ہمارے ملک میں انتشار اور افتراق کی بنیادی وجہ دین سے بے وفائی ہے ۔
ہمارے تمام مسائل کا حل اسی میں ہے کہ ہم اپنی اصل کی طرف لوٹیں
اور ملک کو حقیقی معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست بنائیں ۔
انقلاب ووٹ سے آ سکتا ہے اور نہ ہی بُلٹ سے،اسلامی انقلاب کا
واحد راستہ انقلابی جدوجہد ہے ۔
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے اور اپنا غلبہ چاہتا ہے جو رسالت مآب ﷺ
کا مشن تھا، اگر ہم اِس عظیم مشن کے ساتھ جُڑیں گے تو چھوٹے چھوٹے
مسلکی اختلافات اور فرقہ بندیاں ہمارے اتحاد میں حائل نہیں رہیں گی ۔
خصوصی پروگرام’’ امیر سے ملاقات‘‘ میں
امیر تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ کے رفقائے تنظیم اسلامی و احباب کے سوالوں کے جوابات
میزبان :آصف حمید
مرتب : محمد رفیق چودھری
سوال: تنظیم اسلامی کے تحت31 جولائی سے
21 اگست 2026ء تک ایک ملک گیر مہم چلائی گئی ۔ اس مہم کے اہداف و مقاصد کیا تھے ؟
امیر تنظیم اسلامی:تنظیم اسلامی کا بنیادی مقصد اقامت ِدین کی جدوجہد ہے۔ اس کے لیے جہاں انفرادی سطح پر اصلاح ، ایمان کی آبیاری ، اطاعت اور بندگی، رب کے تقاضوں کو پورا کرنے حوالے سے ترغیب و تشویق کی کوشش کی جاتی ہے وہاں اجتماعی طور پر اُمّت کے مسائل ، اجتماعیت کے تقاضوں کو بھی اجاگر کیا جاتا ہے ۔ اس کے لیے دروسِ قرآن کا سلسلہ مقامی سطح پر بھی ، تنظیم اور حلقہ جات کی سطح پر بھی جاری رہتا ہے ۔ پھر رفقاء تنظیم کی روحانی ترقی، علمی ترقی، اخلاقی تربیت کے لیے بھی بہت سے کام کرنے کے ہوتے ہیں ۔ پھر باہر نکل کر دعوت کا کام کرنا ، اُمّت کی زبوں حالی پر کلام کرنا ، احساس ِزیاں کو بیدار کرنا بھی اجتماعیت کا اہم تقاضا ہے ۔ اس کے لیے تنظیم اسلامی کے زیر ِاہتمام ہر تین ماہ بعد علاقائی سطح پر آگاہی منکرات مہم کا اہتمام کیا جاتا ہے ہیں جس میں کبھی سود کے خلاف ، کبھی بے حیائی ،بے پردگی ، شراب ، جادو ٹونہ یا وراثت کے احکامات پر عمل نہ کرنے کے خلاف مہم چلاتے ہیں اور عوام الناس میں اس حوالے سے آگاہی اور شعور بیدار کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ پھر سال میں ایک مرتبہ ملک گیر سطح کی مہم بھی چلاتے ہیں ۔ عموماً یہ اگست ستمبر میں ہوتی ہے ۔ اس سال ہماری ملک گیر مہم کا عنوان تھا: ’’اُمّت ِمسلمہ کی حالت ِ زار اور راہِ نجات ۔‘‘اللہ تعالیٰ کی توفیق سے الحمدللہ ! رفقاء تنظیم نے بڑی محنت کی، تنظیم کے مرکزی شعبہ جات نے بڑی محنت کی ہے،آگاہی کے لیے مواد تیار کیا گیا ، پھر تقسیم کیا گیا ۔ خطاباتِ جمعہ میں، کارنر میٹنگز میں ، دروسِ قرآن میں ، سیمینارز کے ذریعے ، سوشل میڈیا ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور عوام سے براہ راست خطاب میں ہم نے تنظیم کے پیغام کو پہنچانے کی کوشش کی ۔ تمام بڑے شہروں میں مختلف شعبہ ہائے زندگی کے افرادخواہ وہ ممبرز آف پارلیمنٹ ہوں، علماء ہوں، دینی جماعتیں ہوں، مسلم ممالک کے سفارت خانے ہوں ، ان تک ہم نے پیغام کو پہنچایا ۔ اِن مہمات کا بڑا مقصد منکرات سے آگاہی ہوتا ہے ۔ اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے کہ اگر تم میں برائی کو ہاتھ سے روکنے کی طاقت ہے تو ہاتھ سے روکو ، نہیں تو زبان سے روکو ، زبان سے روکنے کی طاقت بھی نہیں ہے تو دل میں بُرا جانو ۔ ہمارے پاس زبان سے روکنے کی طاقت ہے تو ہم اس دائرہ میں رہ کر اپنا فریضہ ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ عوام میں منکرات کے متعلق آگاہی پیدا ہواور وہ دینی تقاضوں سے بھی آگاہ ہوں ۔
