(منبرو محراب) اُمُت مسلمہ کے لیے راہِ نجات اور اقامت ِدین کی جدوجہد - ابو ابراہیم

13 /

اُمُت مسلمہ کے لیے راہِ نجات اور اقامت ِدین کی جدوجہد


(تنظیم اسلامی کی مہم کے تناظر میں)

مسجد جامع القرآن ، قرآن اکیڈمی ڈیفنس کراچی میں امیر ِ تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ  حفظ اللہ کے14اگست 2026ء کے خطاب جمعہ کی تلخیص

مرتب: ابو ابراہیم

خطبہ ٔمسنونہ اور تلاوتِ آیاتِ قرآنی کے بعد!
اُمّت ِمُسلمہ کی حالت ِزار اور راہِ نجات کے عنوان سے تنظیم اسلامی کی ملک گیر مہم اپنے آخری مرحلے میں  ہے، اس مہم کے دوران جہاں اُمّت ِمُسلمہ کی حالت ِ زار پر کلام ہوا، زوال کےا سباب بھی زیر ِبحث آئے ، وہاں  نجات کی راہ بھی بیان ہوئی۔ گزشتہ جمعہ کو راہِ نجات کے پہلے حصّے یعنی رجو ع الی القرآن پر کلام ہوا۔ آج راہ ِ نجات کا دوسرا حصّہ یعنی اقامت دین کی جدوجہد ہمارا موضوع ہوگا ۔ ان شاء اللہ ! اس حوالے سے چند بنیادی اور ضروری باتیں آپ کے سامنے پیش کرنا مقصود ہیں ۔ 
1۔ اقامت دین کی جدوجہد ہر مسلمان کا فریضہ 
یہ اُمت جس کام کے لیے کھڑی کی گئی، وہ  اقامت ِ دین کی جدوجہد ہے ۔ پہلے اس کام کے لیے اللہ تعالیٰ نے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھیجے ۔ اللہ کے آخری رسول ﷺ نے اپنی 23 سالہ جدوجہد میں اس فریضہ کو عملی طور پر ادا کرکے دکھایا ۔ ختم ِ نبوت کے بعد اس فریضہ کو ادا کرنا اُمت کی ذمہ داری ہے ۔ قرآن کی دعوت کو عام کرنا، قرآن کے نظام کو قائم کرنے کی جدوجہد کرنا ، ہر اُمتی کا فرض ہے ۔ آج اُمت کا سب سے بڑا اجتماعی جرم یہ ہے کہ اُمت نے اس فریضہ کو فراموش کردیا ۔ پاکستانیوں کا سب سے بڑا جرم بھی یہی ہے کہ ہم نے اللہ کے دین کے ساتھ بے وفائی کی ، اسی لیے آج ہم ذلیل و خوار ہیں اور مسلسل ہمارے حالات بگڑتے چلے جارہے ہیں ۔ اس معاملے میں ہم دیگر اقوام کے ساتھ اپنا موازنہ نہیں کر سکتے ؎
اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی
ہم امام الانبیاءﷺ کے اُمتی ہیں، ہمارا معاملہ  کافروں اور مشرکوں سےمختلف ہے ۔ دنیا میں دولت ، اقتدار ، بادشاہت تو اللہ نےقارون ، نمرود اورفرعون کو بھی دی تھی لیکن ان کا معاملہ صرف دنیا تک ہی محدود تھا لیکن مسلمان دنیا و آخرت میں کامیاب صرف اسی صورت میں ہو سکتے ہیں جب وہ اللہ کے دین کے ساتھ مخلص ہوں گے ، اس کے نفاذ کے لیے جان ، مال ، صلاحیتوں اور وقت کی قربانی دیں گے ۔ ہم اللہ کے دین کی مدد کریں گے تو اللہ کی مدد ہمارے شامل حال ہوگی ۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر اُمت کو دوبارہ عروج حاصل ہو سکتا ہے ۔ 
2۔ فریضۂ اقامت دین کو چھوڑنے کے نقصانات
اگر اللہ کا دین نافذ نہ کیا جائے، یعنی اس کی جدوجہد نہ کی جائے، اس کی محنت نہ کی جائےتو پھراللہ تعالیٰ کے نزدیک ہماری کیا حیثیت ہوگی ؟ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ خود فرماتاہے :
{وَمَنْ لَّــمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکٰفِرُوْنَ(44)} ’’اور جو اللہ کی اُتاری ہوئی شریعت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہی تو کافر ہیں۔‘‘ (المائدہ:44)
{وَمَنْ لَّـمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ(45)}’’ اور جو فیصلے نہیں کرتے اللہ کی اُتاری ہوئی شریعت کے مطابق وہی تو ظالم ہیں۔‘‘(المائدہ:45)
