(سیمینار) اسلام آباد میں تنظیم اسلامی کے زیر اہتمام قومی سیمینار کا انعقاد - ڈاکٹر اشرف علی

12 /

اسلام آباد میں تنظیم اسلامی کے زیر اہتمام قومی سیمینار کا انعقاد

بعنوان: ’’اُمّتِ مُسلمہ کی حالتِ زار اور راہِ نجات‘‘

ڈاکٹر اشرف علی، ناظم نشر واشاعت ، حلقہ اسلام آباد

 
تنظیم اسلامی کے زیراہتمام 16 اگست 2026ء کو’’اُمّتِ مُسلمہ کی حالت زار اور راہ نجات‘‘ کے عنوان تلے تین ہفتوں پر محیط ملک گیر مہم کے سلسلے میں دارالحکومت اسلام آباد میں ایک قومی سیمینار کا اہتمام کیا گیا جس  میں مختلف مکاتب ِفکر سے تعلق رکھنے والے جید علمائے کرام کے علاوہ رفقائے تنظیم اور احباب نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق سیمینار ساڑھے دس بجے شروع ہوا اور نماز ظہر تک جاری رہا۔    صدارت امیر تنظیم اسلامی نے کی جبکہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض حلقہ اسلام آباد کے ناظم تربیت محترم عامر نوید   نے انجام دئیے۔
     پروگرام کاباقاعدہ آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا جس کی سعادت حلقہ پنجاب شمالی کی مقامی تنظیم راولپنڈی کینٹ کے رفیق محترم عابد بشیر نے حاصل کی۔محترم نعمان عظمت نے نعت کی صورت میں رسول کریمﷺ کے حضور نذرانہ عقیدت پیش کیا۔
امیر محترم شجاع الدین شیخ حفظ اللہ نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج اُمّت ِمسلمہ کی زبوں حالی اور حالت زار کی اصل وجہ قران سے دوری اور اللہ اور اس کے رسولﷺ کی تعلیمات کو پس ِپشت ڈالنے میں ہے۔ اس اُمّت کی اُٹھان، جڑ اور بنیاد اسلام پر ہے۔ اگر مسلم اُمّہ اپنی عظمت ِرفتہ کو بحال کرنا چاہتی ہے تو اُسے قران کو اپنا راہنما اور دستور بنانا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج عالم اسلام جغرافیائی طورپر چھوٹی چھوٹی قومی ریاستوں میں تقسیم ہے لیکن بڑے افسوس کی بات ہے کہ آج ان ستاون مسلمان ممالک میں کوئی بھی ملک ایسا نہیں ہے جسے ہم دنیا کے سامنے ایک رول ماڈل کی حیثیت سے پیش کرسکیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج فلسطین سے لے کر کشمیر، افغانستان، شام، لیبیا، لبنان اور ایران تک ہر جگہ مسلمان کا ہی خون بہہ رہا ہے اور بستیاں اُجڑ رہی ہیں لیکن پوری اُمّت ِمسلمہ میں کسی ملک میں بھی اتنی اخلاقی جرأت نہیں ہے کہ وہ اُٹھ کھڑے ہوکران طاغوتی قوتوں کا مقابلہ کرسکے۔ انہوں نے مسلم ممالک پر زور دیا کہ وہ مسلمانوں  کے خلاف برسرپیکار طاغوتی قوتوں کا مقابلہ کرنے کےلیے متحد ہوکر سیاسی، معاشی اور عسکری محاذوں کے علاوہ تجارت اور صنعت کے میدان میں بھی اپنی توانائیاں مجتمع کریں تاکہ اُمّت ِمسلمہ ایک بار پھر دنیا میں ایک بھرپور سیاسی اور معاشی قوت کے طور پر اُبھرے اور ہم دنیا کے سامنے اسلام کا وہ نمونہ پیش کرسکیں جو پوری دنیا کےلیے مشعل راہ ہو۔
امیرمحترم نے مسلمانوں کو یاد دلایا ایک وقت تھا جب مسلمان قرآن کی تعلیمات کو لے کر پوری دنیا پر چھائے ہوئےتھے اور تقریباً ایک ہزار سال تک دنیا پر حکمرانی کی۔ یہ وہ وقت تھا جب یورپ سے لوگ علم کے حصول کےلیے قرطبہ، غرناطہ، اندلس اور بغداد چلے آتے تھے، یورپ کی درس گاہوں میں آج بھی عمرؓلاز پڑھائے جاتے ہیں لیکن جب ہمیں آسمان نے اپنی ہی بداعمالیوں اور حکمرانوں کی عیاشیوں کی وجہ سے اوج ثریا سے تحت الثراء پر دے مارا تو ہمارے اوپر زمین تنگ ہوگئی اور ہم  اِسی طاغوتی محکوم طبقے کے ہاتھوں غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے۔