سوال:آپ کیا سمجھتے ہیں کہ اس مہم کے ذریعے عوام میں کس حد تک آگاہی پیدا ہوئی ہوگی ؟اس حوالے سے آپ کے پاس کوئی تفصیلات ہیں ؟
امیر تنظیم اسلامی: اِس حوالے سے ہمارے پاس باقاعدہ رپورٹس آتی ہیں تو ان سے اندازہ ہو جاتا ہے۔ سیمینارز اور مختلف پروگراموں میں لوگوں نے بھر پور شرکت کی ماشاء اللہ ۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر ہم ڈاکٹر اسراراحمدؒ کی ویڈیوز شیئر کرتے ہیں تو انہیں بھی عوام نے خوب شیئر کیا ۔ اسی طرح لوگ ہمیں اپنے اداروں میں ، سکولوں میں ، مساجد میں اور مختلف تقریبات میں خطاب کے لیے دعوت دیتے ہیں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں تک پیغام پہنچ رہا ہے ۔ تاہم ہمیں کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے ، قوم کو بیدار کرنے کے لیے بہت بڑے لیول پر کام کرنے کی ضرورت ہے اور عوام کے تعاون کے بغیر یہ ممکن نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطافرمائے ۔
سوال:اپنے ایک پروگرام میں بیوہ خواتین کے بارے میں آپ نے فرمایا کہ ان کی معاشی ضرورت کو شوہر، بیٹا،باپ ، بھائی یا دیگر رشتہ دار پورا کریں گے لیکن آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ شریعت کے مطابق وہ دوسری شادی بھی کر سکتی ہیں۔جبکہ خواتین پہلے ہی بیوہ کی دوسری شادی کو پسند کی نگاہ سے نہیں دیکھتیں۔ (خاتون)
امیر تنظیم اسلامی:بالکل ایک پروگرام میں بنیادی سوال آیا تھا کہ کیا خواتین معاشی معاملات میں حصّہ لے سکتی ہیں تو ہم نے ذکر کیا تھاکہ اصولاً اور اصلاً کفالت کی ذِمّہ داری شریعت مرد پر ڈالتی ہے ، عورت پر اس سے بھی بڑی ذِمّہ داری ہے کہ وہ بطور بیوی اور ماں اپنے بچوں کی اچھی ترتیب کرے اور اس کے لیے ظاہر ہے گھر میں رہنا اور بچوں کو وقت دینا ضروری ہوتا ہے۔ اسی لیے دین کہتا ہے خاتون اگر بیوی ہے تو شوہر اُس کی معاشی ضروریات کو پورا کرے گا ، ماں ہے تو اولاد ، بہن ہے تو بھائی ، بیوہ ہے تو باپ یا بھائی اس کی کفالت کریں ۔ اگر وہ نہیں ہیں تو باپ کے قریبی رشتہ دار اور اگر وہ بھی نہیں ہیں تو ماں کے قریبی رشتہ دار اُس کی کفالت کریں گے ۔ اور اگر کوئی بھی نہیں ہے تو ریاست اُس کی کفالت کرے ۔ اگر اسلامی ریاست نہیں ہے تو مسلمان معاشرہ اس کی معاشی ضروریات کو پورا کرے گا ۔اگر مجبوراً عورت کو خود کوئی معاشی معاملہ کرنا پڑے تو پردے میں رہ کر اور شرعی تقاضوں کے دائرے میں کرے ۔ آن لائن اگر کوئی ایسا سلسلہ ہو تو اس میں غیر محرم مردوں سے interaction کرنا پڑے تو سورۃ الاحزاب کی آیت 32 کی روشنی میں ایسے کلام کرے کہ مردوں میں کوئی رغبت پیدا نہ ہو ۔ اگر بیوہ ہے تو اس کو دوسری شادی کرلینی چاہیے ، شریعت میں اس کی بھی ترغیب دلائی گئی ہے ۔ مثال کے طور پرسورۃ النور میں ہے:
{وَاَنْکِحُوا الْاَیَامٰی مِنْکُمْ}(آیت:32) ’’اور نکاح کر دیا کرو بیوائوں کا اپنے میں سے‘‘
اس کا اطلاق بیوہ پر بھی ہوتا ہے ، مطلقہ پر بھی ہوتا ہے ، غیر شادی شدہ مرد اور عورت پر بھی ہوتا ہے ۔البتہ معروف معنوں میں ایامی کا ترجمہ بیوہ ہی کیا جاتاہے ۔ ہمارے لیے اُسوہ نبی اکرم ﷺ کی ذات ہے ۔ فرمایا :
{لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} (الاحزاب:21) ’’(اے مسلمانو!) تمہارے لیے اللہ کے رسول ؐمیں ایک بہترین نمونہ ہے۔ ‘‘
