(انٹریو) Roze Newsکے پروگرام ’الم ‘ میںامیر تنظیم اسلامی کا انٹرویو - محمد رفیق چودھری

12 /

اب نظام چلانے والے بھی پکار اُٹھے ہیں کہ یہ نظام فیل ہوگیا ہے ۔

یہی بات ہم پہلے دن سے کہہ رہے تھے کہ اس باطل نظام کو

تبدیل کیے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے ۔

جشن آزادی کے نام پر ہمارے ہاں جو ہلڑ بازی ہوتی ہے اور

عام شہریوں کو جن مصائب میں ڈالا جاتاہے ، اُس کا نظریۂ پاکستان

سے کوئی تعلق نہیں ہے

34مسلم ممالک کی مشترکہ فوج جو بنائی گئی تھی وہ کہاں ہے؟

آخر وہ کس مرض کی دوا ہے؟

ہم حکمرانوں سےتو شکوہ کرتے ہیں کہ وہ اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں

مگر اسلام کو نافذ نہیں کرتے، جبکہ ہم خود اسلام پر کتنا عمل کر رہے ہیں،

اس بارے میں نہیں سوچتے ۔

Roze Newsکے پروگرام ’الم ‘ میں امیر تنظیم اسلامی کا انٹرویو

میزبان :میاں ثناء اللہ

مرتب : محمد رفیق چودھری

میزبان:قرآن نے اُمّت ِ مُسلمہ کواُمّت ِواحدہ کہا ہے، کہیں خیر اُمّت کہا ہے اور کہیں اُمّت ِوسط کہا ہے ۔ جب تک یہ اُمّت متحد تھی تو دنیا میں اس کا طوطی بولتا تھا ، تہذیبی ثقافتی اور سیاسی اعتبار سے لوگ اُمّت ِمُسلمہ کو فالو کرتے تھے اور فخر محسوس کرتے تھے۔ آج ایسا کیا ہو گیا کہ اُمّت  بہت پیچھے ہے اور اغیار آگے ہیں ؟قرآن نے اس اُمّت کا جو دائرہ کھینچا تھا کیا اُمّت اب بھی اس دائرے کے اندر ہے یا اُس سے نکل چکی ہے اور کیا آج یہ اُمّت کہلانے کے لائق بھی ہے یا نہیں ؟ اُمّت ِمُسلمہ کی آج جو حالت ِ زار ہے ، اس سے نکلنے کا راستہ کیا ہے ؟
امیرتنظیم اسلامی:اُمّت عربی زبان کا لفظ ہے ۔ اُم عربی میں ماں کو کہتے ہیں، بچوں میں ماں مشترک ہوتی ہے ، لہٰذا اُمّت سے مراد وہ افراد ہیں جن کا مقصد ایک ہو ۔ جب ہم قرآن حکیم سے پوچھتے ہیں کہ اُمّت کیا ہے تو سورۃ البقرہ کی آیت 143میں اُمّت ِوسط کا تصور ملتا ہے ۔ یعنی وہ لوگ جو اللہ کے آخری رسول ﷺ اور بقیہ انسانوں کے درمیان واسطہ بنیں ، اللہ کی نازل کردہ ہدایت کو دوسرے لوگوں تک پہنچائیں اور انسانیت کے سامنے اللہ کے دین کو اپنے قول و عمل سے پیش کریں ۔ اسی طرح  سورۃ آل عمران کی آیت 110 میں اسے خیر اُمّت بھی کہا گیا اور اس کی وجہ بھی بتائی گئی کہ یہ لوگوں کو نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے ۔ اس اُمت کے خمیر میں حضرت  ابراہیم ؑ اور اسماعیل ؑ کی دعائیں شامل ہیں ۔ 
{رَبَّـنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَکَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِنَـآ اُمَّۃً مُّسْلِمَۃً لَّکَ ص}(البقرہ :128) ’’اور اے ہمارے رب! ہمیں اپنا مطیع فرمان بنائے رکھ‘اور ہم دونوں کی نسل سے ایک اُمّت اٹھائیو جو تیری فرماں بردار ہو۔‘‘ 
یہاں اُمّت ِمُسلمہ کے الفاظ بھی آگئے ۔ اسلام کا مطلب ہے اپنے آپ کو اللہ کے سامنے مکمل طور پر سرنڈر  کر دینا ۔ آج اگر یہ اُمّت زوال کا شکار ہے تو اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس نے اللہ کے سامنے جھکنا چھوڑ دیا اور اغیار کے آگے سرنڈر کر دیا ۔ قرآن نے اس اُمّت  کے لیے جو دائرہ مقرر کیا تھا اُس سے یہ نکل چکی ہے ۔ 1924ء میں رہی سہی خلافت اور مرکزیت بھی ختم ہوگئی  اور آج ہم 58 ٹکڑوں میں تقسیم ہیں ۔ لہٰذا وہ اُمّت جس کی اُٹھان اسلام پر ہوئی تھی ، جس کو دنیا کی لیڈرشپ کے لیے کھڑا کیا گیا تھا، وہ آج دنیا میں نظر نہیں آرہی ۔ حالانکہ یہی اُمّت تھی جب اس نے رسول اللہ ﷺ کو اپنا امام بنایا اور قرآن سے ہدایت لی تو اس نے سیاست ، معاشرت اور معیشت میں دنیا کی امامت کی اور ایک ہزار برس تک دنیا کو روشنی دی ۔ جب یورپ تاریک تھا تو غرناطہ ، قرطبہ اور بغداد کی یونیورسٹیوں میں ہم دنیا کو تعلیم دیتے تھے ۔ 1927ء میں گاندھی نے اپنے اخبار ینگ انڈیا میں تحریر کرتے ہوئے کانگریس کے وزراء اور رہنماؤوں کو ہدایت کی کہ اگر وہ ملک میں ایک بہترین، عادلانہ اور سچی جمہوریت قائم کرنا چاہتے ہیں، تو انہیں حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ جیسی سادگی، زہد اور خلوص کو اپنانا ہوگا۔یعنی کفار بھی اسلامی نظام سے اصول اخذ کرتے تھے ۔ سکنڈے نیوین ممالک میں آج بھی عمرلا ز کے نام سے وہ اصول نافذ ہیں ۔ مگر جن کی یہ میراث تھی وہ آج بجلی اور پٹرول کے ریٹ بھی یورپ سے متعین کرواتے ہیں ۔ اس قدر ہم غلامی کو قبول کر چکے ہیں ۔ 
میزبان:اُمّت ِمسلمہ کی زبوں حالی کے ذِمّہ دار صرف  مسلم حکمران ہیں یا عوام ،یا سیاستدان ، علماء اور دانشور بھی برابر کے شریک ہیں ؟
امیرتنظیم اسلامی:ہم سب اُمتی ہیں۔اُمّت کا اگر عروج ہوگا تو اِس میں سب کا کردار ہوگا، اسی طرح  زوال میں ہم سب برابر کے شریک ہیں ۔ ہم حکمرانوں سے تو شکوہ کرتے ہیں کہ وہ اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں مگر اسلام کو نافذ نہیں کرتے جبکہ ہم خود اسلام پر کتنا عمل کر رہے ہیں اِس بارے میں نہیں سوچتے۔5فیصد لوگ بھی پنج وقتہ نماز جماعت کے ساتھ ادا نہیں کرتے ۔ہم بیٹیوں کو وراثت میں حصّہ نہیں دیتے۔ ہم سود خوری چھوڑنے کو تیار نہیں، ہم رشوت کو آج گفٹ کا نام دے دیتے ہیں۔ لہٰذا زوال میں سب کا کردار ہے ۔ ہم حکمرانوں سے سوال کرتے ہیں کہ اگر یورپی یونین بن  سکتی ہے ، نیٹو بن سکتا ہےتو مسلم ممالک کا اتحاد کیوں نہیں بن سکتا؟ مکہ معاہدہ پر تو اعتراض کریں گے کہ صرف تین ممالک کیوں شامل ہوئے ، ایران کو شامل کیوں نہیں کیا گیا ،  فلاں کیوں شامل نہیں مگر ہم اپنے گریبانوں میں جھانک کر نہیں دیکھتے کہ ہم خود کس قدر نسلی ، لسانی ، علاقائی اور صوبائی تعصبات کا شکار ہیں ۔ حالانکہ ہم ایک اُمّت ہیں اور ہم سے یہ تقاضا ہے :
{اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ }(الحجرات:10) ’’یقیناً تمام اہل ِایمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔‘‘
اسلام ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ نسلی ، لسانی ، علاقائی تعصبات کو ختم کرکے کلمہ کی بنیاد پر بھائی بھائی بن جائیں ۔ مگر ہم کیا کر رہے ہیں ؟ اِسی لیے قرآن کہتا ہے : 
{وَمَآ اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ وَیَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ (30)}(الشوریٰ) ’’اور تم پر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ درحقیقت تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی(اعمال) کے سبب آتی ہے اور (تمہاری خطائوں میں سے) اکثر کو تو وہ معاف بھی کر تا رہتا ہے۔‘‘
اُمّت نے قرآن کو تھاما تو دنیا کی امامت اللہ نے اس کے قدموں میں ڈال دی ۔قرآن کو چھوڑا تو ذلت ہمارا مقدر بن گئی ۔ اقبال نے کہا ؎
وہ زمانےمیں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر
آج ہم اپنے بچوں کو دنیوی تعلیم دینے کے لیے کروڑوں روپے خرچ کرتے ہیں ، قرآن کی تعلیم مفت مل رہی ہے مگر لینے کو تیار نہیں ۔ نتیجہ یہ ہے کہ اسمبلیوں میں بیٹھے ہمارے حکمرانوں کو سورۃالاخلاص تک نہیں آتی ۔ یہی حال عوام کا بھی ہے ۔ اکثریت ایسی ہے جس نے پوری زندگی میں قرآن کو ترجمہ کے ساتھ مکمل نہیں پڑھا ۔ الا ماشاء اللہ !
میزبان: ایک طرف گریٹر اسرائیل کا نعرہ لگ رہا ہے اور دوسری طرف فلسطین کے اندر قتل عام جاری ہے اور اُمّت کا کچھ حصہ صلح صفائی کے لیے کوشاں ہے جبکہ اکثریت خاموش تماشائی ہے ۔ کیا اُمّت کبھی متحد و متفق ہو کر اپنے  ملی ورثہ کی حفاظت کر پائے گی ؟
امیرتنظیم اسلامی:سنن ابی داؤد کی مشہور روایت ہے کہ عنقریب قومیں تم پر ایسے ٹوٹ پڑیں گی  جیسے کھانے پر دعوت دی جاتی ہے ۔ پوچھا گیا : کیا اُس وقت ہم تعداد میں کم ہوں گے ۔ فرمایا : تم بہت زیادہ ہوگے لیکن تمہاری حیثیت سمندر کی جھاگ کی ہوگی ، اللہ تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہارا رعب نکال دے گا اور تمہارے دلوں میں’ وہن‘ ڈال دے گا ۔ پوچھا گیا : وہن کیا ہے ؟ فرمایا : ((حب الدنیا و کراہیۃ الموت))دنیا کی محبت اور موت سے نفرت ۔ 1991ء میںعراق پر 31 ممالک نے اکٹھے ہو کرحملہ کیا ، نائن الیون کے بعد افغانستان پر 50 ممالک نے جمع ہو کر حملہ کیا ۔ دوسری طرف مسلم ممالک کی حالت یہ ہے کہ مکہ معاہدہ میں اگرچہ پاکستان ، سعودی عرب اور ترکی شامل ہو گئے لیکن ابھی بھی اسرائیل کے ساتھ سب سے زیادہ تجارت کرنے والے مسلم ملک ترکی اور متحدہ عرب امارات ہیں ۔ حالانکہ اسرائیل مسلمانوں کا خون بہا رہا ہے ، مسجد اقصیٰ کو شہید کرنا چاہتا ہے اور اسلام دشمن ہے ۔ اسی طرح 34 مسلم ممالک کی جو مشترکہ فوج بنائی گئی تھی وہ بھی کہیں نظر نہیں آرہی ۔ OICکے چارٹر میں لکھا ہوا ہے کہ مسلم ممالک فلسطین کی اخلاقی ، سفارتی اور عسکری مدد کرنے کے پابند ہوں گے مگر آج OICکا بھی کوئی پتا نہیں ہے ۔ بنیادی وجہ’ حب الدنیا اور کراہیۃ الموت‘ ہے ، مسلم حکمران اپنی بادشاہتوں کو بچانے کے لیے اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اُمّت کے اجتماعی مفاد کا سودا کر رہےہیں ۔ اگر ہم ’حب الدنیا وکراہیۃ الموت‘ سے نکلیں گے تو پھر کوئی بڑا مقصد لے کر دنیا میں اُٹھیں گے ۔ پھر اتحاد بھی بنیں گے جو نیٹو اور یورپی یونین سے بھی بڑھ کر ہوں گے ۔ مگر’ حب الدنیا و کراہیۃ الموت‘ سے نجات کے لیے حقیقی ایمان کی ضرورت ہے ، صرف نام کا مسلمان ہونا کافی نہیں ۔ وہ حقیقی ایمان ہوگا تو پھر دشمن پر  ہمارا رعب بھی ہوگا اور ہم باطل کے مقابلے میں کھڑے بھی ہوں گے ۔ قرآن میں اللہ فرماتا ہے : 
{وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(139)} (آل عمران)’’اور تم ہی سربلند رہو گے اگر تم مؤمن ہوئے۔‘‘ 
وہ حقیقی ایمان قرآن سے حاصل ہوگا ۔ فرمایا:
{اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْہِمْ اٰیٰتُہٗ زَادَتْہُمْ اِیْمَانًا} (الانفال:2) ’’جب اُنہیں اُس کی آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں توان کے ایمان میں اضافہ ہو جاتا ہے۔‘‘
قرآن کو پڑھنے ، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش سے حقیقی ایمان کی آبیاری ہوگی جس کے بعد موت کا خوف نہیں رہے گا اور ہم باطل کے خلاف کھڑے ہو سکیں گے ۔ 
