(دین و دانش) روح کی حقیقی غذا ؟ - محمد خالد حمید

13 /


روح کی حقیقی غذا ؟

محمد خالد حمید

اللہ تعالیٰ تمام کائنات کا خالق ہے۔ اس کائنات میں انسان بھی اس کی پیدا کردہ مخلوق ہے۔ انسان ایک   حقیرجرثومہ سے معرض وجودمیںآیا ہے, اس جرثومہ میں بھی زندگی ہوتی ہے، جس کی وجہ سے وہ ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے انسان کی شکل پاتا ہے۔ اس ارتقائی عمل کے دوران ہی اللہ تعالیٰ اپنے حکم سے اُس میں روح پھونکتا ہے۔ روح ایک اعلیٰ وارفع اور نہایت ہی لطیف شے تصور کی جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق و مملوک ہے۔ روح کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے کسی کو بھی کسی قسم کا علم عطا کیا ہی نہیں۔ کوئی ذی روح اِس کا ادراک نہیں رکھتا۔ اِس لیے اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر تنبیہہ فرمائی ہے کہ اس کے بارے میں تجسس میں نہ پڑو۔
اللہ تعالیٰ نے دو قسم کی روحیں پیدا کی ہیں ایک طبعی روح اور دوسری ملکوتی روح۔ طبعی روح کو نفس بھی کہا جاتا ہے۔ طبعی روح انسان کے علاوہ تمام حیوانات و جاندار اور دیگر مخلوق میں بھی پائی جاتی ہے۔ نفس انسان میں مادیت سے محبت اور سفلی پن پیدا کرتا ہے۔ اس کے طبعی تقاضوں کی تکمیل اسی ارض خاکی سے ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ  نے نفس یعنی انسان کی مادی زندگی بر قرار رکھنے کے لیے زمین پر ہوا، پانی، اناج، پھل، حیوانات، چرند پرند وغیرہ پیدا فرما دیئے ، تاکہ انسان اپنی دنیوی زندگی احسن طریقے سے گزار سکے۔
دوسری قسم ملکوتی روح ہے جسے مطلقاً روح بھی کہتے ہیں، جو صرف انسان میں ہی خصوصی طور پر رکھی گئی ہے۔ یہی ملکوتی روح انسان میں علووار تقاء کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔ اِس روح کا تعلق عالم بالا سے ہے۔ یہ محبت و شفقت، جو دو کرم، صدق و عدالت اور ذکرالٰہی  وغیرہ سے آسودہ حال ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے جسم خاکی میں جو ملکوتی روح پھونکی، اس کے دوام کے لیے بھی ایک مستقل بندوبست فرمایا ہوا ہے۔ یعنی روح کو تازگی اور دوام بخشنے کے لیے ہر وقت ذکر الٰہی کرتے رہنے کا حکم دیا ہے، جو ملکوتی روح کے لیے غذا کی حیثیت رکھتا ہے، جس کی وجہ سے وہ نہ صرف تر و تازہ رہتی ہے بلکہ قلب انسان کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عبث پیدا نہیں فرمایا۔ وہ ذات خالق عظیم ہی نہیں بلکہ حکیم و بصیر بھی ہے۔ وہ ہر مخلوق کے مصرف کے بارے میں بہت بہتر جانتا ہے۔ جس کا ذکر قرآن پاک میں یوں فرمایا ہے: ’’میں نے نہیں پیدا کیا جنوں اور انسانوں کو مگر اپنی عبادت کے لیے ‘‘(الذاریات:56) اور عبادت کے بارے میں واضح ہے کہ اِس سے دلی سکون و اطمینان حاصل ہو گا۔ گویا کہ یاد الٰہی سے ہی انسان دلی و روحانی سکون پائے گا۔
