(درحقیقت) ہرمز کا نیبو نچوڑ - خالد نجیب خان

13 /

ہرمز کا نیبو نچوڑ

خالدنجیب خان

ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ ایک صاحب بڑے اطمینان سےایک مہنگے ریستوران میں تنہا بیٹھے کھانا کھا رہے تھے کہ ایک اجنبی اُن کے سامنےآ کر بیٹھ گیا ۔ سلام دعا اور حال احول پوچھنے کے بعد اُس نے اپنی جیب سے ایک لیموں اور فولڈنگ چاقو نکالا ۔ لیموں کاٹ کر اُس شخص کے کھانے پر نچوڑ دیا اورجس کا کھانا تھا اُس سے کہا:’’لیجیے کھائیے،کھانے کا مزہ تولیموں کے ساتھ ہی ہے۔ کھائیے کھائیے اور ساتھ ہی کھانے میں شریک ہوگیا۔ جو صاحب کھانے کا آرڈر دینے کے بعد خاصی دیر تک انتظار میں رہے تھے کہ کب کھانا آئے اوروہ اپنا پیٹ بھریں، اپنے کھانے کے ساتھ یہ سلوک دیکھ کرتلملا کرہی رہ گئے،مگر انہوں نے کچھ کہنے کی بجائے اپنے غصے کو قابو کیا اور دانت پیستے ہوئے مصنوعی ہنسی کے ساتھ کہا:’’جی شکریہ‘‘
اندر ہی اندر تلملاتے ہوئے وہ سوچ رہے تھے کہ عجیب بدتمیز آدمی ہے۔ کھانا میں نے منگوایا ہے اور میرے منگوائے کھانے میں نہ صرف بلااجازت شریک ہوگیا ہے بلکہ مجھے ایسے دعوت دے رہا ہے جیسے بل اُس نے دیا ہو۔
لیموں نچوڑنے والا بھی خاصا گھاگ تھا ،اُس نے وہ سب کچھ پڑھ لیا جو وہ سوچ رہا تھا ۔کہنے لگا،حضرت ناراض نہ ہوں ،کھانا آپ کااور لیموں میراجس کے بغیر کھانے کا مزہ ہی نہیں بنتا تواب ذائقے میں میرا حصہ بھی تو بنتا ہے ناں ۔‘‘
دوسروں کے کھانے میں بلا اجازت لیموں نچوڑ کرشریک ہوجانے والا یہ ایک ہی شخص نہیں ہے بلکہ ہمارے معاشرے کے علاوہ غیر ملکی معاشروں اور بین الاقوامی سیاست میں بھی ایسے بے شمار ’’لیموں نچوڑ‘‘ ہر روز سامنے آتے رہتے ہیں۔حال ہی میں صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کا نیا نقشہ جاری کرتے ہوئے اس پر امریکی ملکیت کا دعویٰ کیا ہے۔
آبنائے ہرمز پر امریکی ملکیت کے دعویٰ سے پہلے تو بعض لوگ یہ بھی سوال کرتے ہوئے ملے ہیں کہ آبنائے ہرمز پر صرف ایران کے ہی کنٹرول کو کیوں قانونی تصور کیا جاتا ہے جبکہ اُس علاقے میں تو ایران ، عراق،سعودی عرب،متحدہ عرب امارات ،قطر، کویت، بحرین اور عمان بھی موجود ہیں تو یہ ممالک خاموشی سے ایران کے دعویٰ ہائے قانونی ملکیت کا منہ توڑ جواب کیوں نہیں دیتے۔
حقیقت یہ ہے یہ سوال جتنا سادہ اور معصومانہ ہے اِس کا جواب بہت گنجلک ہے۔اس کے لیے سب سے پہلے اس خطے کا جغرافیہ سمجھنا پڑے گا۔آبنائے ہرمزایران اورعمان کے درمیان واقع ہے، نہ کہ صرف ایران کے درمیان۔اِس آبنائے کے شمال میں ایران اورجنوب میں عمان کا مسندم جزیرہ نما ہے۔ اس لیے آبنائے کے ساحلی ممالک دراصل ایران اور عمان ہی ہیں۔ عمان نے بھی سرکاری طور پر ایران کے ساتھ مشترکہ بیان میں خود کو آبنائے ہرمز کی کوسٹل سٹیٹ قرار دیا ہے اور اپنے علاقائی پانیوں پر خودمختاری کے حقوق کا ذکر کیا ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب، کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات اور عراق خلیجِ فارس کے ساحلی ممالک ضرور ہیں، مگر اِن میں سے کئی تو آبنائے ہرمز کے ساحل پرواقع ہی نہیں ہیں۔