میزبان:ایک طرف تمام شیطانی طاقتیں متحد ہو کر اسرائیل کے ساتھ کھڑی ہیں اور دوسری طرف مسلم ممالک آپس میں تقسیم ہیں ، کہیں حوثیوں اور سعودی عرب کی لڑائی ہے ، کہیں ایران اور عرب ممالک کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے ۔ پاکستان ان کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے جبکہ دوسری طرف خود افغانستان کےساتھ اُلجھ رہا ہے ۔ اس ساری صورتحال میں کیا مسلم ممالک متحد ہو کر کوئی اتحاد قائم کر پائیں گے ؟ 
امیرتنظیم اسلامی:پاکستان کو اللہ نے نوازا ہے ۔ جس بنیاد پر یہ ملک قائم ہو ا تھا اُسی بنیاد پر یہ اُمّت کی قیادت بھی کر سکتا ہے ۔ دیگر تمام مسلم ممالک نسلی ، لسانی یا جغرافیائی بنیاد وں پر قائم ہوئے ، پاکستان واحد ملک ہے جو اسلام کی بنیاد پر قائم ہوا ۔ ترک قوم زبان اور نسل کی بنیاد پر ایک ہے ، عرب اور افریقی ممالک اپنی ثقافت اور زبان کی بنیاد پر قائم رہ سکتے ہیں ۔ جبکہ پاکستان میں مختلف نسلوں ، زبانوں ، خطوں اور ثقافتوں کے حامل لوگ رہتے ہیں ۔  پاکستان صرف اور صرف اسلام کی بنیاد پر قائم رہ سکتا ہے ۔ قائداعظم نے فرمایا تھا کہ قیامِ پاکستان اصل منزل نہیں بلکہ اصل مقصود یہ ہے کہ پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ بنایا جائے جہاں اسلام کو نافذ کرکے دنیا کے سامنے ایک نمونہ پیش کیا جائے ۔ قرآن میں اللہ نے واضح کر دیا ہے کہ : تم ہی غالب ہوگے اگر تم ایمان والے ہوئے ۔(آل عمران:139) پاکستان میں اسلام نافذ ہو جائے تو پھر سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ نہیں لگے گا بلکہ جیسے قرآن کہتا ہے کہ : 
 {وَیُـؤْثِرُوْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ وَلَـوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌط}(الحشر :9) ’’اور وہ تو خود پر ترجیح دیتے ہیں دوسروں کو خواہ اُن کے اپنے اوپر تنگی ہو۔‘‘
اسی طرح پاکستان بھی اُمّت کو ترجیح دے گا ۔ کبھی مظلوم فلسطینی ہمیں پکارتے تھے : یا جیش الباکستان ، این انتم ؟  گویا مسلم دنیا پاکستان سے توقعات رکھتی ہے۔ اگر ہم اپنی اصل کی طرف لوٹتے ہیں تو قرآن ہمیں خوشخبری دیتا ہے :
{اِنْ تَنْصُرُوا اللہَ یَنْصُرْکُمْ وَیُثَبِّتْ اَقْدَامَکُمْ(7)}(سورۃ محمد:7)  ’’اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور وہ تمہارے قدموں کو جما دے گا۔‘‘
اللہ نے 1ہزار کے لشکر کے مقابلے میں 313 کو فتح دلوائی تھی ، ہم بھی دین کے ساتھ مخلص ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ  ہمیں بھی دشمن کے مقابلے میں کھڑا کردے گا ان شاء اللہ ۔  اس کے بعد پاکستان اُمّت کی صحیح معنوں میں قیادت کرنے کے قابل ہوگا ۔ لہٰذا ہمارے لیے اصل کام یہ ہے کہ ہم پاکستان میں نفاذِ اسلام کی جدوجہد کریں ۔ 
میزبان: 14 اگست کو ہم نے یوم آزادی منایا ۔ کیا آپ اور آپ کی تنظیم کے نزدیک حقیقی آزادی یہی ہے جو ہم مناتے ہیں ؟دوسرا یہ کہ جس طرح بین الاقوامی رول اللہ کی طرف سے پاکستان کو مل رہا ہے تو اس کو ادا کرنے کے لیے پہلے ہمیں اپنے نظام کو اس نظریہ کے مطابق ڈھالنا ہوگا جو قائداعظم کے نزدیک پاکستان کا نظریہ تھا ۔ اس حوالے سے موجود خلاکو ہم کیسے پُر کریں گے ؟