{وَمَنْ لَّـمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ  الْفٰسِقُوْنَ(47)}’’اور جو لوگ نہیں فیصلے کرتے اللہ کے اُتارے ہوئے احکامات و قوانین کے مطابق‘ وہی تو فاسق ہیں۔‘‘(المائدہ:47)
بقول ڈاکٹر اسرار احمدؒ یہ اللہ تعالیٰ کے تین فتوے ہیں ۔ ایک وہ شخص ہے جس کے ہاتھ میں حکمرانی ہے، وہ اللہ کے حکم کو ماننے سے انکار کر دے، یا کہے کہ شریعت تو نافذ کرنے کے لیے ہے ہی نہیں تو وہ اسلام سے خارج ہے۔ ایک شخص کلمہ پڑھتا ہے، شریعت کو مانتا ہےلیکن شریعت کو اپنے وجود پر ، اپنے گھر میں اور اپنے دائرہ اختیار میں نافذ  نہیں کرتا تو وہ عملاً کافر ہے، ظالم ہے، فاسق ہے۔ پھر فقہاء نے اس کے درجات بھی معین کیے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ اللہ کا حکم صرف پڑھنے ، چھاپنے ، کورسز کروا دینے یا جمعہ کے خطبہ میں صرف بیان کر دینے کے لیے نہیں آیا ۔  صرف اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات میں کمپائل کر دینے کے لیے نہیں آیا، صرف کسی دار الافتاء میں submit  کر دینے کے لیے نہیں آیا۔ دوبئی کی مساجد میں فتویٰ لکھ کر لگا دیا گیا کہ شراب حرام ہے لیکن باہر نکل کر دیکھو تو ڈیوٹی فری شاپس شراب سے بھری ہوئی ہیں ۔ 
      اس دہرے طرزعمل پر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں خبردار کیا :
{لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ (2) کَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللہِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ(3)}(الصف) ’’تم کیوں کہتے ہو وہ جو کرتے نہیں ہو؟بڑی شدید بے زاری کی بات ہے اللہ کے نزدیک کہ تم وہ کہو جو تم کرتے نہیں۔‘‘
  یہ صرف دبئی کا مسئلہ نہیں،یہ پاکستان کا بھی مسئلہ ہے ۔ سندھ اسمبلی کے ایک ہندو ممبر نے مجھے بتایا کہ ہندو مذہب میں بھی شراب منع ہے ، سندھ میں مسلمان اشرافیہ ہندوؤں کے نام پر شراب کے پرمٹ جاری کرتی ہے اور پیتے خود مسلمان ہیں ۔ قرآن کہہ رہا ہے کہ جو اللہ کے حکم کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہی کافر ، ظالم اور فاسق ہیں ۔ اسی سورت کے آغاز میں اہل ِ کتاب کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ کہتے ہیں :
{نَحْنُ اَبْنٰٓـــؤُا اللہِ وَاَحِبَّـــآؤُہٗ ط}(سورۃ المائدہ: 18)  ’’ ہم اللہ کے بیٹے ہیںاور اُس کے بڑے چہیتے ہیں۔‘‘
جبکہ اللہ تعالیٰ کا جواب آیا : 
’’(اے نبی ﷺ!) کہہ دیجیے: اے اہل کتاب ! تم کسی چیز پر نہیں ہو‘تمہاری کوئی حیثیت نہیں ہے ‘ کوئی مقام نہیں ہے‘کوئی جڑ بنیاد نہیں ہے‘ تم ہم سے ہم کلام ہونے کے مستحق نہیں ہو۔ جب تک تم قائم نہ کرو تورات اور انجیل کواور جو کچھ نازل کیا گیا ہے تم پرتمہارے رب کی طرف سے۔‘‘(المائدہ :68)
تم لاکھ اللہ کے چہیتے ہونے کے دعوے کرتے رہو، جب تک اللہ کے حکم کو نافذ نہیں کرتے تمہاری کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ آج موجودہ اُمّت ِمُسلمہ بھی لاکھ دعوے کرے کہ وہ خیر ِاُمت ہے ، اُمت ِوسط ہے ، لیکن اللہ تعالیٰ خود کہہ رہا ہے جو اللہ کے حکم کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہ کافر ، ظالم اور فاسق ہیں ۔ آج اس اُمت کی ذلت و رسوائی کی وجہ بھی یہی ہے ۔ سورہ البقرہ کی آیت 85 میں فرمایا : ’’تو کیا تم کتاب کے ایک حصّے کو مانتے ہو اور ایک کو نہیں مانتے؟‘تو نہیں ہے کوئی سزا اس کی جو یہ حرکت کرے تم میںسے’سوائے ذلت و رسوائی کے دنیا کی زندگی میں اور قیامت کے روز وہ لوٹا دئیے جائیں گے شدید ترین عذاب کی طرف۔‘‘ 