دراصل خلیجِ فارس ایک بہت بڑا سمندری خطہ ہے، جس میں ایران کے علاوہ عراق، کویت، سعودی عرب، بحرین، قطر،متحدہ عرب امارات اورعمان کے ساحلی علاقے آتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمزاس خلیج سے نکلنے کا دروازہ ہے۔ گویا خلیجِ فارس سے نکل کر،آبنائے ہرمز پہنچیں وہاں سے ، خلیجِ عمان اور پھر وہاں سے ، بحیرۂ عرب اوراس کے بعد بحرِ ہند میں پہنچتے ہیں۔
سعودی عرب کی سمندری حدود خلیجِ فارس تک پہنچتی توہیں، لیکن وہ آبنائے ہرمز کے دونوں طرف کے ساحل کا مالک نہیں۔اِسی طرح متحدہ عرب امارات کا ساحل آبنائے کے مغربی سرے کے قریب آتا ہے، لیکن خود آبنائے کے اہم مشرقی حصے کے ساحل ایران اور عمان کے پاس ہی ہیں۔لیکن یہاں ایک دلچسپ قانونی پیچیدگی ہے۔آبنائے ہرمز اس قدر تنگ ہے کہ اِس کے بیشتر حصے میں ایران اور عمان کے 12 بحری میل کے علاقائی پانی ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں۔ اس لیے درمیان میں کوئی ایسا وسیع ’’بین الاقوامی پانی‘‘ موجود نہیں جس پر کسی ریاست کی علاقائی خودمختاری نہ ہو۔ موجودہ جہاز رانی کے راستے ایران اور عمان کے علاقائی پانیوں سے گزرتے ہیں۔لیکن اِس کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ ایران یا عمان اپنی مرضی سے جب چاہیں عالمی جہاز رانی بند کردیں ۔
آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے استعمال ہونے والی آبنائے تصور کیاجاتا ہے، اوریہاں ٹرانزٹ پیسج کا اصول بہت اہم ہے۔ بین الاقوامی سمندری قانون کے مطابق ایسی آبناؤں میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت کوبلاجواز روکنا ایک الگ مسئلہ ہے۔
یہاں سوال پیدا ہوتاہے کہ بین الاقوامی قانون اگراِس طرح سے ہے تو پھرایران کواتنی طاقت کیوں حاصل ہے؟
اِس کا جواب یہ ہے کہ ایران کے پاس آبنائے کے شمالی ساحل کے ساتھ ساتھ متعدد جزائر بھی ہیں، مثلاً:قشم، ہرمز،لارک وغیرہ جن کی وجہ سے ایران کی سمندری حدود مزید دور تک پھیلی ہوئی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ آبنائے کے شمالی حصے میں ایران کی ساحلی پوزیشن ایسی ہے کہ وہ جہازوں کی نقل و حرکت کو عملی طور پر متاثر کر سکتا ہے۔اسی لیے ایران کا اصل ’’استحقاق‘‘ قانونی ملکیت سے زیادہ جغرافیائی اور عسکری ہے۔