امیرتنظیم اسلامی:پہلی بات یہ ہے کہ یوم آزادی  منانے کے نام پر ہمارے ہاں جو کچھ ہلڑ بازی ہوتی ہے ، ہوائی فائرنگ کرکے ، اونچی آواز میں باجے بجا کر اور سڑکیں بلاک کرکے عام شہریوں کو جن تکالیف اور پریشانیوں میں ڈالا جاتاہے ، اس کا نظریہ ٔپاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ فتح مکہ کے موقع پر جب حضور ﷺ مکہ میں داخل ہورہے تھے تو آپ ﷺ کا سر مبارک اللہ کی اطاعت میں جھکا ہوا تھا ۔ جغرافیائی حفاظت بھی ضروری ہے لیکن نظریاتی حفاظت اِس سے بڑھ کر ضروری ہے ۔ سوویت یونین وسائل اور طاقت میں پاکستان سے کئی گنا بڑا تھا لیکن جب نظریہ پر قائم نہ رہا تو اُس کا نام و نشان بھی باقی نہ رہا ۔ اسی طرح 1971ء میں جب زبان کو نظریہ پر فوقیت دی گئی تو ہمارا ملک دو ٹکڑے ہوگیا ۔ جب تک ہم اپنی اصل کی طرف نہیں لوٹیں گے ہمارا استحکام ممکن نہیں ۔ 
اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐ
ہم اسلام کے بغیر دنیا میں طاقت اور استحکام حاصل نہیں کر سکتے ۔ قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کے نزدیک قیام پاکستان کا مقصد بالکل واضح تھا ۔ علامہ اقبال نے قائداعظم کو لکھے اپنے خط میں کہا تھا : میں نے دنیا کے مسائل پر غور وفکر کیا ، مجھے ان کا حل اسلامی شریعت کے سوا کہیں نہیں ملا ۔ لیکن شریعت کا نفاذ کیسے ہوگا؟
      جب تک اپنا ایک آزاد خطہ زمین نہ ہو۔ قائداعظم کے ذاتی معالج ڈاکٹر ریاض علی شاہ نے اپنی ڈائری میں لکھاہے کہ قائداعظم نے زندگی کے آخری لمحات میں کہا تھا : میرا ایمان ہے کہ پاکستان رسول اللہ ﷺکا روحانی فیضان ہے ۔ اب ہمارا فرض ہے کہ خلافت راشدہ کے رہنما اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے یہاں ایک اسلامی فلاحی ریاست قائم کریں ۔ اگر ہم ان نظریات پر عمل پیرا ہوجائیں تو ہر قسم کا خلا پُر ہو جائے گا ، پاکستان خود بھی استحکام حاصل کرے گا اور اُمّت کو بھی لیڈ کرسکے گا ۔ 
میزبان:ایک طرف بھاری بھرکم ٹیکسوں اور مہنگائی  کی وجہ سے عوام کا جینا دوبھر ہے ، دوسری طرف ہم سودی نظام ِ معیشت کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ اعلانیہ جنگ ہے ۔ ہمارے حالات کیسے ٹھیک ہوں گے ؟
امیرتنظیم اسلامی:بارک اوباما کے دورِ صدارت میں امریکہ میں ایک معاشی بحران آیا اور بڑے بڑے بینک دیوالیہ ہونے کے خطرے سے دوچار ہوگئے۔ ماہرین نے تجزیہ کیا کہ سود ہی اس خرابی کی جڑ ہے۔ جاپان کی ترقی کی بات کی جاتی ہے لیکن یہ نہیں بتایا جاتا ہے کہ جاپان میں سود کوصفر فیصد تک بھی رکھا گیا ہے ۔ سویٹزرلینڈ میں فی کس آمدن سب سے زیادہ ہے مگر سود کی شرح سب سے کم ہے ۔ وہ غیر مسلم ہو کر مانتے ہیں کہ سود نقصان دہ ہے جبکہ ہمارے تو دین نے سود کو حرام قرار دیا ہے ۔ اس کے باوجود بھی ہم سود کو چھوڑنے کے لیے کیوں تیار نہیں ہیں ۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے بجٹ کا 43 فیصد سود کی مد میں جارہا ہے ۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر صورتحال یہی رہی تو 2035ء تک ہمارے بجٹ کا 90 فیصد سود کی ادائیگی پر خرچ ہوگا ۔ سود اللہ سے جنگ ہے اور جنگ کا مطلب تباہی ہے ۔ جب ہم اللہ کے حکم کے نفاذ کی طرف بڑھیں گے تو ہماری معیشت بھی سنبھلے گی اور ہماری معاشرت بھی درست ہوگی۔آج ہمارے تعلیمی اداروں کا جو حال ہے ، برائی کے گڑھ بن چکے ہیں اور نسلیں تباہ ہورہی ہیں ۔ ہماری ان تمام تر بربادیوں کی وجہ دین سے دوری ہے ۔ صرف حکمران ہی نہیں ہم سب بھی اس بربادی کے ذِمّہ دار ہیں ۔ ہم حکومت سے تو کہتے ہیں کہ سود ختم کرے لیکن خود سودی اکاؤنٹس ختم نہیں کرتے ، سودی بینکاری اور سودی سکیموں میں پیسہ لگاتے ہیں ۔ ہم اپنے گھروں میں پردے کے احکامات پر عمل کیوں نہیں کرواتے ہیں ،  اپنے گھروں میں سوشل میڈیا اور سیٹلائٹ چینلز کو کنٹرول کیوں نہیں کرتے ۔ اب تو نظام چلانے والے بھی پکار اُٹھے ہیں کہ یہ نظام فیل ہوگیا ہے ۔ ہم تو پہلے دن سے کہہ رہے تھے کہ اس باطل نظام کو تبدیل کیے بغیر ہم دنیا میں آگے نہیں بڑھ سکتے ۔ اسلام کا نفاذ سب سے پہلے اپنی ذات سے شروع کرنا ہوگا ۔ قرآن میں اللہ فرماتا ہے :
{ لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ (2) کَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللہِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ (3)} (الصف:2،3)
’’ تم کیوں کہتے ہو وہ، جو کرتے نہیں ہو؟‘بڑی شدید بےزاری کی بات ہے اللہ کے نزدیک کہ تم وہ کہو جو تم کرتے نہیں۔‘‘
اگر میں اپنی ذات پر اسلام کو نافذ نہیں کر سکتا تو دنیا میں خلافت کی بات کرنے ، نظام کی بات کرنے اور حکومتوں پر اِس حوالے سے تنقید کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتا ۔   ہمیں سب سے پہلے قرآن کے ذریعے اپنے ایمان کی آبیاری کرنی ہوگی ،مسائل کے حل کے لیے قرآن کی طرف رجوع کرنا ہوگا ، دین کا صحیح اور جامع تصور اُجاگر کرنا ہوگا ۔ پھر اجتماعی سطح پر دین کے نفاذ کی جدوجہد میں حصہ لینا ہوگا۔ یہ پورا روڈ میپ صرف نعروں سے نہیں بلکہ عمل سے پورا ہوگا ۔ 
میزبان:دہشت گردی کے بارے میں حکومت کا دعویٰ تھا کہ اسے کچل دیا گیا ہے لیکن بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں یہ مسئلہ پھر سر اُٹھا رہا ہے ۔ اب آزاد کشمیر میں  صورت حال خراب ہو چکی ہے ۔ حالانکہ ہم نے مقبوضہ کشمیر  کو آزاد کروانا تھا ۔ اس صورت حال سے کیسے نکلیں گے؟
امیرتنظیم اسلامی: پہلی بات یہ ہے کہ محرومیاں اور ناراضگیاں جہاں ہوں گی تو وہاں اسلام اور دین دشمنوں کو بھی موقع ملے گا ۔ بلوچستان کے لوگ ہمیشہ سے گلہ کرتے آئے ہیں کہ ہمارے علاقے سے سوئی گیس نکلتی ہے ، معدنیات نکلتی ہیں ، پورا پاکستان فائدہ اُٹھاتا ہے لیکن بلوچستان کے لوگوں کو فوائد نہیں مل رہے ۔ اسی طرح  خیبر پختونخوا میں بھی محرومیاں ہیں ، شکایات ہیں ۔ آزاد کشمیر کے لوگوں کے بھی کچھ جائز مطالبات ہیں ۔  جب ہم نے افغان جنگ میں امریکہ کا ساتھ دیا اور اپنے لوگوں پر ڈرون حملے کروائے تو ملک کی آبادی کا ایک بہت بڑا حصّہ ہم سے ناراض ہوگیا ۔ ڈما ڈولا کے مدرسے پر بمباری کرکے 82 بچوں  کو شہید کیا گیا ۔ جب سانحہ APS ہوا تو میں نے ایک سیسٹلائٹ چینل پر لائیو پروگرام میں کہا تھا کہ بچے پوری قوم کے بچے ہیں ، سب مسلمان بچے ہیں ۔ یہ نہ کریں کہ اِدھر والوں کے ساتھ ظلم ہو تو ایکشن لیا جائے اور اُدھر والے شہید ہوں تو پوچھا بھی نہ جائے ۔ یہ تفریق و تقسیم قوم میں انتشار پیدا کرتی ہے۔ ان محرومیوں کا ازالہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ ہم  ان کو سینے سے لگائیں ، ان کی جائز شکایات اور مطالبات کو مان لیں ، ان کے علاقوں سے نکلنے والی معدنیات کا معاشی فائدہ اُنہیں بھی پہنچائیں ۔ انہیں بھی روزگار اور معاش کے مواقع فراہم کریں ۔ آزاد کشمیر کے لوگوں کے جائز مطالبات پورے کریں ۔اگر ان تمام لوگوں کی محرومیوں کا ازالہ ہم نے نہ کیا تو نفرتیں مزید بڑھیں گی ۔ بیرونی قوتوں کو بھی موقع ملے گا اور پھر حالات کو سنبھالنا ہمارے لیے مشکل ہو جائے گا ۔ لیکن اگر ہم داخلی سطح پر منظم اور متحد ہو جائیں تو بیرونی دشمن ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا ۔ ان شاء اللہ !