اُم المومنین حضر ت عائشہ ؓ کے علاوہ ، آپ ﷺ کے باقی تمام نکاح بیواؤں سے ہوئے ۔ اللہ کے نبی ﷺنے اپنے عمل سےبیواؤں سے نکاح کی تعلیم دی ہے ۔ اس سے بڑھ کر اور کیا ترغیب ہو سکتی ہے ۔آپ ﷺ نے فرمایا: جو کسی یتیم کی کفالت میں لگا ہوا ہے یا کسی بیوہ کی کفالت میں لگا ہوا ہے وہ اللہ کی راہ میں لگا ہوا ہے۔ معلوم ہو اکہ جو شخص بیوہ سے نکاح کرتاہے یا اُس کی کفالت کرتاہے تو وہ اللہ کی راہ میں ہے ۔ جب ہم صحابہ کرام ؓ کی زندگیوں کا جائزہ لیتے ہیں تووہاں شہادتیں بھی ہوتی تھیں اور جو ان کی بیوائیں ہوتی تھیں وہ زیادہ عرصہ نکاح کے بغیر نہیں رہتی تھیں ۔ اکثر عدت کے بعد نکاح ہو جاتا تھا ۔ بیوہ ہو ، مطلقہ ہو یا بغیر نکاح کے کوئی بھی بالغ خاتون ہو ، شریعت اس کے مسنون نکاح کا تقاضا کرتی ہے ۔ بے نکاحی زندگی ہمارے دین کے مزاج میں اچھی نہیں سمجھی جاتی ۔ ہمارے دینی حلقوں کو اِس حوالے سے خصوصی طور پر عوام میں آگاہی پیدا کرنی چاہیے ۔
سوال: ڈاکٹر اسرار احمدؒ کا پوری دنیا میں ایک نام ہے ، لوگ اُنہیں پسند کرتے ہیں اور اُن کی تقاریر کو سوشل میڈیا پر سنتے اور پھیلاتے ہیں ۔ لیکن بعض لوگ پیسے کی لالچ میں یا اپنے غلط نظریات کو پھیلانے کے لیے AIکے ذریعے ڈاکٹر صاحبؒ کی آواز میں غلط مواد جنریٹ کرتے ہیں اور پھر اُنہیں سوشل میڈیا پر پھیلاتے ہیں ۔ حالانکہ وہ بات نہ ڈاکٹر صاحبؒ نے کبھی کہی اور نہ ہی اللہ کے رسول ﷺ سے ثابت ہوتی ہے ۔ ایسے لوگوں کے لیے آپ کیا پیغام دیں گے اور اِس طرح کے جعلی مواد کو روکنے اور اس کی حوصلہ شکنی کے لیے کن اقدامات کی ضرورت ہے ؟
امیر تنظیم اسلامی: ہمارے ناظرین کو تو پتا ہے کہ ہم ایک سے زائد مرتبہ اِس فورم پر بھی بات کر چکے ہیں کہ ڈاکٹر اسراراحمد ؒ نے خود کبھی مونیٹائزیشن کا معاملہ کیا اور نہ ہی اُن کے شاگردوں نے اپنے کسی پروگرام ، خطاب یا دین کو کمائی کا ذریعہ بنایا ۔ جو لوگ ڈاکٹر صاحب ؒ کے نام پر جعلی آڈیو یا وڈیوز بناتے ہیں ، اُن کو عام لوگوں میں بھی اچھا نہیں سمجھا جاتاہے ۔ آپ اُن کے کمنٹس باکس چیک کریں تو لوگ اُن کو یہی کہہ رہے ہوتے ہیں کہ خدا کا خوف کرو ، اللہ کو جواب نہیں دینا ؟ قرآن کے ساتھ مذاق مت کرو وغیرہ ۔ اِس طرح کے کاموں میں جھوٹ بھی ہے ، دھوکا بھی ہے اور ایک درجے میں قرآن اور دین کی توہین بھی ہے ۔ ایک جعلی ویڈیو میں ڈاکٹر صاحبؒ کی آواز میں کہا گیا کہ اگر عصر کی نماز کے بعد فلاں وظیفہ کرلو تو فلاں ہو جائے گا ۔ حالانکہ ڈاکٹر صاحب ؒ نے ہمیشہ باطل نظام کے تحت فوائد حاصل کرنے کی حوصلہ شکنی کی ۔ وہ کہتے کہ باطل نظام سے کم سے کم فوائد حاصل کرو تاکہ زیادہ سے زیادہ اپنے آپ کو اللہ کے دین کے لیے کھپا سکو ۔ حدیث میں ہے کہ ایک وقت آئے گا کہ بندے کو احساس تک نہیں رہے گا کہ وہ جو کمارہا ہے وہ حرام ہے یا حلال ہے ۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ ہر اُمّت کا ایک فتنہ ہے میری اُمّت کا فتنہ مال ہے ۔ ایسی جعلی ویڈیوز اور جعلی مواد بنانے والے اپنے گریبان میں جھانک لیں کہ وہ اپنی آخرت کے ساتھ کس قدر کھلواڑ کر رہے ہیں ، دین کا حوالہ دے کر قرآن کا حوالہ دے کر لوگوں کو دھوکہ دینا ،بڑا کبیرہ گناہ ہے ۔ سنن ابی داؤد کی روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : جس نے میری طرف کوئی ایسی بات منسوب کی جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنائے ۔ ہم ناظرین سے یہی اپیل کریں گے کہ جہاں بھی ایسا کوئی جعلی مواد دیکھیں تو اس کو رپورٹ کریں ۔ جب بہت سے لوگ ایک ساتھ رپورٹ کرتے ہیں تو پھر یوٹیوب والے ایکشن لیتے ہیں اور ایسے چینلز کو بند کردیا جاتاہے ۔ آپ کے ایک کلک سے لوگ بہت بڑے دھوکے سے بچ سکتے ہیں اور دین میں بگاڑ کا بھی سدباب ہو سکتاہے ۔ یہ ہمارا دینی اور اخلاقی فرض ہے کہ ہم ایسے مواد کو رپورٹ کریں ۔ ہم نے متعلقہ اداروں کو بھی درخواست دی ہوئی ہے کہ ایسے جعل سازوں کو پکڑا جائے اور انہیں سزا دی جائے ۔ ہم خود بھی ایسے لوگوں کے خلاف لیگل ایکشن لے رہے ہیں ۔ ہماری آفیشل ویب سائٹ drisrar.com کے نام سے ہے جہاں حقیقی مواد میسر ہوتا ہے ، وہاں ڈاکٹر صاحبؒ کے ہزاروں کلپس موجود ہیں اور ہزاروں مزید ہم ڈال رہے ہیں ۔ وہاں سرچنگ بھی بہت فاسٹ ہے ۔ جن حضرات کو ڈاکٹر صاحبؒ کے حقیقی خطابات اور تقاریر تک رسائی چاہیے تو وہ اس ویب سائٹ پر جا کر استفادہ کر سکتے ہیں ۔
سوال: :آپ کے نزدیک پاکستان کے تمام مسائل کا حل کیا ہے اور سسٹم کو ٹھیک کرنے کے لیے آپ کی اسٹریٹیجی کیا ہے؟(رضوان جلال)
امیر تنظیم اسلامی:آج دنیا میں جتنے بھی مسلم ممالک ہیں اُن میں سے کوئی نسل کی بنیاد پر کھڑ ا ہے ، کوئی ثقافت اور تہذیب کی بنیاد پر ، کوئی خطہ اور جغرافیہ کی بنیاد پر لیکن پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر بنا ہے ۔ پاکستان میں مختلف خطوں ، برادریوں ،نسلوں ، قوموں ، ثقافتوں ، تہذیبوں کے لوگ رہتے ہیں ۔ ہم سب کو جوڑ کر ایک قوم بنانے والا واحد عنصر اسلام ہے۔اس لیے ہماری بقاء اور سلامتی اسلام میں مضمر ہے ۔ ہمارے تمام مسائل کا حل اسلام کے نفاذ میں ہے ۔ اس وقت ہمارے ملک میں جو بھی انتشار اور افتراق ہے ، اس کی بہت سی وجوہات بیان کی جا سکتی ہیں ، اس میں انتظامی خرابیاں بھی ہیں ، گڈگورننس کی کمی بھی ہے ، سیاسی اور اقتصادی بحران بھی ہے مگر سب سے بڑی وجہ دین سے دوری ہے ۔ ہم نے اسلام کے نام پر ملک حاصل کیا اور پھر اسلام کے ساتھ بے وفائی کی ۔ اب تمام مسائل کا حل اسی میں ہے کہ ہم اپنی اصل کی طرف لوٹیں اور ملک کو حقیقی معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست بنائیں ۔ ڈاکٹر اسراراحمدؒنے منہج انقلاب نبوی ﷺ کی روشنی میں اس کا پورا طریقہ کار بیان کیا ہے ۔ رسولِ انقلاب ﷺکا طریقۂ انقلاب کے عنوان سے ان کی کتاب موجود ہے ۔ ان کے مطابق اس ملک میں اسلام صرف انقلابی جدوجہد سے آسکتا ہے ، انتخابی راستے سے کوئی تبدیلی نہیں آسکتی ۔نہ ہی مسلمانوں کے ملک میں بُلٹ کے ذریعے تبدیلی لانے کی کوشش کرنا سود مند ہو سکتی ہے۔ انتخابی سیاست ہم دیکھ چکے ہیں ۔ ہائبرڈسسٹم بھی فیل ہو گیا۔انقلابی جدوجہد کے ذریعے جو نظام قائم ہوگا ،اس کے خدوخال کیا ہوں گے ،خطبات ِ خلافت میں ڈاکٹر اسراراحمدؒ نے اس موضوع پر تفصیلی کلام کیا ہے اور یہ خطبات اب کتابی شکل میں بھی موجود ہیں جو عہدِ حاضر کی اسلامی فلاحی ریاست کے خدوخال کے عنوان سے ہیں ۔ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق کچھ چیزیں ہم نے باہمی مشاورت سے اس کے بعد بھی طے کی ہیں جن کو کچھ عرصہ بعد خطبات جمعہ میں بیان کیا جائے گااور سوشل میڈیا پر بھی عام کیا جائے گا ۔ ان شاء اللہ
سوال:کیا میں تنظیم اسلامی کا حصّہ بن سکتی ہوں؟ (خاتون)
امیر تنظیم اسلامی: تنظیم اسلامی میں خواتین بھی شامل ہو سکتی ہیں اور ان کا بھی ایک بیعت فارم ہوتا ہے۔ اس میں بیعت فارم میں خواتین کی بیعت کے وہی الفاظ درج ہیں جو اللہ تعالیٰ نے سورۂ ممتحنہ میں عطافرمائے ہیں ۔ البتہ جو بھی خواتین تنظیم میں شامل ہوتی ہیں تو ہم ان سے یہی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے والد ، بھائی یا شوہر جو بھی اُن کا کفیل ہے ، اس کی مشاورت سے شامل ہوں ،وہ خود بے شک شامل نہ ہو مگر اس کی مرضی آپ کی شمولیت میں شامل ہونی چاہیے ۔ اگر شوہر روکے تو ہم یہی کہیں گے کہ ایک عورت کی پہلی بیعت اس کے شوہر کے ساتھ ہوتی ہے تو وہ شوہر کی بات مانیں ۔ اگر اس محرم کے ذہن میں کسی قسم کے اشکالات و شبہات ہوں تو تنظیم کے ذِمّہ داران سے ملاقات بھی کروائی جا سکتی ہے ۔ اس کے بعد وہ اجازت دے تو آپ شامل ہو جائیں ۔ البتہ جب تک آپ تنظیم میں باقاعدہ شامل نہیں ہوتیں تو پردے کی شرائط کے ساتھ جہاں یہ سہولت مہیا ہو وہاںدروس قرآن میں شامل ہو سکتی ہیں ، دورۂ ترجمہ قرآن سن سکتے ہیں ، ڈاکٹر صاحبؒ کے خطابات سن سکتے ہیں ۔ ہمارے مختلف آن لائن کورسز میں حصہ لے سکتی ہیں ۔ شامل ہونے کے بعد تنظیم میں خواتین کا الگ حلقہ ہوتا ہے ۔ وہاں خواتین ہی خواتین کو مطالعہ یا کورسز وغیرہ کرواتی ہیں ۔
سوال: خواتین سے تنظیم اسلامی کے تقاضے کیا ہیں ؟
امیر تنظیم اسلامی:اتفاق سے کچھ دن قبل ہی میں نے تنظیم میں شامل خواتین کی رہنمائی کے لیے ایک آڈیو پیغام ریکارڈ کروایا ہے ۔اس میں بھی ڈاکٹر صاحب ؒ کے ایک کتابچے ’’مسلمان خواتین کے دینی فرائض ‘‘کا ذکر کیا ہے ۔اس میں بہت جامع انداز میں مسلم خواتین کی دینی ذِمّہ داریوں کا احاطہ کیا گیا ہے ۔ خواتین اس کتابچے کا مطالعہ ضرور کریں ۔ دین اسلام نے عورتوں پر بہت بڑی اور بھاری ذِمّہ داری عائد کی ہے اور وہ ہے آنے والی اچھی نسلوں کی تیاری ۔ اسی لیے اسے معاشی تگ و دو سے بھی آزاد کیا گیا ہے تاکہ وہ اپنا سارا وقت بچوں کو دے سکے اور ان کی اچھی تربیت کر سکے ۔دین کے اسی مزاج کے مطابق تنظیم اسلامی عورت سے ایک آئیڈیل ماں، آئیڈیل بیوی بننے کا تقاضا کرتی ہے۔ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا : جس بیوی سے اُس کا شوہر راضی ہو جائے، اللہ اس کو روزِ محشر اختیار دے گا کہ وہ جس دروازے سے چاہے جنت میں داخل ہو جائے ۔ اگر ایک عورت بحیثیت بیوی اپنا وہ رول بہترین طریقے سے ادا کرتی ہے جو دین اُس کے سپرد کرتاہے ، اپنے شوہر کی فرمانبرداری کرتی ہے ، اس کی معاون اور غمخوار بنتی ہے تو اُسے جنت کا وعدہ اللہ کے رسول ﷺ دے رہے ہیں ۔ اگر مسلم خاتون اپنی اولاد کی بہتر تربیت کرتی ہے تو وہ اس کے لیے بھی صدقہ جاریہ بنے گا اور اُمّت کے لیے بھی کارآمد ثابت ہوگا ۔
سوال: آپ کا کام فی الحال کس نوعیت کا ہے؟ (عبدالحمید)
امیر تنظیم اسلامی:ڈاکٹر اسراراحمدؒ نے تنظیم کے کام کا تعین منہج انقلاب نبوی ﷺ کے مطابق کیا ہے۔ اللہ کے رسولﷺ نےقرآن کے ذریعے دعوت دی ہے ، ہم بھی قرآن کے ذریعے دعوت دے رہے ہیں ، اللہ کے رسولﷺ نے دعوت قبول کرنے والوں کو جمع کر کے ان کی اجتماعیت بنائی ۔جو ہماری دعوت قبول کریں گے ان کی ہم اجتماعیت بنا رہے ہیں۔ اس اجتماعیت میں شامل ہونے والوں کی تعلیم و تربیت بھی منہج نبوی ﷺ کے مطابق کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ اس منہج میں آگے چل کر مشکلات اور مشقتیں آئیں گی ، صحابہ کرامؓ کا صبر بہت بلند مقام پر تھا مگر ہمیں بھی صبر کرنا ہوگا ۔ یہ چار کام مکی دور میں ہمیں مستقل نظر آتے ہیں۔ پھر مکہ مکرمہ سے ہجرت ہے، اقدام ہے اور ٹکراؤ بھی ہوتا ہے۔اسی منہج کے مطابق جب جماعت مضبوط ہوگی تو پھر وہ میدان میں اُترے گی ۔انقلاب کے یہ چھ مراحل ڈاکٹر صاحب بیان فرماتے تھے ۔ فی الحال ہم پہلے چار مراحل پر کام کررہے ہیں ۔
سوال: اس وقت آپ کی توجہ کے اہم شعبے کون سے ہیں؟
امیر تنظیم اسلامی:ایک مسلمان کی انفرادی سطح پر بھی کچھ دینی ذِمّہ داریاں ہوتی ہیں اور اجتماعی دینی ذِمّہ داریاں بھی ہوتی ہیں ۔ ہم دونوں شعبوں پر توجہ دے رہے ہیں تاکہ یہ نہ ہو کہ بندہ اجتماعی سطح پر انقلاب انقلاب کے نعرے تو بہت لگاتا ہے ، تقریریں بھی اچھی کرلیتا ہے مگر انفرادی سطح پر باطنی معاملات میں کمزور ہے ، فجر میں سورہا ہے ۔ یا انفرادی سطح پر تو بہت دیندار ہے مگر اجتماعی ذِمّہ داریاں ادا کرنے میں کاہلی اور سستی کا مظاہرہ کر رہا ہے ۔ ہم ایک ایک فرد پر یہ محنت کررہے ہیں کہ اپنی انفرادی ذِمّہ داریوں کو بھی دیکھنا ہے اور اُمتی ہونے کے ناطے جو اجتماعی دینی ذِمّہ داریاں ہیں ان کو بھی اچھے طریقے سے ادا کرنا ہے ۔ روزِ محشر بندے سے انفرادی ذِمّہ داریوں کے بارے میں بھی پوچھا جائے گااور اجتماعی ذِمّہ داریوں کے بارے میں بھی پوچھا جائےگا ۔ ہم نے دونوں سطح پر توازن کو قائم رکھنا ہے ۔ اس حوالے سے ہمارے پاس دعوت ، تربیت ، مالیات ، نشرواشاعت ، سمع و بصر سمیت بہت سے شعبے ہیں جو اِس توازن کو قائم رکھنے کی کوشش کررہے ہیں ۔
سوال:کتب سے یہ تاثر ملتا ہے کہ آپ کا منہج یعنی طریقہ کار نظریاتی طور پر انتہائی مستحکم اور مربوط ہے، عملی طور پر اس منہج کا نفاذ کیسے کیا جاتا ہے؟ آپ ان اصولوں کو اپنے روزمرہ کے کاموں اور سرگرمیوں میں کس طرح عملی جامہ پہناتے ہیں؟
امیر تنظیم اسلامی: ڈاکٹر صاحب ؒ کے کتابچے: ’’رسولِ انقلابﷺ کا طریقۂ انقلاب‘‘ میں اس پر تفصیلی کلام ہواہے ۔ اس منہج کے مطابق مکی دور میں چار مراحل درپیش تھے ۔ اسی تناظر میںپہلا کام قرآن کے ذریعے دعوت دینا ہے ، اس دعوت کے نتیجے میں جو تنظیم میں شامل ہوگا اس سے تقاضا ہے وہ روزانہ اپنے علمِ دین میں اضافے کے لیے قرآنِ پاک کا ترجمہ، تفسیر کا مطالعہ کرے، پھر دیگر تنظیمی لٹریچر کا مطالعہ کرے ۔ ہفتہ وار درسِ قرآن میں شرکت کرے ، جمعہ کے خطاب میں قرآن سے بیان ہوگا ، اس کو سنے۔ تنظیم کے تربیتی پروگرامز اور کورسز میں بھی اصلاح ، تذکیر اور تعلیم و تربیت کا اہتمام کیا جاتاہے ۔ ایک رفیق روز مرہ کے معاملات کے درمیان اس طریقے سے اپنی اصلاح اور روحانی ترقی کے مواقع حاصل کر سکتاہے ۔ پھر تنظیمی نظم کے ذریعے یہ کوشش کی جاتی ہے کہ رفیق کی فرض عبادات ، اخلاقیات اور باطنی امور کی طرف توجہ ہو ، انفاق فی سبیل اللہ ، دعوتِ دین ، اپنا محاسبہ کرنے کا بھی اہتمام ہو ۔ تنظیم کے ذِمّہ داران سے بھی تقاضا کیا جاتاہے کہ ان کا تعلق رفقاء سے مضبوط ہو ، ان کی علمی ، روحانی اور اخلاقی ترقی میں اُن کی مدد کریں ۔ اسی طرح اجتماعی سطح پر رفقاء کو منظم کرنے کے لیے اُن سے تقاضا کیا جاتاہے کہ وہ ہفتہ وار اُسرہ میں شرکت کریں ، ماہانہ ، سہ ماہی اور سالانہ تربیتی اور دعوتی اجتماعات میں شرکت کریں ، آگاہی منکرات مہمات میں حصّہ لیں ۔ تنظیم کے تحت کہیں مظاہرہ ہورہا ہے تو اس میں شرکت کریں ۔ اس میں ڈسپلن کی مشق بھی ہوتی ہے ، صبر اور تحمل کے مراحل سے گزرنے کی تربیت بھی ہوتی ہے ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے طائف میں اور اُحد میں اپنا لہو مبارک بہایا ہے ، تکالیف اُٹھائیں ہیں ، صحابہ کرامj نے مشقتیں اُٹھائیں ہیں ، اِس راہ میں ہمیں بھی ہر قسم کے مصائب اور مشقتوں کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔
سوال: افغانستان میں طالبان مدارس کے طالب علموں کے ذریعے کامیاب ٹھہرے۔ آپ بھی مدارس کی چین بنائیں ، اگلے بیس سال میں آپ اس پوزیشن میں ہوں گے کہ انقلاب برپا کر پائیں کیونکہ تنظیم کو پچاس سال کے پرانے لائحہ عمل سے چھ سات ہزار افراد ملے جن میں ضعفاء بھی شامل ہیں، اسی ڈگر پر چلتے رہے تو اس بات کےسوا کچھ حاصل نہیں ہوگا کہ قیامت کے دن کم سے کم ہم معذرت پیش کر سکیں۔ ایک عالمِ دین مدارس کے بچوں کے بل بوتے پر سیاست کر رہے ہیں، ایک اور جماعت نے مدارس بنا کر لاکھوں بچے اکٹھے کر لیے ہیں، کیا آپ مدارس کے ذریعے افغان طالبان کی طرح اسلامی انقلاب برپا نہیں کر سکتے؟(جواد حیدر)
امیر تنظیم اسلامی: افغانستان کا میکانزم بڑا مختلف رہا ہے ۔ وہ برسہا برس جنگ میں رہے ، ہتھیار بھی اُٹھائے اور پھر اُن کے سامنے کفار تھے ۔ لیکن پاکستان میں ہم سب مسلمان ہیں ۔ لہٰذا ہمارے منہج میں طے ہے کہ ہم آخری مرحلے میں ہتھیار نہیں اُٹھائیں گے ، کسی کی جان نہیں لیں گے بلکہ نفاذ دین کے لیے اپنی جان دیں گے ۔ جہاں تک مدارس کی بات ہے تو ہمیں مدارس والوں سے محبت ہے ۔ اُن میں بھی بہت سے مخلص لوگ دین کی خدمت کر رہے ہیں ، ہم انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں ، ان سے رابطہ بھی رکھتے ہیں ۔ مگر ہماری دعوت کے مخاطب صرف مدارس نہیں بلکہ ہم ہر طبقہ ، ہر شعبہ اور ہر میدان میں دعوتِ انقلاب دینے کی کوشش کررہے ہیں ۔ ہم دینی جماعتوں کو بھی دعوت پیش کرتے ہیں کہ آئیں انقلابی جدوجہد کے ذریعے ملک میں نفاذ اسلام کی کوشش مل کر کریں ۔ اس دعوت کا نتیجہ ہے کہ اب بہت سی دینی اجتماعیتوں کو بھی احساس ہو گیا ہے کہ اس ملک میں نفاذِ اسلام کا واحد راستہ انقلابی جدوجہد ہے ۔ نہ درس و تدریس کے ذریعے ، نہ ہتھیار اُٹھانے سے او رنہ ہی انتخابی سیاست کے ذریعے انقلاب آسکتاہے ۔ ہماری دو بڑی دینی سیاسی جماعتیں جو انتخابی سیاست کا حصّہ ہیں، ان کےذِمّہ داران بھی اب اس بات کو تسلیم کر رہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اسی طرح مکالمے کے ذریعے ہم ایک دوسرے کے مزید قریب ہوں ، طریقہ کار پر بھی اتفاق ہو جائے تو سب مل کر انقلاب لا سکتے ہیں ۔ ضروری نہیں کہ تنظیم اسلامی ہی کے ذریعے ہوگا ، ہم سب اپنا اپنا حصّہ ڈال کر رب کے سامنے معذرت پیش کر سکتے ہیں ۔
سوال: جو لوگ تنظیم اسلامی میں شامل ہیں ، انہوں نے بانِی تنظیم کے لٹریچرکو پڑھا بھی ہے، سنا بھی ہے، پھر کیا وجہ ہے کہ ان میں سے بعض لوگ سب کچھ پڑھنے اور سننے کے باوجود کبھی سیکولر سیاسی جماعتوں کی طرفداری کر رہے ہوتے ہیں اور کبھی کسی متشدد مذہبی جماعت کی طرفداری کر رہے ہوتے ہیں ۔ پھر اس کا مطلب ہے تنظیم کی ضرورت ہی نہیں ہے، پھر تو انفرادی حیثیت میں بس وہ اپنا نماز روزہ کریں اور اپنے کام کریں، یہ تنظیم کے ساتھ پھر کیوں ہیں؟ (احمد بلال،سیالکوٹ)
امیر تنظیم اسلامی: تنظیم کا رفیق چاہے پرانا ہو یا نیا ہو ، سیاسی رائے رکھنا ممنوع نہیں ہے ۔ ڈاکٹر اسراراحمدؒ بھی سیاست پر کلام کرتےتھے ۔ہم انتخابی سیاست کا حصّہ نہیں ہیں ۔ باقی نظری سیاست ہو یا انقلابی سیاست ہو اس میں اختلاف رائے بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ خود ڈاکٹر اسراراحمدؒ فرمایا کرتے تھے اور تنظیم کی پالیسی میں بھی درج ہے کہ ہم ڈاکٹر اسراراحمدؒ کے سیاسی تبصروں سے اختلاف کر سکتے ہیں ۔ البتہ یہ ضرور دیکھا جائے گا اختلاف کرنے کا انداز کیا ہے۔ امیر تنظیم کے سیاسی تبصروں سے بھی اختلاف کیا جاسکتاہے ۔ میں بطور امیر تنظیم اسلا می اپنے رفقاء سے مشورہ بھی کرتا ہوں، بعض مرتبہ میں نے اپنی رائے واپس بھی لی ہے اور اپنے موقف کو بہتر کیا ہے۔ البتہ چونکہ انتخابی سیاست کے ہم قائل نہیں ہے ، اس کے برعکس انقلابی سیاست کی بات کرتے ہیں ۔ اس لیے کسی انتخابی سیاسی جماعت کی طرفداری کرنا ، اس کے لیے مہم چلانا تنظیم اسلامی کے مزاج اور پالیسی کے خلاف ہے ۔ اس کی ہم مذمت بھی کریں گےاور اس سے روکنے کی کوشش بھی کریں گے ، اس کے باوجود اگر کوئی رفیق اس طرح کی سرگرمی میں ملوث ہوتا ہے تو اس کی اصلاح کی بھر پور کوشش کی جائے گی ۔ دوسری بات یہ ہے کہ تنظیم اسلامی کسی مسلک کی بنیاد پر کھڑی نہیں ہوئی ، اس میں مختلف مکاتب فکر کے لوگ ہیں ۔ ہماری کتابوں کے بیک ٹائٹل پر لکھا ہوا ہے ہم معروف معنوں میں کوئی مذہبی فرقہ ہیں اور نہ ہی کوئی سیاسی جماعت ہیں ۔ البتہ تنظیم اسلامی کے عقائد اہل السنت والجماعت والے ہیں۔ ہماری اکثریت فقہ حنفی کے مطابق عمل کرتی ہے اور بعض حضرات اہل حدیث مکتب فکر کے مطابق عمل کرتے ہیں ۔ ہم نے رفقاء کو آزادی دی ہے کہ اپنے اپنے مسلک اور فقہ کے مطابق انفرادی سطح پر عمل کریں ۔ البتہ ہم مسلک یا فرقہ کی بنیاد پر متشدد ہونے کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں ۔ اگر میری انگلی پہ کٹ لگ جائے تو مجھے تکلیف ہوتی ہے، خدا نخواستہ دوسرا ہاتھ کٹ جائے تو یہ تکلیف یاد نہیں رہے گی،اسی طرح جب ہمارے مدنظر ایک بڑا مقصد ہے اور وہ ہے اجتماعی سطح پر دین کا نفاذ تو ہم چھوٹے چھوٹے فقہی اور مسلکی مسائل پر کیسے متشدد ہو سکتے ہیں ؟ ہم اس دین ِ اسلام کو مان کر آئے ہیں جو مکمل ضابطۂ حیات ہے اور وہ اپنا غلبہ بھی چاہتا ہے ،جو رسالت مآب ﷺ کا مشن تھا اور ان کی ختمِ نبوت کے بعد ہمارا کام ہے تو یہ کام اکیلے تو نہیں ہو سکتا ۔ لہٰذا صرف انفرادی سطح پر دینی فرائض ادا کرنے سے دینی ذِمّہ داریاں پوری نہیں ہو جاتیں ۔ ہمیں اجتماعی فرائض بھی ادا کرنے ہیں، جس کے لیے اجتماعیت لازم ہے۔ قرآن تو انفرادی معاملات کے لیے بھی کہتا ہے:
{یٰٓــاَیـُّــہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَکُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَO} (التوبۃ)’’اے اہلِ ایمان! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور سچے لوگوں کی معیت اختیار کرو۔‘‘
اکیلا آدمی بھی شیطان کے حملے کا شکار ہو جاتا ہے، جیسے حدیث میں ہے کہ بھیڑیا اس بکری کو تاک کر نشانہ بناتا ہے، حملہ کرتا ہے جو ریوڑ سے الگ ہو۔ لہٰذا انفرادی سطح پر تقویٰ حاصل کرنا بھی ضروری ہے لیکن اجتماعی دینی ذِمّہ داریاں بھی ادا کرنا ضروری ہیں ۔
سوال: اگر تنظیم میں کچھ ایسے ساتھی ہیں جو کسی سیاسی جماعت یا کسی فرقےکے ساتھ ہیں، ان کے لیے آپ کا کیا پیغام ہے؟
امیر تنظیم اسلامی:میں یہ عرض کروں گا کہ تنظیم تو انتخابی سیاست کے راستے پر ہے ہی نہیں تو پھر آپ اور میں کسی سیاسی جماعت پر جذباتی کیوں ہو رہے ہیں؟ اس لیے تنظیم کے منہج کو اپنے سیاسی نظریے پر مقدم رکھیں ۔ اسی طرح کسی مسلک یا فرقہ کی بنیاد پر متشدد رائے رکھنا بھی رفیق تنظیم کے لیے مناسب نہیں ہے کیونکہ وہ اِن سب چیزوں سے بالا تر ہو کر ایک بڑے اور اجتماعی مقصد کے لیے تنظیم میں آیا ہے ۔ ہمیں تو ساری انسانیت کی فکر کرنی ہے، اتنا اونچا کام لے کر جو چل پڑے ہیں وہ مسلکی یا فرقہ واریت والے متشدد پہلوؤں پرکھڑے نہیں رہ سکتے ۔ پوری تنظیم میں سے شاید ایک فیصد لوگ ایسے ہوں بھی تو ہم امید کر تے ہیں وہ تربیتی مراحل سے گزرنے کے بعد متشدد نہیں رہیں گے ۔ ان شاء اللہ!
tanzeemdigitallibrary.com © 2026