(نقطۂ نظر) ہنوز دلی دور است - ابو موسیٰ

12 /

ہنوز دلی دور است

ابو موسیٰ

سپریم کورٹ آف پاکستان نے 18 اگست کو ایک واضح اور غیر مبہم آڈر جاری کیا کہ عمران خان کو جیل سے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کر کے مکمل علاج کیا جائے اور ڈاکٹروں کی ٹیم میں شوکت خام کینسر ہسپتال کے ڈاکٹر فیصل سلطان جو عمران خان کے ذاتی معالج بھی ہیں اُنہیں اور عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ کو شامل کیا جائے اور یہ کام مکمل طور پر دو دن میں سرنجام دے دیا جائے۔ تحریک انصاف کے کارکنوں اور عمران خان کے چاہنے والی عوام نے لحظہ لحظہ گننا شروع کر دیا تاآنکہ وہ وقت آگیا جو ڈیڈ لائن نے سپریم کورٹ نے حکومت کو دی تھی۔ شفا انٹرنیشنل کے آس پاس سیکورٹی اہلکاروں کی بھرمار تھی۔ ہسپتال کے اردگرد کے علاقے کو خاردار تاروں سے بند کر دیا گیا تھا اور صورتِ حال یہ تھی کہ سیکورٹی اہلکاروں کے علاوہ علاقے میں چڑیا بھی پَر نہیں مار سکتی البتہ عوام نے اپنے جذبات کے اظہار کے لیے ہسپتال سے کچھ دور گلاب کے پھول کی پتیوں اور گلدستوں سے سڑکوں کو سرخ کر دیا تھا۔
رات دس (10) بجے سے اڈیالہ جیل سے قافلہ آ رہا ہے کی آوازوں سے سوشل میڈیا پر اتنی دھوم مچی ہوئی تھی کہ کچھ اور سنائی نہیں دے رہا تھا۔ نصف شب کے قریب عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر شفا انٹرنیشنل پہنچ گئے لیکن عمران خان دور دور کہیں نظر نہیں آرہے تھے صبح سوا چار بجے جب ابھی پَو بھی نہ پھٹی تھی، عمران خان کے معالج جو شفا ہسپتال کے باہر انتظار کر رہے تھے، کو بتایا گیا کہ عمران خان کو شفا ہسپتال نہیں لایا جا رہا بلکہ اُنہیں سرکاری ہسپتال پمز لے جایا گیا تھا اور اب علاج کے بعد اڈیالہ جیل واپس بھیج دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب واپس چلے گئے کہ اب وہاں بیٹھنا بے کار تھا۔
سوشل میڈیا پر طوفان مچ گیا کہ یہ کیا ہوگیا ہے سپریم کورٹ کے احکامات کی یوں کھلی خلاف ورزی اکثر اشاروں کناوں سے اور بعض بڑبولے یوٹیوبر کھل کھلا کر اسٹیبلشمنٹ کو بُرا بھلا کہنے لگے کہ یہ اِن کا کام ہے لیکن جوں جوں وقت گزرا حالات و واقعات کے پرت کھلتے چلتے گئے اور قریباًتمام میڈیا ذرائع نے وثوق سے کہنا شروع کر دیا کہ اسٹیبلشمنٹ نے خود کو اِس فیصلے پر عمل درآمد کے حوالے سے غیر جانبدار بلکہ لاتعلق رکھا ہے اور یہ سب کچھ شرفا کی حکومت کا کیا کرنا ہے۔ یہ بات بھی خاص طور پر سامنے آئی کہ پنجاب حکومت نے اِس سانحہ میں کلیدی رول ادا کیا ہے۔ ذہن نے بات کو قبول اِس لیے بھی فوراً کر لیا کہ ’’شریفوں‘‘ کو سپریم کورٹ کے فیصلوں کو ٹھوکر مارنے کا تجربہ بھی ہے جب سجاد علی شاہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تھے اور وہ شریفوں کی خواہشات کی تکمیل نہیں کر رہے تھے تو کس کو یاد نہیں ہوگا کہ لاہور سے بسیں اور ٹرک گئے تھے اور اُنہوں نے سپریم کورٹ پر ایسی سنگ باری کی تھی کہ جج جان بچانے کے لیے اپنے کمروں سے بھاگے تھے اور کسی جانثار کی یہ آواز ریکارڈ ہوگئی تھی کہ اب سب پنجاب ہاؤس میں جمع ہو جائیں وہاں قیمے والے نانوں سے خاطر تواضح کی جائے گی باقی ماضی قریب کی تاریخ ہے۔