میزبان: پاکستانی معاشرہ مغربی تہذیب کی زد میں ہے۔ خاص طور پر ہمارا نوجوان طبقہ شعوری اور لاشعوری طور پر اپنی اقدار اور روایات سے بہت آگے نکل گیا ۔ آپ کے پاس کوئی فارمولا ہے کہ ہم اپنی موجودہ اور آنے والی نسلوں کو اس تہذیبی یلغار سے بچا سکیں ؟
امیرتنظیم اسلامی:جس طرح ڈرون حملے ہمارے جسموں کے چیتھڑے اُڑا رہے ہیں ، اسی طرح کلچرل اٹیکس ہمارے ایمان ، عقیدے اور ہمارے نظریے کی دھجیاں بکھیررہے ہیں ۔ اندرا گاندھی نے کہا تھا نا کہ ہمیں اب کسی فزیکل وار کی ضرورت نہیں ہے، ہم نے ثقافتی یلغار سے ہی پاکستان کوفتح کر لیا ہے ۔ آج کے دور میں بچوں اور والدین کے درمیان فاصلہ بڑھ رہا ہے ۔ پہلے والدین کے پاس بھی بچوں کے ساتھ گزارنے کے لیے وقت ہوتا تھا اور بچے بھی سوشل میڈیا اور سمارٹ فون کی بجائے صحت مند سرگرمیوں میں مصروف رہتے تھے مگر آج دوطرفہ معاملہ خراب ہے ۔ بچوں کو شعور اور آگاہی دینے کے لیے ، ذہنی اور اخلاقی تربیت کے لیے والدین کو وقت دینا پڑے گا ۔منبر و محراب کی صورت میں اللہ نے ہمیں ایک شاندار موقع دے رکھا ہے ۔ کسی پروگرام میں ہزار لوگوں کو لانے کے لیے دنیا کو کروڑوں روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں لیکن جمعہ کے خطاب میں کروڑوں  لوگ بغیر خرچ کے پہنچ جاتے ہیں ۔ ہمیں اس موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے نوجوان نسل کی ذہن سازی اور تربیت کرنی چاہیے ۔ تمام دینی جماعتوں کو اس حوالے سے کام کرنا چاہیے ۔ پھر نوجوان نسل کی ذہن سازی میں ہمارے میڈیا کا بھی بہت بڑا رول ہے ۔ میڈیا کو کنٹرول کرکے اس کا مثبت استعمال کیا جائے ۔ ٹی وی چینلز پر ایسے ٹاک شوز ہوں جن میں مغربی تہذیب کے منفی اثرات پر بات کی جائے ۔ آج خود مغربی اقوام بھی اپنی نسلوںکو تباہی سے بچانے کے لیے اقدامات کر رہی ہیں ۔ آسٹریلیا نے 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگا دی ہے ۔ فرانس ، انگلینڈ ، کینیڈا میں بھی اسی طرح کی قانون سازیاں ہو رہی ہیں ۔ مغربی اقوام    بھی اب گھر ، خاندان اور نکاح کی اہمیت کو سمجھ رہی ہیں۔  بارک اوباما نے اپنی قوم سے اپیل کی کہ خدا کے واسطے شادیاں کرو اور اپنے گھر بچاؤ ۔ کیونکہ ایک مضبوط گھرانہ ایک مضبوط سوسائٹی کی ضرورت ہے اور ایک مضبوط سوسائٹی ایک مضبوط امریکہ کی ضرورت ہے۔ اگر گھر کا ادارہ نہیں ہے تو نسلیں خطرے میں پڑ جائیں گی ۔ ہم مسلمانوں کو ان باتوں کا پہلے علم ہونا چاہیے کیونکہ اللہ نے اپنے آخری رسول ﷺ کے ذریعے ہمیں ہر قسم کی تعلیم دی ہے ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا :(( إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ))(صحیح بخاری)
’’جب تجھ میں حیا نہ ہو، تو پھر جو دل چاہے وہ کرو۔‘‘
جب کسی قوم سے حیااُٹھ جائے تو اس کی اقدار   ملیا میٹ ہو جاتی ہیں اور وہ تباہ و برباد ہو جاتی ہے ۔ ہمارا 8کروڑ بچہ سکولوں میں جاتاہے ۔ سکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی اصلاح کرکے انہیں نوجوان نسل کی اچھی تعلیم و تربیت کے لیے استعمال کیا جائے ۔ والدین ، گھر ، تعلیمی ادارے ، میڈیا اور ریاست سب مل کر نوجوان نسل کو تباہی سے بچا سکتے ہیں ۔ 
