اداریہ
رضاء الحق
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیﷺ
اُمَّتِ مُسلمہ آج جس کرب ناک صورتِ حال سے دوچار ہے، وہ کسی ایک خطے، ایک حکومت یا ایک عہد کا مسئلہ نہیں؛ یہ پوری اُمَّت کے اجتماعی زوال کی داستان ہے۔ غزہ میں معصوم مسلمانوں کا لہو بہہ رہا ہے، مسجدِ اقصیٰ کے خلاف صہیونی عزائم بڑھتے جا رہے ہیں، کشمیر، میانمار اور دیگر خطوں میں مسلمان ظلم و جبر کا شکار ہیں، جبکہ عالمِ اسلام کی مجموعی بے بسی اور باہمی انتشار اس امر کا تقاضا کر رہا ہے کہ ہم محض حالات کا نوحہ کرنے کے بجائے اپنے زوال کے اسباب اور نجات کی راہ پر سنجیدگی سے غور کریں۔
قرآنِ مجید نے اِس پورے معاملے کو فرد اور ملت دونوں کے لیے نہایت واضح اصولوں میں بیان فرمایا ہے۔ ترجمہ: ’’اے اہل ایمان! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو جتنا کہ اُس کے تقویٰ کا حق ہے اور تمہیں ہرگز موت نہ آنے پائے مگر فرمانبرداری کی حالت میں۔‘‘ (آل عمران: 102)یہاں دو بنیادی اصطلاحات ہماری توجہ چاہتی ہیں: تقویٰ اور اسلام۔ تقویٰ محض چند انفرادی عبادات یا ظاہری مذہبی رسوم کا نام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی کامل جواب دہی کے احساس کے ساتھ اُس کی اطاعت اختیار کرنے کا نام ہے۔ اسی طرح ’’مسلم‘‘ محض ایک نسلی یا معاشرتی شناخت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے سامنے مکمل سپردگی اور فرمانبرداری کی کیفیت ہے۔
اُمَّتِ محمدی ﷺ کا تابناک ماضی محض اتفاق کا نتیجہ نہیں تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسی جماعت کی تشکیل فرمائی جو قرآن سے وابستہ، اللہ کی اطاعت میں یکسو، آخرت کی جواب دہی سے باخبر اور اقامتِ دین کی جدوجہد کے لیے تیار تھی۔ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اسلام کو صرف مسجد اور محراب تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا دستور بنایا۔ یہی شہادت علی الناس کا عظیم منصب ہے۔ اُمَّتِ مُسلمہ کا مقصد محض اپنے لیے نجات حاصل کرنا نہیں بلکہ اللہ کے پیغام کو دنیا تک پہنچانا اور عدل و حق کی گواہی قائم کرنا بھی ہے۔ اسی لیے قرآن سے مضبوط تعلق، جہاد فی سبیل اللہ، دعوت و اصلاح، امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور اقامتِ دین کی جدوجہد اِس اُمَّت کی حیات بخش قوتیں رہی ہیں۔
دورِ نبوی ﷺ اور خلافتِ راشدہ اِس کی روشن ترین مثال ہیں۔ بعد کے ادوار میں ملوکیت کے نقائص کے باوجود مسلمانوں نے علم، تہذیب، معیشت اور عسکری قوت میں غیر معمولی ترقی کی اور صدیوں تک دنیا کی قیادت کی۔ خلافتِ عثمانیہ بھی طویل عرصے تک ایک درجہ میں مسلم سیاسی وحدت کی علامت بنی رہی۔ لیکن جب وہ بنیادی روح کمزور پڑنے لگی، جس نے اِس اُمَّت کو قوت عطا کی تھی، تو زوال کے آثار بھی نمایاں ہونے لگے۔قرآنِ مجید کی سورۃ الروم آیت 41 میں یہ اٹل اصول بیان ہوا ہے۔ ترجمہ: ’’بحرو بر میں فساد رونما چکا ہے‘لوگوں کے اعمال کے سبب تا کہ وہ انہیں مزہ چکھائے اُن کے بعض اعمال کا تا کہ وہ لوٹ آئیں۔‘‘ لہٰذا کسی بھی قوم کے زوال کو صرف بیرونی سازشوں سے سمجھنا درست نہیں۔ دشمن کی سازش اپنی جگہ ایک حقیقت ہے، لیکن باطل اُس وقت تک فیصلہ کن کامیابی حاصل نہیں کر سکتا جب تک اہلِ حق کی اندرونی کمزوریاں اُس کے لیے راستہ ہموار نہ کریں۔اسلامی تاریخ میں تفرقہ، باہمی نزاع، دنیا طلبی، اقتدار کی کشمکش، دینی تعلیم کے کمزور ہوتے ہوئے اجتماعی کردار اور قرآن کے حرکی و انقلابی تصورِدین سے دوری نے اُمَّت کو رفتہ رفتہ کمزور کیا۔ پھر صلیبی حملوں اور تاتاری یلغاروں سے لے کر جدید استعماری دور تک بیرونی قوتوں نے اِس کمزوری سے فائدہ اُٹھایا۔خلافتِ عثمانیہ کے آخری دور میں اس کی سیاسی و عسکری کمزوری واضح ہو چکی تھی۔ بالآخر پہلی جنگِ عظیم کے بعد خلافت ِ عثمانیہ کا خاتمہ ہوا اور مسلم دنیا سیاسی وحدت اور جیسی تیسی اجتماعیت سے محروم ہوکر مختلف قومی ریاستوں میں تقسیم ہو گئی۔ نوآبادیاتی قوتوں نے صرف زمینوں پر قبضہ نہیں کیا بلکہ تعلیم، سیاست، معیشت، معاشرت اور تہذیب کے میدانوں میں بھی ایسا نظام قائم کیا جس نے مسلم ذہن کو مغربی تصورات کا مرہونِ منت بنا دیا۔ خلافتِ عثمانیہ کے ٹوٹنے کے بعد بننے والی مسلم ریاستیں بھی حقیقی معنوں میں فکری، معاشی اور سیاسی خودمختاری حاصل نہ کر سکیں۔اس دوران اُمَّت کے اندر فرقہ وارانہ، لسانی، نسلی، علاقائی اور قومی عصبیتیں بڑھتی گئیں۔ وہ اُمَّت جسے قرآن نے ’’اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو‘‘ (آل عمران: 103) کا حکم دیا تھا، وہ متعدد حصوں میں تقسیم ہو گئی۔یہی تفرقہ آج ہماری سب سے بڑی کمزوریوں میں سے ایک ہے۔
احادیثِ مبارکہ میں جس ’وَہْن‘ کو اُمَّت کی تباہ کن بیماری قرار دیا گیا، اُس کی حقیقت دو الفاظ میں بیان ہوئی: دنیا کی محبت اور موت کا خوف۔آج اگر ہم اپنے گردوپیش کا جائزہ لیں تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ بیماری ہماری اجتماعی زندگی میں کس قدر سرایت کر چکی ہے۔ فلسطین اور غزہ کا المیہ اس صورتِ حال کا سب سے بڑا آئینہ ہے۔ مسجدِاقصیٰ کے بارے میں صہیونی عزائم، ’’گریٹراسرائیل‘‘ کے تصورات اور خطے میں بڑھتی ہوئی صہیونی مداخلت کے باوجود مسلم دنیا کی مجموعی بے عملی ایک گہرا سوال اُٹھاتی ہے: کیا ہماری ترجیحات واقعی قرآن و سنت کے مطابق ہیں؟ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کے مراکز محض عسکری قوت سے نہیں بلکہ معیشت، میڈیا، تعلیم، تہذیب اور نظریات کے ذریعے بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ LGBTQ سمیت مختلف مغربی سماجی تصورات کی ترویج، سوشل میڈیا کے ذریعے ذہنی و تہذیبی اثراندازی اور صارفیت پر مبنی طرزِ زندگی نے مسلم معاشروں کی فکری ترجیحات کو مجروح کرکے رکھ دیا ہے۔لیکن اس سب کے باوجود ہماری سب سے بڑی ذِمّہ داری دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرانا نہیں بلکہ اپنے گریبان میں جھانکنا ہے۔ قرآن ہمیں یہی اصول دیتا ہے کہ اصلاح کا آغاز اندر سے ہوتا ہے۔