بہرحال ڈاکٹر عظمیٰ جو اڈیالہ جیل سے عمران خان والے قافلہ کے ساتھ تھیں صرف اُن کی عمران خان سے ملاقات ہوئی۔ بعدازاں اُنہوں نے بتایا کہ قید تنہائی کو اتنی سختی سے لاگو کیا گیا تھا کہ جیل کے عملہ کو نہ عمران خان کو سلام کرنے یا جواب دینے کی اجازت نہ تھی اخبارات اور کتابیں بند تھیں اُن کے بقول عمران خان کو یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ اِس وقت کون سا مہینہ چل رہا ہے۔
شروع میں سرکاری طور پر صرف اتنا بتایا گیا کہ عمران خان چونکہ بالکل صحت مند ہیں لہٰذا اُنہیں واپس جیل پہنچا دیا گیا ہے۔ بہرحال اِس سانحہ سے عوامی سطح پر جو طوفان برپا ہوا۔ حکومت اب اُس پر کبھی کچھ کہتی ہے اور کبھی کچھ۔ تحریک انصاف کے وکلاء نے توہین عدالت کا کیس دائر کر دیا ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ حکومتی وزیر عطاتاڑر نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ توہین عدالت تحریک انصاف کی طرف سے ہوئی عدالت نے اِس حوالے سے سیاسی بیان بازی سے منع کیا تھا لیکن عمران کی بہنوں نے باقاعدہ پریس کانفرنس کی اور دوسری بات یہ کہ شفا ہسپتال اِس لیے عمران خان کو پہنچایا نہیں جا سکا کیونکہ تحریک انصاف کے کارکن شفا ہسپتال کے سامنے جمع ہوگئے تھے اور سیکورٹی کا مسئلہ بن گیا تھا حالانکہ کیمرے رات دس بجے شفا ہسپتال کی باہر کی سڑکوں کو دکھا رہے تھے جو بالکل خالی پڑی تھیں سیکورٹی اہلکاروں کے سوا کوئی انسان وہاں نہیں تھا۔ یہ بات بھی قابل ِ ذکر ہے کہ عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ نے عمران خان کی بحیثیت مجموعی صحت پر اطمینان کا اظہار کیا اور اُن افواہوں کی تردید کی جو کسی قسم کے نشہ کے حوالے سے پھیلائی گئی تھیں۔ اُنہوں نے تحریک انصاف کے کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ کہیں بھی جمع نہ ہوں بلکہ واپس گھروں کو لوٹ جائیں۔
بہرحال عدالتی احکامات کے باوجود قیدی کو شفا انٹرنیشنل لے جانے کی بجائے پمز لے جانے پرسیاسی کشاکشی صرف جاری نہیں بلکہ آگے سے بڑھ گئی ہے۔ کیونکہ مسئلہ یہ نہیں تھا کہ عمران خان صحت مند ہے یا بیمار، سوال یہ ہے کہ عدالت عظمیٰ کے احکامات پر عمل کیوں نہ ہوا۔ لہٰذاتحریک ِ انصاف نے ایک طرف توہین عدالت کا کیس دائر کر دیا ہے جس کی سماعت چند دنوں میں متوقع ہے بلکہ سہیل آفریدی کو بھی یہ حکم مل گیا ہے کہ وہ واپس KPK جائیں اور 27ستمبر کو اسلام آباد مارچ کے لیے عوام کو تیار کریں۔ گویا سپریم کورٹ کے فیصلے سے جہاں کچھ بہتری کی صورت نظر آرہی تھی اور یہ توقع پیدا ہوگئی تھی کہ قانونی راستوں کو اختیار کرکے سیاسی کشیدگی کو کم کیا جا سکے گا حکومت کا اِس فیصلہ کو ردی کی ٹوکری میں پھینکنے سے بحرہ سیاست میں ایسا ارتعاش پیدا ہوا ہے کہ کشیدگی اپنی انتہا کو پہنچ گئی ہے۔ البتہ ایک فرق واقع ہوا ہے کہ محاذ بدل گیا ہے اب لڑائی PTI اور اسٹیبلشمنٹ کی نہیں بلکہ مسلم لیگ (ن) اور PTI کی ہے۔ بلاول اِس لڑائی سے الگ تھلگ ہوگئے ہیں PTI نے لڑائی کا رخ صرف مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی طرف موڑ دیا ہے کیونکہ وہ سمجھتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا اِس فیصلے کو رد کرنے میں کوئی رول نہیں ہے اِس لیے توہین عدالت کی جو درخواست دائر کی گئی ہے اس میں فوج کے نمائندے محسن نقوی کا نام نہیں ہے۔ حالانکہ وہ وزیرداخلہ ہیں جبکہ سیکرٹری داخلہ اور اُن کے محکمہ کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کی وضاحت تحریک انصاف یہ کرتی ہے کہ وزیرداخلہ نے ایک تو اس فیصلے کے خلاف کوئی بیان وغیرہ نہیں دیا تھا جبکہ وزیرداخلہ اُس رات شفا انٹرنیشنل سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لے رہے تھے۔ اِس کا مطلب ہے کہ اُنہیں بھی واردات سے آگاہ نہیں کیاگیا تھا۔
قصۂ کوتاہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ واضح ہورہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو یوں ٹھکرا کر آگے گزر جانا اتنا آسان نہیں ہوگا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی پہلے عدالتی احکامات کی تکمیل نہ کرنے پر وزارتِ عظمیٰ سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ اُنہوں نے سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود سوئس حکام کو خط نہیں لکھا تھا جبکہ یہ معاملہ اُس سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ ایک بڑی جماعت کے لیڈر کی صحت کے حوالے سے سپریم کورٹ کے واضح اور غیر مبہم احکامات تھے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کو کئی حصوں میں تقسیم کیا تھا اور ہر حصّہ پر عمل درآمد کرنے کی حکومت کو الگ واضح ہدایات دی تھیں جو سب کی سب فراموش کر دی گئیں۔ پمز ہسپتال کی انتظامیہ نے یہ راز بھی فاش کر دیا کہ اُنہیں عمران خان کے آنے کی کوئی باقاعدہ اطلاع بھی نہ کی گئی تھی۔ سوال یہ ہے کہ حکومتیں اگر اعلیٰ ترین عدالت کے احکامات سے یوں کھلواڑ کریں گی تو نظام کیسے چلے گا جس کا پہلے سے ہی رونا رویا جا رہا ہے کہ نظام ڈیفالٹ کر گیا ہے۔ اِس ڈیفالٹ شدہ نظام میں بھی اگر ملک کی سب سے بڑی عدالت سے یوں کھلواڑ کیا جائے گا تو ریاست کے بچ جانے یا قائم رہ جانے کی کیا صورت رہ جائے گی۔
حقیقت یہ ہے کہ آئین، قانون اور عدلیہ سے یہ کھلواڑ تو اپنی بدترین شکل میں گزشتہ چار سال سے جاری ہے۔ کبھی عوامی نمائندوں کی ماؤں اور بیٹیوں کو اٹھا کر اُنہیں 26، 27 ویں ترمیم کے حق میں ووٹ ڈالوائے جاتے ہیں۔ کبھی عدالتوں کے ججوں کو بتایا جاتا ہے کہ ہم جانتے کہ تمہاری بیٹی کس کالج میں پڑھتی ہے اور کس راستے آتی جاتی ہے اور کبھی نامعلوم لوگ مخالفین کو اٹھا لے جاتے ہیں اور دنوں بعد اُس کی لاش سڑک کنارے مل جاتی ہے۔ C.T.D ایک محکمہ بنا دیا گیا ہے جو جسے چاہے اور جب چاہے ملزم قرار دے کر پولیس مقابلے میں مار دیتا ہے۔ ملزم کا عدالت جانا اور وہاں سے مجرم قرار پانا عملی طور پر غیر ضروری ہوگیا ہے۔ گویا اندھیر نگری چوپٹ راج کا معاملہ ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آثار نمایاں ہو رہے ہیں کہ اِس ہائبرڈ نظام کا آخری وقت آگیا ہے اور وہ آخری ہچکیاں لے رہا ہے لیکن اِس سےقومی اور سیاسی سطح پر ایسا نقصان ہو رہا ہے جس کی تلافی ممکن نہیں۔
