلسطین میں آباد نہیں ہونے دیا۔البتہ پچھلی صدی میں جب خلافت کا خاتمہ ہوا تو پھر اُمّت ِمسلمہ کا زوال شروع ہوا اور یہ زوال آج تک جاری ہے ۔اس وقت دنیا میں مادہ پرستی کا دور ہے اور یہودیوں نے دنیا کی معیشت کو اپنے کنٹرول میں کیا ہوا ہے ۔اس وقت دنیا میں سیکولرازم کا دور رائج ہے ۔ مسلمانوں کو چھوٹے چھوٹے ممالک میں تقسیم کر کے باطل قوتوں نے اپنا ذہنی غلام بنایا ہواہے ۔ اُمّت ِمسلمہ کو زوال سے نکالنے کے لیے وہی راستہ اپنانا ہوگا جس سے پہلی مرتبہ عروج حاصل ہوا تھا۔ مسلمانوں کو ایک مرتبہ پھر قرآن کو امام بنانا ہوگا اور اُسوۂ رسول ﷺ سے جُڑ نا ہوگا۔ تقویٰ، عبادتِ رب،اطاعت رسول ﷺ، شہادت علی الناس اور اقامتِ دین کی جدوجہد کرنا اُمَّتِ مُسلمہ کے ہر فرد کی ذِمّہ داری ہے۔ جب تک ہم اپنے دینی فرائض کو ادا نہیں کریں گے ہماری حالت نہیں بدلے گی ۔
مرکزی انجمن خدام القرآن کے صدر محترم ڈاکٹر عارف رشید نے اپنے خطاب میں کہاکہ بانیٔ تنظیم اسلامی اور صدرِ مؤسس مرکزی انجمن خدام القرآن ڈاکٹر اسراراحمدؒ نے 1966ء میں تحریک رجوع الی القرآن کا آغاز کیا تھا۔ انہوں نے قرآن کا پیغام عام کرنے کے لیے اپنی زندگی وقف کر رکھی تھی۔ 1972ء میں مرکزی انجمن خدام القرآن قائم کی اور 1975ء میں تنظیم اسلامی کی بنیاد رکھی۔ انجمن خدام القرآن کی ذیلی شاخیں پورے پاکستان میں پھیلی ہوئی ہیں۔ڈاکٹر صاحبؒ خود فرماتے تھے کہ میری زندگی کا مقصد صرف اسلام کی دعوت وتبلیغ اور دروس قرآن نہیں بلکہ ایک ایسی تنظیم قائم کرنا ہے جو اسلام کے عالمی غلبے کے لیے جدوجہد کرے گی ۔ان کی ان تمام مساعی کا مقصد یہ تھا کہ عوام کو قرآن سے جوڑا جائے اور اُن میں دینی ذِمّہ داریوں کا احساس اُجاگر کیا جائے۔ڈاکٹر صاحبؒ کی جدوجہد کا مرکز ومحور قرآن تھا۔چنانچہ اُن کی قرآنی تحریک کے نتیجے میں اس وقت تین سلسلے چل رہے ہیں۔ ایک رجوع القرآن کورسز کا سلسلہ جس سے ایسے افراد تیار ہوتے ہیں جو تعلیم و تعلم قرآن کا کام کرتے ہیں۔ دوسرا ہر سال رمضان میں دورئہ ترجمہ قرآن کا سلسلہ جو پورے پاکستان میں قرآن کے پیغام کو پھیلانے کاباعث ہے۔ اور تیسری تنظیم اسلامی جو اقامت دین کی جدوجہد میں مصروف عمل ہے۔
جماعت اسلامی کے سابق امیر محترم سراج الحق نے اپنے خطاب میں فرمایاکہ ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے اپنی تحریک پوری دنیا میں اسلام کو غالب کرنے کے لیے شروع کی تھی تاکہ انسان کو اُخروی فلاح حاصل ہو جائے۔ جو لوگ بھی ڈاکٹر اسرار احمدؒ کی طرح قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزارتے ہیں، موت اُن کو فنا نہیں کر سکتی بلکہ ایسے لوگ مخلوقِ خدا کی دعاؤں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں ۔ ڈاکٹر اسرار احمدؒ کا خواب تھا کہ قرآن کے پیغام کو پورے عالم تک پہنچایا جائے۔