(کارِ ترقیاتی) حذر اے چیرہ دستاں..... - عامرہ احسان

12 /

حذر اے چیرہ دستاں.....

عامرہ احسان

 

21 اگست بین الاقوامی طور پر دہشت گردی کے مظلوموں کو خراجِ تحسین پیش کرنے ، یاد منانے کا دن تھا۔ تاہم دنیا اس پر یوں منقسم ہے کہ اسرائیل کی فلسطینیوں پر دیوانی، وحشیانہ حملوں، بمباریوں کی جنگ کو ہم نے کبھی کہیں دہشت گردی کا عنوان دیتے نہ پایا۔ مظلوموں کی فہرست میں ہزاروں بچے ، لاکھوں مائیں ، عورتیں ، ضعیف، مرد، خاندان اجڑ گئے۔ مگر تفاصیل، تذکروں میں یہ نہ آیا۔ کیا ان کے لواحقین نہ تھے ؟ (کیونکہ یہ صرف لواحقین کا دن ہے! مظلوموں کا ہے ظالموں کا ذکر نہیں!) جو زندہ بچ گئے ، ان میں سے قید و بند میں بلا فراہمی ٔ انصاف ، ماورائے عدالت مظلومیت کی ہو لناک تصاویر بنے اسرائیلی جیلوں میں سڑتے رہیں۔ گوانتا مو، مقبوضہ کشمیر ، تیونس، مصر یا دیگر مسلم ممالک میںہوں، ان کا کوئی والی وارث نہیں۔ ان کی جیتی جاگتی ایک تصویر اسرائیل     میں 45 برس قید کاٹنے والے نائل البرغوثی کی ہے۔ جو فروری 2025 ء میں غزہ جنگ بندی سے منسلک، رہا ہونے والے قیدیوں کے تبادلے میں شامل تھے۔ رہائی کی شرط جلا وطنی تھی۔ فلسطینی آزاد علاقے میں نہ رہ سکتے تھے۔ مصر بھیجے گئے۔ مقبوضہ کشمیر کے مظلوموں کی داستانیں سنانے والے صحافی افتخار گیلانی نے اس دلدوز داستان میں 45 سالہ مظلومیت اور اسرائیلی سفاکی سے پردہ اٹھایا۔ دورانِ قید برغوثی کی شادی ایک سابقہ آزاد قیدی خاتون ایمان نافی سے ہوئی۔ جیل کی سلاخوں کے  آر پار خطوط، پیغامات فلسطینی گلی کوچوں کی تصاویر پر یہ بندھن چلا۔ملاقات ممکن نہ تھی۔ برغوثی کہتے ہیں: ہمیں رومیو، جولیٹ کی ضرورت نہیں۔ ہمارے پاس ایسی ہزاروں کہانیاں ہیں۔ مرحوم فلسطینی ادیب ولید دقہ کو اسرائیلی قید میں کبھی بیٹی ، بہن ، بیوی کو گلے ملنے کا حق نہ ملا۔ جیل میں 45 سال عبرانی، انگریزی پر مکمل عبور اور وسیع ترین مطالعے نے انہیں گہرا شعور عطا کیا۔ فلسطینی قیدیوں کو یہ مروان برغوثی نے تربیت دی تھی کہ’ اگر مقدر میں جیل میں مرنا لکھا ہے تو ہم اللہ کے پاس جاہل نہیں جائیں گے‘۔   سو وہ بر صغیر کی تاریخ ، کشمیر پر بھی ہم پاکستانیوں سے بہت زیادہ عبور رکھتے ہیں۔ اور یہی تمام ایمانی ، نظریاتی،  فی سبیل اللہ قیدیوں کا خاصہ ہے شرق تا غرب۔
یہ دن جب طے کیے جاتے ہیں تو ان کہی یہی ہوتی ہے کہ مثلاً’دہشت گرد‘ کون ہے ؟(صرف اسلام پسند!) 2011 ء تا 2024 ء شام میں شامی صدر (پہلے حافظ الاسدباپ رہا ، اخوان کا قاتل) بشار الاسد کے ہاتھوں کیا بیتی؟ جس کی تصاویر آج بھی دیکھی جاسکتی ہیں جو پورے ملک کو غزہ نما کھنڈرات بنا کر چھوڑ گیا۔ 2024 ء میں ملکی آبادی مہاجر ہو چکی تھی۔ یا اجتماعی قبروں میں بھر دی گئی۔ یا جیلوں میں بچے کھچے قیدی ٹھنسے پڑے تھے جب عوام سے اُٹھنے والے انقلاب میں احمد الشرع اور (پاکستان کا حالیہ دورہ کرنے والے) حسان الشیبانی وغیرہ نے شام آزاد کروایا۔ پاکستان دورے کے دوران شامی وزیر خارجہ الشیبانی سے سینیٹر، وزیر خارجہ اسحق ڈار سے ملاقات میں جیونیوز پر گفتگو میں سوال کیا کہ شام ایران مابین ثالثی میں پاکستان کردار ادا کر سکتا ہے ؟ اس پر شامی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’ایران کو پہلے اس کا اقرار کرنا ہوگا کہ جو کچھ اس نے شامی مملکت اور اس کے عوام کے ساتھ کیا‘۔ (بشار 10 فی صد اقلیتی عقیدے کا نمائندہ سنی اکثریت پر باپ، بیٹا 50 سال حکمران رہے۔ آہنی حکمرانی! یہ 13 سال عرب بہار کے بعد شام اجاڑ اگیا ایرانی محوری قوتوں کے ہاتھوں۔) ایسے تمام قضیئے ،’ بین الاقوامی دہشت گردی کے زمرے کے دن‘ یاد نہیں کیے جاتے۔ باوجودیکہ بشار الاسد کے سفاک بیرل بموں، امریکہ، روس کی بمباریوں ، مہاجرت، اندرونی مسلسل بے دخلی اور کیمیائی حملے اس آبادی نے برداشت کیے۔ 
گئے گزرے وقتوں میں پاکستانی عورتوں کی بے چارگی کی داستانیں آبدیدہ کرتی رہیں۔ مگر اب دیدوں کا پانی ایسا ڈھلا ، دیدہ دلیری ایسی کہ دیدہ وروں کے دیدے پتھرانے کو آگئے۔ فیمینزم ، سماجی حقوق اور نسائیت کے نام پر ساری حدیں پھلانگ گئی۔ وِیٹ (Veet)     سپر ماڈلنگ کے حیا سوز مظاہر اور پھر ان کی سپر ماڈل حمیرا اصغر کی عبرتناک موت ، جوگزشتہ سال جولائی میں کراچی کے فلیٹ سے اس کی 9 ماہ پرانی لاش برآمد ہونے پر سامنے آئی۔ حسن و زیبائش میں تیسرے نمبر پر آکر تاجپوشی سے رہ جانے والی۔ اچانک خبریں سامنے آئیں کہ صرف پاکستان میں نہیں اب تو پاکستانی حسیناؤں نے ’کائنات‘ میں حسن کی تھگلیاں لگانے کے شوق میں ’مس یونیورس پاکستان‘ مقابلوں میں جا اترنا شروع کر دیا۔ (ذرااسی کائنات میں موجود بلیک ہول کی تفاصیل پڑھ لیجیے۔  جو بلا بن کر اپنی مقناطیسی قوت سے سبھی کچھ نگل جاتے ہیں۔ نجانے حمیرا کس بلیک ہول کی نذر ہوئی۔ نور مقدم کو نگل جانے والا تو ظاہر جعفر تھا جو بڑا بد باطن نکلا۔ اور اسی طرح سارہ انعام شادی کے جھانسے میں آکر جان کھو بیٹھی۔
اب مزید پتہ چلا کہ پاکستانی لڑکیاں تو چار مرتبہ مس یونیورس بن کر پاکستان کی نمائندگی کر چکیں! اس میںبڑے سخت مراحل سے حسن کو گزرنا پڑتا ہے۔بھرے سٹیجوں پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی نمائندگان کو! انتخابی معیارات پر پورا اترنے کو تیرا کی کالباس، بِکنی (فروختنی نہیں ، یہ انگریزی کا لفظ ہے مگر حقیقت،شئے فروختنی کی ہی ہے) پہن کر رونمائی کروائی جاتی ہے۔ اس سال مصباح ارشد 2026 ء میں جیتی۔ (دونوں جہان فیمینزم کی محبت میں ہار کے!) داغ بیل ڈالنے والی پاکستانی نژاد برطانوی شہریت والی عیسائی لڑکی رومہ ریاض تھی۔ برطانیہ کی رہائشی    رومہ نے پاکستان کی نمائندگی کیونکر کی ؟ نہ کسی نے اسمبلی میں سوال اُٹھایا، نہ علمائے کرام نے اظہارِ ناراضی، تشویش  کیا، نہ دینی جماعتوں کے مردوزن بولے! اذیت ناک تو یہ بھی تھا کہ درجِ بالا سبھی مراحل سے پاکستانی عورت کی عزت تار تار کر کے یہ نمائندگی ہوئی۔ تاجپوشی کا لباس بھی ناقابل بیان۔ اور پھر ایک تصویر پاکستان کی خدمت میں یہ پیش کی کہ سفید لباس ،( جو کہیں کہیں موجود ہے۔) اوپر کے برہنہ دھڑ پر پاکستان کا جھنڈا باقی ماندہ برہنگی چھپانے کو ہلال اور ستارہ دکھا رہا ہے۔ سبز رنگ دھندلا ہی گیا اشکبار ہو کر (اسے برطانوی جھنڈا اوڑھنا چاہیے تھا۔) لیکن بہت سوں کو یہ سارے غم نہ تھے۔ بس یہ افسوس تھا کہ پاکستان   گورا چٹا نہ سہی ، بھورا تو تھا۔ بھلا اتنی سیاہی مائل لڑکی کا انتخاب کیوں ہوا۔ اس کا اظہار کیا گیا تبصروں میں! یعنی ہمیں گوری چمڑی اخلاق، کردار، شناخت سے زیادہ محبوب ہے؟
پھر اگر تعلیم یافتہ نسائیت زدگان کو باپ ،بھائی، شوہر کی زور آوری اور ’پدر سری‘ پر اعتراض تھا تو وہ اب اسلام آباد نے ’مادر سری‘ دکھا کر دور کر دیا۔ ’مادرسری‘ سرپھری خاتون آمنہ سعید، پی ایچ ڈی، فلسفہ نے اپنے شوہر اور14 سالہ بیٹی کو پلاسٹک (pvc) پائپ اور دھاتی راڈ سے مار مار کر زخمی کر دیا۔ بچی کے گردے کو بھی زخمی کیا۔ شوہر سیکورٹی فورس کا ملازم ہونے کے باوجود تین مرتبہ اس بیوی کے تشدد سے گزرا ، جس کا کہنا تھا کہ ’گھر کی مالکن میں ہوں‘۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے مادر سری پر دو لاکھ روپے کی ضمانت منظور کی ۔ لہٰذا یہ پدرسری کے خاتمے اور فیمنزم کے مزے لوٹنے کی قیمت ہے ۔ ’یومِ نسواں‘ تو ابھی دور ہے ہیلووین پر ان خاتون کی ’فیمنزم تاجپوشی‘‘ مارچنی ،  موم بتی آنٹیاں کروا دیں۔ کمال کر دکھایا شوہر کی پٹائی کا! شریف زادے کو پولیس کچہری سے مدد لینی پڑی۔ مبارک ہو پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہو گیا۔یا پھر وہ کوشش جو شمسوبی بی نے کی اور ماری گئی…
مڈل ایسٹ آئی نے ٹائمز آف اسرائیل کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی ہے۔(18اگست)  ملا حظہ فرمائیے: اسرائیلی تعلیمی نظام کے جائزے/نگرانی کے ادارے ، جو ثقافتی رواداری ، برداشت اور امن کے حوالے سے نصابوں کی جانچ پڑتال کرتا ہے ، اس نے سعودی نصاب جانچے ہیں( IMPACT-se) کا کہنا ہے کہ سعودی سکولوں نے اپنے نصاب سے یہ جملہ، جو پہلے موجود تھا، نکال دیا ہے کہ: ’مسلمان یروشلم سے کبھی دست بردار نہ ہوں گے‘۔ اسے مثبت اقدام قرار دیا اور قرآن وحدیث کے دیگر حوالہ جات نکالنے پر بھی خوشی کا اظہار کیا۔ یہ تبدیلی بھی نوٹ کی گئی کہ اب طالب علموں کو یہ نہیں پڑھایا جارہا کہ: ’عقیدے کی کمزوری یا        بے اعتقادی کے معنی اللہ کے غضب یا لعنت ِابدی کے ہیں‘۔ سعودی کتب، رواداری اور برداشت کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ سعودی اب نصاب سے یہود دشمن مواد ، مندرجات نکالتے جا رہے ہیں۔ اس تنظیم کا مذکورہ مقصد، (رواداری، برداشت، امن کی جانچ!) ملاحظہ ہو۔ اور اسرائیل کا اپنا ان ہی اصطلاحوں کاعملی ثبوت جو اس نے غزہ اور مغربی کنارے پر مجرمانہ آباد کاری سے کیا۔ غزہ میں نسل کشی۔ امریکہ ، یورپ کی سرپرستی تمام اسرائیلی وارداتوں کی۔ ہم ان کے ہمنوامددگار اور انہیں نوبل امن انعام کا حقدار قرار دینے پر مصر!
حذر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریں