(انٹریو) ڈاکٹر اسرارؒ کی پوری زندگی اُن کے مشن کی عکاس تھی - فرزانہ چیمہ

12 /

ڈاکٹر اسرار احمدؒ کی پوری زندگی اُن کے مشن کی عکاس تھی

بانیٔ تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسرار احمدؒ کی اہلیہ کا ماہنامہ خواتین میگزین لاہور کو جون 2010ء میں دیا گیا ایک انٹرویو

انٹرویو نگار: فرزانہ چیمہ

اپریل 2010ء کی 14 تاریخ کو ڈاکٹر اسرار احمدؒ اپنی حیات مستعار گزار کر نہایت سکون سے اگلے جہان چل دیئے۔ ماہِ وصال کے حساب سے انہوں نے 78برس عمر پائی، وہ ایک متحرک اور مبلغ داعی کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں۔ میڈیکل کی تعلیم پانے کے باوجود اُنہوں نے عوام الناس کے روحانی علاج کرنے کو ترجیح دی اور ہمہ وقت فہمِ قرآن سیکھنے اور سکھانے میں مصروف ہوگئے۔ اور یوں ایک حدیث نبوی ﷺ کے مصداق وہ بہترین ٹھہرے۔ ڈاکٹر صاحبؒ کے انتقال پر تقریباً ہر طرف سے تعزیتی بیانات اور مضامین شائع ہوئے ، جن میں ان کی دینی خدمات کا احاطہ کیا گیا۔
مگر یہ سب کے سب ان کے بیرون خانہ زندگی کے عکاس ہیں۔ ہم نے اندرون خانے اُن کی جھلک جاننے کے لیے ان کی اہلیہ محترمہ سے ایک خصوصی نشست رکھی جس میں ان کی صاحبزادیاں اور دو بہوئیں بھی وقفے وقفے سے شامل ہوتی رہیں۔
میری یہ اس خاندان سے باقاعدہ پہلی ملاقات تھی، گو اِس سے پہلے دو مرتبہ تعزیت کے لیے حاضری ہوئی تھی۔ لیکن ان کا اخلاق ، ان کا سادہ طرزِزندگی، ان کی دین سے گہری محبت اور عمل یہ سب کچھ کسی طور یہ ثابت نہیں کر رہا تھا کہ ہماری یہ آپس میں پہلی ملاقات ہے۔ سچ ہے کہ مومن تو آپس میں ایک دوسرے کے بھائی ہوتے ہیں۔
قارئین کے لیے اِس نشست کی تفصیل اس توقع کے ساتھ پیش خدمت ہے کہ اپنے اپنے ظرف کے مطابق اِس میں سے راہِ عمل کے لیے موتی چنیں گے اور یوں اس میں سے کچھ اجر اس قلمی کاوش کار کو بھی مل جائے گا۔ ان شاء اللہ العزیز!
یہ 12 مئی کی ایک تپتی دوپہر تھی۔ اچانک کوئی مہمان آجانے کی وجہ سے میں طے شدہ وقت سے کوئی آدھ گھنٹہ تاخیر سے پہنچی تھی۔ میرے لہجے میں معذرت جبکہ ادھر شفقت تھی۔ انتظار میں بیٹھنے کا تاثر تک نہ دیا بلکہ خود جا کر خوبانی کا مزے دار ملک شیک لے کر آئیں اور یوں ہمیں شرمندگی اور گرمی دونوں سے بخوبی بچا لیا۔

س: آپا جان! سب سے پہلے تو آپ کا تعارف چاہوں گی۔ ڈاکٹر صاحب کی رفاقت کے لیے رب کریم نے کسی معمولی لڑکی کو تو نہیں چنا ہوگا۔
ج: میرا نام طاہرہ ہے۔ میں اپنے ننھیال دھاریوال ضلع گورداس پور میں پید اہوئی۔ میرے والد بھی اسی شہر میں سول ہسپتال میں ملازم تھے۔ یوں قیامِ پاکستان تک میرا بچپن وہیں گزرا۔ میرے دو بڑے بھائی تھے۔ پھر میں تھی تیسرے نمبر پر۔ پاکستان بننے کے بعد ہم لوگ منٹگمری آکر قیام پذیر ہوگئے جو آج کا ساہیوال ہے۔
س: ڈاکٹر صاحبؒ کے ابتدائی حالات بتائیں گی۔ کہاں کہاں تعلیم حاصل کی؟ وغیرہ وغیرہ۔
ج: ڈاکٹر صاحبؒ کے بارے میں تو اتنا کچھ شائع ہو چکا ہے۔
س: چلیے میں وہیں سے لے لیتی ہوں۔ تو قارئین محترم! ڈاکٹر صاحب 24 اپریل 1932ء کو ضلع حصار، ہریانہ (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ عجیب اتفاق ہے کہ ان سے پہلے ان کے دو بھائی جن کا نام والدین نے اسرار رکھا، یکے بعد دیگرے کم سنی ہی میں وفات پاگئے۔ اب اس تیسرے بیٹے کا نام پھر اسرار احمد ہی رکھا گیا، نہ جانے اس میں قدرت کے کیا اسرار تھے؟
میٹرک حصار سے کیا اور مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے ضلعی جنرل سیکرٹری رہے۔ اور وہاں میٹرک کے امتحان میں متحدہ پنجاب میں مسلم طلبہ میں چوتھی پوزیشن حاصل کی۔ اس زمانے میں میٹرک کا امتحان پنجاب یونیورسٹی لیا کرتی تھی۔ پاکستان ہجرت کرتے ہوئے بیس دن پیدل چلتے ہوئے چھپتے چھپاتے پاک سرزمین پہ قدم رکھا اور منٹگمری آباد ہوگئے۔ ایف ایس سی، گورنمنٹ کالج لاہور سے کی، جو آج کل یونیورسٹی بن چکی ہے۔ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے 1954ء میں ایم بی بی ایس کیا۔ دین کی طرف فکر و عمل ایسا تھا کہ اسلامی جمعیت طلبہ میں شامل ہو کر جلدی ہی ناظم اعلیٰ بنے، طالب علمی کا دور ختم ہوتے ہی جماعت اسلامی میں شامل ہوگئے مگر جماعت کے    انتخابی عمل سے اختلاف کرتے ہوئے 1957ء میں جماعت کو خیرباد کہہ دیا۔ اور انفرادی طور پر درس و تدریس کا عمل جاری رکھا۔ ساتھ پریکٹس بھی کرتے رہے۔ 1965ء  میں کراچی یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات گولڈ میڈل کے ساتھ کیا۔ اس کے ساتھ منٹگمری سے لاہور کرشن نگر میں رہائش اختیار کر لی اور کلینک کھول لیا۔ ڈاکٹر صاحبؒ کے چار بھائی اور چار بہنیں تھیں۔ بھائیوں کے نام اظہار احمد، اقتدار احمد، وقار احمد اور ابصار احمد جبکہ بہنوں کے نام تھے، بلند اقبال، بلقیس جمال، قمر افضال اور خوش خصال۔
س: تحریک قیامِ پاکستان کی یادیں تازہ کریں گی؟
ج: تب کوئی زیادہ عمر تو نہیں تھی، بس لوگوں کا پاکستان کے لیے جوش و جذبہ یاد ہے۔ پھر بڑی مشکلات سے گزر کر ہجرت کرنا یاد ہے۔ یہاں آکر لوگوں کا مہاجرین کا استقبال کرنا یاد ہے۔ لوگ بے حد محبت سے پیش آتے تھے۔ میری امی تو پاکستان کی سرحد پر ہی روتے روتے سجدہ ریز ہوگئیں۔ بڑا رقت انگیز منظر تھا۔ میں نے ساہیوال آکر مولوی عالم اور مولوی فاضل کیا۔ مدرسہ بناتِ اسلام سے۔
س: ڈاکٹر صاحبؒ کے ساتھ رفاقت کا سفر کب شروع ہوا۔ کیا وہ آپ کے رشتے دار تھے؟
ج: رشتہ دار تو نہیں تھے۔ میں اپنے بچپن کے دینی رجحان کی وجہ سے ساہیوال آکر جماعت اسلامی کی رکن اور ناظمہ ساہیوال فردوسی بیگم کے قریب ہوگئی۔ ان کی بیٹیاں میری سہیلیاں تھیں۔ ان کے ہاں ہمارا آنا جانا تھا۔ میں بھی جماعت میں تھی۔ فردوسی بیگم نہایت دین دار اور فہمیدہ و سنجیدہ خاتون تھیں، میرے ساتھ خاص محبت سے پیش آتیں۔ پھر ایک دن انہوں نے اپنے ایک بیٹے کے لیے میرا رشتہ مانگ لیا۔ اور بڑے بیٹے اظہار کے لیے میری خالہ کا، وہ مجھ سے بڑی تھیں۔ یاد رہے کہ ان دونوں بیٹوں کے رشتے اپنے چچا کے ہاں طے تھے مگر فردوسی بیگم نے ان لڑکیوں کی روشن خیالی کے سبب یہ رشتے ختم کر دیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں کوئی محبّ دین اور باعمل لڑکیاں لا کر آنے والی نسلوں کو محفوظ رکھنا چاہتی ہوں۔ انہیں خراب نہیں کرنا چاہتی۔ یوں ڈاکٹر صاحب کی رفاقت مجھے میسر آئی۔
س: تقریب شادی کیسے انجام پائی؟ بری، جہیز، رسمیں؟ کیا کچھ ہوا؟ کون سا لباس پہنا؟ حق مہر کتنا تھا؟
ج: (مسکراتے ہوئے) اتنی تفصیل جان کر کیا کریں گی۔ اب تو کچھ ایسا یاد بھی نہیں۔ 26 فروری 1955ء کے دن ہم رشتہ نکاح میں منسلک ہوئے۔ نہایت سادگی سے سب کچھ انجام پاگیا۔ بری، جہیز تھوڑا بہت تھا۔ رسمیں؟ سلامیاں دی گئی تھیں، بس دراصل اس وقت دین کا وہ شعور نہیں تھا جو بعد میں اللہ تعالیٰ نے دیا۔ ڈاکٹر صاحبؒ نے اچکن ٹوپی پہنی تھی۔ میں نے ریشمی کپڑے پہنے تھے، غالباً سرخ رنگ کے۔ البتہ ولیمہ کے کپڑے یاد ہیں سبز مخمل کا سوٹ پہنا تھا، سُچے تِلّے کے کام والا۔ حق مہر ڈاکٹر صاحبؒ نے اس زمانے میں غالباً 5000 روپے دیا تھا۔ 
س: آپ کو محسوس نہیں ہوا ایسی سادہ شادی؟ آج کل تو لڑکیاں نہ جانے کیا کیا ارمان سجائے بیٹھی ہوتی ہیں؟
جـ: میری طبیعت ایسی تھی ہی نہیں، سادگی، تعلق باللہ، مطالعہ بس اسی قسم کے شوق تھے، میرے ایک چچا بہت عبادت گزار تھے۔ خود مجھے الحمد للہ بچپن سے ہی عبادت کا شوق تھا۔ میری بڑی خواہش ہوا کرتی تھی کہ کاش میں اللہ تعالیٰ کو دیکھ سکوں۔ اللہ سے تعلق رکھنے والے لوگ میرے پسندیدہ لوگ ہوتے۔
ایک نابینا بزرگ میرے چچا صاحب کے پاس اکثر آیا کرتے۔ نہایت اللہ والے۔ سجدے میں گڑگڑا کر رویا کرتے۔ ہر وقت آہ وزاری کیا کرتے۔ شب بیداری کرتے غرض کہ عشقِ حقیقی میں ڈوبے رہتے۔ میں نے ایک دن دل ہی دل میں دعا کی کہ اگر میری شادی ہونی ہے تو اس ناہینا بزرگ سے ہو جائے۔ تعلق باللہ کی یہ کیفیت تھی میری۔
س: ڈاکٹر صاحبؒ نے کوئی تحفہ دیا آپ کو؟ ڈاکٹر صاحب کی سب سے اچھی عادت کون سی تھی اور ناپسند کون سی تھی؟
ج: جی ہاں! کلائی کی گھڑی پہلا تحفہ دیا تھا۔ وہ بہت عرصہ میرے استعمال میں رہی۔ اسی طرح میری ساس صاحبہ نے منگنی کے طور پر مجھے جو انگوٹھی پہنائی تھی، وہ اب میں نے عدت میں اتاری ہے۔ ورنہ مسلسل میں نے پہنے رکھی۔ جب بھی کہیں سے گھسی یا خراب ہوئی، دوبارہ ٹھیک کروالی۔ عادات ساری ہی پسند تھیں۔ وقت کی پابندی بہت کرتے تھے۔ قرآن سے بہت محبت تھی۔ ناپسندیدگی والی کوئی بات میں نے نہیں دیکھی۔
ڈاکٹر صاحبؒ نے شروع دن سے بتا دیا تھا مجھے کہ میرا یہ پروگرام ہے۔ دین کی سربلندی کے لیے مجھے کام کرنا ہے۔ اِس راستے میں مشکلات بھی آئیں گی، رکاوٹیں بھی ہوں گی تم میرا ساتھ دو گی؟ ظاہر ہے۔ مجھے کیا اعتراض ہو سکتا تھا۔ میں تو خود اسی راستے کی راہی تھی۔ میرا بھی یہی مشن تھا۔
یہاں ایک بات کی وضاحت کردوں۔ شادی پہ تحفہ، منگنی کی انگوٹھی وغیرہ یہ سب پہلے کی باتیں ہیں۔ جب احساس ہوا کہ یہ سب فضول باتیں ہیں، محض رسمیں تو پھر سب کچھ چھوڑ دیا۔ اپنے بچوں کی شادیوں پر منگنی، بری، جہیز غرض کوئی رسم بھی نہیں کی۔