انسان کو پیدا کر کے اللہ تعالیٰ نے یونہی نہیں چھوڑ دیا بلکہ اس کی ہمہ وقت رہبری و ہدایت کے لیے اپنے پیغمبر و رسول معبوث فرمائے جن پر مقدس کتب بھی نازل فرمائیں ،جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی پہچان کرائی، نفع و نقصان سے آگاہ کیا، نیکی بدی کے ثمرات سے روشناس کرایا۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کے جسم خاکی میں جو روح ملکوتی پھونکی وہ نہایت ہی لطیف شے ہے ۔ لہٰذا اس کی غذائیت کے لیے کوئی لطیف شے ہی ہونی چاہئے۔لہٰذا  اس کے تغذیہ کے لیے فرمایا کہ ہر وقت اُس کا ذکر پاک کرتے رہو۔ اللہ تعالیٰ کے ذکر پاک سے انسان کو جو حامل ملکوتی روح ہے تین فوائد حاصل ہوں گے:
1 ۔ انسان کی ملکوتی روح تر و تازہ رہے گی۔
2 ۔ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل ہو گی(یعنی اللہ تعالیٰ خوش و راضی ہو گا)۔
3 ۔ انسان جنت جیسے عظیم انعام سے نوازا جائے گا۔
اِن گزارشات کے برعکس کچھ لوگ وہ بھی ہیں جو موسیقی کو روح کی غذا کہتے ہیں۔ موسیقی روح کی غذا ہے یا نہیں؟ یا موسیقی کے فوائد و نقصانات پر بات کرنے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اسلام میں موسیقی کے حوالے سے کیا احکامات دئیے گئے ہیں۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میرے رب نے مجھ پر شراب ، جوئے، طبلہ اور باجے کو حرام قرار دیا ہے۔‘‘ (مسند احمد )
اسی طرح حضرت انس ؓ  سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:’’میری اُمّت کے لوگ جب چھ چیزوں کو حلال ٹھہرالیں گے تو وہ تباہ و برباد ہو جائیں گے (1) آپس میں لعن طعن (2) شراب (3) ریشم کا لباس (4) گانے بجانے والیاں (5)مردوں کی مردوں کے ساتھ اور (6) عورتوں کی عورتوں کے ساتھ بے حیائی (طبرانی) 
یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ نبی اکرمﷺ  جس چیز کو تباہی کا ذریعہ بتائیں، وہ انسان کی رُوحانی غذا کیسے ہو سکتی ہے؟ لہٰذا عقل کا تقاضا یہ ہے کہ روح کو تازگی و توانائی مہیا کرنے کے لیے (موسیقی کی غذا دینے کی بجائے) ذکر الٰہی سے تر و تازہ رکھا جائے۔
موسیقی سے انسان ااور اُس کی روح کو سکون ملنا ایسا ہی ہے جیسے نشہ آور چیز یا دوا کھانے سے کچھ دیر کے لیے انسان کا دماغ مائوف ہو کر سوچنے سمجھنے کی قوت سے محروم ہو جاتا ہے۔ موسیقی سے ملنے والا کیف جسے انسان سکون سمجھ لیتا ہے ایک عارضی کیفیت ہے ۔در حقیقت موسیقی ذہنی خلفشار کا باعث بنتی ہے۔موسیقی سے حاصل ہونے والے کیف سے اُس کی مضرت اور ضلالت حد درجہ زیادہ اور غالب ہے۔ 
حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کا قول ہے: ’’موسیقی دل میں نفاق پیدا کرتی ہے۔(بیہقی)
ایک دوسری روایت میں آپ ؓ ہی نے فرمایا: ’’گانا بجانا دل میں اس طرح نفاق پیدا کرتا ہے جیسے پانی کھیتی اگاتا ہے اور اللہ کا ذکر (دل میں) اس طرح ایمان پیدا کرتا ہے جیسے پانی تر کاری (سبزی) اگاتا ہے۔‘‘(مشکوٰۃ)
