(اداریہ) حُبِ رسول ﷺ کے تقاضےاوربیداریٔ اُمَّت - رضا ء الحق

13 /

اداریہ


رضاء الحق


حُبِ رسول ﷺ کے تقاضےاوربیداریٔ اُمَّت


12 ربیع الاوّل ہمارے ملک سمیت بیشتر مسلم ممالک میں میلاد النبی ﷺ کے یوم کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر ایک بنیادی حقیقت ہمارے پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ نبی اکرم ﷺ کا وصال 12ربیع الاول کو ہوا، جبکہ آپ ﷺ کی تاریخِ ولادت کے بارے میں اہلِ علم کے ہاں متعدد اقوال پائے جاتے ہیں۔ چنانچہ تاریخِ ولادت کے قطعی تعین کے معاملے میں احتیاط ہی مناسب طرزِ عمل ہے۔ تاہم اس حقیقت میں کوئی کلام ہو ہی نہیں سکتا کہ رسول اللہ ﷺ سے محبت ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ خود رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اُس کے لیے اُس کے باپ، اُس کے بیٹے اور تمام انسانوں سے محبوب تر نہ ہو جاؤں۔‘‘ (متفق علیہ)
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ حُبِ رسول ﷺ کی حقیقت کیا ہے اور اس کے عملی تقاضے کیا ہیں؟ قرآن مجید نے ایمان کی بنیاد ہی اللہ تعالیٰ کی محبت کو قرار دیا ہے۔ سورۃ البقرۃ کی آیت 165 میں ارشاد ہے: (ترجمہ) ’’اور جو لوگ واقعتاً صاحب ِایمان ہوتے ہیں ،اُن کی شدید ترین محبت اللہ کے ساتھ ہوتی ہے۔‘‘ گویا حقیقی ایمان محض زبانی دعوے کا نام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی محبت کو زندگی کا مرکز بنانے کا تقاضا کرتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے بعد انسانوں میں سب سے بڑھ کر جس ہستی سے محبت ایمان کا لازمی تقاضا ہے، وہ نبی اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس ہے۔ جب تک رسول اللہ ﷺ انسانوں میں سب سے بڑھ کر محبوب نہ ہوں، ایمان کا دعویٰ اپنے مطلوبہ معیار تک نہیں پہنچتا۔ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو انسانیت کے لیے بہترین نمونہ بنا کر مبعوث فرمایا اور قرآن نے آپﷺ کے اِس مقام کوسورۃ الاحزاب کی آیت 21 میں یوں واضح کیا: (ترجمہ) ’’یقیناً تمہارے لیے اللہ کے رسولﷺ (کے اسوۂ میں) بہترین نمونہ ہے۔‘‘ چنانچہ محبتِ رسول ﷺ کا سب سے بڑا عملی تقاضا اتباعِ رسولﷺ ہے۔ محبت اگر انسان کے کردار، معاملات، اخلاق اور طرزِ زندگی میں تبدیلی پیدا نہ کرے تو وہ محض ایک جذباتی دعویٰ بن کر رہ جاتی ہے ۔رسول اللہ ﷺ سے محبت کے اظہار کا ایک اہم ذریعہ کثرت سے آپ ﷺ پر درود و سلام بھیجنا بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ سورۃ الاحزاب کی آیت 56میں فرماتا ہے: (ترجمہ) ’’یقیناً اللہ اور اس کے فرشتے نبی ﷺ پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی اُن ﷺپر درود و سلام بھیجا کرو۔‘‘ لیکن کیا صرف درود و سلام پڑھ لینے سے محبتِ رسول ﷺ کے تمام تقاضے پورے ہوجاتے ہیں؟ درود و سلام محبت کا عظیم اظہار ہے، مگر اِس محبت کی تکمیل اتباعِ رسول ﷺ، آپ ﷺ کی سنت سے وابستگی، آپ ﷺ کے لائے ہوئے دین سے وفاداری اور آپ ﷺ کے اسوۂ حسنہ کو اپنی زندگی میں اختیار کرنے سے ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ اس محبت کی سب سے روشن مثال ہیں۔ اُن کے ہاں حُبِ رسول ﷺ الفاظ اور جذبات سے آگے بڑھ کر اطاعت، وفاداری، قربانی اور عمل کا دوسرا نام تھی۔ نبی اکرمﷺ نے اپنی سنت اور خلفائے راشدینj کی سنت کو مضبوطی سے تھامنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا: ’’تم پر لازم ہے کہ میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدینؓ کی سنت کو مضبوطی سے پکڑے رکھو۔‘‘ (سنن ترمذی) اسی لیے محبتِ رسول ﷺ کا حقیقی نمونہ دیکھنے کے لیے صحابہ کرامj کی زندگیوں کا مطالعہ ضروری ہے۔ اُنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے محبت کی تو آپ ﷺ کے مشن سے بھی پوری وفاداری کے ساتھ وابستہ ہوگئے۔ آپﷺ جو دین لے کر آئے تھے، اُس کی سربلندی اُن کی زندگی کا مقصد بن گئی۔ توحید کا پیغام عام کرنا، اسلام کی دعوت پہنچانا، حق کے لیے قربانی دینا اور اللہ کے دین کے ساتھ وفاداری نبھانا اُسے قائم و نافذ
