الہدیٰ
اللہ تعالیٰ تمام تعرف، شکر اور قدرت کا مالک ِ حقیقی ہے
آیت 25 {وَلَئِنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ ط}’’اور (اے نبیﷺ!) اگر آپ اُن سے پوچھیں کہ کس نے پیدا کیا ہے آسمانوں اور زمین کو تو ضرور کہیں گے کہ اللہ نے!‘‘
{قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ ط بَلْ اَکْثَرُہُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ(25)}’’آپؐ کہیے کہ سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں ‘لیکن ان کی اکثریت علم نہیں رکھتی۔‘‘
آیت 26 {لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط} ’’ اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔‘‘
لفظ اللہ کے ساتھ یہاں ’’لامِ تملیک‘‘ آیا ہے۔ یعنی آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ کی ملکیت ہے۔
{اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ(26)}’’یقیناً اللہ ہی غنی ہے‘ بہت خوبیوں والا۔‘‘
وہ بے نیاز ہے‘ اُسے کوئی احتیاج نہیں‘ وہ خود اپنی ذات میں ستودہ صفات ہے۔
درس حدیث
’’…تب اللہ تمہاری دُعائیں قبول نہیں کرے گا‘‘
عَنْ حُذَیْفَۃَ ابْنِ الْیَمَانِ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ:((وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَتَاْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَلَتَنْھَوُنَّ عَنِ الْمُنْکَرِ اَوْلَیُوْشِکَنَّ اللّٰہُ اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْکُمْ عِقَابًا مِّنْہُ ثُمَّ تَدْعُوْنَہٗ فَلَا یُسْتَجَابُ لَکُمْ))(رواہ الترمذی)
حضرت حذیفہ ؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیںکہ آپؐ نے فرمایا : ’’مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ (اے مسلمانو!) تم لازماً حکم دو گے معروف کا اور لازماً روکو گے منکر سے۔ (اگر تم نے ایسا نہ کیا) تو اللہ تعالیٰ تم پر اپنی طرف سے لازماً عذاب نازل کرے گا اور پھر تم اس کو پکارو گے لیکن وہ تمہاری دعائیں قبول نہیں کرے گا۔‘‘
تشریح: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ جب تک لوگ انجام دیتے رہیں گے، اُس وقت تک ان پر عمومی عذاب نہیں آئے گا، اور جب لوگ اس فریضہ کو چھوڑ بیٹھیں گے اُس وقت رب العالمین کا اُن پر ایسا عذاب آئے گا کہ اس کے بعد پھر ان کی دعائیں نہیں سنی جائیں گی،شارحین حدیث کے مطابق اگر ایک محدود علاقہ کے لوگ امربالمعروف اور نہی عن المنکر والے کام سے کلی طور پر رک جائیں تو صرف اُن پر بھی عام عذاب آ سکتا ہے۔واللہ اعلم!