س: کیا ڈاکٹر صاحبؒ آپ کی تعریف کرنے میں کنجوس تھے یا فراخ دل؟
ج: وہ ایک ذِمّہ دار شوہر تھے۔ تعریف کرنے میں کنجوس ہرگز نہیں تھے۔ غصّے والے کچھ تھے لیکن خود کہا کرتے تھے کہ نہ جانے تم نے کیا کر دیا ہے کہ اب مجھے غصّہ نہیں آتا۔ میرے لیے ان میں دین کی تڑپ جو تھی، وہ بے حد خوشی کا باعث تھی۔ جس مشن کو لے کر وہ چل رہے تھے، اس کے سامنے باقی سب چیزیں ہیچ تھیں۔ میرا ساتھ دینے پر، بچوں کی تربیت کرنے کے لحاظ سے وہ اکثر میرے معترف رہتے تھے۔ ان کے غصّہ ختم ہونے کا سبب یہ تھا کہ میں کوئی ایسا موقع آنے ہی نہیں دیتی تھی، اصل میں گھر میں لڑائی جھگڑا کرنے کرانے میں یا بڑھانے میں عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ وہ چاہے تو اپنے حسنِ سلوک سے گھر کو جنت بنا سکتی ہے۔ میری ساس مجھ سے بہت خوش تھیں۔ چھوٹی موٹی بات کہاں نہیں ہو جاتی مگر لڑکی میں برداشت اور بڑوں کا ادب ہو تو معاملہ بگڑتا نہیں۔ دونوں طرف اللہ کا ڈر ہو تو حالات قابو میں رہتے ہیں۔
س: مذہب کی طرف آپ کا رجحان ڈاکٹر صاحبؒ کی وجہ سے ہوا یا آپ شروع ہی سے اس طرف تھیں؟
ج: (آپا جان کی بجائے ان کی بیٹی امۃ المعطی بولیں) امی کا دینی ذوق تو بہت زیادہ اور بہت پہلے سے تھا بلکہ کئی دفعہ اباجی کہا کرتے تھے، بھئی تمہاری ماں تو میرے سے بھی    دو ہاتھ آگے ہے۔ امی ابھی تک ہماری تربیت پر کڑی نگاہ رکھتی ہیں حالانکہ ہم سب اپنے اپنے گھروں والی ہو چکی ہیں۔
س: جب تک آپ لوگ جماعت اسلامی میں رہے، اسے کیسا پایا؟ حلقہ خواتین میں آپ کی پسندیدہ شخصیات  کون سی تھیں؟
ج: جماعت اسلامی انہیں اب تک بھی پسند تھی، بس انتخابی سیاست کا رخ لینے کی وجہ سے یہ الگ ہوئے۔ ورنہ سارا مشن وہی تو ہے۔ مجھے حمیدہ بیگم کی شخصیت بہت پسند تھی۔ بس ایک دفعہ ہی دیکھا، درس دے رہی تھیں۔ ان کی سادگی، ان کا علم… ظاہر ہے۔ بہت متاثر کرنے والی شخصیت تھیں۔ رخشندہ کوکب بھی ان کے ساتھ تھیں۔
س: جماعت اسلامی چھوڑنے پر کبھی پچھتاوا ہوا یانہیں؟
ج: صدمہ بہت ہوا تھا کہ یہ کس رخ پر چلی گئی؟ پچھتاوا کبھی نہیں ہوا، ڈاکٹر صاحبؒ اپنے راستے پر مطمئن تھے۔
س: ڈاکٹر صاحبؒ کے راستے کی تھوڑی تفصیل ہو جائے؟
ج: 1971ء میں ڈاکٹر صاحب عمرہ کرنے گئے۔ وہاں بیت اللہ میں عزم کیا اور دورانِ اعتکاف کہا کہ واپس جا کر کلینک نہیں کرنا بلکہ دین کے کام کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لینا ہے۔ رازق تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ دین کا کام تو پہلے بھی کرتے تھے مگر ساتھ کلینک بھی چلاتے تھے۔ عمرہ سے واپس آ کر سارا وقت دین کو دینے لگے اور کلینک بالکل ختم کر دیا بلکہ آتے ہی اس کو تالا لگا دیا۔ اور اقامتِ دین کے لیے زندگی وقف کر دی۔ 1972ء میں انجمن خدام القرآن قائم کی،1975ء میں تنظیم اسلامی کے نام سے ایک اسلامی انقلابی جماعت قائم کی۔ گھر کی اصلاح کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ اسلام پہلے گھر پر نافذ کیا جائے، یوں جب ایسے بہت سارے لوگ جمع ہو جائیں گے تو انقلاب لانے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ پھر حکومت کے سامنے سینہ سپر ہو جائیں، جیسے ایران میں ہوا، مگر ایسی جماعت قائم نہ ہو سکی۔ اگر جماعت اسلامی اس طرح رہتی تو انقلاب برپا ہو سکتا تھا مگر وہ انتخابی راہوں میں اُلجھ کر رہ گئی۔