کرنے کی جدوجہد کرنا اُن کے معمولاتِ زندگی کا حصّہ بن گیا۔ وہ اپنی ذات سے بلند ہوکر ایک عظیم مقصد کے لیے جیتے اور جان دیتے تھے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں آج کے مسلمان کو اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ ہم محبتِ رسولﷺ کا دعویٰ تو کرتے ہیں، درود و سلام بھی پڑھتے ہیں، میلاد کی محافل بھی منعقد کرتے ہیں اور نعتیہ کلام کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار بھی کرتے ہیں جو اہم عبادات ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہماری محبت ہمارے کردار میں بھی دکھائی دیتی ہے؟ کیا ہمارے معاملات سُنتِ رسول ﷺ کے مطابق ہیں؟ کیا ہمارے باہمی تعلقات، اخلاق، معیشت، سیاست اور معاشرت میں اُسوۂ رسول ﷺ کی جھلک نظر آتی ہے؟ کیا ہم اُس دین کے ساتھ اُسی درجے کی وفاداری رکھتے ہیں جسے رسول اللہﷺ نے اپنی پوری زندگی کی روشن ترین مثال سے دنیا تک پہنچایا؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ آج اُمَّتِ مُسلمہ دنیا کے مختلف حصّوں میں کمزوری، انتشار، مظلومیت اور مغلوبیت سے دوچار ہے۔ غزہ، کشمیر، لبنان، شام، سوڈان، صومالیہ اور میانمار سمیت کئی خطوں میں مسلمان مصائب کا شکار ہیں۔ دوسری طرف اسلام کے خلاف پروپیگنڈے کے باوجود دنیا کے مختلف معاشروں میں قرآن مجید اور سیرتِ نبوی ﷺ کے مطالعے کی طرف توجہ بھی بڑھ رہی ہے۔ مسلمانوں کی آبادی دنیا کی مجموعی آبادی کا تقریباً ایک چوتھائی ہے، لیکن اتنی بڑی انسانی قوت کے باوجود اُمّت اپنے اجتماعی مسائل کے حل کے لیے وہ کردار ادا نہیں کرپارہی جس کی اس سے توقع کی جاتی ہے۔ اِس کمزوری کا سبب صرف بیرونی سازشیں نہیں۔ بیرونی قوتیں یقیناً اپنے مفادات کے لیے مسلمانوں کے درمیان اختلافات سے فائدہ اٹھاتی ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ اُنہیں یہ مواقع ملتے کہاں سے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ فرقہ واریت، قومیت، لسانیت، علاقائی تعصبات اور ذاتی و گروہی مفادات نے اُمّت کو اندر سے اِس قدر تقسیم کردیا ہے کہ اجتماعی قوت کا اظہار مشکل ہوگیا ہے۔ ہم دشمن کی سازش کا ذکر تو بہت کرتے ہیں، مگر اپنے داخلی انتشار کا احتساب کم ہی کرتے ہیں۔
قرآن مجید نے اہلِ ایمان کو باہمی اخوت کا درس دیا ہے۔ سورۃ الحجرات کی آیت 10میں فرمایا: (ترجمہ) ’’بے شک تمام مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں۔‘‘ اگر محبت ِ رسول ﷺ ہمارے ایمان کا لازمی تقاضا ہے تو پھر آپﷺ کی تعلیمات میں موجود اُمّت کی وحدت، اخوت اور باہمی تعاون بھی ہماری ترجیحات کا حصّہ ہونا چاہیے۔ نبی اکرم ﷺ نے مسلمانوں کو ایک جسم کی مانند قرار دیا۔ اِس لیے اُمّت کی قوت محض تعداد میں نہیں بلکہ اتحاد، نظم، باہمی اعتماد اور مشترکہ مفادات کے تحفظ میں ہے۔
اسی تناظر میں حالیہ دنوں مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ ایک اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ تینوں ممالک کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے کی بنیادی روح یہ ہے کہ کسی ایک فریق پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا۔ اگرچہ معاہدے میں کسی ملک کو دشمن قرار نہیں دیا گیا، تاہم خطے کی موجودہ سیاسی اور تزویراتی صورتِ حال کے باعث اس کی اہمیت غیر معمولی ہے۔