اس وقت دنیا میں 57 مسلم ممالک ہیں لیکن اُمتی وہ ہوتا ہے جو قرآن و سنت کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کرتا ہے ۔ موجودہ دجالی نظام میں اُمّت ِمسلمہ کے لیے اللہ کی بندگی کرنا مشکل بنا دیا گیا ہے‘ کیونکہ اس نظام کے بڑے ادارے آئی ایم ایف ، ورلڈ بینک، ڈبلیو ایچ او دنیا کو کنٹرول کررہےہیں۔ان کی اجازت کے بغیر نہ کوئی تجارت کرسکتا ہے ،نہ علاج کرا سکتا ہے، نہ انصاف لے سکتاہے حتیٰ کہ دعا بھی نہیں کرسکتا ۔آپ کسی عرب ملک میں اسرائیل کے خلاف اللہ سے دعا کریں گے تو آپ کو اُٹھا لیا جائے گا۔ لیکن دوسری طرف اُمّت ِمسلمہ میں بیدار ی کی تحریک بھی شروع ہوچکی ہے ۔اخوان المسلمون، جماعت اسلامی اور تنظیم اسلامی جیسی تناظیم مسلمانوں کو دوبارہ قرآن سے جوڑنے کی جدوجہد کررہی ہیں۔ دوسری طرف باطل قوتیں پاکستان اور افغانستان کے درمیان دشمنی پیدا کرنا چاہتی ہیں۔ ہم سب کی ذِمّہ داری ہے کہ اس فساد کو مل کر روکیں۔باطل قوتیں مسلمانوں پر تسلط چاہتی ہیں ۔ اس تسلط سے نکلنے کا راستہ یہ ہے کہ اسلامی تحریکیں مل کر لوگوں کے دلوں تک قرآن کے پیغام کو پہنچائیں ۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا حالیہ ’’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘‘ خوش آئند ہے ۔ لیکن ہمارا مطالبہ ہے کہ یہ معاہدہ فلسطین کی آزادی اور اسرائیل کے خلاف اقدام کرے۔اور ایران سمیت دوسرے مسلمان ممالک کو بھی اس میں شامل کیا جائے ۔
معروف عالمِ دین محترم مولانا زاہد الراشدی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر اسراراحمدؒ نے جس مشن کا آغاز کیا تھا اُس کے تسلسل کو برقرار دیکھ کر دلی خوشی ہوتی ہے اور اِس حوالے سے تنظیم اسلامی مبارک باد کی مستحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کوئی سپیئر پارٹس کی دکان نہیں بلکہ ایک پورا پیکج ہے اور ہم نے پورے کے پورے اسلام پر عمل کرنا ہے تبھی ہمیں دنیا میں دوبارہ عروج ملے گا۔اِس وقت دنیا بھر کی طاغوتی قوتیں مسلمانوں کو زیر رکھنے کے لیے ہر قسم کا شیطانی حربہ استعمال کر رہی ہیں۔طاغوتی قوتیں وہی مطالبے کررہی ہیں جو ساڑھے چودہ سوسال پہلے مشرکین نے رسول اللہﷺ سے کیے تھے کہ مسلمان اپنے عقائد، توحید،رسالت اور ختم نبوت پر ہم سے مصالحت کرلیں اور ہماری دجالی تہذیب کےزیر ِ اثر رہ کر اپنی زندگی گزاریں۔اِس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ دینی جماعتیں اُمَّت کو زوال سے نکالنے کے لیے متحد ہو جائیں۔ جس طرح مختلف معاملات پر دینی جماعتیں اور علماء کرام اکٹھے ہو جاتے ہیں اِسی طرح اُنہیں اِس اتحاد کو برقرار بھی رکھنا چاہیے۔ اُمَّت کو زوال سے نکالنے کے لیے عوام کو صحیح سمت فراہم کی جائےاور نئی نسل کو اپنی تاریخ سے متعارف کرانا چاہیے ۔