موسیقی روح پر وہی اثر رکھتی ہے جیسے شراب دماغ اور جسم پر کرتی ہے بلکہ سریلی آواز اور طبلے کی تھاپ کا نشہ بنت العنب (انگور کی شراب) کے نشے سے کہیں زیادہ مضر ہوتا ہے۔ حضرت جنید بغدادیؒ کا قول ہے کہ ’’جو شخص بقصد وارادہ موسیقی میں شرکت کرتا ہے، فتنہ میں پڑ جاتا ہے۔‘‘ 
موسیقی زند یقیوں کی ایجاد ہے۔ گانا بجانا فاسقوں کا عمل ہے ،جو اِسے عبادت کے ضمن میں بھی لیتے ہیں۔ موسیقی سے مسلمان قرآن سے دور ہوگیا ، قرآن پاک کو چھوڑ کر مسلمان گمراہی کی عمیق گہرایوں میں جا گرا ہے۔ موسیقی کا سننا، سنانا دوسری صدی ہجری کے اواخر میں ظاہر ہوا تھا۔ اس وقت کے آئمہ دین نے اس پر سخت  نا پسندیدگی اور ناراضی کا اظہار فرمایا تھا۔ فی زمانہ اس  ضمن میں اکثر لوگ جو موسیقی کے فن میں ملوث ہیں  رسول ِاکرمﷺ کے زمانے میں دف بجانے کو مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں جبکہ دف بجانا موسیقی کے ضمن میں نہیں آتا۔ موسیقی میں ساز و سارنگی کا اضافہ بہت بعد میں کیا گیا تھا جس سے با قاعدہ طور پر موسیقی پیدا کی گئی۔ جس کی تائید میں کوئی اللہ تعالیٰ کا ارشاد یا رسول ﷺ کا قول پیش نہیں کیا جا سکا اور نہ ہی کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح دیگر علماء و فقہاء نے بھی گانے بجانے اور اس کے سننے کو  سختی سے رد کیا ہے بلکہ اس عمل کو فاسقوں کا عمل قرار دیا ہے۔
موسیقی اسلام میں کبھی بھی رائج نہ تھی اور نہ ہی یہ ارکانِ اسلام میں شامل تھی، پھر یہ روح کی غذا کیونکر بنی۔ روح تو اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ پاک و لطیف شے ہے،  موسیقی مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لیے زبردستی روح کی غذا کے نام پر اسلام میں داخل کر دی گئی ہے۔ یہ مسلمانوں کے اخلاق کو نہ صرف تباہ و برباد کرنے کی منظم سازش ہے، بلکہ اسلام اور قرآن پاک سے متنفر کرتے ہوئے مسلمانوں کو فرقہ بندی کے ذریعے منتشر کر کے رکھ دیا گیا ہے۔ آج مسلمان اپنے مذہب اسلام کی اقدار کو چھوڑ کر غیر اسلامی رسم و رواج میں پڑ گیا ہے، جس کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت، فضل و کرم اور نعمتوں سے محروم ہوتا جا رہا ہے جو نہ صرف دنیا میں دستیاب ہیں بلکہ    بعد از قیامت جنت میں بھی ملیں گی۔ بشر طیکہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور سچے دل سے تائب ہو جائے اور اللہ کی کتاب قرآن پاک اور رسول ﷺ کی سنت پر عمل کرے۔
موسیقی روح کے لیے تو نہیں ہاں نفس کے لیے فرحت بخش ہو سکتی ہے۔ اگر موسیقی کو روح کی غذا قرار دیا جا سکتا ہے تو کل کو شراب نوشی، افیون خوری اور زنا کاری کو بھی روح کی غذا کہا جا سکتا ہے۔ اس لئے کہ اِن تمام اعمال بد میں کیف و لطف کا سامان ہوتا ہے، اگرچہ سرور  اور فرحت سطحی اور وقتی ہوتی ہیں۔ انسان صرف مادی جسم ہی کا نام نہیں ہے بلکہ اس کا دوسرالازمی جزو لطیف شے ’’روح‘‘ بھی ہے۔ انسان کے فوت ہو جانے پر روح پرواز کر جاتی ہے اور جسم خاکی پیچھے رہ جاتا ہے، جس کو خاک ہی میں دفن کر دیا جاتا ہے۔ 
طبعی روح کے تقاضے اور ملکوتی روح کے تقاضے الگ الگ ہوتے ہیں اور پھر دونوں تقاضوں کی تکمیل بھی الگ الگ طریقوں سے ہوتی ہے۔ جب اِن دونوں میں سے کسی ایک کے بھی تقاضے پورے ہو جائیں تو انسان کو آسودگی اور سکون حاصل ہوتا ہے۔ ملکوتی روح کی غذا موسیقی ہر گز نہیں ہو سکتی بلکہ صرف اور صرف ذکر الٰہی ہے، جس سے یہ اطمینان وسکون حاصل کرتی ہے، جیسا کہ قرآن پاک میں صاف ارشاد ربانی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یاد ہی (وہ غذا ہے جس )سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔(ترجمانی الرعد:28) اگر موسیقی روح ملکوتی کی غذا ہوتی تو اس سے صرف انسان ہی فرحت حاصل کرتے حیوانات اس سے کبھی متاثر نہ ہوتے۔ جبکہ حیوانات تو موسیقی سے زیادہ لطف اندوز ہوتے ہیں۔ جانوروں کا موسیقی سے متاثر ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ موسیقی صرف روح حیوانی کو متاثر کرتی ہے روح ملکوتی کو آسودگی نہیں پہنچاسکتی۔
جب انسان کسی چیز کی تخلیق کرتا ہے تو اس کوبخوبی معلوم ہوتا ہے کہ اس مشین کو رواں دواں رکھنے کے لیے کون سا ایندھن مفید رہے گا۔ اگر اس مشین میں مطلوبہ ایندھن کی جگہ دوسرا ایندھن ڈال دیا جائے تو وہ مشین کام ہی نہیں کرے گی بلکہ تباہ و برباد ہو جائے گی۔ نتیجتاً مالی نقصان بھی ہو گا اور وقت بھی ضائع ہو گا۔ لہٰذا عقل و خرد  کا تقاضا ہے کہ انسان اپنی روح کے لیے موسیقی کی غذا دینے کی بجائے اس کو ذکر الٰہی سے ہی ترو تازہ رکھے۔ اِس سے روح بھی خوش و خرم رہے گی اور اللہ بھی راضی ہو گا، بلکہ روزِ قیامت آدمی کو جنت کے انعام و اکرام کے علاوہ اعلیٰ مقام عطا فرمائے گا، جس کے بارے میں کوئی شک و شبہ ہے اور نہ ہی کسی کو ہونا چاہئے۔
مختصراً یہ کہ موسیقی کو روح ملکوتی کی غذا کہنا ایک  بد ترین مغالطہ ہے جو کہ ہیئت انسانی سے نا واقفیت کی بڑی دلیل اور گمراہ کن ہے۔ موسیقی سے اشتعال کو جائز سمجھنا شیطان کی اتباع اور نفس پرستی کے سوا کچھ نہیں، لہٰذا انسان کو بالعموم اور مسلمان کو بالخصوص موسیقی سے مکمل اجتناب کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ جو کہ غفار، قہار، اور رحمٰن بھی ہے کے حضور سجدہ ریز ہو کر سچے دل سے توبہ حقیقی کر لی جائے اور اس کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے اپنی بخشش کا سامان کر لے۔
لہٰذا یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ موسیقی روح کی غذا قطعاً نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کا ذکر پاک ہی روح کی غذا ہے اور اتباع اسوۂ حسنہ رسول پاک ﷺ ہی نجات کی سند ہے۔