البتہ معاہدے کے اعلان کے بعد یہ سوال بھی سامنے آیا ہے کہ کیا یہ دفاعی بندوبست ایران کے خلاف تو نہیں بنایا گیا۔ پھر یہ کہ ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل جو ہر گزرتے دن کے ساتھ ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے ابلیسی منصوبے کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ غزہ پر وحشیانہ حملے اور مسلمانوں کی نسل کُشی جاری ہے، مسجدِاقصیٰ پر صہیونیوں کے پے درپے حملے جاری ہیں۔ مذموم صہیونی منصوبوں کا تازہ ترین اندوہناک مظہر یہودیوں کو قبلۂ اوّل کے احاطے میں عبادت کی اجازت دینا ہے۔ لبنان اور شام میں ترکیہ کی افواج پر حملے کروائے گئے۔ پھر یہ کہ نیتن یاہو گریٹر اسرائیل کے دجالی منصوبے کو اپنا ’تاریخی‘ اور ’روحانی‘ مشن قرار دیتا ہے اور ٹرمپ ابراہم اکارڈز کے ابلیسی جھنڈے تلے مسلمان ممالک کو اسرائیل کو تسلیم کروانے کی مہم کو توسیع دینے کا مسلسل اعلان کر رہا ہے۔ کیا سہ ملکی مشترکہ دفاعی معاہدہ اِن ریشہ دوانیوں کے خلاف بھی کوئی عملی قدم اُٹھائے گا؟ یہ بڑے سوالیہ نشان ہیں۔
اس معاملے کا ایک دوسرا قابلِ غور پہلو امریکی ردِعمل بھی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مکہ مکرمہ کے اِس مشترکہ دفاعی معاہدے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اِسے ایک بڑا اور اہم قدم قرار دیا اور کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ متحد ہورہا ہے اور اپنی دفاعی صلاحیت میں اضافہ کررہا ہے۔ تاہم یہاں بھی ہمیں جذباتی خوشی کے بجائے دور اندیشی سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ کسی دفاعی معاہدے کے فی الوقت کسی فریق کے لیے قابلِ قبول ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ بدلتے ہوئے حالات میں اِس کے اثرات بھی ہمیشہ یکساں رہیں گے۔ بین الاقوامی سیاست میں دوستیاں اور ترجیحات مستقل نہیں ہوتیں؛ ریاستیں اپنے مفادات کے تحت پالیسیاں تبدیل کرتی رہتی ہیں۔ جو طاقت آج کسی اقدام کو سراہ رہی ہو، ضروری نہیں کہ کل بھی اس کے نتائج کو اسی نظر سے دیکھے۔اس لیے کسی بھی علاقائی یا دفاعی پیش رفت کو اُمّتِ مُسلمہ کے وسیع تر مفاد، قومی خودمختاری، باہمی اعتماد اور طویل المدت حکمتِ عملی کی کسوٹی پر پرکھنا چاہیے۔ یہی دراصل اُسوۂ رسول ﷺ کا تقاضا بھی ہے۔نبی اکرم ﷺ نے فتوحات اورکامیابیوں کے مواقع پرتکبر یا خودنمائی کا راستہ اختیارنہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور شکر کا رویہ اپنایا۔ فتح مکہ کے موقع پر آپﷺ کی عاجزی اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ کامیابی بھی بندے کو اپنے رب کے سامنے مزید جھکانے والی ہونی چاہیے۔
آج ربیع الاوّل کے مہینے میں اگر ہم واقعی محبت ِ رسول ﷺ کا کسی درجہ میں حق ادا کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے جذبات کو عمل سے جوڑنا ہوگا۔ ہمیں اپنی زندگیوں میں سُنتِ رسول ﷺ کو مرکزی جگہ دینی ہوگی، باہمی اختلافات اور تعصبات سے اوپر اٹھنا ہوگا، اُمّت کی وحدت کو ترجیح دینا ہوگی۔ محبتِ رسول ﷺ صرف زبان کا دعویٰ نہیں؛ یہ زندگی بدل دینے والا عہد ہے۔ یہ محبت انسان کواطاعتِ رسولﷺ سکھاتی ہے، سنت سے وابستہ کرتی ہے، اخلاق سنوارتی ہے، مظلوم کے درد کو محسوس کرنا سکھاتی ہے، اُمّت کے دکھ کو اپنا دکھ بناتی ہے اور مسلمانوں کو باہمی اخوت و اتحاد اور اللہ کی زمین پر اللہ کے نظام کے نفاذ کی طرف لے جاتی ہے۔ اِس کو اللہ تعالیٰ اپنی اطاعت قرار دیتا ہے۔ آج اُمّتِ مُسلمہ کو اسی حقیقی محبت کی ضرورت ہے۔ اللہ کی بندگی کو خود اختیار کرنا، اللہ کی بندگی والے نظام کی دعوت دوسروں تک پہنچانا اور اللہ کی بندگی والے نظام کے قیام و نفاذ کی جدوجہد میں بھرپور حصّہ لینا… یہی محبت ِ رسول ﷺ کا حقیقی تقاضا ہے اور یہی ہماری موجودہ حالتِ زار سے نکلنے کی پہلی سیڑھی بھی ہے!