میزبان: افغان طالبان کے ساتھ ہمارے اچھے تعلقات تھے لیکن اب کشیدگی ہے ، دوبارہ تعلقات کیسے بہتر ہو سکتے ہیں ؟ اسی طرح کشمیر اور فلسطین کا مسئلہ بھی اُمّت کا مسئلہ ہے ۔ ان مسائل کو کیسے حل کیا جا سکتا ہے ؟
امیرتنظیم اسلامی:جیسےصہیونیوں کا خواب ہے کہ وہ گریٹر اسرائیل قائم کریں ، اسی طرح ہمارا خواب بھی گریٹر خراسان قائم کرنا ہونا چاہیے کیونکہ گریٹر خراسان کی بشارت اللہ کے رسول ﷺ نے دی ہے کہ خراسان سے اسلامی لشکر نکلیں گے اور یروشلم میں جاکر اپنے جھنڈے گاڑیں گے اور حضرت مہدی اور حضرت   عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ مل کر دجال کے خلاف جنگ کریں گے ۔ اقبال نے کہا ؎
میر عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے
خراسان میں افغانستان ، شمالی پاکستان ، شمالی ایران اور وسط ایشیائی مسلم ریاستوں کے کچھ حصے شامل ہیں ۔ لہٰذا ہمیں آپس کے جھگڑے ختم کرکے متحد اور منظم ہو نا چاہیے۔ قرآن کہتا ہے:
{وَاِنْ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَہُمَاج} (الحجرات:9)’’اور اگر اہل ِایمان میں سے دو گروہ آپس میں لڑپڑیں تو ان کے درمیان صلح کرا دیا کرو۔‘‘
ہمیں آپس میں صلح کی کوشش کرنی چاہیے ۔ اگر افغان طالبان کا جھکاؤ بھارت کی طرف ہے تو ہم اس کی بھی مذمت کرتے ہیں اور اپنی حکومت سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ افغانستان کے ساتھ جنگ کی بجائے مذاکرات کیے جائیں اور آپس میں مل کر داعش اور دیگر فسادی گروہوں اور نیٹ ورکس کا صفایا کیا جائے ۔ فلسطین اور کشمیر کے مسئلہ پر آواز اُٹھانا پاکستان کے لیے لازم ہے ۔1940ء میں  جب قرارداد لاہور پاس ہوئی تھی تو اس وقت اس کے ساتھ ہی ایک اور قرارداد بھی پاس ہوئی تھی جوفلسطین کے مسلمانوں کی حمایت کے لیے پاس کی گئی تھی۔ ہمارے لیے جس طرح مکہ اور مدینہ محترم ہیں اسی طرح مسجد اقصیٰ  بھی اہم ہے ۔ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر بنا ہے لہٰذا اسلام اور مسلمانوں کے مفادات کا دفاع ہمارے نظریہ میں شامل ہے ۔ 
میزبان:اُمّت ِمُسلمہ کے لیے راہ نجات کیا ہے۔ نوجوانوں کو کیا پیغام دیں گےکہ وہ تہذیبی یلغار کا مقابلہ کس طرح کر سکتے ہیں ؟
امیرتنظیم اسلامی: حضرت زین العابدینؒ نے  سورۃ التوبہ کی مشہور آیت{اِنَّ اللہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ }(آیت:111) ’’یقیناً اللہ نے خرید لی ہیں اہل ِ ایمان سے ‘‘کی تشریح میں فرمایا تھا کہ میری جان کوئی گھٹیا یا حقیر شے نہیں ہے جس کو میں گھٹیا اور حقیر کاموں میں لگا دوں ، بے مقصد اور فضول کاموں میں زندگی گزار دوں ۔ یہ جان اس قدر قیمتی ہے کہ اِسے لگا کر اللہ کی جنت حاصل کی جا سکتی ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے عظیم مشن کے لیے طائف اور احد میں اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا۔ ہم آپ ﷺ کے اُمتی ہیں ، روزِ قیامت اللہ ہم سے پوچھے گا کہ ہم نے اپنی زندگی کن کاموں میں گزار دی ۔ آج ہمیں اور ہمارے بچوں کو سوچنا چاہیے کہ ہم اپنا وقت کن کاموں میں گزار رہے ہیں ۔ ہمارا مال ، صلاحیتیں اور جان کہاں خرچ ہورہی ہے ۔ اقبال نے کہا تھا ؎
کی محمدؐ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
اگر ہم اللہ کے رسول ﷺ کے مشن میں اپنی جان ، مال ، وقت ، صلاحیتیں اور وسائل کھپائیں گے تواللہ تعالیٰ ہماری مدد کرے گا اور ہم دنیا و آخرت میں سرخرو ہوں گے ۔ ان شاء اللہ !