آج بعض لوگ صرف جمعہ کی دو رکعت نماز ادا کرکے سمجھتے ہیں کہ دین کا تقاضا پورا ہوگیا ، بعض پانچ نماز اور بعض چند دیگر عبادات و رسومات ادا کرنے کے بعد سمجھتے ہیں کہ دین مکمل ہوگیا ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ قرآن میں واضح حکم دیتا ہے : {یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃًص}(البقرہ:208) ’’اے اہل ِایمان! اسلام میں داخل ہو جائو پورے کے پورے۔‘‘ 
نماز کے علاوہ بھی عبادات ہیں ، معاملات ہیں ، اخلاقیات ہیں ، ان سب میں بھی اللہ کے حکم کی پیروی لازمی ہے ۔ خوشی غمی ، کاروبار ، روزگار ، سیاست ، عدالت ، ریاست اور ہر سطح پر اللہ کے حکم کو نافذ کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے ۔
حاصل کلام یہ ہے کہ اگر ہم قرآن کے احکام کے نفاذ کی محنت نہیں کرتےتو پھر اللہ کی نگاہوں میںہماری کوئی حیثیت نہیں ہے۔اگر قرآن کے کچھ حصّوں پر عمل کرتے ہیں لیکن کچھ پر نہیں کرتے تو یہ دنیا میں ذلت و رسوائی اور آخرت میں بڑے عذاب کا باعث ہے ۔ اس کے برعکس اگر ہم قرآن کے احکام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ  ہماری خطاؤں کو معاف کردے گا اور ہمیں بخش دے گا ۔
{نَــبِّی ئْ عِبَادِیْٓ اَنِّیْٓ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ(49)}  (الحجر) ’’(اے نبیﷺ!) میرے بندوں کو بتا دیجئے کہ مَیں یقیناً بہت بخشنے والا‘ نہایت رحم کرنے والا ہوں۔‘‘
 لیکن آگے فرمایا:
{وَاَنَّ عَذَابِیْ ہُوَ الْعَذَابُ الْاَلِیْمُ(50)}  (الحجر) ’’اور یہ کہ میرا عذاب بھی بہت دردناک عذاب ہے۔‘‘
  دونوںباتیں قرآن مجید نے ہمارے سامنے رکھ دی ہیں ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : 
 ((الایمان بین الخوف والرجاء)) ایمان خوف اور امید کی درمیانی کیفیت کا نام ہے۔
ہم اپنی طرف سے اللہ کے احکام پر مکمل عمل کرنے کی کوشش کریں اور اللہ سے بخشش کی اُمید بھی رکھیں لیکن اس کی پکڑ کا خوف بھی دل میں ہو ۔ 
3۔ اقامت دین کی جدوجہد کے فائدے 
اقامتِ دین کی جدوجہد کو چھوڑ کر ہم نے دنیا میں جو ذلت و رسوائی اُٹھائی اُس کا احساس اگر ہم مسلمانوں کو ہو جائے ، ہمارے حکمرانوں اور سیاستدانوں کو ہو جائے اور ہم اللہ کے دین کے نفاذ کی طرف پیش قدمی شروع کردیں  تو قرآن میں اللہ تعالیٰ وعدہ کررہا ہے : 
{یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَنْصُرُوا اللہَ یَنْصُرْکُمْ وَیُثَبِّتْ اَقْدَامَکُمْ(7)} (سورۃ محمد)
’’اے اہل ِایمان! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور وہ تمہارے قدموں کو جما دے گا۔‘‘
ہم اللہ کے دین کی نصرت کریں تو اللہ ہماری نصرت فرمائے گا۔ اللہ کے دین کی نصرت یہ ہےکہ خود دین پر عمل کیا جائے ، دوسروں کو دین کی دعوت دی جائے ، اس کے نفاذ کی جدوجہد کی جائے ۔ جب اللہ کی نصرت ہمارے ساتھ ہوگی تو پھر دنیا کی کوئی بھی طاقت ہمیں رسوا نہیں کر سکے گی کیونکہ اللہ تعالیٰ پوری کائنات کا خالق و مالک ہے ، وہ علی کل شیء قدیر ہے ، ساری کائنات اس کی محتاج ہے لیکن وہ کسی کامحتاج نہیں ہے ، ہم کمزور ہیں لیکن وہ کمزور نہیں ہے ۔ اگر اللہ ہماری مدد کو آجائے تو ہمارے تمام مسائل حل ہو جائیں گے ۔ اسی لیے وہ ہمیں حکم دیتا ہے : 