اس سے پہلے مشہور مذہبی سکالر اور تنظیم اسلامی کے سینئر راہنما ڈاکٹر ضمیر اختر خان نے کہا کہ آج دنیا میں نفرتیں بڑھ رہی ہیں، انسانی خون کی ارزانی ہے اور ایک عام شخص امن کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ انسانیت بھٹک رہی ہے اور کسی ایسی حالت کی تلاش میں ہے جہاں اُسے سکون کے چند لمحات میسر ہوں۔ ایسے میں اسلام ہی انسان کا نجات دہندہ ہے۔ آج اگر مسلم اُمّہ دنیا میں ایک بار پھر اپنا غلبہ چاہتی ہے تو ہمیں قرآن کو اپنا دستور بنانا ہوگا اور دنیا میں پُرامن انقلاب برپا کرنے کےلیے حضورﷺ کی سیرت طیبہ سے رہنمائی لینی پڑے گی۔ انہوں نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے دفاعی معاہدہ (میثاق مکہ) کو خوش آ ئند قراردیتے ہوئے تجویز پیش کی کہ اس میثاق کو پوری اُمّت مسلمہ تک بڑھایا جائے۔ بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ پاکستان کی پیدائش اسلام کے نام پر ہوئی ہے اور اس کا اصل اثاثہ اس کی نظریاتی اساس ہے اس  لیے پاکستان اپنی جغرافیائی حیثیت اور ایٹمی اور عسکری صلاحیتوں کی وجہ سے بہتر پوزیشن میں ہے کہ وہ اس اُمّت کی قیادت کا فریضہ انجام دے سکے۔
مشہور قانون دان، محقق اور اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق جنرل سیکرٹری ڈاکٹر اکرام الحق نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ اُمّت ِمسلمہ کے پاس وسائل بھی ہیں اورافرادی قوت بھی، ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے مسلم اُمّہ کو علم و فن سے بھی بہرہ ورکیا ہے لیکن افسوس کہ آج ہمارے وسائل پر بھی مغرب کا قبضہ ہے اور ہماری افرادی قوت بھی مغرب کےلیے استعمال ہورہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے بہترین ماہرین علم و فن آج مغرب کے  مختلف اداروں میں اغیار کےلیے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ حتیٰ کہ امریکہ کے سب سے بڑے سائنسی تحقیقاتی ادارے ناسا سے لے کر وائٹ ہائوس تک میں ہمارے لوگ اغیار کی خدمت میں مصروف عمل ہیں۔
محقق و مصنف پروفیسر ڈاکٹر حبیب الرحمٰن عاصم نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج اُمّت ِمسلمہ کی زبوں حالی کی اصل وجہ ہمارے تصور دین کی خرابی اور حضورﷺ کی سیرتِ مطہرہ سے انحراف ہے۔ انہوں نے کہا جب تک ہم اپنی سیاست، معیشت، عدالت، ثقافت اور پوری معاشرت کو اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ نہیں کریںگے، دنیا میں ایک صالح معاشرے کا قیام ناممکن اور امن کا خواب، خواب ہی رہے گا۔ انہوں نے علماء کرام پر زور دیا کہ وہ اسلام کے آفاقی نظام کو عام کرنے میں اپنا بھر پور کردار ادا کریں۔ ساتھ ہی انہوں نے میڈیا کے کردار کو بھی انتہائی اہمیت کا حامل قراردیا۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے ایک عام آدمی کو یاد دلایا کہ انفرادی طور پر ہر شخص کےلیے دنیا میں اسلام کا جسٹ ورلڈ آرڈر قائم کرنے میں اپنا حصّہ ڈال کراللہ کے سامنے سرخرو ہونے کا یہ ایک بہترین موقع ہے۔ 
سیمینار کے اختتام پر امیر تنظیم اسلامی نے اجتماعی دعا فرمائی۔