ہم تنظیم اسلامی والے تو مُٹھی بھر لوگ ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہمارے ہاتھوں ہی خلافت آئے۔ ہم تو بیج ڈالنے والے لوگ ہیں کبھی تو فصل برگ و بار لائے گی۔ تنظیم میں خواتین کا شعبہ 1983ء میں قائم ہوا۔ لاہور میں 6,7 سو کے قریب ارکان ہیں جنہیں ہم رفیقہ کہتے ہیں۔ کراچی میں بھی لگ بھگ اتنی ہی ہیں۔ اس طرح دوسرے شہروں اور بیرونِ پاکستان بھی ہماری رفیقات ہیں۔ ہمارا       نظام العمل یہ ہے کہ عورت کا دائرہ کار مردوں سے الگ ہے۔ عورت کا اصل مقام گھر ہے لہٰذا وہ تبلیغ بھی اپنے گھر میں کرے۔ البتہ شادی شدہ عورت اپنے گھر، اولاد محرم  رشتے داروں اور ہمسائیوں وغیرہ کی خواتین میں کر سکتی ہے۔
س: گلشن ِ طاہرہ اسرار میں کتنے پھول اور کلیاں کھلیں اور ان کی بہار کا کیا عالم ہے؟
ج: اللہ تعالیٰ نے ہمیں چار بیٹوں اور پانچ بیٹیوں سے نوازا ہے۔ عارف رشید ڈاکٹر ہیں۔ عاکف سعید ایم اے فلسفہ ہیں اور تنظیم اسلامی کے امیر(سابقہ) ہیں۔ عاطف وحید اکنامکس میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ آصف حمید ایم اے عربی ہیں اور شعبہ سمع وبصر کے ناظم ہیں۔ ان میں سے عاکف اور عاطف حافظ ِ قرآن ہیں۔ بیٹیاں اَمّۃ المعطی، اَمَۃ المغنی، اَمّۃ المحصی، اَمَۃ المحیی اور اَمَۃ الہادی ہیں۔ سب بچے شادی شدہ ہیں اور دین کے کاموں میں ہمارے دست و بازو ہیں۔ الحمد للہ ثم الحمد للہ۔
س: شادی بیاہ میں سنا ہے آپ نے تمام رسومات کا خاتمہ کر کے دکھا دیا ہے۔ یہ کیسے ہوا؟
ج: اللہ کا احسان ہے جب دین کو صحیح معنوں میں سمجھا تو میری بچیوں سمیت میں نے شرعی پردہ کر لیا۔ شروع میں مشکلات تو ضرور پیش آئیں لیکن ہم ایک عزم سے ڈٹے رہے۔ ایک عزیز کی شادی پہ گو ہم بالکل تنہا ہو کر رہ گئے تھے، ہاں ان کے بھائی اقتدار صاحب نے ہمارا ہر طرح سے ساتھ دیا۔ مالی بھی، دینی بھی، سماجی بھی غرض وہ اور ان کی اہلیہ ہر طرح سے ہمارے ہم قدم رہے۔ لوگوں نے بہت باتیں بنائیں۔ یہاں تک کہا کہ دیکھیں گے ان کے رشتے کون لے گا اور کون انہیں رشتے دے گا۔ دیکھیں گے بھلا داماد کیسے صرف بیٹھک میں بیٹھا کریں گے؟
مگر اللہ کا ہزار شکر ہے۔ تمام بچوں کے رشتے نہایت معزز اور دیندار گھرانوں میں ہو گئے... اقتدار صاحب کی تین بیٹیاں ہماری بہوئیں ہیں جبکہ بڑے بیٹے عارف رشید کی اہلیہ کراچی کے قاضی عبد القادر کی بیٹی ہیں جو خود تنظیم اسلامی کے رکن ہیں اور بیگم قاضی عبد القادر، جماعت اسلامی کی رکن اور ناظمہ بیت المال کراچی تھیں۔