ایک اہم بات سیاسی کارکن اور اُن کے بڑے جب تک نہیں سمجھیں گے اُس وقت تک مسئلہ حل نہیں ہوگا اور سیاسی بحران اور معاشی عدم استحکام بڑھتا ہی چلا جائے گا وہ یہ کہ اگر کوئی سیاسی جماعت یا کوئی سیاسی شخصیت عوام میں انتہائی پاپولر ہو جائے تو اُسے آج کے دور میں کسی صورت ignore نہیں کیا جا سکتا۔ اگر آپ اُس کو پیچھے دھکیلنے کے لیے غیر جمہوری حربے اور ظلم و تشدد کا راستہ اختیار کریں گے تو وہ عام آدمی جو سیاست میں دلچسپی نہیں رکھتا اُسے بھی مظلوموں سے ہمدردی ہو جائے گی اور وہ بھی اُن کا حمایتی بن جائے گا۔ ریاست کو جمہوری کہنا اور اُس میں زبردستی کرنا مخالفین کو جبر و تشدد کا نشانہ بنانا گویا اُس جماعت یا سیاسی شخصیت کو مزید پاپولر کرنا ہے۔ اُس سے نمٹنے کا صرف اور صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ اُس کے راستے سے ہٹ جایا جائے۔ عین ممکن ہے کہ وہ جماعت یا شخصیت برسراقتدار آکر لوگوں کی توقعات پر پوری نہ اُترے تو وہ مقبولیت یوں ختم ہوگی جیسے کبھی تھی ہی نہیں۔ آپ تیز رفتار بہتے پانی کا راستہ روک کر اپنے لیے مصیبت کھڑی کریں گے جو تباہی و بربادی کا باعث بنے گا۔ آپ اسے پھیلنے دیں۔ پھیلنے سے وہ خود اپنی طاقت کھو دے گا تب آپ اُس کا رخ اپنی مرضی سے موڑ سکیں گے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے یہ آزمودہ طریقے ہیں اور تاریخ اِس حوالے سے ہماری درست رہنمائی کرتی ہے۔ ہم خود کو بدلنے کی بجائے تاریخ بدلنے کی کوشش کریں گے تو بُری طرح ناکام ہوں گے۔ جمہوری طریقہ یہ ہے کہ دوسرے کی مقبولیت پر اُس کو راستہ دیں اپنی کمی کوتاہیاں اور غلطیوں پر غور و فکر کریں اور اُنہیں درست کرنے کی انتہائی مخلصانہ کوشش کریں تو جس طرح آپ مقبولیت کے حوالے سے اُن کی کامیابی و کامرانی کو روک نہیں سکے، وہ بھی ایسا نہ کر پائیں گے۔ گویا آپ کی تمام کوشش اور جدوجہد اپنی بہتری اور ترقی ہو نہ کہ دوسرے کی ٹانگیں کھینچے جیسی منفی جستجو ہو۔ راقم یہاں خاص طور پر مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف کی خدمت میں گزارش کرے گا کہ وہ غور کریں کہ کس طرح اُن کی زبردست مقبولیت بدترین عدم مقبولیت میں تبدیل ہوئی۔
راقم کی رائے میں تین بڑی وجوہات تھیں جنہوں نے نوازشریف کی شاندار مقبولیت کو بدصورت عدم مقبولیت میں تبدیل کر دیا۔ پہلی یہ کہ اُنہوں نے جیل سے نکلنے کے لیے مشرف سے سعودی عرب کے شاہی خاندان کی وساطت سے N.R.O لے لیا اور جدہ چلے گئے۔ بعدازاں وہ اِس سے مُکر گئے کہ اُنہوں نے مشرف سے کوئی N.R.O کیا ہے جس پر سعودی عرب کا ایک وزیر خاص طور پر پاکستان آیا اور اُس نے میڈیا کو دستاویزات دکھائیں کہ مشرف اور نواز شریف میں جیل سے نکلنے کے لیے معاہدہ ہوا تھا کہ وہ دس (10) سال تک سیاست میں حصّہ نہیں لیں گے۔ اِس پر اِن کی شہرت بُری طرح متاثر ہوئی۔ دوسری بڑی غلطی یہ تھی کہ تحریک انصاف کے دور میں کرپشن کے الزامات پر جیل میں تھے تو بیماری کو عذر بنا کر لندن چلے گئے لیکن وہاں ایک دن کے لیے بھی ہسپتال داخل نہ ہوئے بلکہ دوست و احباب کے ساتھ ریسٹورنٹ اور کافی ہاؤسز میں گپ شپ لگاتے دیکھے گئے۔ جس کا عوام میں سخت ردِعمل آیا اور last but not the least کہ وہ 2024ء کے انتخابات میں بُری طرح ہار گئے، لیکن فارم47 کے ذریعے خاکی وردی کی سرپرستی میں اپنی ہار کو جیت بنا لیا۔ گویا ووٹ کو عزت دینے کی بجائے بُوٹ کو عزت دی۔ اِس طرزِ عمل نے اُن کی سیاست کی لنکا ہی ڈبو دی شرمندگی میں وہ خود وزیراعظم تو نہ بنے لیکن بھائی کو وزیراعظم اور بیٹی کو پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی حکمرانی سونپ دی۔ اگر نواز شریف اُس وقت اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کرتے کہ ہم چونکہ ہار گئے ہیں، عوام نے ہمارے خلاف فیصلہ دیا ہے تو اُن کا سیاسی قد بہت بڑھ جاتا۔ قرآن پاک فرماتا ہے: ’’دولت اور اولاد دونوں فتنہ ہیں۔‘‘ نواز شریف دونوں کا شکار ہوئے غیر ممالک میں جائیدادیں بنائی اور عدالت میں کوئی منی ٹریل نہ دے سکے اور بیٹی کی حکمرانی کی خواہش کی تکمیل کے لیے اپنے تمام اصول اور قواعد و ضوابط فراموش کر دیئے اور سول بالادستی جس کے وہ ہمیشہ دعوے دار رہے ہیں خود ہی اُس سے منہ پھیرلیا۔
اِس ساری صورتِ حال سے تحریک انصاف ہرگز یہ نہ سمجھے کہ اُس کے دلدّر دور ہوگئے ہیں اور وہ جلد اسٹیبلشمنٹ کی گڈ بکس میں آجائے گی، ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ اُنہیں اب جس صورتِ حال کا سامنا ہوگا، اُسے شاعر منیر کی زبان میں سمجھیں۔
اِک اور دریا کا سامنا تھا منیرؔ مجھ کوجب میں ایک دریا کے پار اُتراتو میں نے دیکھاُن کے راستے میں ابھی رکاوٹوں کے پہاڑ ہیں۔ اُنہوں نے 27 ستمبر کی اسلام آباد کی طرف کا رخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ راولپنڈی میں فوج طلب کر لی گئی ہے۔ ریاستی قوتیں عمران خان کے نام پر کاٹا لگا چکی ہیں لیکن دوسری طرف KPK کے عوام انتہائی مشتعل ہیں۔ خطرہ ہے کہ 27 ستمبر تک اگر ریاست اور عمران خان کے معاملات طے نہ ہوئے تو ملک میں کوئی حادثہ ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کو محفوظ و مامون رکھیں۔ حکمرانوں اور سیاست دانوں کو ذاتی مفاد تج کرکے پاکستان کے مفاد میں سوچنا ہوگا۔ وگرنہ جو حشر اُس کٹی ہوئی پتنگ کا ہوتا ہے جو بازار میں گر رہی ہوتی ہے اور جوانوں کا ایک گروہ اُسے اپنے قبضے میں لینے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے وہ پیش آ سکتا ہے۔ بدقسمتی سے ہم نے افغانستان سے تعلقات بھی انتہائی کشیدہ کر لیے ہیں جس کی سرحدیں KPK سے ملتی ہیں۔ میڈیا اور خاص طور پر یوٹیوبرزاپنا مالی مسئلہ حل کر رہے ہیں۔ راقم کی رائے میں ہنوز دلی دور است ،کرسی ایک اور دعوےدار دو ہیں، دونوں طاقتور ہیں البتہ طاقت کی شکل مختلف ہے آہوں دعائوں اور اسلحہ کا ٹکرائو ہو سکتا ہے۔ جس کا نتیجہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہماری لغرشوں سے اعراض فرمائے اور ہم پر رحم کرے اور ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنی ذات سے بلند ہو کر ملک و قوم کے معاملات کو دیکھیں۔ اللہ پاکستان کو قائم دائم اور محفوظ و مامون رکھے۔ آمین یا رب العالمین!