رائٹرز کے مطابق ایران اِس وقت آبنائے کے اندر آنے والے جہازوں پر زیادہ کنٹرول اور باہرجانے والی ٹریفک پر نگرانی چاہتا ہے،جبکہ عمان کے ساتھ اِس معاملے پراُس کا شدید اختلاف موجود ہے۔اِن حالات میں عمان کو نظراندازہرگز نہیں کیا جا سکتا مگر ایسا کیا جارہا ہے۔ آبنائے کے جنوبی حصے میں عمان کا علاقہ مسندم بڑی اہم پوزیشن کا حامل ہے ۔ بلکہ آبنائے کے اندر بین الاقوامی جہازوں کے لیے استعمال ہونے والی بعض لازمی شپنگ لینزعمانی علاقائی پانیوں میں واقع ہیں۔اِس لیے یہ کہنا کہ ’’آبنائے ہرمزصرف ایران کا ہے‘‘ قانونی طور پردرست نہیں ہے بلکہ یہ بات زیادہ درست ہے کہ آبنائے ہرمز ایران اورعمان کے علاقائی پانیوں میں منقسم ہے،جبکہ اِس سے گزرنے والی بین الاقوامی جہازرانی کو بین الاقوامی سمندری قانون کا نظام تحفظ دیتا ہے۔
اِن حالات میں عراق،سعودی عرب، قطر، بحرین، کویت اورمتحدہ عرب امارات کااس پرکیا حق ہے؟
یہ حقیقت ہے کہ یہ ممالک آبنائے ہرمز کے مالک نہیں ہیں مگرآبنائے کی بندش کی صورت میں اِن پر پڑنے والے اثرات بہت بڑے بلکہ گہرے ہیں۔ مثلاً سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اپنا تیل خلیجِ فارس کی بندرگاہوں سے ہی باہربھیجتے ہیں۔ہرمز بند ہونے کی صورت میں اِن کی برآمدات شدید متاثر ہوتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب،متحدہ عرب امارات ،قطر، کویت اور بحرین کا آبنائے میں ’’ملکیتی حق‘‘ نہ ہونے کے باوجود اس کے کھلے رہنے میں ہی فائدہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ موجودہ بحران میں خلیجی ریاستیں ایران کے ساتھ آبنائے کے انتظام کے کسی علاقائی فارمولے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔گزشتہ ماہ عمان نے ایران کوایک علاقائی انتظام کا منصوبہ بھی پیش کیا تھا جسے دیگرخلیجی ریاستوں کی بھی حمایت حاصل تھی،مگر ایران نے اُسے مسترد کردیا۔
تمام تر بحث کا نتیجہ یہی ہے کہ خلیجِ فارس کے تمام ساحلی ممالک کا خلیج فارس میں اپنے اپنے علاقائی پانیوں پرحق ہے؛ لیکن آبنائے ہرمز کے براہِ راست ساحلی ممالک صرف ایران اورعمان ہی ہیں اور اِنہی دو ممالک کا اس پر حق ہے ۔امریکہ کا اس پر دعویٰ صرف اسی صورت میں تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ اگر بین الاقوامی قوانین میں ’’جس کی لاٹھی اُس کی بھینس‘‘ کا قانون بھی شامل کر لیا جائے ۔
امریکہ کاNew U.S Territoryکہنا صرف ایران کے دعوے کو چیلنج نہیں کرتا بلکہ عمان کی خودمختاری کو بھی نظراندازکرتا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ گزشتہ دنوں میزائلوں کی کمی کی وجہ سے امریکہ محض زبانی کلامی جنگ کررہا تھا،اب تک اُس نے خاصا وقت حاصل کر لیا ہے اور تازہ دم بھی ہو چکا ہے اگروہ عمان کو اعتماد میں لے کر نئے سرے سے میدان بلکہ صحیح لفظوں میں سمندر میں اُترتا ہے تو ایران کو خاصا نقصان بھی پہنچا سکتا ہے ۔اِن حالات میں عمان اگر دو بلیوں کی کیک پر لڑائی میں بندر کے کردار سے واقف ہے تو اُسے امریکہ کو اعتماد کی بجائے صاف جواب دینا چاہئے اور لیموں نچوڑ کو اُٹھا کر ریسٹورینٹ سے باہر پھینک دینا چاہیے۔