 سورہ صف کی آیت نمبر 14 میں: 
{یٰٓـــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْٓا اَنْصَارَ اللہِ} ’’اے اہل ِایمان! تم اللہ کے مددگار بن جائو۔‘‘
اللہ کو کسی مدد کی ضرورت نہیں ہے ۔ محتاج تو ہم ہیں لیکن اگر ہم اللہ کے دین کی مدد کریں گے تو وہ ہماری مدد کرے گا ۔ دین کو غالب تو اللہ ہی کرے گا لیکن ایمان والوں کی آزمائش اس میں ہے کہ وہ اللہ کے دین کے قیام کے لیے محنت کرتے ہیں یا نہیں ۔ اگر ہم محنت کریں گے تو اس کا پھل اللہ تعالیٰ دے گا ۔ اسی کام کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہمارا انتخاب کیا ہے : 
 {ہُوَ اجْتَبٰـىکُمْ}(سورۃ الحج:78) ’’اُس نے تمہیں چُن لیا ہے‘‘
اللہ نے حضرت آدم ؈ کو چناتھا،پھر نوح ؈ کو چنا تھا ، پھر ابراہیم ، اسماعیل ، اسحاق ، یعقوب ، یوسف ، موسیٰ ، عیسیٰ ؊کو چنا ۔ پھر آخری نبی حضرت محمد ﷺ کو اسی کام کے لیے چُنا گیا ۔ قرآن میں تین مقامات پر یہ اعلان کیا گیا : {ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ لا } (التوبہ:33) ’’وہی تو ہے جس نے بھیجا ہے اپنے رسول ؐکو الہدیٰ اور دین ِحق دے کر تا کہ غالب کردے اسے کل کے کل دین (نظامِ زندگی) پر۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی ﷺ کو مکمل نظام حیات دے کر بھیجا تاکہ اسے انسانی معاشروں میں نافذ اور قائم کردیں ۔ آپ ﷺ نے اپنی زندگی اس عظیم مشن کے لیے وقف کردی اور 23 سال کی جدوجہد کے بعد اللہ کے دین کو قائم و نافذ کرکے دکھایا ۔ ختم نبوت کے بعد یہ اس اُمت کی ذمہ داری ہے کہ وہ دین کو قائم کرے اور اسی مقصد کے لیے اس اُمت کو چنا گیا ہے۔ اگر اُ مت اس فریضہ کو ادا کرے گی تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کی مدد فرمائے گا ۔ فرمایا :
{وَلَیَنْصُرَنَّ اللہُ مَنْ یَّنْصُرُہٗ ط} (سورۃ الحج:40) 
’’اور اللہ لازماً اُس کی مدد کرے گا جو اُس (کے دین کی مدد کرے گا۔‘‘
آج ہم محتاج ہیں، مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں، ملک سخت ترین سودی شکنجے میں جکڑا ہوا ہے ، ہمارے بجٹ کا 43 فیصد سود کی مد میں جارہا ہے ۔ ماہرین کاکہنا ہے کہ اگر یہی سلسلہ چلتا رہا تو اگلے چند سالوں میں ہمارے بجٹ کا 90 فیصد سود کی ادائیگی پر خرچ ہوگا ۔ گویا بحیثیت قوم ہم سخت مشکل میں پھنسے ہوئے ہیں ۔اخلاقی زوال اپنی انتہاؤں کو پہنچ چکا ہے ، روز لاشیں اُٹھا رہے ہیں ،  بچوں اور عورتوں کے ساتھ جنسی درندگی کے روز واقعات ہورہے ہیں ، معاشرے کا بیڑا غرق ہے ، تعلیمی نظام تباہ ہو چکا ہے لیکن اللہ کہتا ہے کہ میرے لیے کوئی مشکل نہیں ہے ۔ تم میرے دین کی مدد کرو میں ضرور تمہاری مدد کروں گااور تمہارے قدموں کو جما دوں گا ۔ معلوم ہوا کہ مسئلہ دین میں نہیں ہے بلکہ ہمارے یقین اور عمل میں ہے ۔ سورۃ آل عمران 160میں فرمایا :{اِنْ یَّـنْصُرْکُمُ اللہُ فَلَا غَالِبَ لَـکُمْ ج وَاِنْ یَّخْذُلْـکُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِیْ یَّـنْصُرُکُمْ مِّنْ م   بَعْدِہٖ ط}’’(اے مسلمانو! دیکھو) اگر اللہ تمہاری مدد کرے گا تو کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا۔اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے (تمہاری مدد سے دست کش ہو جائے) تو کون ہے جو تمہاری مدد کرے گا اس کے بعد؟‘‘ 