راہِ نجات نہ کوئی پُراسرار نسخہ ہے اور نہ ہی کسی بیرونی طاقت کے سہارے کا نام۔ قرآن نے اِس کا اصول سورۃ محمد آیت 7 میں نہایت واضح الفاظ میں بیان کر دیا۔ ترجمہ: ’’اے اہل ِایمان! اگر تم اللہ (کے دین ) کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور وہ تمہارے قدموں کو جما دے گا۔‘‘ اللہ تعالیٰ ہماری مدد کا وعدہ فرماتا ہے، لیکن اس وعدے کے ساتھ ایک شرط بھی بیان فرمائی گئی ہے: اللہ کے دین کی نصرت۔لہٰذا اُمَّت کو دوبارہ عروج کی طرف لے جانے کے لیے وہی کام اختیار کرنا ہوں گے جنہوں نے اسے ماضی میں عروج عطا کیا تھا اور وہ اسباب ترک کرنا ہوں گے جو اس کے زوال کا باعث بنے۔ ہرمسلمان اپنے آپ سے سوال کرے کہ میں اسلام کو اپنی زندگی میں کس حدتک نافذ کر رہا ہوں؟ میں اُمَّت کے اجتماعی مسائل کے لیے کیا کردار ادا کررہا ہوں؟ اور کیا میری زندگی اللہ تعالیٰ کی رضا اور دین کی سربلندی کےمقصد سے ہم آہنگ ہے؟
پاکستان بھی اسی اُمَّت کا حصّہ ہے۔ اس ملک کا قیام مسلمانوں کی ایک جداگانہ قومی شناخت کے تصور کے تحت ہوا تھا، لیکن اس کی اصل صلاحیت اس وقت بروئے کار آ سکتی ہے جب یہاں اسلام محض ایک شخصی یا رسمی معاملہ نہ رہے بلکہ اجتماعی زندگی کی رہنمائی کا سرچشمہ بنے۔پاکستان کی اصلاح بھی اسی وسیع تر اصلاحِ اُمَّت سے وابستہ ہے۔ ہمیں ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہوگا جس میں عدل، امانت، تقویٰ، قانون کی بالادستی، معاشی انصاف اور انسانی حرمت اسلامی اصولوں کے مطابق قائم ہوں۔ دینِ حق کی سربلندی اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے، لیکن اِس جدوجہد میں ہمارا کردار ہمارے لیے امتحان ہے۔آج ضرورت اِس امر کی ہے کہ ہم اُمَّتِ مُسلمہ کی حالتِ زار پر صرف افسوس نہ کریں بلکہ اپنے اندر وہ تبدیلی پیدا کریں جو اللہ کی نصرت کا ذریعہ بنتی ہے۔ حقیقی ایمان کو زندہ کریں، قرآن سے اپنا تعلق مضبوط کریں، تفرقے سےبچیں، باہمی اخوت کو فروغ دیں، دنیا کی محبت اور موت کےخوف کے مرض سے نجات حاصل کریں اور دینِ حق کی سربلندی کے لیے اپنی صلاحیتیں، وقت اور وسائل اللہ کی راہ میں صرف کریں۔ تاریخ گواہ ہے کہ اللہ کی نصرت اُنہی کے شاملِ حال ہوتی ہے جو اُس کے دین کے غلبہ کےلیے کھڑے ہوتے ہیں۔
اے اللہ! ہمیں حق کی پہچان، اس پر استقامت اور دین کی سربلندی کے لیے اخلاص کے ساتھ جدوجہد کی توفیق عطا فرما۔ اُمَّتِ مُسلمہ کے زخموں پر مرہم رکھ، مظلوم مسلمانوں کی مدد فرما، مسجدِ اقصیٰ اور ارضِ فلسطین کی حفاظت فرما، اور ہمیں اُن لوگوں میں شامل فرما جو تیرے دین کی نصرت کے لیے اپنا تن، من اور دھن پیش کر دیتے ہیں۔ آمین!
اپنی ملّت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کرخاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی ﷺ
tanzeemdigitallibrary.com © 2026