اسی طرح میری دو بیٹیاں اقتدار صاحب کی بہوئیں ہیں۔ وٹہ سٹہ کا شائبہ تک نہیں ہوا کبھی۔ ہر قسم کی رسومات ختم کر کے شادی کی تقریبات صرف ولیمہ کے اندر سمیٹ دیتے ہیں۔ پہلے اِس راستے پر ہم اکیلے ہی تھے، اب سارا خاندان اِسی طرح شادیاں کرتا ہے بلکہ تنظیم اسلامی کے ہزاروں گھروں میں شادیوں کا یہی چلن ہے۔ مسجد میں نکاح، کچھ بری، زیور اور اگلے دن ولیمہ۔
س: آپ نے ایک بچے کی محرم کے مہینے میں بھی شادی کی تھی؟ اس کی کچھ تفصیل ہو جائے۔
ج: جی ہاں! حافظ عاکف سعید کی شادی 7 محرم الحرام کو کی تھی۔ دراصل یہ کسی سوچ کے تحت نہیں کی تھی بلکہ انہی دنوں تنظیم اسلامی کا سالانہ اجتماع بھی تھا، اراکین کی خواہش پر نکاح بھی اسی تاریخ کو رکھ دیا گیا۔ ایک مخصوص مسلک کے لوگوں نے بہت باتیں کیں۔ ڈاکٹر صاحبؒ کو قتل کی دھمکیاں بھی دی گئیں مگر ڈاکٹر صاحبؒ کسی سے دبنے والے نہ تھے۔ اس شادی سے متعلق بہت سے جھوٹ بھی پھیلائے گئے مگر الحمد للہ دونوں میاں بیوی خوش و خرم اپنے بچوں کے ساتھ رہ رہے ہیں اور الحمد للہ پھل پھول رہے ہیں۔
س: آپ نے بچوں کی تربیت کسی خاص اصول کے تحت کی کہ آج سب ماشاء اللہ دین کے راستے کے راہی ہیں۔
ج: گھر میں ماں کا ہمہ وقتی رول ہوتا ہے۔ اگر ماں یہ    ذِمّہ داری پہچان لے تو پھر اس کی محنت اور دعا ہوتی ہے۔ اصل کام اللہ کی رحمت ہے۔ ماں اگر بچوں کو ایک نمونہ بنانا چاہتی ہے تو پھر پہلے اسے خود بچوں کے سامنے نمونہ بننا پڑے گا۔ اولاد کے اندر اللہ تعالیٰ کا خوف ڈالا جائے۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان لا کر پھر اس پر جم جانا اور اپنے دل کو ٹھیک کرنا ہوگا تقویٰ دل میں ہوگا تو باہر آئے گا۔ اندرہی نہ کچھ ہو تو باہر کیا آئے۔ سو تقویٰ بہت ضروری ہے۔
س: ڈاکٹر صاحبؒ کا کھانے پینے کا ذوق کیسا تھا؟
ج: ڈاکٹر صاحبؒ بڑے خوش ذوق تھے۔ لباس میں میچنگ کا خیال رکھا کرتے۔ اسی طرح کھانے پینے میں عمدہ ذوق رکھتے تھے لیکن اس کے ساتھ ساتھ کبھی باسی روٹی، لہسن کی چٹنی اور چائے شوق سے کھا پی لیتے تھے۔ یوں تو ہر چیز شوق سے کھاتے تھے تاہم پلاؤ بہت پسند تھا۔
س: گھر کے کام کاج میں تعاون کرتے تھے؟
ج: ضرورت پڑنے پر تعاون کر لیا کرتے، ورنہ تو ریفریجریٹر کے پاس سے گزر کر واپس آجاتے اور کہتے پانی تو پلاؤ۔
س: کس بچے سے زیادہ پیار تھا انہیں؟
ج: ابو سب کو پیار کرتے تھے البتہ جو بیٹا بیٹی سب سے زیادہ اللہ کے راستے پر چل رہا ہوتا ہے، وہی زیادہ پیارا لگتا ہے۔ (یہ امۃ المعطی کا جواب تھا)
س: کبھی خواب میں زیارتِ رسول ﷺ ہوئی؟
ج: جن دنوں ڈاکٹر صاحبؒ نے شادی بیاہ کی رسمیں ختم کرنے کی تحریک چلائی تو اُن دنوں ایک شادی میں ہم بالکل اجنبی بن کر رہ گئے تھے۔ ظاہر ہے دل کو تکلیف تو ہوئی کہ اچھی بات پر عمل کرتے ہیں تو اپنے بھی بیگانے بن جاتے ہیں۔ انہی دنوں ایک خواب دیکھا کہ نبی اکرم ﷺ وفات پا گئے ہیں۔ ڈاکٹر صاحبؒ ان کے پاس درمیان میں کھڑے ہیں جبکہ میں اور میری ساس آپ ﷺ کی پائینتی کی طرف کھڑے ہیں۔ ڈاکٹر صاحبؒ حضور ﷺ کو کروٹ دلا رہے ہیں۔ میں یہ خواب سنانے میں متردد تھی کہ شادی پر اس خواب نے میری ڈھارس بندھائی کہ اگرچہ سبھی ہمارے خلاف ہوگئے ہیں مگر یہ سنت زندہ ہو رہی ہے، تم نے پریشان نہیں ہونا۔ پھر میں مطمئن ہو گئی اور پھر کچھ عرصے بعد سب عزیز واقارب ہمارے ہم خیال ہو گئے اور سب نے ان رسومات کو ترک کر دیا۔ ڈاکٹر صاحبؒ کی والدہ 1992ء میں فوت ہوئیں۔ بڑی نیک خاتون تھیں۔