ہمیں کہیں پناہ نہیں مل سکتی سوائے اللہ کی کامل اطاعت کے ۔ سورۃ المائدہ کی آیت 66 میں سابقہ مسلمان اُمت کے متعلق فرمایا :
{وَلَـوْ اَنَّـہُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىۃَ وَالْاِنْجِیْلَ وَمَـآ اُنْزِلَ اِلَـیْہِمْ مِّنْ رَّبِّہِمْ لَاَکَلُوْا مِنْ فَوْقِہِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِہِمْ ط}’’اور اگر انہوں نے قائم کیا ہوتا تورات کو اور انجیل کو اور اس کو جو کچھ نازل کیا گیا تھا ان پر اِن کے رب کی طرف سے‘تو یہ کھاتے اپنے اوپر سے بھی اور اپنے قدموں کے نیچے سے بھی۔‘‘
اللہ آسمان سے بھی برکتیں عطا فرما دیتا، اللہ زمین سے بھی خزانوں کو کھول دیتا، اللہ کے لیے کچھ مشکل نہیں۔حدیث قدسی کے الفاظ ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے : اگر تمام انسان اور جنات ایک میدان میں کھڑے ہو کر مجھ سے مانگیں اور میں ہر ایک کو اس کی مانگی ہوئی چیز عطا کر دوں، تب بھی میرے خزانے میں اتنی بھی کمی نہیں ہو گی جتنی سوئی سمندر میں ڈبونے سے اس کے پانی میں ہوتی ہے۔
اللہ کے لیےکوئی مشکل نہیں ہے ، وہ آج بھی اس اُمت کو بہت کچھ عطا کرسکتاہے ، دنیا میں دوبارہ عروج اور غلبہ عطا کرسکتاہے ۔ مسئلہ ہمارا اپنا ہے کہ ہمیں شاید اللہ پر یقین اور توکل نہیں رہا کہ ہم اس کے دین کے لیے کھڑے نہیں ہورہے ۔ 
بتوں سے تجھ کو امیدیں، خدا سے نومیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے!
 4۔ اختلافی نقطۂ نظر اور اسلاف کا عمل 
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ غلبۂ دین کی جدوجہدیا خلافت کے قیام کی بات کرنا دور حاضر کے بعض سکالرز کا مسئلہ ہے ، اس سے قبل دین میں ایسے کسی فریضہ کا ذکر نہیں تھا ۔ بعض نے کہا علامہ اقبالؒ کو بیٹھے بٹھائے خیال آگیا اور انہوں نے کہہ دیا ؎
سروری زیبا فقط اس ذاتِ ہمتا کو ہے
حکمراں ہے اک وہی باقی بتانِ آذری
علامہ اقبال نے خواب دیکھا کہ ایک ایسا خطۂ ارضی ہو جہاں ہم اسلام کو نافذ کرکے اس کا ایک عملی نمونہ دنیا کو دکھا سکیں ۔ بعض کہتے ہیں کہ مولانا مودودیؒ کو کیا سوجھی کہ انہوں نے حکومتِ الٰہی کی بات کردی ۔ سید قطب شہید  ؒ  کو کہاں سے خیال آگیا اسلامی نظام ہونا چاہیے ، پھر اسی جدوجہد میں وہ شہید بھی ہوگئے ۔ یوسف القرضاوی صاحبؒ کو پتا نہیں کیا ہو گیا کہ وہ بھی جذباتی ہو کر نفاذِ دین اور تکبیررب کی باتیں کرنے لگے ۔ اسی طرح ڈاکٹر اسراراحمدؒ کو پتا نہیں کہاں سےخیال آگیا کہ غلبۂ دین کی جدوجہد ہر مسلمان کا فریضہ ہے ۔ کچھ جد ت پسند کہلوانے کے شوقین لوگ اس طرح کی بحثیں سوشل میڈیا پر آج کر رہے ہیں ۔ اسی طرح کچھ ملحدین اور دین میں بگاڑ پیدا کرنے والے بھی طرح طرح کی گمراہیاں اور غلط فہمیاں پھیلا رہے ہیں ۔ دینی طبقات میں سے بھی بعض لوگ ایسے ہیں جنہوں نے دین کے تصور کو اس قدر محدود کرلیا ہے کہ اب ان کے نزدیک بھی اقامت ِدین کی جدوجہد ایک اجنبی سی بات لگتی ہے ۔ ان کی ساری بحثوں کا محور و مرکز چند فقہی مسائل اور مباحث ہیں ۔ جبکہ اقامت ِدین کی جدوجہد جو کہ نبی ﷺ کی 23 برس کی متواتر سنت ہے ، اس کو فراموش کیے بیٹھے ہیں ۔ اگر کوئی اس کی بات کرتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ نیا دین پیش کررہا ہے۔ اسی طرح کچھ دینی لوگ کہتے ہیں کہ خلافت کی بات مت کرو ، مسئلہ پیدا ہوجائے گا ۔ حالانکہ خلافت کے الفاظ اور اس کے قیام کے تقاضے قرآن میں بیان ہوئے ہیں ۔ کیا قرآن سے وہ آیات نکال دی جائیں ؟کیا قرآن پڑھنا چھوڑ دیں ۔ معاذ اللہ۔ ساڑھے14صدیوں سے اُمت اقامت ِدین کی جدوجہد کو دینی فریضہ سمجھتی آئی ہے ۔ اگر آج ہم میں بگاڑ پیدا ہو گیا، داعش جیسے فتنے اُٹھ کھڑے ہوئے جنہوں نے خلافت کے لفظ کو بدنام کردیا تو ضرورت اس بگاڑ کو دور کرنے کی ہے ، نہ ہم قرآن اور خلافت کو ہی چھوڑ دیں ۔ 
ہمارے پیغمبر ﷺ کا لہو تو اسی جدوجہد میں طائف کی گلیوں میں بہا ، اُحد کے میدان میں بہا ، اپنے 259 صحابہ کرام ؓ کی جانوں کے نذرانے پیش کیے ، تب جاکر اللہ کا دین جزیرۃ العرب میں قائم ہوا ۔ ہم روزِ محشر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو کیا جواب دیں گے کہ ہم نے دین کے لیے کیا کیا ؟ آئیے اس موضوع پر اسلاف کا موقف جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔ 
امام قرطبی ؒ بہت بڑے مفسر ہیں ۔ اپنی کتاب الجامع الاحکام القرآن میں سورۃ البقرہ کی آیت 30   { اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً ط}کی تشریح میں فرماتے ہیں :
(هذه الآية أصل في نصب إمام وخليفة يسمع له ويطاع، لتجتمع به الكلمة، وتنفذ به أحكام الخليفة... ولا خلاف فی وجوب ذلک بین الامۃ وبین الائمہ)’’یہ آیت امام اور خلیفہ  کے تقرر کے بارے میں قاعدہ( کلیہ )کی حیثیت رکھتی ہے، ایسا امام کہ جس کی بات سنی جائے اور اس کی اطاعت کی جائے۔ ‘‘
آج امامت کا تصور صرف نماز تک محدود کرلیا گیااور اُمت کے 57 ٹکڑے کرلیے گئے حالانکہ اسلاف کے مطابق اُمت کا ایک امام ہونا چاہیے جس کامعروف کے دائرہ میں حکم پوری اُمت مانے اور اس پر عمل کرے تاکہ اُمت کی مرکزیت اور اجتماعیت برقرار رہے ۔ امام قرطبی فرماتے ہیں کہ : نصبِ امامت کے فرض ہونے میں امت اور اماموں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔ 
اسی طرح  شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ اپنی کتاب مجموع فتاویٰ میں فرماتے ہیں :
(يجب أن يعرف أن ولاية أمر الناس من أعظم واجبات الدين ، لا قيام للدين ولا للدنيا إلا بها) ’’یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ لوگوں کے معاملات کا اختیار سنبھالنا (امامت ، خلافت)عظیم ترین دینی فرائض میں سے ایک ہے، درحقیقت اس کے بغیر نہ تو دین قائم رہ سکتا ہے اور نہ ہی دنیاوی زندگی۔‘‘
اکثر فقہاء کے نزدیک واجب اور فرض ایک ہی چیز ہے ۔ احناف کے ہاں فرض اورواجب میں تھوڑا سا فرق ہے تاہم وہ بھی زیادہ فرق نہیں سمجھتے ۔امام ابن تیمیہ ؒ کے نزدیک خلافت کے قیام کی جدوجہد عظیم ترین واجبات میں سے ایک ہے کیونکہ اس کے بغیر نہ دین قائم ہو سکتا ہے اور نہ دنیا کی اصلاح ممکن ہے۔ 
امام غزالی ؒ اپنی کتاب الاقتصاد فی الاعتقاد  میں اپنا موقف یوں بیان کرتے ہیں :