امیر تنظیم اسلامی جناب شجاع الدین شیخ نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ اس سیمینار کا ایک اہم مقصد مختلف دینی شخصیات سے استفادہ کرنا اور فکر کے مختلف گوشوں کو سمجھنا بھی ہے۔ کبھی کبھی علمی انداز میں اختلافِ رائے بھی سامنے آتا ہے، جس سے ہمیں کچھ نیا سیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔جنرل مشرف کے دور میں قنوتِ نازلہ کا انگریزی ترجمہ جب بین الاقوامی میڈیا میں نشر ہوا تو یہ اعتراض سامنے آیا کہ مسلمان اتنی سخت بددعائیں کرتے ہیں۔ نتیجتاً بعض مساجد میں قنوتِ نازلہ کے اہتمام سے بھی روکا گیا۔یہ غلامی کی ایک صورت ہے کہ ہماری دعاؤں تک پر پابندی عائد ہوجائے۔اللہ نے ہمیں غلام بننے کے لیے پیدا نہیں کیا۔ ہمیں کھڑا ہونے کے لیے پیدا کیا ہے۔ آج اُمّت کے زوال کے اسباب میں شعوری اور حقیقی ایمان کا کمزور ہونا‘ دنیا کی محبت میں ڈوب جانا‘ باہمی تفرقہ اور فرقہ واریت‘ غلامانہ ذہنیت اور دجالی تہذیب سے مرعوبیت سب شامل ہیں لیکن اُمَّتِ مُسلمہ کے زوال کی سب سے بڑی وجہ قرآن سے دوری ہے۔ قرآن مجید شبِ قدر میں نازل ہوا اور یہ تقدیروں کو بدل دینے والا کلام ہے۔ جب تک اُمَّت نے قرآن کو تھامے رکھا اللہ نے اُمَّت کو عروج اور غلبہ عطا فرمایا لیکن جب اُمَّت نے قرآن کو چھوڑ دیا تو ہم مغلوب ہوگئے۔ اس وقت ہمارے پاس دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لیے کوئی ایک خطۂ زمین موجود نہیں جس کے بارے میں ہم کہہ سکیں:’’آؤ، دیکھو! یہ اللہ کے دین کا عملی نمونہ ہے۔‘‘ اگر ہم عالمی سطح پر اسلامی نظام چاہتے ہیں مگر اپنی ذاتی زندگی میں جھوٹ، وعدہ خلافی خیانت ،رشوت، سود، حق تلفی اور دیگر برائیوں کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں تو پھر یہ کیسا انقلاب ہوگا؟اگر ہم پوری دنیا میں اسلام کی سربلندی چاہتے ہیں مگر اپنے گھر میں قرآن کی تعلیمات نافذ کرنے، نماز کی پابندی، حقوق العباد کی ادائیگی اور حرام سے بچنے کے لیے تیار نہیں تو مسئلہ عالمی نظام سے پہلے ہماری اپنی ذات کا ہے۔ ہم اللہ کی نصرت چاہتے ہیں لیکن اللہ کے دین کی نصرت کے لیے اپنی زندگی میں کتنی جگہ رکھتے ہیں؟ہم اُمّت کی سربلندی تو چاہتے ہیں لیکن اپنی ذات پراللہ کی حاکمیت قبول کرنے کے لیے کس حد تک تیار ہیں؟ہم فلسطین کی آزادی کی بات کرتے ہیں لیکن اپنے معاملات میں عدل، دیانت اور امانت کا کتنا خیال رکھتے ہیں؟ جب ہم اللہ کے دین کی مدد کریں گے یعنی اقامتِ دین کی جدوجہد میں تن من دھن لگا دیں گے تو اللہ کی مدد بھی ہمارے شاملِ حال ہوگی۔ جس کو اللہ کی مدد حاصل ہو جائے اُسے کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر یہود گریٹر اسرائیل بنانے کے منصوبے پر عمل کر رہے ہیں تو ہم گریٹر خراسان کی طرف بڑھنے کی کوشش کیوں نہیں کر سکتے۔
آخر میں سراج الحق صاحب کی دعا پر پروگرام کا اختتام ہوا۔