س: حج عمرے کتنے کیے؟
ج: یہ تو خالص بندے اور اللہ کا معاملہ ہے، اس میں تعداد کیا بتانی۔ بس جو بھی کیا اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔ ذاتِ قادرِ مطلق کے حضور یہی التجا ہے۔
س: ڈاکٹر صاحبؒ کے آخری ایام کے بارے میں کچھ بتائیے؟
ج: ڈاکٹر صاحب کی طبیعت تو خراب رہتی تھی مگر ایسی بھی نہ تھی کہ چل پھر نہ سکیں۔ 10 اپریل کو فیصل آباد میں   مرکزی شوریٰ کے اجلاس میں شرکت کی اور اپنے خطاب میں  فرمایا ’’مجھ سے اسلام کے انقلابی فکر اور منہجِ انقلاب نبوی ﷺ
 کے متعلق جو حاصل کرنا چاہتے ہو، کر لو۔ شاید اس زندگی میں دوبارہ ملاقات کا موقع میسر نہ آئے۔‘‘ پھر اپنی عادت کے خلاف اجتماعی دعا بڑی تفصیل سے کروائی اور رو رو کر کروائی۔ فیصل آباد سے واپس آ کر کمر کی درد بدستور تھی۔ پھر بخار بھی ہو گیا۔ اجابت بھی بار بار ہونے لگی، جس سے نقاہت میں اضافہ ہوتا گیا۔ پھر بھی غسل خانے سہارا لے کر جاتے رہے۔ آخری دن 13 اپریل کو کپکپی بڑی سخت لگ گئی۔ عصر کے بعد طبیعت زیادہ مضطرب ہوتی گئی۔ بیٹوں نے ہسپتال لے جانے کا کہا تو اشارے سے منع کر دیا۔ اپنا سیدھا ہاتھ بار بار مصافحے کے انداز میں اٹھاتے اور فضا میں دیکھتے رہتے۔ ایک بیٹی نے سیدھا ہاتھ دبانا چاہا تو اسے بایاں بازو دبا نے کے لیے کہا اور سیدھا ہاتھ بار بار فضا میں بلند کرتے رہے۔ مغرب کے بعد دہی کی خواہش ظاہر کی۔ خود بیٹھ کر چمچ سے دہی کھایا۔ پھر بستر پر لیٹ گئے اور تھوڑی دیر بعد سو گئے۔ رات تین بجے کے قریب اسی نیند میں اپنی دوسری منزل کی طرف چل دئیے۔ اس طرح کہ بالکل سیدھے لیٹے تھے۔ ہاتھ بھی سیدھے کئے ہوئے تھے اور چہرہ قبلہ رخ تھا۔ حالانکہ عام طور پر وہ کروٹ کے بل سویا کرتے تھے۔ چہرے پر بہت سکون اور اطمینان تھا۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔
س: وہ نظم کون سی تھی جو ڈاکٹر صاحبؒ بڑے شوق سے پڑھ رہے تھے؟
ج: اپنی وفات سے ایک دن قبل ماہر القادری صاحب کی یہ نظم پڑھ پڑھ کر ڈاکٹر صاحبؒ آبدیدہ ہو گئے تھے۔
یہ کیا ہو رہا ہے؟
قوم کی قوم ہی آسودۂ غفلت ہے ابھی
کیا کسی اور تباہی کی ضرورت ہے ابھی
سنگ و آہن کے بھی سینوں میں شرر جاگ اٹھے
چشمِ انساں ہے کہ محرومِ بصیرت ہے ابھی
قصر و ایواں کی بہاروں کا وہی عالم ہے
جھونپڑیوں کی وہی اجڑی ہوئی حالت ہے ابھی
خواہ دفتر کے ہوں ایواں کہ تصوف گاہیں
وہی حلوے، وہی مانڈے، وہی رشوت ہے ابھی
یہ بھی اِک مصلحتِ وقت کا ہے لطف و کرم
شیخ کے سر پہ دستارِ فضیلت ہے ابھی
وہی شاہانہ تجمل، وہی محلوں کا شکوہ
وہی جلوت، وہی خلوت، وہی نخوت ہے ابھی
لب پہ وہ مہرِ خاموشی کہ الٰہی توبہ!
دلِ کاہِیہ حال کہ لبریزِ شکایت ہے ابھی
وہی قانونِ فرنگی، وہی دستورِ عمل
وہی خود ساختہ آئینِ سیاست ہے ابھی
ہم نے مانا کہ ہیں آزاد زمینوں کے حدود
تگہ و دل پہ تو غیروں کی حکومت ہے ابھی
آنکھ پھر منتظرِ صبح قیادت ہے ابھی
ایک فاروقؓ کی دنیا کو ضرورت ہے ابھی
س: نظم کی بات چلی ہے تو ذرا اس نظم کا بھی ذکر ہو جائے جسے ’’ڈاکٹر اسرار احمد  ؒ‘‘ کے پیغام کا نام دیا گیا ہے۔
ج: جی ہاں! وہ نظم ندائے خلافت میں اس طرح شائع  ہوئی ہے:
بانیٔ تنظیم ِ اسلامی ڈاکٹر اسرار احمدؒ کا پیغام
نوجوانانِ تنظیم کے نام
چراغِ زندگی ہوگا فروزاں، ہم نہیں ہوں گے
چمن میں آئے گی فصلِ بہاراں ہم نہیں ہوں گے
جوانو! اب تمہارے ہاتھ میں تقدیرِ عالم ہے
تمہی ہو گے فروغِ بزمِ امکاں، ہم نہیں ہوں گے
ہمارے ڈوبنے کے بعد اُبھریں گے نئے تارے
جبینِ دار پہ چمکے گی افشاں، ہم نہیں ہوں گے
نہ تھا اپنے نصیبے میں طلوعِ سحر کا جلوہ
سحر ہو جائے گی شامِ غریباں، ہم نہیں ہوں گے
ہمارے دور میں ڈالی گئی تھیں الجھنیں لاکھوں
جنوں کی مشکلیں جب ہوں گی آساں، ہم نہیں ہوں گے
اگر ماضی منور تھا کبھی تو ہم نہ تھے حاضر
جو مستقبل کبھی ہوگا درخشاں، ہم نہیں ہوں گے
کہیں ہم کو دکھا دو ایک کرن ہی ٹمٹماتی سی
کہ جس دن جگمگائے گی شبستاں، ہم نہیں ہوں گے
ہمارے بعد ہی خونِ شہیداں رنگ لائے گا
یہی سرخی بنے گی زیبِ عنوان، ہم نہیں ہوں گے
س: خواتین کے نام کوئی پیغام دینا پسند کریں گی؟
ج: ڈاکٹر صاحبؒ کی اقامتِ دین کے لیے تاحیات جدوجہد ہم سب کے لیے ایک پیغام ہی تو ہے۔ تاہم اقبال کا ایک شعر خواتین کے لیے پیش کرتی ہوں؎
بتولےؓ باش و پنہاں شو ازیں عصر
کہ در آغوشِ شبیرےؓ بگیری
س: جو خواتین فارسی نہیں جانتیں وہ کیا کریں؟
ج: ایک مسلمان عورت صحیح معنوں میں، باعمل مسلمان عورت بن جائے تو سب کچھ سنور سکتا ہے۔ لہٰذا فاطمۃ الزہرا ؓ  بن جاؤ اور زمانے سے چھپ جاؤ تاکہ تمہاری گود میں حسن اور حسین ؓ جیسی اولاد پرورش پائے۔ مجھے درج ذیل اشعار بھی بہت پسند تھے:
آغوشِ مادر، یہ اسکول پہلا
جہاں تربیت پاتے ہیں سارے اعضا
جہاں لوحِ سادہ پہ کھنچتا ہے نقشہ
اترتا ہے ماں کے خیالوں کا چربہ
آپ کا بہت شکریہ آپا جان۔ جزاک اللہ!
(بشکریہ: ’خواتین میگزین‘ لاہور)