(فالدين أصل والسلطان حارس ، وما لا أصل له فمهدوم ، وما لا حارس له فضائع) ’’مذہب اور اختیار جڑواں چیزیں ہیں۔ مذہب ایک بنیاد ہے اور اختیار ایک نگہبان ہے۔ جس کی کوئی بنیاد نہیں وہ فنا ہو جاتی ہے اور جس کا کوئی سرپرست نہیں ہوتا وہ ضائع ہو جاتا ہے۔‘‘
دین اپنا نفاذ چاہتا ہے اور نفاذ کے لیے حکومت کا ہونا بہت ضروری ہے ۔ اس لحاظ سے دین کو حکومت سے الگ نہیں کیا جاسکتا ۔ اگر خلافت نہیں ہوگی تو دین کیسے غالب ہوگا ۔ 
اسی طرح امام الماوردی ؒ اپنی کتاب الاحکام السلطانیۃ ولولایۃ دینیۃمیں فرماتے ہیں :(الْإِمَامَةُ١: مَوْضُوعَةٌ لِخِلَافَةِ النُّبُوَّةِ فِي حِرَاسَةِ الدِّينِ وَسِيَاسَةِ الدُّنْيَا)’’امامت کا قیام نبوت کے جانشین کے طور پر دین کی حفاظت اور دنیاوی امور کے انتظام و انصرام کے لیے عمل میں لایا گیا ہے۔‘‘
اللہ کے رسولﷺ نے دین صرف پڑھایا ، سکھایا نہیں ہے بلکہ عملی طور پر قائم کرکے دیا ہے ۔ امامت یا خلافت کا نظام ہوگا تو دین قائم اور نافذ ہوگا اور دین کی حفاظت بھی ہو گی ۔ معلوم ہوا کہ امامت و خلافت کا نظام نبوت کا قائم مقام اور جانشین ہے ۔
اسلاف میں سے ابن خلدون بہت بڑے اور نامور مورخ اور مفکر ہیں ۔ وہ مقدمہ ابن خلدون میں فرماتے ہیں :
(والخلافة هي حمل الكافة على مقتضى النظر الشرعي في مصالحهم الأخروية والدنيوية الراجعة إليها)’’خلافت اور اقامتِ دین کا مقصد تمام لوگوں کو شرعی احکام کے مطابق چلانا ہے تاکہ ان کی دنیا کی اصلاح ہو اور آخرت کی فلاح ممکن ہو سکے۔‘‘
امام رازی ؒ سورۃالمائدہ کی آیت 38 {وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُ فَاقْطَعُوْٓا اَیْدِیَہُمَا}’’اور چور خواہ مرد ہو یا عورت‘ ان دونوں کے ہاتھ کاٹ دو‘‘کے ذیل میں فرماتے ہیں :(احتج المتکلمون بھذا الایۃفی انہ یجب علی الامتی ان ینصبوا لانفسھم اماما معینا)’’اس آیت کی رو سے اُمت پر فرض ہے کہ وہ اپنا ایک امام (حاکم ، خلیفہ ) مقرر کرے تاکہ وہ ان سزاؤں کو نافذ کر سکے ۔ ورنہ چور کا ہاتھ کون کاٹے گا ؟ اس کا حکم کون دے گا ؟‘‘
شاہ ولی اللہ ؒ اپنی کتاب  ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاءمیں فرماتے ہیں : ’’خدا تعالیٰ نے جہاد کو، قضا کو، علومِ دینیہ کے زندہ رکھنے کو، ارکانِ اسلام کے قائم کرنے کو فرض قرار دیا ہے، اور یہ تمام امور امام مقرر کیے بغیر، خلیفہ مقرر کیے بغیر صورت پذیر نہیں ہو سکتے ۔ ‘‘ مولانا مودودیؒ نے لکھا: ’’قرآن کہتا ہے کہ چور کو سزا دینی ہے، قاتل کو سزا دینی ہے، تویہ سزا کون دے گا ؟ اس کا حکم دینے کا اختیار کس کے پاس ہو گا جب تک کہ ہم خلافت کا نظام قائم نہیں کریں گے ۔ ‘‘
اسلاف کی یہ آراء یہ ثابت کرتی ہیں کہ اقامت دین کی جدوجہد کو اسلام کی 14 سو سالہ تاریخ میں فرض سمجھا جاتا رہا ہے ۔ آج مغربی افکار و نظریات کے زیر ِاثر بعض  لوگوں کے نزدیک یہ اجنبی باتیں ہیں حالانکہ وہ خود لاعلم ہیں ۔ مغربی افکار کے زیر ِاثر بعض لوگ کہتے ہیں کہ مذہب کا ریاست سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے ۔ اس کے جواب میں مفتی تقی عثمانی صاحبؒ اور مفتی منیب الرحمن صاحبؒ نے بہت عمدہ آرٹیکلز لکھے ہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں حکم دیتا ہے : 
{وَاَمْرُہُمْ شُوْرٰی بَیْنَہُمْ ص} (الشوریٰ:38) ’’اور ان کا کام آپس میں مشورے سے ہوتا ہے۔‘‘
