(الہدیٰ) اللہ تعالیٰ کے کلمات و صفات لا محدود ہیں - ادارہ

12 /
الہدیٰ
 
اللہ تعالیٰ کے کلمات و صفات لا محدود ہیں
 
آیت 28 {وَلَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَۃٍ اَقْلَامٌ} ’’اور اگر زمین میں جتنے بھی درخت ہیں وہ سب قلم بن جائیں‘‘
قرآن مجید میں اہم مضامین کم از کم دو مرتبہ ضرور دہرائے جاتے ہیں۔ یہی مضمون سورۃ الکہف میں بیان ہوا ہے:{قُلْ لَّوْ کَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّکَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ کَلِمٰتُ رَبِّیْ وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِہٖ مَدَدًا(109)} ’’(اے نبیﷺ!) آپؐ کہیے کہ اگر سمندر سیاہی بن جائے میرے رب کی باتوں (کے لکھنے) کے لیے تو یقیناً سمندر ختم ہو جائے گا اس سے پہلے کہ میرے رب کی باتیں ختم ہوں اگرچہ ہم اسی کی طرح اور (سمندر) بھی مدد کے لیے لے آئیں‘‘۔ 
{وَّالْبَحْرُیَمُدُّہٗ مِنْ م   بَعْدِہٖ سَبْعَۃُ اَبْحُرٍ} ’’اور سمندر (سیاہی بن جائے) اس کے بعداس کو مزید سات سمندر سیاہی مہیا کریں۔‘‘
اگر زمین پر موجود سب کے سب درخت قلمیں بن جائیں اور سمندر سیاہی بن جائے اور پھر مزید سات سمندروں کا پانی بھی سیاہی بن کر اِس میں شامل ہو جائے تب بھی :
{مَّا نَفِدَتْ کَلِمٰتُ اللّٰہِ ط اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ (27)}’’اللہ کے کلمات ختم نہ ہوں گے۔ یقیناً اللہ زبردست ہے ‘ کمال حکمت والا۔‘‘ 
کائنات کی ہر چیز اللہ کے کلمہ ’’کُن‘‘کا ظہور ہے ۔ اس لحاظ سے اللہ کی تمام مخلوقات گویا ’’کلمات اللہ‘‘ ہیں جن کا شمار ممکن ہی نہیں۔ پرانے زمانے کے مقابلے میں آج کا انسان اس کائنات کی وسعت کے بارے میں بہتر طورپرجانتا ہے۔ آج کے سائنسدان اربوں نوری سالوں کی وسعت تک کائنات کا مشاہدہ کر سکتے ہیں مگر اِس سب کچھ کے باوجود بھی وہ کائنات کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کی وسعت کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ چنانچہ جس کائنات کی وسعت کا اندازہ لگانا کسی کے بس کی بات نہیں‘ اس میں موجود مخلوق یعنی اللہ کے کلمات و صفات کو احاطۂ تحریر میں لانا کسی کے لیے کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔
 
درس حدیث
 
بزرگوں کا ادب و احترام
 
عَنْ اَنَسٍ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِﷺ: ((مَا اَکْرَمَ شَابٌّ شَیْخًا لِسِنِّہِ اِلاَّ قَبَّضَ اللّٰہُ لَہٗ مَنْ یُکْرِمُہٗ عِنْدَ سِنِّہٖ )) (رواہ الترمذی)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جو جوان کسی بوڑھے بزرگ کا اُس کے بڑھاپے ہی کی وجہ سے ادب و احترام کرے گا‘ تو اللہ تعالیٰ اُس جوان کے بوڑھے ہونے کے وقت ایسے بندے مقرر کر دے گا جو اُس وقت اُس کا ادب و احترام کریں گے۔‘‘
تشریح: اس حدیث سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ بڑوں کے ادب و احترام کا رسول اللہﷺ کی ہدایت و تعلیم میں کیا درجہ ہے۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بڑوں کا ادب و احترام اور ان کی خدمت وہ نیکی ہے جس کا صلہ اللہ تعالیٰ اس دنیا میں بھی عطا فرماتا ہے اور اصل جزا و ثواب کی جگہ تو آخرت ہی ہے۔