اب جو لوگ کہتے ہیں کہ مذہب کا ریاست سے کوئی تعلق نہیں تو وہ اس آیت کو کہاں لے کر جائیں گے ۔ یہاں اللہ تعالیٰ حکم دے رہا ہے کہ مسلمانوں کے مشورے سے اجتماعی (سیاسی ، معاشی اور معاشرتی ) نظام قائم ہونا چاہیے اور اجتماعی معاملات حل ہونے چاہئیں تو اس کا مطلب ہے کہ لوگوں کے دین کے مطابق اجتماعی نظام قائم  ہو نا چاہیے ۔ لہٰذا ڈاکٹر اسراراحمدؒ نےیا مولانا مودودی ؒ نے یا علامہ یوسف القرضاوی ؒ نے اپنی طرف سے کوئی نیا فلسفہ ایجاد نہیں کر لیا بلکہ اقامت ِدین کی جدوجہد اسلاف کے نزدیک بھی فرض تھی ۔ دین کا اصول ہے کہ (ما لا یتم الواجب الا بہ فھو واجب)’’کسی فرض اور واجب کو ادا کرنے سے پہلے اگر کوئی شرط ہےتو وہ بھی فرض شمار ہوگی ۔ نماز ادا کرنے کے لیے وضو شرط ہے ، لہٰذا وضو کرنا بھی فرائض میں شمار ہوگا ۔ اسی طرح زکوٰہ وصول کرنی ہے ، چور کو سزا دینی ہے ، قاتل سے قصاص لینا ہے تو اس کے لیے امام یا خلیفہ کا مقرر کیا جانا بھی فرض ہے ۔ 
سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ قرآن نبی مکرم حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوا ،آپﷺ نے صرف نمازیں نہیں پڑھیں پڑھائیں، صرف انفرادی اصلاح پر زور نہیں دیا بلکہ اجتماعی سطح پر اسلام کو بطور نظام قائم کیا ، اس کے لیے جنگیں لڑیں ، جہاد کیا ، پیٹ پر پتھر باندھے ، طائف اور احد میں اپنا لہو پیش کیا ، اپنے صحابہؓ کی جانوں کے نذرانے پیش کیے ۔ کیا یہ سب ہمارے لیے حجت نہیں ہے ؟کیا آپ ﷺ سے بڑھ کر قرآن کی کسی کو سمجھ ہے ؟ اقبال نے کیا خوب کہا ؎
کی محمدؐ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
 یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
آج ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اللہ کے دین سے دور ہیں، اللہ کا دین اجتماعی سطح پر یا مکمل طور پر نافذ نہیں ۔ یہی پاکستانیوں کا بھی مسئلہ ہے۔ 14 اگست کو ہم باجے  بجائیں گے، سڑکیں بلاک کریں گے، آتش بازی ریاستی ادارے کر رہے ہیں لیکن جس مقصد کے لیے یہ ملک حاصل کیا گیا تھا وہ کسی کو یاد نہیں ہے ۔ سب سے اہم دینی فریضہ کو ہم بھلا بیٹھے ، اسی وجہ سے آج اللہ کی مدد ہمارے شامل حال نہیں ہے ، ملک سودی قرضوں میں جکڑا ہوا ہے ، ہر شہر میں قتل و غارت گری اپنے عروج پر ہے ، بچے اور بچیاں قتل ہورہی ہیں ، کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔ ایک طرف مہنگائی اور غربت کی وجہ سے غریب خود کشیاں کر رہے ہیں اور دوسری طرف اشرافیہ کی عیاشیاں بڑھتی چلی جارہی ہیں ، لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔سو د ، فحاشی ، بے حیائی ، اخلاقی زوال اپنے عروج پر ہے ۔ کیا لاکھوں لوگوں نے پاکستان کی طرف اسی لیے ہجرت کی تھی ؟ کیا ہمارے اسلاف نے اس لیے قربانیاں پیش کی تھیں ؟ 
یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے 
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات 
راہِ نجات اسی میں ہے کہ ہم دین کی طرف لوٹیں، فرقہ پرستی اور مسلک پرستی سےنکلیں اور دین کے اجتماعی نظام کو قائم کرنے کی جدوجہد کریں ۔ یہ ہم سب پر فرض ہے۔ اگر ہم اس فرض کو ادا کریں گے تو اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی ہماری مدد کرے گا اورآخرت میں بھی ہم نجات پائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین !